چوتھا صنعتی انقلاب اور شعبۂ تعلیم

چوتھا صنعتی انقلاب
Illustration via World Economic Forum

چوتھا صنعتی انقلاب اور شعبۂ تعلیم

از، لیاقت علی جتوئی

ایک ایسے دور میں جب ہر نئے دن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نوکریاں آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کی نذر ہو رہی ہیں، ایک سوال جسے شاید زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی، جو کہ دی جانی چاہیے، وہ یہ ہے کہ جب مشینیں روز بہ روز پہلے سے زیادہ ذہین بنتی جا رہی ہیں، ایسے میں تعلیم کے کون سے شعبے اہمیت کے حامل ہوں گے؟

ویریزون کمیونی کیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر Hans Vestberg کہتے ہیں، ’میں نے اپنے کیریئر میں، اقوام متحدہ کےتحت دنیا بھر کے صارفین اور معاشروں کو اختراع (innovation) کے فوائد پہنچانے کے لیے چند بہترین ٹیکنالوجی انجینئرز اور ہیومینٹیرینز (humanitarians) کے ساتھ کام کیا ہے۔ اس میں تازہ ترین منصوبہ 5G ٹیکنالوجی کا ہے، جس کی مدد سے موجودہ 4G ٹیکنالوجی کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ برق رفتاری سے ڈیٹا منتقل کیا جا سکے گا۔ اس دوران، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارا تعلیمی نظام 5G اور چوتھے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اُٹھانے کے لیے لوگوں کو تیار نہیں کرپارہا‘۔

وہ مزید کہتے ہیں، ’تعلیم دان، پالیسی ساز، غیر منافع بخش ادارے اور کار و باری طبقہ، ان سب کو اس حقیقت اور اس کے ہمارے مستقبل پر پڑنے والے اثرات کو ماننے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔’

ایسے میں، جب کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت عمومی انسانی صلاحیت کے برابر آ چکی ہیں یا اس سے آگے نکل رہی ہیں، تعلیم کا مقصد کیا ہونا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں ماہرین تین مقاصد بتاتے ہیں:

٭سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ (STEM)کے میدان میں مہارت حاصل کرنا، تا کہ بتدریج یا تیزی سے ٹیکنالوجی کو اپناتے معاشرے کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

٭لوگوں میں شہری اور اخلاقی اقدار و شعور پیدا کرنا، تا کہ وہ ان طاقت ور ٹیکنالوجیز کو اپنی ذہانت اور نقطۂِ نظر کے مطابق دیگر انسانوں کے بہتر فائدے کے لیے استعمال کر سکیں۔

٭تمام عمروں اور زندگی کے ہر مرحلے پر، درج بالا دونوں ضروریات پر پورا اُترنے کے لیے، ہمارے تعلیم نظام میں اب تک جو طریقے اختیار کیے گئے ہیں، ان کے مقابلے میں زیادہ تخلیقی اور زیادہ پُر جوش طریقے اختیار کرنا۔

یہ بات سمجھنا آسان ہے کہ مستقبل کی تعلیم میں STEM کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کی کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بھی STEM کو ترجیحی حیثیت دی جا رہی ہے۔ گوگل سے لے کر ویریزون تک، دنیا کی ساری بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں STEM پر کام کر رہی ہیں۔

ایک ایسی دنیا، جسے ٹیکنالوجی آگے لے کر چل رہی ہے، اس دنیا میں  STEM مضامین کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ہمارے معاشرے، کم از کم جو چیز کر سکتےہیں اور کرنی چاہیے، وہ یہی ہے کہ آمدنی کے تمام طبقوں، عمروں اور دونوں صنفوں میں STEM تعلیم کو مساوی طور پر عام کرنا چاہیے۔


مزید دیکھیے:   ایک متحرک قومی جدت طرازی کی پالیسی  از، ڈاکٹر عطاء الرحمن


ہر چند کہ دنیا کے کئی معاشروں کا STEM تعلیم میں رجحان بڑھ رہا ہے اور انہوں نے ان مضامین میں قابلِ ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم تعلیم کا ایک شعبہ ایسا ہے، جسے بالکل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ شعبہ ہیومینٹیز (humanities) ہے، جو آنے والی نسلوں میں ٹیکنالوجی کو دُرست سمت میں آگے لے جانے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہو گا۔ تاریخ (history)، فلسفہ (philosophy)، ادب (literature) اور فنونِ لطیفہ (arts) وغیرہ ہیومینٹیز کے چند بنیادی اور اہم ترین مضامین ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ عام خیال کے بر عکس، ٹیکنالوجی کے عہد میں کچھ مضامین کو دیگر پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہو گی۔ ہمارے معاشروں کو اس فضول بحث سے نکلنا ہو گا، جس میں ایک طبقہ سائنسز اور دوسرا ہیومینٹیز کو فوقیت دیتا ہے۔ نئے عہد کو دونوں کی مساوی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمارے نظام تعلیم میں ان دونوں طرح کے مضامین کو ضم کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ دنیا کو ایسے انجینئرز کی ضرورت ہے جو جدید ٹیکنالوجی کو سمجھتے ہوں اور ساتھ ہی اسے ایسے مؤرخین بھی چاہییں، جو حساس اور پیچیدہ مواد اور اعداد و شمار کو سمجھ کر اس سے مؤثر نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ہمارے سامنے ایسے کئی واقعات رُو نما ہو چکے ہیں، جہاں ٹیکنالوجی کے ماہرین سے جب صارف کی راز داری (consumer privacy) اور سیاسی نظام (political system) پر سوالات پوچھے گئے تو ان کے جوابات عمومی غلطیوں (Unforced errors) سے بھر پُور تھے۔

ان باتوں سے ایک بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ٹیکنالوجی اگر انسانوں کا معیارِ زندگی بلند کرنے کا کیا گیا وعدہ پورا کرنا چاہتی ہے تو اسے معاشرتی اور اخلاقی اقدار کا احاطہ کرنا ہو گا۔ وہ شعبہ جو ان معاشرتی اور اخلاقی اقدار کا احاطہ کرتا ہے، یعنی ہیومینٹیز، اسے ایک طویل عرصے سے غلط زمانی (anachronism) قرار دے کر رد کیا جا رہا ہے، حالاں کہ معاشرے کی عمومی سوچ کے بر عکس، در حقیقت یہی وہ شعبۂِ تعلیم ہے، جو ہمیں آنے والی خطر ناک ٹیکنالوجیز کو بہترین انداز میں اور انسانوں کے بہترین فائدے میں استعمال کرنے کے قابل بنائے گا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.