تعدد معنی اور دلالت لسانی

Sajid Hameed

تعدد معنی اور دلالت لسانی

از، ساجد حمید

زبان اپنے معنی کی ادائیگی میں کامیاب ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ عالم عمل میں ہونا چاہیے، نہ کہ مجرد عالمِ عقل میں۔ صدیوں سے ہم افلاطون کے طرزِ فکر کے اسیر ہیں۔ اس کا منہج یہ تھا کہ ہماری عقل علم کا ماخذِ کُل ہے اور ہمارا حسی تجربہ، یعنی ہمارے حواس خطا کار ہیں۔ اس طرز فکر نے صدیوں تک انسان کو علوم میں ترقی سے روکے رکھا۔ انسان کی اس طرز فکر میں جو ترقی ہوئی، وہ ایک طرف اہل فلسفہ کی عقلی مو شگافیاں تھیں اور دوسری طرف تصوف کی وجدانی خود فریبیاں۔ علم اسی میدان میں پھنسا رہا، اور اقبال کے الفاظ میں اس دانشِ برہانی نے حیرت کے سوا ہمیں کچھ عطا نہیں کیا۔

اس منہج کی تاثیر اور گرفت اتنی زیادہ تھی کہ کوئی حتمی سے حتمی چیز بھی جب اس کے معیار پر پوری نہ اتری تو بے وقعت قرار پائی۔ مثلاً ان کے مطابق وحی محض ظاہریت اور معیار میں پست ٹھیری، تجربات پر مبنی علم محض دنیوی اور سفلی سے شاید کچھ بڑا درجہ پا کر علم آلی قرار پایا۔ لہٰذا، نہ فہمِ وحی کے لیے ذہین عناصرآگے بڑھے اور نہ مادی علوم کے لیے۔ لہٰذا امت کے بڑے اذہان فلسفہ و تصوف کی بھینٹ چڑھ کر خانقاہوں اور فلسفیانہ مدارس کی روح و رواں بن کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وحی پر اعتماد کرنے والے بے وزن ٹھیرے۔ پھرامام رازی وغیرہ نے وحی کو اس معیار پر پورا دکھانے کے لیے ’’التفسیر الکبیر‘‘ جیسی تفاسیر لکھی۔ بالکل اسی طرح، جس طرح ہمارے عہد میں سر سید وغیرہ نے قرآن کو سائنس کے معیار پر دکھانے کے لیے تفسیریں لکھیں۔

عقلی منہج اور حقیقتِ واقعہ

افلاطونی طرز فکر کا اصل طریقہ یہ ہے کہ حقائقِ واقعہ (ground realities) سے ہٹ کر خالص ذہنی بنیادوں پر ایک نظریہ بنائیں گے اور پھر اسی کے نتائج و عواقب عقل کی بھٹی سے کشید کرکے دکھائیں گے۔ مثلاً ایک عقلی مقدمہ قائم ہوگا، کہ کوئی چیز عدم سے وجود میں نہیں آسکتی۔ تو سوال پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کہاں سے آئے؟ جواب آیا کہ چیزیں دو قسم کی ہیں: ایک واجب الوجود (necessary being)اور ایک حادث یا ممکن الوجود (contingent)۔ واجب الوجودوہ ہے جو بس از خود ہے، اس کا کوئی آغاز نہیں ہے اور اس کا وجود ہی حقیقی وجود ہے۔ ممکن الوجود وہ ہے جو اصلاً نہیں ہے، مگر وجود میں آ سکتا ہے۔ جب یہ عقلی مقدمات مان لیے گئے تو سوال پیدا ہوا کہ کائنات ممکن الوجود ہے کہ واجب الوجود؟ ایک گروہ نے اپنے خیال میں اسے واجب الوجود مانا اور دوسرے نے حادث۔ جس نے حادث مانا، اس کے نزدیک یہ حقیقی وجود نہیں تھا۔ لہٰذا ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے کی صورت پیدا ہوگئی۔ چناں چہ کائنات کا ہونا محض خواب، واہمہ یا عکس و تجلی قرار پایا، یعنی ایک ٹھوس حقیقی دنیا اس عقلی فریب میں بے وجود قرار پائی۔ چناں چہ صدیوں بعد ڈیکارٹ نے منوایا کہ کم از کم اپنے آپ کے ہونے کو تو مانا جائے۔ ڈیکارٹ نے ذاتِ خویش کی موجودگی اندھوں کو نہیں منوائی تھی، بَل کہ ان دانا و بینا لوگوں کو منوائی تھی جو فلاسفر کہلاتے اور ذہین ترین عناصر سمجھے جاتے ہیں۔ ۱؂ اگر آپ اس پر سوال اٹھائیں گے کہ حضور، حقیقت واقعہ تو یہ ہے کہ یہ دنیا موجود ہے، کیا آپ کو دکھائی نہیں دیتی ؟ آپ کس طرح کی باتیں کررہے ہیں! تو یہ افلاطونی طرز کا فلسفی آپ کو ظاہر پرست اور عقلی اعتبار سے پست قرار دے دے گا۔ کبھی آپ کو کہے گا کہ یہ حواس کا دھوکا ہے اور کبھی آپ کو کہے گا کہ آپ کی عقل اتنی بالیدہ نہیں ہے کہ ہماری بات سمجھ سکیں، وغیرہ۔ ایسا وہ اس لیے کہتے ہیں کہ اپنے عقلی مُو شگافی کے سوا ان کے پاس ہوتا ہی کیا ہے۔ ۲؂


مزید دیکھیے:  کن خرافات میں امت کھو گئی ہے؟  از، پروفیسر محمد حسین چوہان

قرون وسطیٰ میں علمی ترقی کا سبب: ایک نظریہ علم   از، پروفیسر محمد حسین چوہان


لسانی میدان میں بھی یہی حرکت ہوئی۔ حقیقی دنیا میں اس کی دلالت دیکھنے کے بجاے، کچھ اسی طرح کے عقلی مقدمات قائم کر لیے گئے۔ پھر ان سے کچھ تصورات کشید کیے گئے۔ حالاں کہ عملی میدان میں زبان ان نظریات کو ویسے ہی جھٹلاتی ہے، جیسے کائنات کو واہمہ قرار دینے والوں کو کائنات کا وجود جھٹلاتا ہے۔

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟

یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں؟ غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟ ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے؟

غالب کے اشعار کا یہی وہ تحیر ہے جسے اقبال نے حیرت کی فراوانی کہا ہے:

ہے دانش برہانی حیرت کی فروانی

جس طرح وہم کا مریض اپنے وہم کو حقیقی سمجھ رہا ہوتا ہے، بالکل اسی طرح فلسفی اپنے عقلی وہموں کو حق سمجھ رہا ہوتا ہے اور حقیقی باتوں کو وہم۔ گویا کچھ لوگوں کی آنکھوں اور حواس کو وہم لاحق ہوتا ہے تو کچھ کی عقلوں کو۔ افلاطون کو لاکھ قائل کرلیں کہ جناب آپ کا عالم امثال آپ کے ذہن کی اختراع ہے اور بس! لیکن وہ اپنے نظریے کوترک نہیں کرے گا، کیوں کہ اس کی عقلی تُک بندیوں نے یہی سجھایا ہے۔ وہ عقل کے اس فریب سے باہر نہیں نکلے گا۔ ایسے فلسفیوں کو دنیا بھر کی مانی ہوئی موجود چیزیں غیرموجود اور غیر موجود چیزیں موجود لگتی ہیں۔

ہمارا لسانی تجربہ بھی اسی کائنات کے وجود کی طرح ایک طرف لے جاتا ہے اور فلسفیانہ طرز پر سوچنے والوں کا طرز فکر دوسری طرف۔ اس منہج کے حاملین سے بعید نہیں ہے کہ وہ زبان میں موجود دلالت کا انکار کردیں۔ جب عقلی نظام الفکر محسوس کائنات کا انکار کرسکتا ہے، تو وہ محسوس لسانی دلالت کا انکار کیوں نہیں کرسکتا! کیوں کہ اس نے اپنے طرزفکر کے مطابق گھوڑ ے کے دانت گننے نہیں ہیں، بَل کہ ان کی تعداد جاننے کے لیے عقلی گھوڑے دوڑانے ہیں۔ اس لیے کہ یہ جاننے کے لیے کہ گھوڑے کے دانت کتنے ہیں، اس کے دانت گننے نکل پڑنا ظاہریت، حواس پرستی اور عقلی پستی کی علامت ہے۔ ان کے لیے دانش برہانی تو یہ ہے کہ گھر بیٹھے محض عقلِ تام کی مدد ہی سے کسی سوال کاجواب پا لیا جائے، (خواہ وہ حقیقت کے کتنا ہی خلاف کیوں نہ ہو)۔ لہٰذا، کلام سو فی صد قطعی الدلالت ہو جائے، یہ عقلیت پرست اسے قطعی نہیں مان سکتے کیوں کہ وہ کچھ اوہام کو عقلی طور پر حق تسلیم کیے بیٹھے ہیں، یہ فریبِ عقل کا بری طرح شکارہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ ان کے نزدیک زبان کی دلالت کو عقلی موشگافیوں کی بنا پر ظنی مانا جاتا ہے اور اس کے خلاف روزمرہ کا عملی ثبوت بے وزن قرار پاتا ہے۔

لسانی دلالت اور عقلی اوہام

عقلی اوہام کی ایک دو مثالیں دیکھتے ہیں، تا کہ آپ پر واضح ہو سکے کہ یہ کس طرح ہمیں حقائق سے دور لے جاتے ہیں۔ ایک مقدمہ یہ ہے کہ الفاظ حقیقی اور مجازی معنی میں استعمال ہوتے ہیں، یہ ایک مسلمہ ہے۔ اب اس حقیقی عمل پر ایک وہم استوار کیا گیا ہے کہ جب متکلم بات کرے گا توسامع کو یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ اس نے حقیقی معنی میں الفاظ بولے ہیں کہ مجازی معنی میں! جب یہ معلوم نہیں ہوسکتا تو پہلا عقلی نتیجہ تو یہی نکلے گا کہ مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا۔ ایک طرف یہ عقلی تجزیہ ہے، تو دوسری طرف ہمارا لسانی تجربہ ہے۔ ذرا سوچیے کہ آیا واقعی ہمیں اپنی زندگیوں میں حقیقت و مجاز طے کرنے میں اتنی ہی مشکل پیش آتی ہے کہ مدعا عنقا ہوجائے۔ ان کے نزدیک، دوسرا نتیجہ یہ نکلے گا کہ تعدد معنی وجود پذیر ہوجائے گا۔ کچھ الفاظ کو حقیقی معنی میں لے کر ایک معنی طے کر لیں گے تو کچھ مجازی معنی میں لے کر کچھ اور معنی۔ ’’لائے ہیں بزم ناز سے یار خبر الگ الگ‘‘ کی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔ یہاں بھی میں یہی عرض کروں گا کہ آیا ہمارا لسانی تجربہ اسی کی تصدیق کرتا ہے ؟ہر گز نہیں۔

ایک اور مقدمہ دیکھیے، الفاظ کے معنی لغات (dictionary) سے معلوم ہوتے ہیں، اور لغات کے مصنف ایک دو لوگ ہی ہوتے ہیں، لہٰذا ان لغات میں معنی آحادنے ثبت کیے، اور یہ مسلمہ ہے کہ آحادسے حاصل معلومات ظن کی حامل ہوتی ہیں۔ لہٰذا الفاظ کے معنی ظنی ذرائع سے معلوم ہوئے، تو واضح ہوا کہ کلام کا مدعا تمام کا تمام ظن ہوگا، اس لیے کہ اخبار آحاد سے تمام الفاظ کے معنی درجِ لغات ہوئے ہیں۔ اس مقدمے کو بھی ذرا حقیقت میں رکھ کر دیکھیں کہ کیا اہل زبان لفظوں کے معنی لغات نکال کر دیکھتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ اسی طرح لغات کی حقیقت پر بھی غور کریں۔ مثلاً آم کے معنی لغت میں mango لکھے ہوئے ہیں اورکیا آپ کو اور مجھے صرف لغت ہی میں دیکھ کر معلو م ہوئے ہیں؟اور کیا لغات میں لکھے ہوئے الفاظ صرف آحاد ہوتے ہیں، یا ان کو تواتر لسانی کی سند بھی حاصل ہوتی ہے؟شاذ یا متروک الفاظ تو شاید ظنی کہلا سکتے ہیں، مگر وہ بھی اس وقت، جب وہ اس وقت لغت میں لکھے جائیں، جب وہ متروک ہو چکے ہوں۔ اگر وہ اپنے استعمال کے عہدِ تواتر میں ثبتِ کتب ہوئے ہوں تو یہ بھی ظنی نہیں ہوں گے۔ مثلاً اگر آج ہم ’آم‘ کے لفظ کو لغات میں ثبت کریں، اور پچاس سال بعد جب انگریزی کا mango اس کی جگہ لے چکا ہو گا اور آم متروک ہو چکا ہو گا تو آیا لغت میں لکھا ہوا اس کا معنی ظنی ہوگا؟ یقیناً نہیں۔ یہ اور اس طرح کے مزید آٹھ توہمات ہیں، جن کی بنا پر ہمارے کلامی علما کلام کی دلالت کو ظنی مانتے رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں ان کی حیثیت عقلی فریب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

عقلی اوہام اور حقیقت واقعہ

اس عقلی وہم کو ایک عملی ظاہرے سے مدلل کیا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ مثلاً قرآنی تفاسیر میں علما کے مابین اتفاق نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تعدد معنی اور عدم قطعیت کا نظریہ عملی زندگی سے ثبوت بھی پاتاہے۔ لہٰذا، ان کے خیال میں، ظنی الدلالت کا مسلک عقل اورحقیقت واقعہ، دونوں سے ثابت ہے۔ لیکن واضح رہے کہ حقیقت میں یوں نہیں ہے۔ اس مظہر سے دلیل پکڑنا دراصل اپنے عقلی توہمات کے اثر میں عجلت اورنہایت پست سہل پسندی (simplification) سے ایک مظہر کوسہواً ثبوت میں پیش کرنا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے کسی کی سبق لسانی کو آپ اپنے حق میں استعمال کرلیں یا پروف کی غلطی کو مصنف کی بے علمی پر قیاس کرلیں۔ میری بات کا مطلب یہ ہے کہ اس گروہ نے تفسیری اختلافات کو اپنے حق میں یہ جانے بغیر استعمال کرلیا کہ آیا وہ اختلافا ت لسانی بے مائیگیوں سے پیدا ہوئے تھے یا وہ تفاوت ہاے فکر کا شاخصانہ تھے؟مثلاً اگر ایک معتزلی، اعتزال کی روشنی میں تاویلات کرنے کو جائز مانے، دوسرا تشیع کے فکری ڈھانچے کی بنیاد پر، تیسرا اشعریت کی سان پر آیات کو چڑھا دے، چوتھا شافعی اصولوں پر احکام کی تعبیر کرے اور پانچواں حنفی اصولوں پر تو اب جو تفسیری اختلاف ہوگا، وہ لسانی وجوہات سے نہیں، بَل کہ فکری وجوہات سے ہوگا۔ ہمارا مکتب فکر اسی طرز پر تفسیر کرنے کو خارج کی روشنی میں تفسیر کرنا کہتا، اور اسے ناجائز قراردیتا ہے۔

شاید یہی وہ چیز تھی جسے دیکھ کر اسلاف کے ہاں تفسیر بالراے کو رد کیا گیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے تفسیر بالراے کا جو متبادل فراہم کیا گیا، وہ خود آرا ہی کا مجموعہ تھا، یعنی مرویاتِ اسلاف۔ چنانچہ خارج کی ایک چیز کو چھوڑا تو دوسری کو پکڑلیا گیا۔ ہماری بات کا مطلب یہ ہے کہ خارجی افکار و نظریات کی روشنی میں جب قرآن سمجھا جائے گا تو قرآن کی تفسیر میں یقیناًراے داخل ہوگی، اور اختلاف پیدا ہوگا۔ دراصل ہونا یہ چاہیے کہ اپنی آرا ونظریات کو قرآن کی روشنی میں متعین کیا جائے، نہ کہ قرآن کو ان کے مطابق سمجھا جائے۔ مثلاً تفسیر کے عہد جدید کے آغاز میں معجزات اور سائنس کے ظاہر ی ٹکراؤ کے تحت ’لَا تَبْدِیْلَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ‘ کی تفسیر قرآنی سیاق و سباق سے کاٹ کر کی گئی۔ اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ کے پیدا ہونے کا انکار کرنے کے لیے اسے قرآنی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا کہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ بچے ماں اور باپ کے باہمی تعامل سے پیدا ہوتے ہیں، تو اس سنت کی خلاف ورزی ولادت مسیح میں بھی نہیں ہو ئی، اس لیے حضرت عیسیٰ (معاذاللہ) یوسف نامی کسی شخص کے بیٹے تھے۔ یہ الفاظ پر خارج کی حکومت مان کر کی جانے والی تفسیر کی جدید مثال ہے۔ قرآنی الفاظ میں کوئی کمی نہیں ہے جس کی بنا پر یہ تفسیر ممکن ہو۔

دورِ قدیم میں علم کلام کی روشنی میں کی گئی تفسیر، مثلاً: ’قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ‘ کی تفسیر میں بو علی سینا لکھتے ہیں: ’قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ‘ میں ’ہو‘ مطلق ہے جس کی ’ہویۃ‘ دوسرے پر موقوف نہ ہو، کیوں کہ جس کی ’ہویۃ‘ غیر پر منحصر ہو، اسے ’ہو‘ نہیں کہا جا سکتا۔ یہاں بھی دیکھیے قرآنی الفاظ میں وہ کیا چیز ہے جو ایک عام ضمیر کو فلسفیانہ ’ہویۃ‘ کا مفہوم دے رہی ہے۔ سچی بات ہے کہ ایک چیز بھی نہیں ہے۔ اسی طرح ’ثَلٰثَۃَ قُرُوْٓءٍ‘ جیسا مشہورفقہی اختلاف فقہی فتوے کی بنا پر سیاق وسباق سے آیت کو کاٹ کردیکھنے سے وجود میں آیا تھا۔ لفظ کا مشترک المعنی ہونا اس کا حقیقی سبب نہیں ہے۔

یہ مثالیں میں نے اس لیے دی ہیں کہ ایک مثال میں ’ہو‘ کے معنی میں ’ہویۃ‘ کو گھسیڑنے کا امکان نہایت واضح طور پر موجود نہیں ہے، لیکن علم کلام سے دل چسپی رکھنے والے آرام سے کہہ دیں گے کہ تمھیں کیا معلوم کہ یہ کتنی شان دار تفسیر ہے۔ اسی طرح سرسید کی ’سُنَّۃُ اللّٰہِ‘ سے متعلق تفسیر پر بھی یہی کہا جائے گا۔ فقہی اختلاف والے اپنے مسالک کی توجیہات میں لگے رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ تینوں تفاسیر میں ایک بھی ایسی نہیں ہے کہ جس کا باعث کلام میں موجود ہو۔ اختلافی تفاسیر میں زیادہ تر کا سبب یہی خارجی آرا اور احوال ہیں۔ کم ہی ایسی آیات ہوں گی، جہاں قرآن کی زبان احتمالات کا سبب بنی ہو۔ فقہی آرا قیاس سے بنتی یا آحاد سے وجود پاتیں اور ان کی روشنی میں قرآن کو سمجھا گیا، علم کلام سے فکر تشکیل پایا، اور قرآن کی آیات کی اس فکر کے مطابق تاویل کی گئی۔ اسی طرح باطنیت اور تصوف کے کیف و وجد اور وجودی فلسفے سے آیات کے معنی تبدیل کیے گئے۔ لیکن طعن زبان پر ٹوٹا کہ وہ قطعی الدلالت نہیں ہے۔ پوری تاریخ میں شاید ہی کوئی اختلافی تفسیر آپ کو ملے گی کہ جس کی بنیاد خالصتاً لسانی ہو۔ جتنے اختلافات ہیں، ان میں زیادہ تعداد ان مفسرات کی ہے جن کی وجہ خارجی اصول و آرا ہیں۔ یعنی لسانی سطح پر احتمالات کی موجودگی اصلاً نہیں ہوتی۔

جدید عقلی توہمات

ہمارے اس نقطۂ نظر کہ کلام قطعی الدلالت ہوتا ہے، پر آج بھی جتنی تنقیدات ہوئی ہیں، وہ انھی افلاطونی طرز کے عقلی اوہام کے تحت ہوئی ہیں۔ مثلاً لفظ شعور کی تخلیق ہے اوروہ اس پر حاکم ہے، اور شعور نمو پذیر ہے، اس لیے قطعیت ممکن نہیں ہے، کیوں کہ قطعیت جمود (fixity) ہے، جب کہ لفظ کو نمو پذیر شعور کا ساتھ دیناچاہیے، اسے جمود زیبا نہیں ہے۔ وغیرہ۔ یہ میں نے ایک عقلی وہم بطور مثال اٹھایا ہے، ان اوہام کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

یہ عقلی وہم آپ کو یاد دلائے گا کہ گھوڑے کے دانت مت گنو، گھوڑے کے دانتوں کی تعداد عقلی تُک بندیوں سے جانو۔ یہ بات پتا نہیں کہاں سے آگئی کہ الفاظ اہل زبان کے شعور کی تخلیق ہیں۔ ذرا بتائیے کہ چپاتی کے لیے روٹی کا لفظ میرے آپ کے شعور نے تخلیق کیا ہے یا ہم نے معاشرے سے بنا بنایا لیا ہے۔ اول اول توہر لفظ کسی شعوری عمل یا حادثے سے وجود پذیر ہوا ہو گا، اس وقت ہوسکتا ہے کہ شعور نے اس پر حاکمیت رکھی ہو، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب یہ لفظ معاشرے نے مجھ آپ کو دیا ہے۔ معاشرہ معلم ہے اور میرا آپ کا شعور اس کا متعلم، لہٰذا لفظ معاشرے کی وساطت سے ہمارے شعور پر حاکم ہوا۔ ۳؂ اگر شعور کو آج بھی حاکم مانا جائے تو یہ تبھی ممکن ہے کہ ہم ہر روز نئے الفاظ ایجاد کررہے ہوں، یا ہر روز انھیں نئے معنی عطا کررہے ہوں۔

اس صورت میں ایک ناقابل عمل صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ مثلاً، کیا میں یہ کر سکتا ہوں کہ اپنے شعور سے لفظ تخلیق کروں اور آپ کے سامنے بولوں تو آپ فوراً میرے شعور میں موجود اس کے معنی کو پالیں گے؟ لفظ کسی زبان کا حصہ اس وقت بنتا ہے، جب اس کا چلن اہل زبان کے ہاں عام ہو جائے۔ جب لفظ اس مقام تک پہنچتا ہے، اس وقت معاشرے کا حصہ بن جاتا ہے۔ پھر شعور اس کاحاکم بننے کے بجاے اس کامحکوم بن جاتا ہے اور منبع بننے کے بجاے مورد بن جاتا ہے۔ لہٰذا عملی طور پر معاشرے کا لسانی چلن حاکم ہے، لیکن ان عقلی اوہام کے تحت شعور حاکم ہے۔ عملی طور پر تو شعور الفاظ سازی کے معاملے میں منفعل جگہ پر کھڑا ہے، مگر عقل کو وہم ہے کہ وہ فاعلی جگہ پر ہے۔ شعور اگر کچھ الفاظ کے معنی میں اضافہ و تغیر بھی کرتا ہے تو صرف اسی دائرے میں جس میں معاشرے کا چلن اجازت دے۔ مثلاً روٹی کو تو رزق کے معنی میں بول لیتے ہیں، لیکن چپاتی کو نہیں، الّا یہ کہ چپاتی بھی معاشرے میں یہ مقام پالے۔

اسی طرح دیکھیے کہ شعور کی نموپذیری سے ظن پیدا ہوتا ہے، یہ اس اصول کا نتیجہ ہے جو افلاطونی فکر میں تھا کہ چُوں کہ کائنات متحرک ہے، اس لیے اس کا درست اورقطعی علم حاصل نہیں ہو سکتا، عالم مثال جامد و کامل ہے، اس کا صحیح علم ہم حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ عقلیتِ محض کا وہ استعمال ہے جسے میں نے عقلی تُک بندیوں کا نام دیا ہے، جس کا کوئی مقدمہ بھی ثابت شدہ نہیں ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ یہاں شعور محکوم ہے۔ اہل زبان نے لفظ کو جس معنی سے جوڑ دیا ہے، شعور اس کے آگے غلام کی طرح ہے۔ وہ اس کا پابند ہے، اگر وہ اس سے سرِ مُو انحراف کرے گا تو بچے بھی اس پر ہنس پڑیں گے۔ ہمارے شعور کو معاشرے نے بالجبر پابند کیا ہے کہ ’روٹی‘ کا لفظ کس شے کے لیے بولنا ہے۔ شعور کو اس قابل ہونا ہے کہ وہ معاشرے میں موجود اس لفظ کے آگے جھکے، لفظ جو معنی معاشرے سے لے کر آرہا ہے، اسے تسلیم کرے۴؂۔ اسی طرح نمو پذیری کا لازمہ نقضِ قطعیت ہے، کوئی محکم بات نہیں ہے، محض عقلی وہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم آج کئی متحرک اور نمو پذیر چیزوں کا نہایت گہرا علم رکھتے ہیں۔

عقلی فریب خوردگی میں یہ لوگ ایک تخیل اپنے گھر بیٹھے قائم کرتے ہیں، اور پھر اس کے نتائج فکر میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ عقلی خانہ زادی میں انھیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس قدر حقیقتِ واقعہ کے خلاف بات کررہے ہیں، کیوں کہ انھیں یہ زعم ہوتا ہے کہ ہم عقل عام نہیں، بَل کہ بڑی محنت سے بنائی ہوئی عقلِ خاص سے باتوں کو سمجھ رہے ہیں۔ جس کی مثال یہ مقدمہ ہے کہ نمو پذیری قطعیت کی ناقض ہے۔ علم کی دنیا میں یہ نہایت کم زور بات ہوتی ہے کہ آپ خود ہی ایک خیال تراشیں اور آپ ہی اسے سچائی قرار دے دیں۔ اس سے پست کوئی عمل علمی دنیا میں وجود پذیر نہیں ہو سکتا۔

افکار کا اثر فہم کلام پر

اوپر ہم نے مقدمہ قائم کیا ہے کہ فہم قرآن میں اختلافات کا اصل سبب خارجی اصول و افکار کے تحت قرآن کو سمجھنا ہے۔ افکار اور آرا کس طرح انسان پر غالب آتی ہیں، اور وہ کس طرح کلام کو سمجھنے سے انسان کو محروم کردیتی ہیں، اس کو قرآن کے ایک مقام سے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہم نے یوسف اور بن یامین علیہما السلام کا واقعہ سن رکھا ہے کہ حضرت یوسف نے اپنا ایک برتن بن یامین کے سامان میں رکھا اور پھر اعلان کرادیا کہ میرا برتن چوری ہو گیا ہے اور تلاشی پر بن یامین کے سامان سے برآمد ہونے پر بن یامین ایک مجرم کی طرح روک لیے جاتے ہیں۔ جھوٹ اور ڈرامے پر مبنی اس سازش کا خالق (نعوذ باللہ) حضرت یوسف کو مانا جاتا ہے۔ اب میں قرآنی آیات آپ کے سامنے لاتا ہوں اور آپ کو واضح کرتا ہوں کہ قرآن کے الفاظ کیا کہہ رہے تھے، مگر اس کہانی کے اثر میں بڑے بڑے مفسرین کیا سمجھتے رہے ہیں۔ یہ کہانی اتنا اثر رکھتی ہے کہ مفسرین قرآن کے الفاظ پر توجہ تک نہیں دے پاتے۔ آیات پر نظر ڈالیے، اور خط کشیدہ الفاظ کو ذرا توجہ سے نوٹ کرتے جائیے:

فَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ جَعَلَ السِّقَایَۃَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْہِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُھَا الْعِیْرُ اِنَّکُمْ لَسٰٰرِقُوْنَ. قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَیْھِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ. قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِکِ وَلِمَنْ جَآءَ بِہٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّاَنَا بِہٖ زَعِیْمٌ. قَالُوْا تَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّاجِءْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَمَا کُنَّا سٰرِقِیْنَ. قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ کٰذِبِیْنَ. قَالُوْا جَزَآؤُہٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِہٖ فَھُوَ جَزَآؤُہٗ کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ. فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِھِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْہِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَھَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْہِ کَذٰلِکَ کِدْنَا لِیُوْسُفَ مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ…. (یوسف ۱۲: ۷۰۔ ۷۶)

’’جب اس نے ان کا سامان تیار کرا یا تو ’سقایہ‘ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا۔ پھر تھوڑی دیر بعد ایک ہرکارہ بولا: او قافلے والو، (رکو) تم چور ہو۔ (برادران یوسف) ان کی طرف مڑ کر بولے: تمھاری کیا چیزکھو گئی ہے؟ انھوں نے کہا کہ ہمیں بادشاہ کا ’صواع‘ نہیں مل رہا، جو وہ لوٹا دے گا، اس کو اونٹ بھر اناج دیا جائے گا، اور میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔ اس کے جواب میں (برادران یوسف ) بولے: باخدا، تم جانتے ہو کہ ہم اس علاقے میں فساد پیدا کرنے نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں۔ تو (محل کے کارندوں نے) کہا اگر تم جھوٹے ہوئے تو مجرم کی کیا سزا ہوگی؟ برادرانِ یوسف بولے: جس کے سامان سے ’صواع‘ نکل آیا، تو وہی شخص رکھ لیا جائے، ہم اپنے ہاں ایسے ظالموں کو یہی سزا دیتے ہیں۔ محل کے کارندے نے بن یامین سے پہلے دوسرے بھائیوں کے سامان سے تلاش شروع کی، اور پھرتلاش کرتے کرتے بن یامین کے سامان سے ’سقایہ‘ ۵؂ برآمد کر لیا۔ یوں ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی، وگرنہ وہ شاہی قانون کے مطابق اپنے بھائی کو اپنے پاس نہیں ٹھیرا سکتا تھا۔ ‘‘

جب ہم مشہور کہانی کے زیر اثر ان آیات کو پڑھتے ہیں تو ’سقایہ‘ (پینے کا پیالا آیت ۷۰) اور ’صواع‘ (اناج ماپنے کا برتن آیت ۷۲) کو ایک ہی سمجھ لیتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت یوسف نے کجاوے میں اپنا ’سقایہ‘ رکھا تھا۔ دوسری طرف اتفاق سے بادشاہِ مصر کا پیمانہ (صواع الملک) چوری ہو جاتا ہے۔ پھر حضرت یوسف نہیں، بَل کہ بادشاہ کا کوئی کارندہ آواز لگاتا ہے کہ رک جاؤ تم چور ہو، یہ کارندہ حضرت یوسف کے ’سقایہ‘ کی نہیں، بَل کہ بادشاہ کے چوری شدہ ’صواع‘ کی تلاش میں تھا۔ تلاش میں ’صواع‘ تو نہیں ملتا، البتہ حضرت یوسف کا ’سقایہ‘ برآمد ہو جاتا ہے، اور بن یا مین اس کی وجہ سے روک لیے جاتے ہیں۔ یعنی نہ حضرت یوسف نے ’سقایہ‘ رکھ کر خود اعلان کیا اور نہ کوئی جھوٹ بولا۔ انھوں نے یقیناً اپنے بھائی کے سامان میں ’سقایہ‘ محبت و اپنایت میں تحفہ کے لیے رکھا، مگر اللہ نے اس سے کچھ دوسرے مقاصد حاصل کر لیے، جسے قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ’کَذٰلِکَ کِدْنَا لِیُوْسُفَ‘ (یوں ہم نے یوسف کے لیے ایک تدبیر کی)۔ بہرحال آیات میں ’صواع‘ اور ’سقایہ‘ کے الفاظ موجود ہیں، لیکن کہانی ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے۔ کلام میں ’سقایہ‘ کے لیے مؤنث ضمیریں آئی ہیں، مثلاً: ’اسْتَخْرَجَہَا‘ (آیت ۷۶) میں ’ہا‘۔ اور ’صواع‘ کے لیے مذکر ضمیریں آئی ہیں، مثلاً: ’مَنْ جَاءَ بِہِ‘، میں ’ہ‘ کی مذکر ضمیر۔ مراد یہ ہے کہ ’سقایۃ‘ اور ’c‘ کے الفاظ اوران کے لیے مختلف ضمیریں صرف اس لیے نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں کہ ہم کہانی کے زیر اثر آیات کو پڑھتے رہے۔

بالکل اسی طرح ہمارے فلسفے، علم کلام، ہماری آرا اور ہمارے عہد کے تصورات، ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے آیات کے الفاظ اور ان کے مصداقات ہم سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ آیات کے علی الرغم ہم سیدنا یوسف پر تہمت باندھ دیتے ہیں کہ انھوں نے جھوٹ پر مبنی ایک چال چلی(نعوذ باللہ)۔ اسی لیے ہم اس بات کے قائل ہیں کہ خارج سے اس نوع کی چیزیں فہم قرآن کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ ہم قرآن نہیں سمجھ رہے ہوتے، بَل کہ اپنے فہم کو قرآن کے الفاظ میں ٹھونس رہے ہوتے ہیں۔ استاذ گرامی کا جملہ کہ ہمارا مسلک یہ ہے کہ ’’لفظ کو پکڑ کرچلیں‘‘۔ یہ خارج کے انھی اثرات کی نفی کے لیے بولا جاتا ہے۔ وہ اثرات جو ’سقایہ‘ اور ’صواع‘ میں فرق مٹا دیں، مذکر و مؤنث ضمیروں کوبے معنی کر دیں، ان سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ قرآن کے الفاظ، کلام کے دروبست اور سیاق و سباق کی حاکمیت کے آگے سرجھکا دیا جائے۔ فلسفے اور داستانیں اثرا نداز نہ ہونے دی جائیں۔

یہاں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ لسانی اعتبار سے قرآن نے وضاحتِ بیان کی کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ دونوں برتنوں کے الگ الگ نام بتائے تھے، دونوں کے لیے الگ الگ ضمیریں لائی گئیں، ’صواع‘ کے مالک کا ذکر لفظ ’صُوَاعَ الْمَلِکِ‘ کے الفاظ سے کیا گیا تاکہ یوسف علیہ السلام کی طرف نسبت نہ ہو پائے۔ گویا لسانی سطح پر کلام میں کوئی کمی نہیں تھی۔ اب اگر کوئی کہے کہ تفسیر میں اختلاف لسانی بے مائیگیوں کی وجہ سے ہوتا ہے تو یہ عجلت میں کیا گیا محض غیرعلمی تبصرہ ہے، جس کی جرأت صرف انھی کو ہوتی ہے جو فریبِ عقل کے تراشیدہ توہمات کی رو میں بہ جاتے ہیں، اور اس سے اٹھنے کی ہمت نہیں پاتے، کیوں کہ ان کاکام حقائق سے ورے محض ذہنی کارستانیوں تک محدود ہوتا ہے، جس سے ان کی غلطی ان پر واضح ہی نہیں ہو پاتی۔ وہ ارسطوکی طرح عقلی طور پر یہ مانتے رہتے ہیں کہ ماں کا ولادتِ اولاد میں بس اتنا ہی کردارہے، جتنا زمین کا بیج کی کاشت میں۔ لیکن وہ زمینی حقائق پر نگاہ ہی نہیں ڈالتے کے بچے باپ پر بھی جاتے ہیں اور ماں پر بھی۔ ماں سے بچوں کے نین نقش میں مشابہ ہونا یہ بتارہا تھا کہ ماں کے خون سے بھی ان کو کوئی رشتہ ہے، ماں کاان سے تعلق محض جائے استقرار کا نہیں۔

عقلیت کا حقائق سے بُعد

اہل فلسفہ کا حقائق سے بُعد اتنا ہی ہوتا ہے جتنا اس لطیفے سے واضح ہوتا ہے: ایک لڑکا فلسفہ و منطق پڑھنے گیا۔ واپس آیا تو ماں کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ ناشتے کے وقت ماں اس کا ناشتہ لائی اور پوچھا بیٹا یہ فلسفہ و منطق کیا ہوتا ہے، جو تو سیکھ کر آیا ہے؟

بیٹا بولا : ماں یہ بہت ہی مفیدعلم کانام ہے۔

ماں بولی:مجھے بھی بتاؤ، اس علم کا فائدہ کیا ہے؟

اس نے کہا: ماں تو کیا جانے! یہ بہت بڑا علم ہے۔ دیکھ یہ انڈا جو تو ابال کر لائی ہے نا، یہ ایک ہے، میں اس علم کے زورسے اسے دو ثابت کرسکتا ہوں۔

ماں نے چہک کرکہا: ارے واہ، واقعی!

لڑکے نے نہایت چابک دستی سے باتیں بنائیں اور اپنے زعم میں ماں کو ثابت کردیا کہ یہ ایک نہیں دو انڈے ہیں۔

ماں کو کچھ سمجھ آئی کچھ نہیں، تو تنگ آکر بولی: اچھا ایسا کرتے ہیں یہ انڈا میں کھا لیتی ہوں اور جو تم نے ثابت کیا ہے وہ تم کھا لو!!

تمام rationalist فلسفے کی اصلاً یہی حقیقت ہے۔ باتوں ہی باتوں میں غیر موجود انڈے کو عقلی تُک بندیوں سے موجود مانتے رہنا۔ بلاشبہ، حقائق کی کچھ آمیزش ہوتی ہے۔ لیکن وحدت الوجود، عالم امثال وغیرہ، اسی طرح کے ذہنی تخلیقات کے بے بنیاد افسانوں کا نام ہے۔ لسانی فلسفے بھی اس عقلیتِ محض سے بچے ہوئے نہیں ہیں۔

عقلیتِ محض ناقص ذریعۂ علم

زبان انسانی تجربے میں جس قدر قوت رکھتی ہے۔ یہ عقل پرستوں کے لیے شاید کوئی ذلت اور پستی کا عمل ہے کہ وہ اس تجربے کو فراموش کرکے محض عقلی تُک بندیوں تک محدود رہنا چاہتے ہیں۔ عقلیتِ محض خالصتاً ایک ناقص ذریعۂ علم ہے۔ خدا نے ہمیں فطرت، وجدان، عقل اور حواس سب حصول علم کے لیے دیے ہیں۔ جس علمی منہج میں کسی ایک کی بھی کمی پائی جائے گی وہ دھوکے میں رہے گا۔ عقلیت پرستوں (rationalists)، سائنس دانوں (empiricists)، اور صوفیوں (mystics) کے اپنے اپنے طرز فکر اور منہج کا نقص ہی یہی ہے کہ انھوں نے صرف ایک ذریعۂ علم پر انحصار کیا ہے۔ میرے خیال میں فطرت، وجدان، عقل اور حواس ایک دوسرے کے لیے پڑتال کا کام کرتے ہیں۔ جب میری نگاہ غلطی کھاتی ہے، تو عقل اس کی اصلاح کر دیتی ہے، عقل چوکتی ہے تو فطرت راہنمائی کے لیے آ جاتی ہے۔ لیکن اگر ان کونہ مانا جائے تو پڑتال کا یہ عمل رک جاتا ہے۔ اس لیے جب وجودی صوفیوں نے وجدانِ محض کو اپنایا تو گم راہ ہوئے، سائنس دانوں نے صرف حواس پر انحصار کیا تو ملحد ہوئے، فلسفیوں نے عقل کو ماخذِ کل مانا تو عقلی بُھول بُھلیوں میں کھو گئے۔ لسانیات میں بھی عقل کو ماخذِ کل ماننے والے فلسفیوں نے لسانی نظریات کی بنیاد رکھی تو یہاں بھی وہ بھول بھلیاں وجود میں آئی ہیں کہ اب ان کو راہ سمجھائی نہیں دے رہی ہے۔

حقیقت واقعہ

زبان کا روز مرہ کا تجربہ، علوم کا قدیم و جدید کتب کے ذریعے سے تہذیبوں کو منتقل ہونا، اسکول و کالج کی تعلیم سے علوم کے ماہرین پیدا ہونا، اور ان سب کاموں میں زبان کا مرکزی ذریعۂ ابلاغ کی حیثیت رکھنا اس بات کا محکم ثبوت ہے کہ زبان پوری قطعیت سے بات کو آگے منتقل کرتی ہے۔ فہم قرآن کے اختلافات کا سبب علم و تدبر کی قلت کے ساتھ ساتھ افکار و نظریات کی سحر انگیزی بھی ہے، جو ہماری نگاہ کوسحر زدہ کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے ہم — قرائن، دروبست، اور سیاق و سباق تو ایک طرف — ’سقایۃ‘ اور ’صواع‘ — جیسے موٹے موٹے الفاظ تک سے چُوک جاتے ہیں۔ چنانچہ زبان کی تمام تر اِبانتوں (univocal-signification) کے باوجود ہم صحیح مدعا نہیں پاسکتے۔ عقل فریبی کی وجہ سے حقائق واقعہ سے چوک جانے والے تفسیری اختلافات کے نقص کا طعن زبان پر توڑتے ہیں۔ حالاں کہ اصل سبب اختلاف زبان سے خارج میں پڑا ہوتا ہے۔

________

۱؂ معلوم رہے کہ کچھ فلسفی ابھی بھی اس کے قائل نہیں ہیں۔

۲؂ بعضے اس بات پر بھی ناراض ہو جائیں گے جب آپ ان سے مثال مانگیں گے۔ عقل کے تراشیدہ تصورات کی ضروری نہیں ہے مثال ہو۔ وہ تو محض utopian idea ہوتا ہے، جس کی مثال عموماً نہیں ہوتی، کیوں کہ مثالیں تو عملی اور حقیقی زندگی میں ہوتی ہیں۔

۳؂ آپ کو یقیناً، عالم مثال کے بارے میں ارسطو اور افلاطون کی بحث یاد آگئی ہوگی کہ افلاطون کے مطابق عالم مثال کی عقل میں موجودمعلومات کی وجہ سے ہم چیزوں کو پہچانتے ہیں، اور ارسطو کے بقول باہر کی دنیا میں دیکھ کر ہم نے ان کی پہچان حاصل کی ہے۔ یہاں بھی یہی بحث ہے کہ آج ہماری زبانوں میں الفاظ شعور تخلیق کررہا ہے یا معاشرے کا متواتر استعمال ذہن میں ڈال رہا ہے۔

۴؂ یہ خیال نہ کریں کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی متکلم ان الفاظ میں نیا مفہوم نہیں ڈال سکتا۔ ایسا ہر روز ہوتا ہے، لیکن واضح رہے کہ وہ اسی مفہوم کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، جس مفہوم میں وہ لفظ معاشرے میں معلوم و معروف ہوتا ہے۔ نیا مفہوم معاشرے کی ماتحتی ہی میں سمجھ میں آتا ہے۔

۵؂ قرآن میں یہاں لفظ ’سقایہ‘ نہیں ہے، لیکن مؤنث ضمیر ہے: ’اسْتَخْرَجَہَا‘ (آیت ۷۶) جو ’سقایہ‘ کی طرف راجع ہے۔