صاحب کرونا سے کون ڈرتا ہے

Yasser Chattha
یاسر چٹھہ

صاحب کرونا سے نہیں، مسلمانوں سے ڈر لگتا ہے

از، یاسر چٹھہ 

ابھی کچھ لمحے پہلے اپنی گَلی سے دو گلیاں پیچھے مسجد سے پانچ چھ دکانوں پر مشتمل چھوٹی سی مارکیٹ میں کُلچے اور بچوں کے لیے پگھلتے وقت جیسی آئس کریم لینے گیا۔

اسلام آباد کے معصوم اور impressionable باسیوں کو بتاتے چلیں کہ کُلچے کوئی ایسی لَچر چیز کا نام نہیں کہ آپ کو انقلابی دھرنا کے دنوں کی خوش الحان زبان درازی یاد آنا شروع ہو جائے۔

تو یہ جان لیجیے کہ یہ ننھی مُنھی مارکیٹ مسجد کے لیے آمدنی کے ذریعے کے طور پر بنائی گئی ہے۔

اس مارکیٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے، یہ سوال پوچھنا کبیرہ گناہ ہے، ہو سکتا ہے کہ جرم بھی تو ہو۔ لیکن اس کو ایک طرف کیجیے۔ اللہ کا گھر ہی بنا ہے ناں، بحریہ ٹاؤن یا پُتّر ہَٹّاں تے نئیں وِکدے مارکہ سوسائٹی کُھل جاتی تو پھر ہم کیا کر لیتے۔

اس مارکیٹ جا کر  اور یہاں کی رونق اور چہل پہل دیکھ کر دل سے عذابِ کرونا جاتا رہا، اور یادِ پروردگار آتی گئی۔ دل میں کلیسا کی چمک دمک اور محوِ تماشۂِ لبِ بام بیٹھی عقل مَت کی لشکار سے جو دماغ کی نظر خِیرہ ہوتی جاتی تھی، اس نے کھیرا کھا کر ٹھنڈا ڈکار مارا۔

کھیرا کھانے کے بعد آنے والے ڈکار کی آواز مگر ایسی تھی کہ جس کے سامنے بِگ بینگ کی طُوطی بولنا بند ہو گئی۔

تو کیا دیکھتا ہوں کہ یہاں سب کے سب ایسے اہلِ ایمان ہیں کہ آتشِ نمرود اور عشق کی رمزیں مَن ٹھارت کرتی تھیں۔ ایسی فضا تھی کہ جس میں کرونا کا خوف ارد گرد  کی طمانیت سے لرزیدہ تھا۔

لوگ تھے کہ ماتھے پر بَہ غیر کسی کی شکن ڈَلے اور خوف کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے ایک طرف رکھتے ہوئے، مصافحے کر رہے تھے، معانقے بجا لا رہے تھے، ظاہر ہے کہ یہ صرف ہم جنسوں میں ہی روا ہے۔ سماجی فاصلے سکڑ کر سینٹی میٹروں سے بھی گَھٹنے کو جاتے تھے۔ ایمان کی کم زور حالت والا کوئی بھی ذی نفس البتہ سکڑتا جاتا تھا۔


مزید دیکھیے:

کرونا وبا اور تُف ہو ہماری golden means کی سُولی پر  از، یاسر چٹھہ

حکومتی اور عوامی دانش وروں کی کرونا وائرس دانش وری از، ایچ بی بلوچ


جلدی میں جو کُلچے قلفی آئے، سو لاکھوں پائے۔

پر اس دوران جانے ہمارے گَلے میں کیا خراش ہوئی کہ کھانسی کرنے کو جی چاہا… سوچا یہاں کے مجاہدوں کو خوف کاہے کا… کھل کھلا کے کھانسی فرمائی… خطرے کی کسی گھنٹی میں ارتعاش پیدا نا ہوا۔

خود بینی میں مبتلا ہوتے دیکھتا ہوں کہ آج کالی شلوار قمیض پہنے ہوا تھا۔

کھانسی کو مُوردِ التفات نہیں جانا گیا… البتہ کالے لباس کو بہت غور َسے دیکھا گیا۔

You know black kurta shalwar…

گھر آ گیا تو کافی دیر سوچنے کے بعد خوش ہوں…!

کیوں خوش ہوں؟

نئیں سمجھ آئی…؟

صاحب کرونا سے نہیں، مسلمانوں سے ڈر لگتا ہے۔

About یاسرچٹھہ 193 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔