کوئٹہ کے مردم خیز پہاڑوں سے نکلے، عابد علی الوداع  

عابد علی الوداع
Base illustration courtesy Instagram

کوئٹہ کے مردم خیز پہاڑوں سے نکلے، عابد علی الوداع

از، نعیم بیگ 

ابھی پچھلے دنوں معروف شاعر محسن شکیل پی ٹی وی لاہور کی ریکارڈنگ پر ایک دن کے لیے لاہور آئے۔ محسن آئے اور ملاقات نہ ہو۔ سو خوب جم کر ملاقات ہوئی۔ کوئٹہ کے دیرِینہ دوستوں کی رَج کے کریبنگ ہوئی۔ محسن واپس چلے گئے اور اگلے ہی دن اچانک یہ خبر آ گئی کہ عابد علی مختصر علالت کے بعد ہم سے بچھڑ گئے ہیں۔ لمحہ بھر کو جسم و جاں ساکت ہو گئے۔

خبر پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ فون اٹھایا اور عابد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ فون بند تھا۔ اِدھر اُدھر دوستوں سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ بیمار تو تھا لیکن انتقال کی کوئی مستند خبر نہیں۔ کچھ ہی دیر میں دنیا ٹی وی پر ٹِکر چل گئی کہ ان کی اہلیہ نے ہسپتال سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں عابد کی وفات کی با قاعدہ خبر جاری کی گئی ہے۔

میں نے جھٹ بیوی کو آواز دی اور اِنہیں بتایا۔ میری اہلیہ میرے دیرینہ دوستوں اور ان کی فیملیوں سے خوب واقفیت اور تعلق رکھنے والی ہیں۔ سبھی کو جانتی ہیں، اور عابد علی سے تو ہمارا ایک خاص تعلق بنا تھا۔

میں ماضی کی یادوں میں کھو گیا، اور سُنہرے دن ایک بار پھر اپنے مخصوص رومانس کے ساتھ دھندلکے سے نکل کر ٹیُوِلپ کے پھولوں کی طرح سطحِ شعور پر تیرنے لگے۔

یہ کوئی سنہ 74’ء زمانہ تھا۔ انہی دنوں بلوچستان یونی ورسٹی سے نکلے چند دن ہی ہوئے تھے۔ یونی ورسٹی کے دنوں کا مختصر حال بھی سن لیں۔ چُوں کہ یحییٰ خان کے مارشل لاء  میں چند روز گوجرانوالہ گورنمنٹ کالج سے بھٹو کی تقریر سننے کے سبب حوالات میں رہنے کا شرف حاصل ہو چکا تھا۔ تبھی مجھے واپس کوئٹہ بھجوا دیا گیا جہاں میں نے بلوچستان سے بقیہ تعلیم حاصل کی۔ جہاں میرے والد کی پوسٹنگ تھی۔

یوں طبعیت کی جُولانی اور آرٹ، کلچر اور سیاست سے دیوانہ وار لگاؤ نے کوئٹہ کی آرٹس کونسل، نیشنل سنٹر اور ریڈیو پاکستان کے سبھی دوستوں سے بَھر پُور رابطہ ہوا۔ میں ریڈیو کے پروگرام بزمِ طُلَباء میں حصہ لینے لگا۔ شام کو پریس کلب میں بیٹھتے۔ یونی ورسٹی کے دن بے فکری کے ہوتے ہیں، اگر چِہ ہم سب مالی طور پر فُقرے تھے لیکن نا جانے کیسے ایک دوسرے کی مدد سے گولڈ لیف سگریٹ پیتے۔

پریس کلب میں اسماعیل بلوچ اور عالی رضوی (مشرق، کوئٹہ کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر) کی مہر بانیاں رہیں، اور شطرنج کی بازیاں لگاتے رہے، اور مفت کی پارٹیاں اڑاتے رہے کہ میں ان کا کرایے کا گھوڑا تھا؛ جب چاہتے کسی اور سے بھی میری شطرنج کی بازی بِد دیتے اور کھانا کھرا کرتے۔

اِن ہی دنوں میری جاب لگ گئی، اور میں کراچی ایم سی بی سٹاف کالج سے مختصر ٹریننگ مکمل کر کے کوئٹہ کی قندھاری برانچ میں بطور کریڈٹ آفیسر تَعیّنات ہو گیا۔

ایسے میں ایک دن بینک کے ایک دوست جمال احمد نے رات کو ایک پارٹی کا اہتمام کیا۔ سب جمع ہوئے تو ایک خُوب رُو لڑکا سامنے آیا۔ معلوم ہوا کہ اس کا نام عابد علی ہے، اور یہ اپنے ہی محلے میں ایک گلی لندن سٹریٹ میں رہتا ہے، اور ریڈیو سے نکل کر آج کل لاہور میں پی ٹی وی کے ایک ڈرامہ سیریل جھوک سیال میں ادا کاری کر رہا ہے۔ چُوں کِہ عابد علی میرے کوئٹہ آنے سے پہلے ہی لاہور نکل چکا تھا، سو اس سے اتنی واقفیت نہ تھی۔

اب پارٹی میں جب خوب گپ شپ ہوئی تو عابد سے دوستی ہو گئی۔ اگلے دن مین نے گھر میں اپنے نئے دوست کا ذکر کیا تو میری اہلیہ کہنے لگیں (ان ہی دنوں بے فکر اور آوارہ دنوں میں والدین نے میری شادی کر دی تھی) اوہ!  وہ تو بہت مشہور ادا کار ہے اس کی ایک مشہور سیریل جھوک سیال ٹی وی پر آ چکی ہے۔

اگلے دن عابد علی میرے بینک میں تھے۔ میری کُرسی سے کُرسی جوڑے سارا دن میرے پاس بیٹھے چائے پیتے رہے۔ دو پہر کو ہم نے ایک ساتھ لنچ کیا، اور تب میں نے اِشارَتاً اُنہیں کہا کہ یار یہ بینک ہے یہاں سرکاری دفتروں کی طرح گپیں نہیں لگ سکتیں، شام کو ملتے ہی۔ اسی اَثناء میں یہ رہا کہ پورے بینک کا سٹاف اور کلائنٹ آ آ کر عابد علی سے ہاتھ ملاتے رہے، اور میری طرف ستائش بھری نظروں سے دیکھتے، جیسے میں بہت خوش قسمت ہوں کہ ایک اتنا بڑا ادا کار میرا دوست ہے اور میرے پاس بیٹھا ہے۔

خیر چند دنوں میں عابد واپس لاہور چلے گئے۔ کچھ عرصہ بعد سردیوں کے دن تھے کہ ایک دن جمال نے مجھے کہا شام کو آ جانا۔  عابد آئے ہین۔ جمال کے گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ عابد نے جھوک سیال کی ہیروئین حمیرہ سے شادی کر لی ہے، اور وہ اُن کے ساتھ ہی یہاں ہیں لیکن کچھ مسائل کی وجہ سے وہ گھر میں نہیں رہ سکتیں۔ میں نے جَھٹ سے آفر کر دی، کوئی بات نہیں یہ دونوں جب تک ان کے مسائل حل نہیں ہو جاتے ہماری طرف آ جائیں۔

تب عابد اگلے دن اپنی بیوی حمیرہ سمیت ہماری طرف آ گئے، لیکن شاید ایک دن بعد ہی وہ کسی دوسرے دوست کی طرف نکل گئے۔ جس دن وہ ہمارے گھر تھے، اس رات ہم نے ایک شان دار بڑی پارٹی اِن کی شادی کے اعزاز میں کر دی، جس میں کوئٹہ کے دوستوں کے علاوہ محلے داروں نے بھی خوب شرکت کی۔ پھر اِن کے حالات ٹھیک ہو جانے پر وہ واپس لاہور چلا گئے۔

یوں عابد سے ملاقاتیں ہوتی رہیں تا وقت یہ کہ اِن کی ایک دوسری سیریل وارث نے اتنی شہرت حاصل کی کہ دلاور خان ہمارے لیے نا یاب ہونے لگے۔

عابد علی ادا کاری کے ساتھ فلموں اور ڈراموں کی ڈائریکشن کی طرف بھی آئے۔ عابد علی نے بعد میں رابعہ نورین سے 2006 میں شادی کی۔ ان کی پہلی بیگم حمیرہ سے ان کی تین بیٹیاں ہیں۔ ایمان علی، ریما علی اور مریم علی۔ عابد علی نے صدارتی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

عابد علی کی پہلی نِجی زندگی میں ہم ساتھ تھے۔ تاہم جب انہوں نے دوسری شادی کی تب سے وہ تقریباً سبھی دوستوں سے کٹ گئے تھے۔

ایک اور دل چسپ واقعہ آپ کی نذر کرتا ہوں۔ کوئی 80 یا 81 کا سنہ ہو گا، میں نوشکی میں بَہ حثیتِ بینک منیجر تعینات تھا کہ مجھے معلوم ہوا ٹی وی ادا کاروں کا کوئی گروپ عیسیٰ چاہ کے قریبی ریگستان میں کوئٹہ ٹی وی کے ڈرامے کی شُوٹنگ کے لیے قیام پذیر ہے۔ ان دنوں نوشکی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہونے کے با وُجود بالکل مختصر سی انتظامیہ رکھتا تھا۔ ایک پی اے (یعنی ڈپٹی کمشنر) ایک اے سی اور تحصیل دار۔ ایک ڈی ایس پی اور چند ایک صحت اور بی اینڈ آر کے افسر۔

ان دنوں بینک چُوں کہ سرکاری تھے اس لیے ہم بھی سرکاری ملازموں کی فہرست میں آتے تھے۔ افغان وار کی وجہ سے مہاجرین کی آمد تھی اس لیے بینک کی سیکیورٹی بے حد اہم ہوتی تھی۔ میرے بینک کے سامنے ہی پولیس سٹیشن تھا جس کے ایس ایچ او کے کمرے میں بینک کی خفیہ کال بیل لگی ہوئی تھی کہ ڈاکہ زنی یا ایمرجنسی میں تھانے کو فوراً اطلاع دی جا سکے۔

ایک دن صُبح گیارہ بجے کے قریب ایک وین بینک کے آگے آ کر رکی اور اس میں سے کوئی آٹھ دس لڑکے لڑکیاں اُترے اور سیدھے بینک کے اندر چلے آئے۔ دیکھا تو ان سب کے لِیڈر عابد علی آگے آگے مسکراتے چلے آ رہے ہیں۔ خیر ہم گلے ملے حال احوال ہوا۔ چائے کا آرڈر دیا۔ میں نے پوچھا کیا ہو رہا ہے؟ تو جھٹ سے کہنے لگے، میں تو آپ کو کچھ کہنا نہیں چاہتا تھا، لیکن یہ سب لوگ مجھے زَبر دستی ساتھ لے کر آئے ہیں۔ انھیں آپ سے کوئی کام ہے۔

اب ہم ٹھہرے بینک والے جھٹ سے کہ دیا، ہاں ہاں کیوں نہیں، حکم کریں۔ اب بھلا لڑکیوں اور وہ بھی ادا کاروں کا کوئی شخص کیوں کام نہ کرے گا۔ عابد علی مسکرائے اور باقی لوگ بھی مسکرائے۔ اب میں پوچھ رہا ہوں بھئی کام بتاؤ اور سب ایک دوسرے کو کہہ رہے ہیں تم بتاؤ ، وہ کہتی تم بتاؤ۔ یوں چند منٹ مزید گزر گئے اور جھجک میں کوئی کام نہیں بتا رہا۔

آخر عابد علی نے مجھے کہا یار! آپ میری بات سُنیں، اور ایک طرف لے گئے۔ کہنے لگے ہمارے کچھ دوست اپنے ساتھ اپنا کوٹہ لائے تھے جو اب ختم ہو گیا ہے اور ابھی ہمیں ہفتہ بھر یہاں مزید رہنا ہے۔ ورنہ کام رک جائے گا اگر انھیں گردے کی دوا نہ ملی۔ میں نے کہا عابد! ہوش کرو۔ یہ نوشکی ہے۔ چھوٹا سا علاقہ ہے۔ خوش بُو کی طرح بات کُو بَہ کُو پھیل جائے گی۔ کہنے لگے بڑے مان سے سب کو یہ کہہ کر لایا ہوں کہ یہ میرے دوست ہیں، اور یہی کام کر سکتے ہیں، ورنہ یہاں تو ہماری کوئی جان پہچان نہیں۔

ان دنوں ضیاء کی حکومت میں ممنوع قرار پائے جانے کے بعد سختی بہت تھی سیدھے کوڑے پڑتے تھے۔ میں سوچ میں پڑ گیا یہاں کس سے کہوں، اور معلوم نہیں یہاں دَوا ملتی بھی ہے کہ نہیں۔ خیر کچھ سوچ کر میں نے تھانے کی ایمرجنسی خُفیہ کال بیل پر اُنگلی رکھ دی۔

فوراً ہی فون آ گیا اور لائن پر ایک واقف انسپکٹر مجھے پوچھنے لگے، سَر! خیریت ہے؟ میں نے کہا، ہاں یار خیریت ہے۔ ایک کام کریں۔ کچھ مہمان آئے ہیں ان کے لیے گردے کی دوا کا بند و بست کرنا ہے۔ اب کسے کہوں۔

کہنے لگے، سر حاضر ہوں، بتائیے کون سا برانڈ چاہیے۔ میں نے کہا، ہر برانڈ کی دو دو بوتلیں دس پندرہ لے آئیے۔ اب عابد علی کو معلوم نہیں کہ میری کس سے بات ہوئی ہے۔ تھوڑی دیر میں دو پولیس کانسٹیبل ایک ایک لکڑی کا کریٹ اٹھائے بنیک کے اندر داخل ہوئے۔ میں نے فوراً اپنے سٹاف کو کہا اس کانچ کے سامان کو احتیاط سے گاڑی میں رکھوا دیں۔ اور عابد کو اشارہ کیا کہ سامان رکھوا لیں۔

سامان رکھا گیا اس کی انسپکشن ہو گئی، تو عابد علی کی باچھیں کِھل گئیں۔ کہنے لگے، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آپ اتنے بڑے افسر ہیں۔ جس کام  پر پولیس پکڑتی ہے آپ نے انھی سے ہی وہ کام کروا لیا۔ بعد میں عابد نے بیسیوں جگہ یہ واقعہ سنایا۔ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا کہ میں کیا کرتا۔ اور کوئی راستہ بچا نہیں تھا۔

عابد علی یاروں کے یار تھے۔ سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ان کے اندر ہَمہ وقت طبع آزمائی کا ایک طوفان برپا رہتا۔ وہ کبھی نچلا نہیں بیٹھے۔ نِت نئے خیالات اگر وہ خود نہ آزماتے تو دوسروں کو مشورے دیتے۔ عابد کے والد ڈاکٹر صلاح الدین عَلَم دار روڈ پر کلینک کرتے تھے۔ ان کی والدہ نرگس بیگم خود ریڈیو کوئٹہ کی معروف گلو کارہ تھیں۔ ان کے ایک بھائی آصف نیشنل بینک میں ملازم تھے۔ سنہ 70 کی دھائی کے دوران کوئٹہ کی سڑکیں انھی نابغہ ہائے روز گار سے بھری پڑی تھیں۔ نیشنل سنٹر اور آرٹس کونسل، کوئٹہ سنڈیمن لائبریری، ریڈیو پاکستان، پریس کلب ان دنوں اہلِ ہُنر و ادب و فنون کے گہوارہ تھے۔ کوئٹہ میں ٹی وی بعد میں آیا۔

معروف ٹی وی اناؤنسر اور ریڈیو کے سنئیر پروڈیوسر تنویر اقبال اپنے ایک اظہاریے میں کہتے ہیں:

میں نے ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے پہلی اناؤنسمنٹ 23 مئی 1971 بَہ روز اتوار دن 10 بجے کی۔ وہ اناؤنسمنٹ مجھے عابد علی مرحوم نے لکھ کر دی۔ ریہرسل کروائی اور جب میں وہ اناؤنسمنٹ کر رہا تھا وہ اسٹوڈیو میں موجود تھے۔ عابد بھی ان دنوں ریڈیو پاکستان کوئٹہ کے تھے۔ 

 عابد علی بعد میں زیادہ تر لاہور ہی رہے۔ 1998’ء میں جب لاہور میں ڈپٹی جنرل منیجر پوسٹ ہوا تو میں نے اِنہیں بتایا کہ اب میں یہاں ہوں۔ سو گاہے گاہے ملاقات ہوتی رہی، لیکن عابد علی اب مصروف بہت ہو گئے تھے۔

 اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئٹہ اور بلوچستان کی سر زمین بے حد مردم خیز ہے۔ اس میں آرٹ اور فن سے تعلق رکھنے والے پچاس اور ساٹھ کی دَھائی میں پیدا ہونے والے بہت سے نو جوان قومی اور عالمی سطح پر ممتاز ہوئے۔ جن میں بالی وُڈ کے قادر خان سے لے کر اسماعیل شاہ، جمال شاہ، عذرا مرزا، حسام قاضی، تنویر اقبال۔ ادیبوں اور شاعروں میں عطا شاد سے فاروق سرور، بیرم غوری، محسن شکیل  اور افضل مراد، اور دیگر دوست شامل ہیں، اور عابد علی ان سب میں ہمیشہ بلوچستان کے درخشندہ ستارے کی مانند آرٹ اور فن کی دنیا میں بلوچی ہیرے کی طرح چمکتا دھمکتا رہے گا۔ الوداع عابد علی۔

About نعیم بیگ 123 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔