سیاسی گیند : پانامہ فٹ بال بنانے والوں کے اشتراک سے

ایک روزن لکھاری
ذولفقار علی

سیاسی گیند : پانامہ فٹ بال بنانے والوں کے اشتراک سے

(ذوالفقار علی لُنڈ)

میدان تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرچُکا ہے، ایمپائر گراؤنڈ میں داخل ہو چُکے ہیں اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑی بھی گراؤنڈ کے اندر موجود ہیں، میچ کو آپ تک پہنچانے میں ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے دُنیا کی نمبر ون ‘غائب کار ایجنسی’ نے اور دیگر اشتراک میں شامل ہیں’ سخت لوہے والے مارکہ، گالا نعرے باز، تنہا لال حویلی برانڈ، دانتوں والی سرکار اور ادھر اُدھر پُتلی تماشا والوں نے۔
گالا لیگ کے کپتان نے ایمپائر کی سیٹی بجتے ہی گیند کو زور دار کک لگائی، گیند کو گالا لیگ کے مایہ ناز کھلاڑی محمود نے روکا اور پاس دے دیا تازہ ترین کو، تازہ ترین نے بغیر دیکھے گیند کو تیلی پہلوان کی طرف پہنچانے کی کوشش کی مگر ریونڈ کلب کے تجربہ کار کھلاڑی معاشی ڈار نے روکا اور پاس دے دیا خواجہ حواس باختہ کو، خواجہ نے گیند کو رفیق سرد گرم کی طرف مارا مگر گیند ہوا میں زیادہ اُچھل گئی اور ایمپائر نے گالا کلب کو فری ہٹ دے دی، فری ہٹ کو لگانے کے لیے گرم خان گالا کلب کے کپتان خود آئے ہیں، فری ہٹ گراؤنڈ سے بھی باہر چلا گیا؛ لگتا ہے کپتان کی پریکٹس میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔
گیند ایک بار پھر ریونڈ لیگ کے ایفیڈرین شُعلے کے پاس، شُعلے نے لمبے پاس کے ذریعے گیند کو خادم جذباتی کے پاس پہنچایا، جذباتی نے گیند کو گول میں داغنے کی کوشش کی مگر رشید سنگل نے بڑی چالاکی سے گیند کو روکا اور ایمپائر کی طرف التجائیہ نظروں سے دیکھا کہ شاید پنلٹی کارنر دے دیں مگر ایمپائر نے کوئی خاص توجہ نہیں دی۔
رشید سنگل نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے گیند اسد گہرا کو دے دی، اسد گہرا ریونڈ کے دو کھلاڑیوں کو ڈاج کرتے ہوئے تیزی سے ریونڈ لیگ کے گول کی طرف لپکے، مگر راستے میں ریونڈ لیگ کے تجربہ کار کھلاڑی چکری باز نے اُسے روکا اور گیند کو لے کر گالا کلب کے گول کے پاس پہنچ گئے ہیں اور چکری باز نے گیند کو گول سے باہر مار دیا ایک سُنہری موقع تھا مگر وہ اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکے۔
ریونڈ کلب کے کپتان چکری باز سے خوش دکھائی نہیں دے رہے۔ گیند ایک بار پھر گالا کلب کے کپتان گرم خان کے پاس وہ گیند کو لے کر آگے بڑھے، لگتا ہے وہ تن تنہا گول داغنا چاہتے ہیں اپنی ٹیم کے کسی کھلاڑی کو پاس نہیں دے رہے لیجیے وہ ڈی میں داخل ہو گئے اوہو جلدی گول کرنے کے چکر میں اُس نے گیند کو گول سے کافی وائیڈ مار دیا مگر یہ کیا ہو رہا ہے دیکھیے گرم خان اور ایمپائر کے بیچ ڈسکشن ہو رہی ہے، شاید وہ ایمپائر سے مُطالبہ کر رہے ہیں کہ پنلٹی سٹروک دیا جائے۔
ریونڈ لیگ کے کھلاڑی بھی ایمپائر کے پاس پہنچ گئے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں میں گرما گرمی، دھکم پیل، ناظرین سمجھ نہیں آرہی یہ ہو کیا رہا ہے دونوں ٹیموں کے کُچھ کھلاڑی ایک دوسرے سے گُتھم گُتھا۔ یہ فُٹ بال جیسے کھیل کی سپرٹ کے خلاف ہے۔
ایمپائر گرم خان کو گراؤنڈ سے باہر لے کر جا رہے ہیں، مگر یہ کیا ریونڈ کلب کے کپتان نے ایمپائر کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا حالانکہ خادم جذباتی اور چکری باز اپنے کپتان کو سمجھا رہے ہیں کہ آپ بھی ایمپائر کی بات پر توجہ دو وہ جو فیصلہ دے اُس کو مان لو مگر ریونڈ کلب کے کپتان اُن کی بھی نہیں مان رہے۔
گرم خان اور ایمپائر ڈریسنگ روم کی طرف جاتے ہوئے یہ ہو کیا رہا ہے ناظرین مُجھے تو سمجھ نہیں آرہی بھلا ایسے کُھلم کُھلا بھی کوئی ایک کپتان کو ڈریسنگ روم میں لے جا سکتا ہے۔ تھرڈ ایمپائر کیا کر رہا ہے فیصلے کو اُس کی طرف ریفر کیوں نہیں کیا گیا۔ ایسے لگتا ہے تھرڈ ایمپائر اپنی جگہ پر موجود نہیں ہیں وہ شاید واش روم میں آرام سے بیٹھ کر اپنی حکمت عملی بنا رہے ہیں کہ اس میچ کے بارے میں کس طرح کا فیصلہ دے۔
اوہ دوسرے کھلاڑیوں نے تو ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کردی، گالی گلوچ کا تبادلہ اور ہاتھا پائی کے مناظر تماشائی بھی میدان میں کود پڑے لیجئے گراونڈ میں بھگدڑ مچ گئی کوئی سمجھ نہیں آ رہی کون کس کو مار رہا ہے، کون کس کے ساتھ ہے۔
اس میچ کو آپ تک پہنچانے میں ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے نمبر ون غائب کار ایجنسی نے۔ لیجیے میچ کا فنڈ مہیا کرنے والے اپنی ٹیم کے ہمراہ ڈریسنگ روم کی طرف جا رہے ہیں۔ اب شاید بند کمرے میں اس میچ کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوگا۔
میچ کو سپانسر کرنے والی ایجنسی کے نُمائندہ پاشا عرف مُحب وطن کُچھ کاغذ لے کر باہر نمودار ہوئے۔ لگتا ہے بند کمروں میں کوئی فیصلہ ہو گیا ہے۔ مگر نہیں گرم خان تو غُصے میں ہیں لگتا ہے وہ احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔
گرم خان نے مشن والے بابا کو للکارا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں اس پھڈے میں سارا قصور ریونڈ ٹیم کے کپتان مشن والے بابا کا ہے۔ اُس نے میڈیا کے سامنے کہہ دیا کہ مشن والے بابا کپتانی سے دست بردار ہو جائے، تب یہ میچ شروع ہو گا ورنہ نہ کھیلیں گے نہ کھلینے دیں گے۔ ناظرین یہ ہو کیا رہا ہے۔ مشن والے بابا نے بھی مُطالبہ ماننے سے انکار کر دیا۔ معاملہ طول پکڑ رہا ہے۔
لیجیے گیند کو راحیل ہیرو نے اپنے قبضے میں لے لیا، وہ گرم خان کو بُلا رہے ہیں، اُس نے گیند گرم خان کو دے دی۔ ناظرین گیند پر کُچھ لکھا ہوا نظر آرہا ہے۔ یہ کیا لکھا ہے، ناظرین آپ دیکھ سکتے ہیں گیند پر لکھا ہے پانامہ پیپر یہ کس بلا کا نام ہے؟
راحیل ہیرو نے پانامہ کے چمڑے سے بنی گیند گرم خان کو دے دی، گرم خان نے وہ گیند ‘ مثالی کورٹ ‘ کو تھما دی، مثالی کورٹ نے گیند کو غور سے دیکھنے کے بعد ‘جُمعہ ابن تختہ دار’ (جے آئی ٹی) کے حوالے کر دیا۔
جمعہ ابن تختہ دار نے گیند کی جانچ پڑتال کے بعد واپس مثالی کورٹ کو دے دی،
مثالی کورٹ لگتا ہے اب پانامہ گیند کو ‘نہ آیا بروقت’ (این اے بی) کو تھمانے لگی ہے۔
ناظرین میچ میں ایک چھوٹا سا وقفہ ہمارے ساتھ رہیے گا جونہی میچ دوبارہ شروع ہو گا ہم آپ کو لائیو کھیل کے میدان میں واپس لے چلیں گے پلیز کہیں جائیے گا مت کیونکہ کھیل بہت دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چُکا ہے۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

About ذوالفقار زلفی 63 Articles
ذوالفقار علی نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا ہے۔ آج کل کچھ این جی اوز کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ایکو کنزرویشن پر چھوٹے چھوٹے خاکے لکھتےہیں اور ان کو کبھی کبھار عام لوگوں کے سامنے پرفارم بھی کرتے ہیں۔ اپنی ماں بولی میں شاعری بھی کرتے ہیں، مگر مشاعروں میں پڑھنے سے کتراتے ہیں۔ اس کے علاوہ دریا سے باتیں کرنا، فوک کہانیوں کو اکٹھا کرنا اور فوک دانش پہ مبنی تجربات کو اجاگر کرنا ان کے پسندیدہ کاموں میں سے ہے۔ ذمہ داریوں کے نام پہ اپنی آزادی کو کسی قیمت پر نہیں کھونا چاہتے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.