ماضی کی بازگشت، حال کا امتحان: تاریخی مماثلت کا سوال اور ہم

پروفیسر غازی محمد عبداللہ

ماضی کی بازگشت، حال کا امتحان: تاریخی مماثلت کا سوال اور ہم

از، پروفیسر غازی محمد عبداللہ

شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان، جامعہ پنجاب، لاہور

انسان جب تاریخ کے اوراق پلٹتا ہے تو بعض اوقات اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت آگے بڑھنے کی بجاۓ ایک ہی منظر مختلف کرداروں اور مختلف شکلوں کے ساتھ بار بار ہمارے سامنے لا رہا ہے۔ کبھی کوئی حکم ران اقتدار کے نشے میں قانون سے بالاتر ہوجاتا ہے، کبھی کوئی ریاست اپنے عوام کی آواز سننے سے انکار کرتی ہے، کبھی دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے، کبھی معاشی بحران پورے معاشرے کو بے یقینی میں مبتلا کردیتا ہے، کبھی محروم طبقات بغاوت پر اتر آتے ہیں اور کبھی ایک عظیم الشان سلطنت باہر سے مضبوط دکھائی دیتے ہوئے اندر سے اتنی کھوکھلی ہوچکی ہوتی ہے کہ ایک معمولی سا دھچکا بھی اسے زمین بوس کردیتا ہے۔ تب ایک سوال بے اختیار ذہن میں ابھرتا ہے: کیا تاریخ خود کو دہراتی ہے؟

انسانی تاریخ کے طویل سفر میں یہ سوال صدیوں سے فلاسفہ، مورخین اور متجسس ذہنوں کا مرکز رہا ہے: “کیا تاریخ خود کو دہراتی ہے؟” بظاہر صدیاں گزر جاتی ہیں، تہذیبوں کے نقشے بدل جاتے ہیں اور ٹیکنالوجی انسانی صلاحیتوں کو نئی وسعتیں بخشتی ہے، مگر بنیادی انسانی جبلت، اقتدار کی ہوس، جبر و استبداد اور حق و باطل کی کشمکش کے دائرے بدستور وہی رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات تاریخ کے مطالعے سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ انسان اور اس کے معاشرے مختلف ادوار میں انہی غلطیوں اور تجربات کا اعادہ کرتے ہیں جو ان سے پہلے کی اقوام کر چکی ہوتی ہیں۔ 

اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں۔ اگر تاریخ سے مراد یہ ہے کہ ایک واقعہ بعینہٖ اسی طرح دوبارہ رونما ہوتا ہے تو جواب نفی میں ہے۔ لیکن اگر تاریخ سے مراد انسانی رویوں، سیاسی کشمکشوں، معاشی بحرانوں، اقتدار کی حرص، اجتماعی خوف، ادارہ جاتی کمزوری اور سماجی ردِعمل کے بعض نمونوں کا بار بار نئی صورت میں ظاہر ہونا ہے تو پھر تاریخ میں تکرار کے آثار ملتے ہیں۔ گویا تاریخ خود کو نہیں دہراتی، انسان اپنے رویوں کو دہراتا ہے۔

تاریخی تکرار کا فلسفہ اس بنیادی حقیقت پر قائم ہے کہ انسانی جبلت میں صدیاں گزرنے کے باوجود کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ خوف، طمع، اقتدار کا غرور، تعصب اور آزادی کی خواہش ہر عہد کے انسان میں یکساں پائی جاتی ہے۔ جب مختلف ادوار میں انسانوں کو ایک جیسی صورتحال اور چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، تو ان کا ردِعمل بھی کم و بیش ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ اسی تکرار کا نتیجہ ہے کہ سلطنتوں کا عروج و زوال، زوال پذیر معاشروں کی اخلاقی حس کا مفلوج ہونا اور طاقتور طبقے کا کمزوروں پر تسلط ایک خاص تاریخی پیٹرن کے تحت چلتارہتا ہے۔

تاریخ نگاری کے نقطہ نظر سے اس تکرار کو مختلف فلسفوں کے تحت سمجھا گیا ہے۔ قدیم یونانی مورخ پولیبیوس نے سیاسی نظاموں کے عروج و زوال میں ایک طرح کی گردش محسوس کی، جبکہ مسلم تاریخ نگاری کی روایت میں ابن خلدون نے صدیوں بعد سلطنتوں کے قیام، استحکام اور زوال کو اجتماعی یکجہتی، اقتدار، آسودگی اور معاشرتی کمزوری کے باہمی تعلق سے سمجھنے کی کوشش کی۔ نے اپنے عمرانیاتی نظریہ “عصبیت” میں بتایا کہ کس طرح بدوی اقوام طاقتور ہو کر سلطنتیں قائم کرتی ہیں اور پھر آسائش پسندی اور اخلاقی زوال کے باعث زوال پذیر ہو کر دوسری طاقتور قوم کے لیے جگہ خالی کر دیتی ہیں۔

مغربی فلسفیانہ روایت میں جیامباٹسٹا ویکو نے تاریخ کو ایک دائرے یا سپائرل کی صورت میں دیکھا، جہاں واقعات دہرائے تو جاتے ہیں مگر ہر بار نچلے یا اونچے درجے پر ایک نئی سمت اختیار کرتے ہیں۔ بعد کے مورخین نے بھی یہ ثابت کیا کہ اگرچہ واقعات کی جزیات اور جغرافیائی حدود بدل جاتی ہیں، مگر ان کے پیچھے کارفرما سماجی اور سیاسی حرکیات عموماً یکساں  رہتی ہیں۔ کارل مارکس نے بھی تاریخی واقعات میں بعض مماثلتوں کی نشان دہی کی، مگر ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ ایک تاریخی واقعہ جب دوبارہ مشابہ صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو وہ اپنی پہلی صورت کا عین عکس نہیں ہوتا۔ آرنلڈ جوزف ٹائن بی نے تہذیبوں کے عروج و زوال کو “چیلنج اور جواب” کے تصور سے سمجھنے کی کوشش کی، جبکہ ای۔ ایچ۔ کار نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ محض واقعات کا ذخیرہ نہیں بلکہ ماضی اور حال کے درمیان ایک مسلسل مکالمہ ہے۔ آر۔ جی۔ کالنگ ووڈ کے نزدیک تاریخ واقعات کی کوئی میکانکی یا سائنسی تکرار نہیں، بلکہ بنیادی طور پر انسانی فکر اور سوچ کا تسلسل ہے۔ ان کا نظریہ ہے کہ ماضی کا ہر واقعہ انسانی ذہن کی پیداوار ہوتا ہے، اس لیے تاریخ کی حقیقی تکرار صرف اسی وقت ممکن ہے جب مؤرخ اپنے ذہن میں ماضی کے کرداروں کی سوچ اور فیصلوں کو دوبارہ تخلیق کرے۔ سادہ الفاظ میں، تاریخ خود کو بیرونی حالات کے تحت نہیں دہراتی، بلکہ یہ انسان کا حال میں ماضی کے خیالات کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔

ان تمام تصورات میں اختلاف کے باوجود ایک مشترک نکتہ ضرور ملتا ہے: تاریخ کو محض واقعات کی سطح پر ہی نہیں بلکہ ان کے پیچھے کارفرما انسانی اور سماجی عوامل کی سطح پر بھی سمجھنا ضروری یے۔ انسانی فطرت اس سوال کا شاید سب سے اہم پہلو ہے۔ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود انسان کی بنیادی خواہشات مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوئیں۔ اقتدار کی طلب، دولت کی خواہش، عزت و شناخت کی جستجو، خوف، انتقام، آزادی کی آرزو، انصاف کی طلب اور اپنے گروہ سے وابستگی آج بھی انسانی فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی بدل گئی، ریاستیں بدل گئیں، تہذیبیں بدل گئیں، لیکن انسان کے بنیادی جذبات اپنی جگہ موجود رہے۔

اسی لیے تاریخ میں ہمیں بعض مناظر بار بار دکھائی دیتے ہیں۔ ایک حکمران اقتدار میں آتا ہے، ابتدا میں اصلاحات کا وعدہ کرتا ہے، پھر آہستہ آہستہ اپنے گرد خوشامدیوں کا حصار قائم کرلیتا ہے۔ اسے صرف وہی آوازیں سنائی دیتی ہیں جو اس کی تعریف کرتی ہیں۔ اختلاف کو دشمنی سمجھا جاتا ہے، تنقید کو بغاوت اور سوال کو غداری قرار دیا جاتا ہے۔ بالآخر حکمران اور حقیقت کے درمیان ایک ایسا فاصلہ پیدا ہوجاتا ہے جس میں ریاست کی اصل صورت اسے دکھائی ہی نہیں دیتی۔ تاریخ میں ایسے حکمرانوں کی کمی نہیں جنہوں نے اپنی حکومت کے آخری دنوں تک اپنے نظام کو مضبوط سمجھا، حالاں کہ اس کے اندر شکست کے آثار نمایاں ہوچکے تھے۔

اس تاریخی تکرار کا سب سے نمایاں اور دردناک پہلو “جبر اور حق پرستی کی ازلی کشمکش” ہے۔ ہر عہد اور ہر خطے میں اقتدار اور جاہ و جلال کے نشے میں دھت حکمران آتے رہے ہیں جو خود کو وقت کا آقا سمجھتے ہیں۔ لیکن تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ وہ بظاہر جابر اور طاقتور نظر آنے والے حکمران اصل میں اپنی انا اور ہوس کے غلام ہوتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہر دور میں چند “سودائی” اور حق پرست ابھرتے رہے ہیں جو وقت کے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہتے ہیں اور اپنی فکر و قلم سے سچائی کے چراغ روشن رکھتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ فرعون اور ان کے تخت و تاج پیوندِ خاک ہو جاتے ہیں، لیکن تاریخ اپنے اوراق پر انہی سودائیوں اور حق پرستوں کے نقوش کو پروقار انداز میں محفوظ کرتی ہے۔

سلطنتوں کا زوال بھی اسی حقیقت کو نمایاں کرتا ہے۔ رومی سلطنت ہو یا خلافتِ عباسیہ، مغلیہ سلطنت ہو یا خلافتِ عثمانیہ — ان سب کی تاریخ ایک جیسی نہیں اور نہ ہی زوال کے اسباب بھی یکساں تھے۔ لیکن ان کے مطالعے میں بعض مشترک سوال ضرور سامنے آتے ہیں: کیا سیاسی مرکز اپنی وسعت کے مطابق مؤثر انتظام برقرار رکھ سکا؟ کیا معاشی وسائل اور ریاستی اخراجات میں توازن قائم رہا؟ کیا حکمران طبقہ معاشرے سے جڑا رہا؟ کیا فوجی طاقت سیاسی نظم کی تابع رہی؟ کیا ریاست بدلتے ہوئے حالات کا جواب دینے میں کامیاب رہی؟

یہاں تاریخ کسی سلطنت کے زوال کو دوبارہ نہیں دہرا رہی؛ بلکہ ہمیں یہ دکھا رہی ہے کہ کچھ انسانی اور ادارہ جاتی کم زوریاں مختلف زمانوں میں مختلف شکلوں کے ساتھ دوبارہ پیدا ہوسکتی ہیں۔ فرانسیسی اور روسی انقلاب اس کی ایک اہم مثال ہیں۔ دونوں میں معاشی مشکلات، طبقاتی کشمکش، سیاسی بے اطمینانی اور ریاستی بحران جیسے عناصر موجود تھے۔ مگر دونوں ایک دوسرے کی نقل نہیں تھے۔ فرانس میں مطلق العنان بادشاہت، جاگیردارانہ امتیازات، روشن خیالی اور ریاستی مالی بحران اپنا مخصوص تاریخی ماحول پیدا کررہے تھے؛ روس میں زار شاہی، صنعتی مزدور طبقہ، زرعی مسئلہ، پہلی جنگِ عظیم اور بالشویک تنظیم ایک بالکل مختلف صورت حال پیدا کررہی تھی۔ دونوں میں مماثلتیں ہیں، مگر دونوں کو ایک ہی تاریخی فارمولے سے سمجھنا درست نہیں۔

اسی طرح 1929 کی عظیم کساد بازاری اور 2008 کا عالمی مالیاتی بحران ایک دوسرے کی یاد ضرور دلاتے ہیں۔ دونوں میں مالیاتی نظام کی کمزوری، بے روزگاری، معاشی عدم تحفظ اور ریاستی مداخلت کے سوالات پیدا ہوئے، لیکن دنیا، مالیاتی نظام، بین الاقوامی ادارے اور ریاستی پالیسی کے ذرائع دونوں ادوار میں بہت مختلف تھے۔ چنانچہ بحران کا نمونہ کسی حد تک مشابہ ہوسکتا ہے، مگر بحران کی تاریخ ایک جیسی نہیں ہوتی۔

رومی جمہوریہ کا زوال بھی جدید دنیا کے لیے ایک دلچسپ آئینہ ہے۔ رومی سیاست میں دولت کا ارتکاز، سیاسی اشرافیہ کی باہمی رقابت، فوجی طاقت کا بڑھتا ہوا کردار اور عوامی سیاست نے جمہوری اداروں کو کمزور کیا۔ جدید دنیا میں بھی دولت، سیاست، ریاستی طاقت اور عوامی جذبات کے درمیان کشمکش موجود ہے۔ لیکن جدید آئینی ریاست، ذرائع ابلاغ، عوامی نمائندگی، عالمگیریت اور بین الاقوامی اداروں کی موجودگی روم سے بالکل مختلف تاریخی ماحول پیدا کرتی ہے۔ اس لیے روم ہمیں مستقبل کی پیش گوئی نہیں دیتا؛ وہ ہمیں یہ سوال ضرور دیتا ہے کہ کون سی داخلی کمزوریاں کسی سیاسی نظام کو رفتہ رفتہ کھوکھلا کرسکتی ہیں؟

یہی اصول قومی تاریخوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں سیاسی عدم استحکام، آئینی بحران، فوجی مداخلت، ادارہ جاتی کشمکش اور سیاسی جماعتوں کی کمزوری کے مختلف ادوار ضرور ملتے ہیں۔ لیکن 1958 کو 1977 کی عین تکرار کہنا درست نہیں، اور 1977 کو بعد کے کسی بحران کی مکمل نقل قرار دینا بھی تاریخی تجزیہ نہیں۔ ہر دور کا آئینی، معاشی، سماجی اور بین الاقوامی پس منظر مختلف تھا۔

تاہم ایک سنجیدہ مورخ یہ سوال ضرور اٹھائے گا کہ بعض مسائل بار بار کیوں نمودار ہوتے ہیں؟ سیاسی ادارے بار بار بحران کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ اختلاف کو آئینی مکالمے کے بجائے تصادم میں کیوں بدل دیا جاتا ہے؟ ریاستی اداروں کے درمیان توازن کیوں بگڑتا ہے؟ سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوری ادارے کیوں مستحکم نہیں کرتیں؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ معاشرہ ماضی کے تجربات سے مطلوبہ سبق کیوں نہیں سیکھ پاتا؟ 1971 کا سانحہ اس حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اسے محض ایک اچانک واقعہ سمجھنا تاریخ کے طویل عمل کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ مرکز اور صوبے کے تعلقات، سیاسی نمائندگی، معاشی تفاوت، لسانی شناخت، اقتدار کی تقسیم اور قومی تشخص کے سوالات ایک طویل عرصے میں تشکیل پاتے رہے۔ لیکن 1971 کو محض 1947 کی تکرار سمجھ لینا بھی درست نہیں ہوگا۔ دونوں کے حالات، سیاسی تقاضے اور داخلی و خارجی عوامل مختلف تھے۔ 

یہاں تاریخ ہمیں ایک بنیادی اصول سکھاتی ہے کہ تاریخ میں تسلسل بھی ہے اور انقطاع بھی۔ یہی اصول ہمیں “تاریخ سے سبق سیکھنے” کے بارے میں بھی محتاط کرتا ہے۔ تاریخ کوئی ایسی کتاب نہیں جس کے آخر میں چند تیار شدہ جوابات لکھے ہوں۔ وہ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ فلاں معاشی بحران کے بعد لازماً انقلاب آئے گا، یا فلاں سیاسی کمزوری کے بعد لازماً آمریت قائم ہوگی۔ تاریخ ہمیں امکانات دکھاتی ہے، اسباب سمجھاتی ہے اور نتائج کے درمیان تعلق تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مثلاً اگر کسی معاشرے میں دولت مسلسل چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی رہے، سیاسی نمائندگی محدود ہوجائے، قانون سب کے لیے یکساں نہ رہے اور عام آدمی کو یہ احساس پیدا ہوجائے کہ ریاست صرف طاقتور لوگوں کی محافظ ہے، تو تاریخ ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ایسے حالات میں شدید سیاسی اور سماجی بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ بے چینی انقلاب ہی پیدا کرے گی، اصلاحات لائے گی یا آمریت کو جنم دے گی—اس کا فیصلہ خود تاریخ کے مخصوص حالات کریں گے۔

تاریخ پیش گوئی کی سائنس نہیں بلکہ بصیرت کا علم ہے۔ وہ ہمیں مستقبل کا نقشہ نہیں دیتی، مگر مستقبل کے خطرات کو سمجھنے کی صلاحیت ضرور عطا کرتی ہے۔ چنانچہ اصل سوال یہ نہیں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انسان تاریخ سے کیا سیکھتا ہے۔ اگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اقتدار کا بے تحاشا ارتکاز اداروں کو کمزور کرتا ہے، معاشی ناانصافی طویل عرصے تک دبائی نہیں جاسکتی اور سیاسی اختلاف کو دشمنی میں بدلنا ریاستی بحران کو گہرا کرتا ہے، تو ہمیں ان تجربات سے سبق لیتے ہوئے مکالمے، برداشت، معاشی انصاف اور ادارہ جاتی توازن کو فروغ دینا چاہیے۔

تاریخ ایک آئینہ ہے، کیلنڈر نہیں۔ کیلنڈر ہمیں بتاتا ہے کہ وقت گزر گیا، جبکہ تاریخ یہ دکھاتی ہے کہ وقت گزرنے کے باوجود انسان میں کیا باقی رہا۔ سلطنتیں بدل گئیں، حکومتیں بدل گئیں، جنگوں کے ہتھیار بدل گئے، مواصلات کی رفتار بدل گئی اور معاشی نظام تبدیل ہوگئے، مگر اقتدار کی خواہش، خوف، لالچ، تعصب، آزادی کی آرزو، انصاف کی طلب اور اجتماعی شناخت کے سوال ختم نہیں ہوئے۔ اس لیے زیادہ درست بات شاید یہ ہے کہ تاریخ خود کو نہیں دہراتی؛ انسان تاریخی حالات میں اپنے بنیادی مسائل کے ساتھ دوبارہ سامنے آتا ہے۔ واقعات نئے ہوتے ہیں، کردار بدل جاتے ہیں اور زمانہ تبدیل ہوجاتا ہے، مگر بعض انسانی کمزوریاں اپنی نئی صورت تلاش کرلیتی ہیں۔

پاکستانی تناظر اور معاشرتی سیاسیات کا محاکمہ کیا جائے تو یہ تاریخی تکرار مزید واضح اور لرزہ خیز صورت میں سامنے آتی ہے۔ ایک قوم کے طور پر ہم نے تاریخ سے سبق نہ سیکھنے کی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ سیاسی و سماجی سطح پر آمرانہ رویے اور استبداد صرف ایوانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ معاشرے کے رگ و پے میں سرائیت کر چکے ہیں۔ وہ ریاست جو اپنے شہریوں کی محافظ ہونی چاہیے، جب اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ سماجی زوال کی صورت میں نکلتا ہے۔ تاریخی تکرار کا یہ رخ ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ جب اقوام اپنے اندر کی بے حسی اور ناانصافی کا علاج نہیں کرتیں تو وہ اخلاقی اور انتظامی انحطاط کے اس نقطے پر پہنچ جاتی ہیں جہاں سے واپسی دشوار ہو جاتی ہے۔ جب معصوم جانوں پر ہونے والے مظالم اور ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے قومیں خاموش تماشائی بن جاتی ہیں، تو قانونِ قدرت کے تحت زوال ان کا مقدر بن جاتا ہے۔

تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ماضی کو صرف یاد رکھنا کافی نہیں، اسے سمجھنا بھی ضروری ہے۔ جو قوم صرف واقعات یاد رکھتی ہے وہ تاریخ جانتی ہے، لیکن جو قوم واقعات کے اسباب، انسانی رویوں اور ان کے نتائج کو سمجھتی ہے، وہ تاریخ سے سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ تاریخ کا اصل سوال یہ نہیں کہ “کیا یہ دوبارہ ہوگا؟” بلکہ یہ ہے کہ “اگر حالات دوبارہ ملتے جلتے پیدا ہوں تو کیا ہم بھی وہی فیصلہ کریں گے؟” اگر جواب ہاں میں ہے تو مسئلہ تاریخ کا نہیں، انسان کا ہے۔ اور اگر جواب نہیں میں ہے تو شاید تاریخ کا مقصد پورا ہوگیا، کیونکہ تاریخ کا سب سے قیمتی سبق یہ نہیں کہ وہ ہمیں مستقبل دکھا دیتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہمیں مستقبل کو مختلف بنانے کی عقل عطا کرتی ہے۔ تاریخ بذاتِ خود اپنے آپ کو نہیں دہراتی، بلکہ انسان کی جہالت، ناانصافی اور تاریخ کے اسباق سے چشم پوشی تاریخ کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خود کو دہرائے۔ تاریخ نگاری کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ ماضی کے آئینے میں حال کا تجزیہ کیا جائے اور مستقبل کو تباہی سے بچایا جائے۔ اگر ہم نے بطور معاشرہ اور ریاست اپنی اصلاح نہ کی، جابرانہ رویوں سے نجات حاصل نہ کی اور حق و انصاف کا علم بلند نہ کیا، تو تاریخ کا تازیانہ ہمیں بھی انہی گمنام اور زوال پذیر اقوام کے دفتر میں درج کر دے گا جو وقت کے دھارے میں مٹ گئیں۔