بڑے عہدوں کی قید تنہائی 

Naeem Baig

بڑے عہدوں پر پہنچے لوگوں کی تنہائی 

از، نعیم بیگ 

آج ایک مقامی نیوز چینل دیکھتے ہوئے امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی: صدر بننے کے بعد میں نے دوست کھو دیے۔ اس کے بعد یہ ٹِکر بھی چل رہی تھی کہ صدر بننے سے پہلے یہ دوست مجھے ڈان کہتے تھے۔

گو یہ کوئی چونکا دینے والی خبر نہ تھی۔ دوستوں کے حلقے میں اکثر ڈان ٹائپ دوست ہوا کرتے ہیں اور ہر صورت گروپ پر حاوی رہتے ہیں اور کچھ انتہائی شریف اور منکسر المزاج بھی، لیکن عہدہ ملنے پر یہ ڈان نما اکھڑ مزید بد مزاج ہو جاتے ہیں اور شریف النفس مزید جھک جاتے ہیں۔ یہ طے ہے کہ دونوں صورتوں میں اگر توازن برقرار نہ رکھا جائے تو نا کامی یقینی ہوتی ہے۔

آج یہ خبر مجھے ماضی میں لے گئی جہاں میری پروفیشنل زندگی میں کئی ایک واقعات ایسے ظہور پذیر ہوئے کہ آج یہ احساس دو بارہ جاگ اٹھا کہ بڑے عہدے ہمیشہ انسان کو اپنے حصار میں مقید کر لیتے ہیں اور وہ شخص نہ صرف اپنے دوستوں اور فیملی سے نفسیاتی طور پر دور ہو جاتا ہے بل کہ کبھی کبھار عملی طور پر تنہا بھی ہو جاتا ہے۔

یہ سنہ 1981ء کا واقعہ ہے۔ میں کوئٹہ میں بَہ طور بینک مینجر تعینات تھا۔ ہمارے بینک کے پینل پر معروف وکیل مفتخر الدین میرے گھر پر رات کے کھانے پر مدعو تھے۔ دبلے پتلے مفتخر الدین ایک نفیس شخص تھے۔ بڑی نستعلیق اردو اور انگریزی بولتے تھے۔ عمر میں مجھ سے کوئی بیس پچیس برس بڑے رہے ہوں گے لیکن میرے محلہ فیلو ہونے کے ناتے مجھ پر مہربان تھے اور مجھے اپنے دوستوں میں شمار کرتے تھے۔

دعوت میں کچھ دوست اور بھی تھے۔ دورانِ دعوت جب سبھی دوست فرشی دستر خوان پر مصروفِ طعام تھے کہ گلی میں کھلنے والا ڈرائنگ روم کا دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا۔

میں نے بلند آواز سے کہا، بھئی اندر آ جاؤ۔  محلے کا ایک لڑکا اندر داخل ہوا اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا، “انکل … باہر پولیس والے بڑی گاڑی میں آئے ہیں۔ آپ کو بلا رہے ہیں۔”

پولیس والے؟ سب دوست یک زبان بولے کہ کون ہیں یہ پولیس والے؟ ایک دوست نے قہقہہ لگایا۔ انھیں خبر ہو گئی ہے کہ گھر پر غیر قانونی/ بلا اجازت دعوتِ طعام ہے۔ جس پر سبھی خوب ہنسے۔

میں نے پوچھا وہ کیا کہتے ہیں؟ بچے نے جواب دیا کہ وہ آپ کا نام لے کر آپ کو باہر بلا رہے ہیں۔ مجھے حیرت ہوئی۔ مفتخر الدین نے مجھے دیکھ کر کہا کہ بیگ صاحب انھیں یہیں بلا لیں۔ میں نے بچے سے کہا کہ جو بھی ہیں انھیں کہیں وہ یہاں آ جائیں۔  انھیں بتاؤ کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔

کچھ دیر کے بعد دروازے پر دو بارہ دستک ہوئی اور وردی میں ایک ملبوس ڈی ایس پی صاحب اندر داخل ہوئے اور بلند آواز سلام کیا۔ میں نے انھیں سامنے والے صوفے پر بیٹھنے کو کہا جب کہ ہم سب فرشی دستر خوان پر بیٹھے رہے۔

مجھ سے معذرت کرتے ہوئے کہنے لگے کہ آپ میں سے مفتخر الدین صاحب کون ہیں۔ اس بار حیرت مزید ہوئی کہ کیا مفتخر الدین سے کوئی جرم سر زَد ہو گیا ہے۔

مفتخر الدین وکیل ہوتے ہوئے بھی  بے چارے اندر سے سہم سے گئے اور دھیمی آواز میں بولے، “اس احقر کو مفتخر الدین کہتے ہیں۔”

ڈی ایس پی صاحب نے صوفے سے کھڑے ہوکر انھیں ایک زور دار سیلوٹ کیا اور کہنے لگے، “سر! گورنر ہاؤس سے آیا ہوں۔ آپ کے نام یہ لیٹر دینا تھا۔ صبح نو بجے آپ بلوچستان ہائی کورٹ کے جج کا حلف لیں گے۔ وقت کی کمی کے باعث آپ کو بر وقت مطلع نہ کر سکے۔ یہ خط لے کر آپ کے گھر گیا تھا، وہاں سے معلوم ہوا کہ آپ یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں۔ گورنر صاحب کا حکم تھا کہ خط ذاتی طور پر دیا جائے۔”

پھر انھوں نے سِیل شدہ ایک لفافہ انھیں دیا اور آفس کاپی پر دست خط لے کر معذرت کرتے ہوئے اور میری دعوت سے انکار  کرتے ہوئے جلدی میں رخصت ہو گئے۔

ہم سب نے مفتخر الدین صاحب کو مبارک باد دی اور ہائی کورٹ کے جج بننے پر کھانے کو یادگار بنانے کے لیے ان کے جیب خرچ سے ٹریٹ کے طور پر باہر سے آئس کریم منگوائی گئی۔

وقت گزرتا گیا۔ کئی برسوں بعد مدتِ ملازمت پوری ہونے پر مفتخر الدین ہائی کورٹ جج کی حیثیت سے ریٹائر ہو گئے اور ایک روز مجھے مارکیٹ میں مل گئے۔ کہنے لگے کراچی شفٹ ہو رہا ہوں۔ وہیں کھڑے کھڑے گِلہ کرنے لگے کہ آپ کے گھر مبارک کھانے پر میں جج elevate ہوا تھا لیکن آپ پلٹ کر ایک دن بھی میری عدالت میں تشریف نہ لائے اور نہ ہی میرے گھر آئے میرا حال پوچھنے۔

مجھے احساس ہوا کہ وہ بے حد تنہائی کا شکار تھے اور مجھے سے عمر میں بڑے ہونے کے با وُجود اپنے دل کی بات کہہ گئے۔ میں اب سرِ بازار کیا کہتا۔ میں نے بات ٹال دی اور بینک کی مصروفیات کو بہانہ بناتے ہوئے خدا حافظ کہنے کے لیے ان کے گھر حاضری کا کہہ کر گاڑی میں آن بیٹھا۔

تاہم یہ خیال مجھے برسوں ستاتا رہا کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟

میں آج بھی سوچتا ہوں کہ انسانی سرشت ہی ایسی ہے یا کچھ لوگ الگ سے اپنے حلقوں میں اس طرح پہچانے جاتے ہیں۔ شاید ایسا کرنا میری سرشت میں شامل ہو۔ کیوں کہ اس کے بعد بھی کئی بار ایسا ہوا کہ دوست احباب میں جن سے عمر کا فرق بھی رہا ہو جب بھی وہ کسی بڑے عہدے پر فائز ہوئے، میں ان کے دوستوں کے حلقہ سے نکل گیا۔

دورانِ ملازمت میرے ایک دوست فیڈرل منسٹر بن گئے۔ کئی ایک سینٹر، یا ممبر قومی اسمبلی بنے کئی ایک بینکس/  کارپوریشنز کے صدر بنے، لیکن برسوں کی دوستی میں اسی وقت halt آ گیا اور میں ان اس وقت تک کے لیے اُن سے دور ہو گیا جب تک وہ سرکاری عہدے پر رہے۔ بعد ازاں دوستی پھر اپنی پرانی نہج پر آ گئی۔

آج ڈونلڈ ٹڑمپ کے اس بیان پر ماضی دو بارہ سامنے آگیا۔

افسوس کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی مجھ جیسے دوست ہی ملے ہوں گے۔

About نعیم بیگ 135 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔