چوہدری صاحب کی بیٹی

Muhammed Shahzad aik Rozan writer
محمد شہزاد ، صاحب تحریر

چوہدری صاحب کی بیٹی

محمد شہزاد

چوہدری صاحب گریڈ ۲۴ کے افسر تھے۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ بیوروکریسی کا ’سدرۃالمنتہا‘ تو گریڈ ۲۲ ہے تویہ صاحب۲۴ویں گریڈ میں کیسے پہنچ گئے؟ بھئی قصہ کچھ یوں ہے کہ ا نہیں ملازمت میں دو بار توسیع ملی۔ اس لحاظ سے سکیل ۲۴ہی بنتا ہے۔ ویسے مزاج میں رعونت گریڈ ۲۲ سے ہر گز میلنہ کھاتی تھی اس کی تشفی گریڈ ۲۴سے ہی ممکن تھی۔ ان کی ایک بیٹی تھی۔ ان کی رائے میں انتہائی حسین و جمیل۔ ہماری رائے میں جنت کی حور۔ رنگت گوری اور قد دراز۔ صاحبزادی بدیسی ڈگری رکھتی تھیں۔ ملازمت بھی ایک بدیسی ادارے میں اور ماہانہ تنخواہ بھی کئی لاکھوں میں۔

چوہدری صاحب کی سوچ بیٹیوں کے معاملے میں وہی تھی جو ہمارے معاشرے میں ہر ٹکسالی باپ کی ہوتی ہے۔ یعنی انہیں جلدسے جلد اپنے گھر کا ہو جانا چاہیے۔ کچھ گریڈ کا نشہ، کچھ بیٹی کی خوبصورتی، تعلیم اور ملازمت کا گھمنڈ۔ سب نے مل جل کر چوہدری صاحب کا دماغ اس مقام پر پہنچا دیا جہاں بڑے بڑے’براقوں‘کے پر جلتے تھے۔ خوبیاں خامیاں بن گئیں۔ چوہدری صاحب کو کوئی لڑکا بھاتا ہی نہیں تھا۔ اس معاملے میں ان کا معیار اس فلمی ہیروئن کی اماں کی طرح تھا جو کہتی تھی کہ بے بی بچیس سال کی عمر سے پہلے شادیی نہیں یں کرے گی نیز اس وقت تک پچیس کی نہیں ہو گی جب تک شادی نہ کرلے!

مثلاً ان کا مطالبہ تھا کہ لڑکا کسی صورت چھ فٹ سے کم نہ ہو۔ ٹھیک ہے صاحب۔ یہ لیں چھ فٹ کا لڑکا۔ اونہہ اونہہ فارن کوالیفائیڈ بھی ہو۔ بہت بہتر حضور۔ یہ لیجیے فارن کوالیفائیڈ بھی ہے اور قد بھی پورے چھ فٹ۔ یقین نہیں تو ماپ لیں جوتے اتروا کے۔ نہیں بھئی آئی وی لیگ کا ہونا چاہیے۔ اچھا! کوشش کرتے ہیں۔ ارے آپ تو قسمت کے دھنی ہیں مائی باپ۔ یہ لیں آئی وی لیگ کا۔ چھ فٹیا بھی ہے۔ اماں کیا کرتے ہو۔ آئیوی لیگ اور چھ فٹ سے کیا خاندانی ہو جاتا ہے۔ چوہدری بھی تو ہو۔ اف! مگر قسمت پھر بھی ان کے ساتھ تھی۔ لو جی یہ لڑکا حاضر ہے۔ سب خوبیاں ہیں۔ چوہدری بھی ہے۔ ارے چوہدری ہونے سے کوئی سٹیٹس تو نہیں آ جاتا! لڑکے کا باپ تو معمولی سا ریٹائرڈ تھانیدار ہے۔ یہ نہیں چلے گا۔ کوئی بات نہیں ظلِ الہی۔ تلاش جاری رکھیں گے۔ مل گیا بھئی مل گیا۔ سب کچھ ہے۔ باپ بھی سرجن ہے۔ وہ تو ٹھیک ہے پر ماں تو صرف دس جماعتیں پڑھی ہے۔ ہماری بیٹی کیسے گذارہ کر سکتی ہے اک ’جاہل‘ساس کے ساتھ؟

۱۰۱ رشتے ٹھکرا دیے جاتے ہیں۔ اور اس بات کا ذکر چوہدری صاحب انتہائی فخر سے کیا کرتے۔ نہ صرف دوست واحباب کے درمیان بلکہ نئے آنے والے امیدواروں کے والدین کے ساتھ بھی۔ یہ بھی سینہ چوڑا کر کے بتلاتے کہ ابھی تک ان کی بیٹی کو کسی نے ناں نہیں کی۔ ایک سے ایک بڑھ کر رشتہ آتا رہتا ہے۔ بھئی اس بار آپ نہ نہیں کر سکیں گے۔ ہیرا لڑکا ہے۔ دماغ خراب ہو گیا ہے کیا؟ ہیرا کہاں سے؟

لڑکا کنوارہ نہیں ہے۔ ارے کنوارہ ہی ہے۔ رخصتی سے پہلے لڑکی والوں نے طلاق لے لی تھی۔ لڑکے کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ نہیں بھئی۔ ہم مجبور نہیں۔ ہماری بیٹی تو کنواری ہے۔

شہر تو کیا ملک کا کوئی شادی دفتر ایسا نہیں تھا جہاں چوہدری صاحب کے چرچے نہ ہو۔ گریڈ ۲۵ میں ترقی نہ ہو سکی، یعنی مزید توسیع نہ ملی تو گھر بیٹھنا پڑا۔ بیٹوں نے بڑے میاں سے تنگ آ کر خود اپنی مرضی سے بیویاں کرلیں اور ملک اور ماں باپ دونوں کو ہی ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا۔ اب سارا دن کیا کریں؟ شادی دفتر والے عاجز آچکے تھے۔ فون تک نہیں اٹھاتے تھے۔ افسری قصہ پارینہ بن چکی تھی۔ شہاب نامہ لکھنے یا چھوٹا موٹا کالم نویس بننے کی اہلیت نہیں تھی۔ اس صورت حال میں اس سے بہترین مصروفیت کچھ ہو ہی نہیں سکتی تھی کہ ضرورتِ رشتہ کے اشتہار پڑھے جاویں اور بیٹی کے لیے ایک ساونت تلاش کیا جاوے۔

اس شغل کے پہلے ہی سال چوہدری صاحب نے مزید ۸۰ رشتے ٹھکرا ئے۔ کوئی نہ کوئی کیڑا نکالنے کا فن تو سرکاری ملازمت نے سکھا ہی دیا تھا۔ لمبی چوڑی ای میلز لکھی جاتیں انگریزی زبان میں سرکاری مراسلہ کے انداز میں جوکہ مکتوبِ الیہ کی سمجھ کے دائرہِ کار سے باہر ہوتیں۔ ہر ای میل اس جملے پہ ختم ہوتی۔ case closed! جی ہاں۔ چوہدری صاحب نے جب رشتہ ٹھکرانا ہو تو یہی جملہ استعمال کرتے اس انداز میں جیسے کسی صدرِ مملکت نے پھانسی کے مجرم کی رحم کی درخواست مسترد کردی ہو۔

لڑکی کی عمر ڈھلتی گئی ۔ قسمت کی دیوی کی مہربانیاں سکڑتی گئیں۔ چوہدری صاحب کو پہلا دھچا اس وقت لگا جب ایک آئی وی لیگ سے فارغ التحصیل لونڈے نے ان کی بیٹی کو reject کیا۔ یہ کہہ کر کہ لڑکی میں کوئی کشش نہیں۔ چوہدری صاحب یہ سن کر بھی بے مزہ نہیں ہوئے بلکہ مشترکہ دوستوں کے ذریعے لونڈے سے درخواست کی گئی کہ میاں مہربانی کرو اور چوہدری صاحب کی بیٹی کو اپنے عقیدہ زوجیت میں لے لو۔ مگر لونڈہ پرلے درجے کا بد تمیز نکلا۔ case closed کر بیٹھا۔

چوہدری صاحب کو پہلا ہارٹ اٹیک تب ہوا جب اوپر نیچے تین لونڈوں نے (جو ان کی نظر میں بہترین داماد ہو سکتے تھے) case close کر دیا۔ دوست احباب نے سمجھایا کہ لڑکی اب تیس سے اوپر ہو گئی ہے۔ اب لڑکی لگتی بھی نہیں۔ spinster کی category میں آ گئی ہے۔ لہذا کسی بھی ایسے مرد کا رشتہ قبول کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے جو طلاق یافتہ ہو مگر بچوں والا نہ ہو۔ یا کم از کم بچے اس کے ساتھ نہ رہ رہے ہوں۔ مگر چوہدری صاحب کا دماغ ابھی تک ساتویں آسمان پہ تھا۔

رشتے آتے رہے مگر کنوارے اس دھلیز کا رخ نہ کرتے۔ چوہدری صاحب سے رابطہ بھی نہ رہا۔ وقت گذرتا گیا۔ برسوں بعد ایک پراپرٹی ڈیلر کے دفترمیں چوہدری صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ بہت تپاک سے ملے اور بے حد خوشی سے یہ نویدِ مسرت سنائی کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایک عدد انتہائی قابلِ رشک داماد سے نوازا ہے۔ اس نعمت کی بدولت نہ صرف ان کی طبعیت سنبھلی بلکہ وہ دوبارہ کام کرنے کے قابل بھی ہو گئے۔آج کل اپنے داماد کا پراپرٹی آفس چلاتے ہیں۔

چوہدری صاحب کے داماد ہمارے ہر دلعزیزبابو بھائی ہیں۔ علاقے کی مشہور پراپرٹی ڈیلراورہمارے پرانے دوست۔ چوہدری صاحب کی طرح قسمت کے دھنی۔ ہم سولہ جماعتیں پڑھ کر، گولڈ میڈل لے کر بھی اپنا گھر نہ بنا سکے۔ مگر بابو بھائی میٹرک بار بار فیل ہونے کے باوجود ارب پتی ہیں۔ فائلیں بیچ بیچ کر بابو بھائی نے اتنا کمایا کہ گریڈ ۲۲ تو کیا گریڈ ۱۲۲ کے درجنوں ریٹائرڈ افسروں کو نوکر رکھ لیں۔ مگر چوہدری صاحب ملازم نہیں بابو بھائی کے پارٹنر ہیں!

بابو بھائی حسن پرست انسان ہیں۔ ساٹھ برس کے ہو گئے ہیں۔ دادا نانا بھی کئی بار بن چکے ہیں مگر شادیاں رچانے کا شوقن نہیں گیا۔ جب بھی گھر میں نئی دلہن لاتے ہیں ہمیں نہیں بھولتے۔ ایک عدد مٹھائی کا ڈبہ ہمارے غریب خانے پر ضرور بھیجتے ہیں۔ حال ہی میں ایک ڈبہ آیا تھا۔ اڑتی اڑتی خبر ملی تھی کے بہت ہی خوبصورت، پڑھی لکھی اپنی عمر سے آدھی اور بڑے گھر کی لڑکی لائے ہیں۔ ہماری جہالت! ہمیں شبہ تک نہ ہوا کہ اپنے چوہدری صاحب کی بیٹی ہے۔

About محمد شہزاد 8 Articles
محمد شہزاد، اسلام آباد میں مقیم لکھاری ہیں۔ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں کے کالم نگار ہیں۔