بھائی اسلم کا تبخترِ علمی

ایک روزن لکھاری
وسعت اللہ خان ، صاحبِ مضمون

بھائی اسلم کا تبخترِ علمی

از، وسعت اللہ خان

پڑھے لکھوں اور وہ بھی بال کی کھال نکالنے والوں سے علمی و تہذیبی قربت کا کوئی نہ کوئی فائدہ یقیناً پہنچتا ہوگا مگر مجھ جیسوں کو تو اس قرابت کا ہمیشہ نقصان ہی زیادہ ہوا۔ ایسے لوگوں سے بچنے میں ہی عافیت ہے جو آپ کے اندر بچپنے سے پلنے والے تصورات کی عمارت کو کسی بھی وقت مس کنسیپشن (غلط فہمی) قرار دیتے ہوئے علمیت کی ایک ہی ٹھوکر سے زمیں بوس کر دیتے ہیں اور یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اب تو غریب طالبِ علم کے سر پر غلط فہمی کی چھت بھی نہیں رہی۔

ایسے ہی ایک علمی ظالم برادر عقیل عباس جعفری بھی ہیں۔ وہ سمجھتے ہی نہیں کہ ہر غلط فہمی ٹھیک کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ مگر غلطی ہماری ہی ہے کہ جب بھی جہاں بھی اٹکتے ہیں ریسکیو کے لیے فون انھی کو کرتے ہیں۔

مثلاً ہر سال کی طرح پرسوں جو یومِ اقبال اس قوم پر گزرا اس کے تعلق سے ہم نے یہ پوچھ لیا کہ جس طرح فراز کے نام پر کوئی بھی دو نمبریا کسی بھی اول جلول بے وزن مصرعے کے آخر میں فرازؔ لگا کر اسے سوشل میڈیا پر فخریہ اچھال دیتا ہے کیا اقبال کے ساتھ بھی ایسی مسخری ہوتی ہے؟ فرمایا کہ اقبال کے ساتھ دوسرا معاملہ ہے۔ کئی اشعار جو اپنے جوہر میں بہت اچھے ہیں انھیں بھی اس لیے اقبال کے نام پر چیپ دیا جاتا ہے کہ اس میں عقاب، شاہین یا کوئی ایسا مشہور استعارہ آ گیا ہو جو اقبال نے بکثرت استعمال کیا ہو۔مثلاً

تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

ننانوے فیصد لوگ ( بشمول یہ فقیر ) زندگی بھر اسے اقبال کا شعر سمجھتے سمجھتے رخصت ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ شعر شکر گڑھ کے صادق حسین کاظمی کا ہے۔ اسی طرح آٹے میں نمک کے برابر لوگ جانتے ہیں کہ یہ شعر اقبال کا نہیں وقار انبالوی کا ہے

اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے

اک سجدہِ شبیری ، اک ضربِ یدالہی…

ایک اور شعر ہے جسے فیس بک ہو کہ ٹویٹر کہ کوئی ادب نواز ویب سائٹ، ہر جگہ اقبال کا کہہ کر بیچا جا رہا ہے اور لوگ ’’انّے وا‘‘ خریدے بھی جا رہے ہیں۔ بلکہ میں نے اسے ایک بار اپنے کالم میں بھی استعمال کرلیا تو کسی باریک بین نے بس اتنا تبصرہ کیا کہ ’’بھائی آپ سے کم ازکم اس کی توقع نہیں تھی‘‘۔

ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

شمشیر ہی کیا، نعرہِ تکبیر بھی فتنہ

ہمیں ایسے سنگدل محققین سے زیادہ وہ نیم محقق پسند ہیں جن کی زندگی کا منشور ہے ’’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘۔ مثلاً میرے پڑوس میں بھائی محمد اسلم درسی کتب فروش رہتے ہیں۔ بربنائے پیشہ نہ صرف علمیت پر دعوے داری رکھتے ہیں بلکہ اپنی معلومات چیلنج کرنے والے سے عدو کی طرح نمٹتے ہیں۔جب سے میں نے ان کے منہ سے ’’تبخترِ علمی‘‘ سنا ہے تب سے میں ان سے پہلے سے زیادہ بنا کے رکھنے لگا ہوں۔

ایک دن آہ بھرتے ہوئے کہا ’’بھلا بتائیے حضت! ہم نے اقبال جیسے جینیس کو بھی دیواری فریم پر مالا پہنا کے ٹانگ کے ایک ہاتھ کلے پر رکھوا اونگھوا دیا۔وہ عظیم شخص جس نے نہ صرف اس ملک کا خواب دیکھا بلکہ 1940ء میں لاہور کے اقبال پارک میں اس خواب کی تعبیر بھی دیکھی اسے کس ناقدری قوم سے پالا پڑا ہائے ہائے‘‘ ۔

ہم نے کہا حضت اقبال کی رحلت1938 ء میں ہوگئی تھی۔ ایک دم سے بھائی اسلم کے چہرے پر کوئی رنگ تمتما کے گزر گیا۔ پھر وقفہ لے کر فرمایا ’’مجھے کم ازکم آپ سے ایسی جہالت کی توقع نہیں تھی۔ بھائی اڑتیس میں ان کی صرف جسمانی رحلت ہوئی تھی۔ ہمارے چچا ابا اصغر حیدر آبادی نے بچشم اقبال کو اسٹیج پر جناح صاحب کے برابر بیٹھے اور قرار دادِ پاکستان کی نک سک سنوارتے دیکھا۔ تو کیا اعلیٰ حضت (چچا ابا) جھوٹ بول رہے تھے؟ چچا ابا بتاتے ہیں کہ وہ خود اقبال پارک میں اسٹیج کے عین سامنے دوسری صف میں بیٹھے ہوئے تھے اور اس وخت ان کی عمر بیس بائیس جیسی تھی۔ تو کیا وہ جھو۔۔ میاں تم کیا جانو صاحبانِ معاملہ کے اسرارِ بے خودی۔۔ یوں بھائی اسلم نے اپنی علمی تبختری سے ہمارے معلوماتی چچھچور پن کو منہ توڑ شکست دے دی۔

مگر نہ ان کی جیت نئی ہے نہ اپنی ہار نئی۔ ایک روز ہم نے ایسے ہی چھیڑ خانی کی ’’بھائی اسلم یہ سکندر اعظم وہی ہے نا جسے الیگزینڈر دی گریٹ بھی کہا جاتا ہے؟‘‘ ہماری جانب علم ناک نگاہ ڈالتے ہوئے فرمایا ’’اچھا کرتے ہو تم ایسی باتیں مجھ سے پوچھ لیتے ہو۔ کسی اور سے کہو گے تو جانے تمہارے بارے میں کیا کیا فحش فحش سوچے‘‘ ۔

’’یہ تو گدھا بھی جانتا ہے کہ سکندر ایک صاحبِ کردار مسلمان یونانی فاتح تھا جس نے ظالم ہندو راجہ پورس کو شکستِ فاش دی۔ لہذا جملہ مسلمانانِ برصغیر اظہارِ تشکر میں اپنے بچوں کا نام سکندر رکھنے لگے۔ اگر ایک لمحے کو یہ مان لیا جائے کہ سکندر اور الیگزینڈر ایک ہی شخص ہے تو بھائی پھر الیگزینڈر عیسائیوں میں ہی کیوں ہوتے ہیں مسلمانوں میں کیوں نہیں‘‘؟

مگر بھائی اسلم یہ ضروری تو نہیں کہ نام سے مذہب کا پتہ چل سکے۔ بتائیے دلیپ کمار، یوسف خان، مدھوبالا، ممتاز جہاں بیگم، مینا کماری، مہ جبیں بانو ، گلزار صاحب، سمپورن سنگھ، فراق گھورکھپوری اور رگھو پتی سہائے میں کیا پتہ چلتا ہے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔

بھائی اسلم نے ایک فاتحانہ نگاہ ڈالی ’’میاں تم ہمیں مسلسل لائٹلی لے رہو ہو۔ ہمیں یہ بات اچھی نہیں لگی۔تم نے غلط آدمی سے سینگ پھنسا لیے ہیں۔کیا تمہیں واقعی نہیں معلوم کہ دلیپ کمار عرف یوسف خان، گلزار صاحب اور فراق صاحب کون ہیں؟ رہی بات مدھو بالا اور مینا کماری کی تو ان کی فلمیں دیکھ کر تو اچھا بھلا آدمی آج بھی کافر ہو جائے۔اور یہ بائی دا وے ممتاز جہاں بیگم، مہ جبیں، سمپورن سنگھ اور رگھوپتی سہائے کون لوگ ہیں؟ کیا ہر بار ضروری ہے کہ آدمی محض اپنا ’’تبخترِ علمی‘‘ جتانے اور دوسرے کو کنفیوز کرنے کے لیے فرضی لوگوں کے نام بھی لیجنڈز کے ساتھ جوڑ دے‘‘۔

بھائی اسلم اب ماشااللہ ساٹھ کے پیٹے میں ہیں۔ مجھے انھیں دیکھ کے بچپن کا محلہ جاتی کردار ڈاکٹر حسن یاد آ تا ہے۔ یہ تب کی بات ہے جب ہر مرض کا علاج کالے شربت سے کرنے والے کمپاؤنڈر کو ڈاکٹر صاحب کہہ کر پکارنا مروتی تہذیب کا جزوِ لا ینفک تھا۔

بھائی عقیل عباس جیسے دوستوں کے تبحرِ علمی کا میں ہمیشہ سے معترف ہوں اور رہوں گا۔ مگر بھائی اسلم درسی کتب فروش کے تبخترِ علمی پر ایسے لاکھوں تبحرِ علمی قربان……

express.pk