پھٹتے آموں کا کیس: مملکتِ ضیا داد کے مشہور نام معلوم افراد 

Atif Aleem

پھٹتے آموں کا کیس: مملکتِ ضیا داد کے مشہور نام معلوم افراد

از، محمد عاطف علیم 

یہ جِہل کے پِسر اب تک ہم معصوموں پر اپنی انگریجی کی دھاک بٹھاتے رہے؛ اپنے میسوں اور ڈرائنگ روموں میں مُنھ ٹیڑھا کر کے امریکی انداز میں انگریجی بولتے رہے اور ہم معصوم اردو میڈیم عوام ان کی انگریجی کو انگریزی سمجھ کر بے کار میں پیشاب خطا کرواتے رہے۔ یہ تو اب کہیں جا کر انکشاف ہوا ہے کہ بے چارے اندر سے ہماری طرح ہی ایف اے پاس اردو میڈیم ایل ایم سی (لوئر مڈل کلاس) ہیں۔

فرق یہ ہے کہ ہمارے خالی ہاتھ اپنا ننگ چھپانے کے کام آتے ہیں، جب کہ ان کے ہاتھ میں بانس کی پالش شدہ گرہ دار چھڑی ہے جو گھوڑے اور گدھے کو یک ساں طور پر ہانکنے کے کام آتی ہے۔ گویا اگر چھڑی اور انگریجی کا فرق نہ ہو تو دونوں ایک جیسے ایف اے پاس اور ایک ہی صف میں کھڑے ہونے کا ڈھونگ رچانے والے محمود و ایاز ہیں۔

ہم نے محض امریش پُوری والے گونجیلے لہجے اور کَوکنی انگریجی سے مرعُوب ہو کر انھیں مائی باپ مان رکھا تھا مگر انہوں نے خود ہی بیچ چوراہے اپنے زیر جامے اتار دیے ہیں۔

معلوم تو آپ کو بھی پڑ گیا ہو گا کہ نا معلوم افراد نے اپنے صوابدیدی اختیارات بَہ رُوئے کار لاتے ہوئے محمد حنیف کے اوّلین ناول The Case of Exploding Mangoes جس کا ترجمہ سید کاشف رضا نے پھٹتے آموں کا ایک کیس کے عنوان سے کیا تھا، پر *پا بندی لگا دی ہے۔ محمد حنیف نے یہ ناول گیارہ سال پہلے انگریزی میں لکھا تھا جو اس وقت تک ہمارے پیاروں کی سمجھ سے باہر رہا جب تک سید کاشف رضا نے اس کا اردو ترجمہ نہ کر لیا۔ ثابت ہوا کہ انہیں بات اس وقت ہی سمجھ میں آتی ہے جب اردو میں کہی جائے۔

محمد حنیف اور کاشف رضا جہاں اپنی ادبی شہادت پر مبارک باد کے مستحق ہیں وہاں وہ اس بات پر بھی داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے انگریجی والا جھاکا کھول دیا ہے اور اپنے کوکنی دوستوں کو بے نقاب کر دیا۔

اور اب باری ہے بوٹے کی۔

چل بوٹیا ہو جا شروع


*عرضِ مدیر

پھٹتے آموں کا ایک کیس، مکتبۂِ دانیال کراچی نے 2018 میں شائع کیا۔ اس کے ناشر کو ہراساں کرنے کی خبریں بین الاقوامی میڈیا، جن میں وائس آف اَمیرِیکہ voaurdu.com، شامل ہے، انہوں نے اس طرح کی خبر جاری کی ہے۔ با قاعدہ عدالتی پا بندی والا معاملہ نہیں ہوا، لیکن عدالت میں کیس ثابت کرنے کے لیے نسبتاً زیادہ محبت کرنا پڑتی ہے۔ اسی طرح کا معاملہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب Military Inc کی پہلی اشاعت کے وقت بھی اکیسویں صدی کے اولین عشرے کے اولین برسوں میں بھی پیش آئے تھے، جب کتابوں کی دکانوں سے معروف نا معلوم افراد اٹھا کر لے جاتے تھے۔

وائس آف اَمیرِیکہ کا ویب سائٹ پاکستان میں کچھ عرصے سے پا بندیوں کا شکار ہے، فیس بک براؤزر میں تو شاید اوپر والا لنک کھل سکے، باقی کسی عمومی براؤزر میں فی الوقت نہیں کھل رہا۔ بی بی سی اردو کے اس لنک کو تفصیلات کے لیے ملاحظہ کیجیے۔

محمد حنیف: آئی ایس آئی سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرتے افراد ’پھٹتے آموں کا کیس‘ کی تمام کاپیاں لے گئے

کتاب کے مترجم کی فیس بک پوسٹ کو بھی حوالے کے لیے یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔

The Novel Incident

Muhammad Hanif’s novel “A Case of Exploding Mangoes” was published in 2008 which I translated into Urdu and the Urdu version was published in September 2019.

Last month the three of us, the writer, translator and the publisher, received a legal notice from Ejaz ul Haq, son of late Zia ul Haq. The writer, translator and the publisher had contacted a lawyer and the lawyer was in the process of writing a reply to the notice.

Meanwhile, on Monday we came to know that some people, claiming to be coming from a security agency, came into the office of the publisher and took away all the copies of the translated novel.

I thank all the friends who expressed concern about me and others through their messages. I cherish your concern and would need more of it if it comes to that. But I do hope that we wouldn’t need to worry more about that.”

About محمد عاطف علیم 21 Articles
محمد عاطف علیم شاعر، افسانہ اور ناول نگار ہیں۔ مشک پوری کی ملکہ اور گرد باد ان کے اب تک آنے والے ناول ہیں، جنہیں قارئین اور نقادوں میں بہت پذیرائی ملی ہے۔