ذرا اونچے لیول کی بات ہے

ذرا اونچے لیول کی بات ہے
از، رفاقت راضی
کچھ مدت پہلے کچھ ایسی ویڈیوز دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں دو مختلف واعظ اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے سقراط اور “گیلا ڈوس” اور “ایکس گیلا ڈوس” کے ذریعے سے استدلال فرمارہے تھے۔
پڑھے لکھے لوگوں میں ان کا مضحکہ بنا اور بہت دیر تک بنا اور پھر لوگ بھول گئے۔ کیونکہ سقراط اور “گیلا ڈوس” کے بارے میں اس معاشرے میں کسی کی بھی جذباتی وابستگی نہیں تھی اور نہ ہی کسی کے جذبات مجروح ہوئے تھے۔
لوگوں نے ان مثالوں کو واعظین کی سادہ لوحی پر محمول کرتے ہوئے درگذر کردیا کہ ایسی مثالیں بیان کرنے سے کسی کا کیا نقصان ہوتا ہے۔ لیکن ایک بات واضح طور پر سامنے آگئی کہ اگر آپ کسی فن کی الف بے سے واقف نہیں ہیں تو آپ کو اس میں دخل نہیں دینا چاہیے۔
ایک بار معروف شاعر احمد فراز کا ایک انٹرویو سننے کا اتفاق ہوا جس میں ان سے ملکی سیاست اور حالات کے تناظر میں انٹرویو کرنے والے نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارے یہاں کوئی قومی سطح کا “ہیرو ” پیدا نہیں ہوا ۔اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتے ساتھ بیٹھی ہوئی معروف “دانش ور” میرا نے جواب دیا کہ کیوں نہیں ہمارے ہمارے ہاں بھی ہیرو ہیں سعود ،شان وغیرہ!
فراز نے بڑا زبردست جملہ کہا کہ “بی بی یہ ذرا اونچے لیول کی بات ہے۔ “
ایسی ہی اونچے لیول کی بہت سی باتیں ہیں جو ہمارے یہاں “شوبز ” سے میڈیا میں منتقل لوگ عوام کے سامنے پیش کررہے ہیں اور پورے شرح صدر کے ساتھ پیش کررہے ہیں۔ ہمارے یہاں علمائے دین کے ساتھ جس کسی بھی لسانی یا فکری گروہ کا اختلاف رہا ہے وہ اختلاف رکھنے کے باوجود اپنی اکثریت میں ان علما کا قدر دان اور معترف رہا ہے۔
(اس بارے میں سینکڑوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں سردست پیر مہر علی شاہ صاحب اور سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کا نام کافی ہوگا، بخاری صاحب کی سوشلسٹوں کی طرف سے قدر دانی تو سامنے کی بات ہے۔)
اکثر لوگوں کو مسئلہ ان ملاؤں سے تھا اور ہے جو دین کی مبادیات سے واقف نہیں ہوتے، سنی سنائی باتوں کو آگے بیان کرتے ہیں اور قصے کہانیوں پر اپنے تمام دلائل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں تمام سماجی گروہوں کا غیر محسوس انداز میں اس بات پر “اجماع ” پایا جاتا تھا اور اب بھی ہے کہ معاشرے میں بہت سے مسائل کی بنیادی وجہ وہ واعظین ہیں جنھیں دین اور دنیا کے علم کی ہوا بھی نہیں لگی ہوتی اور وہ معاشرے میں اپنے “دال دلیے” کے لیے ایسے متون اور بیانیے سامنے لاتے ہیں جن کا بنیادی مقصد انتشار پیدا کرنا ہوتا ہے۔لیکن اب “لاوڈ سپیکر ” اس کے ہاتھ میں ہے جسے نہ صرف دین کی مبادیات کا نہیں پتا بلکہ جو عصری علوم وفنون سے بالکل کورا ہے۔ پرائیوٹ میڈیا میں ابتدا ہی میں کچھ ایسے لوگ مختلف پروگراموں کے میزبان بنے جن کے پاس مداریوں والی زبان اور اداکاروں والیمصنوعی پیشکش تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس “طلب ” میں اضافہ ہوا تو “قدر” میں بھی اضافہ کی ٹھانی گئی۔
جب “مارکیٹ ” میں اداکار نما میزبان ختم ہوگئے تو فلموں ڈراموں سے میزبانوں کی ایک بڑی تعداد مختلف پروگراموں کے لیے منگوائی گئی۔ ان سے نہ صرف یہ کہ انٹرٹینمٹ کے پروگرام کروائے گئے بلکہ انھیں ہر سنجیدہ موضوع اور یہاں تک کہ دین پر بھی بات کرنے کی  اجازت دی گئی۔جب تک معاملہ کسی ان پڑھ واعظ کے ہاتھ میں تھا معاملہ پھر بھی کسی نہ کسی حد تک قابو میں تھا۔ واعظ کو سٹیج پر بیٹھے علما کا ڈر ہوتا تھا، اس بات کا ڈر ہوتا تھا کہ مجمع میں سے کوئی آدمی بات نہ کر دے، زیادہ انتشار کی صورت میں کئی طرح کے مقدمات کا ڈر تھا۔
جب کہ یہاں تو “اداکار” صاحب مزے میں ہیں۔ پروگرام میں کوئی بدمزگی نہیں ہوئی تو بھی پروگرام کا چیک تو ملے گا ہی اور اگر کوئی ایسی ویسی انتشار کی بات کر دی ہے تو اس سے ریٹنگ میں اضافہ ہوگا اور مزید کسی اور چینل میں اچھے پیسوں پر جانے کے لیے دروازہ کھل جائے گا پرائیوٹ میڈیا پر کم وبیش ایک عشرے کے عرصے میں ایسے بیسیوں واقعات ہو چکے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں انتشار پھیلا لیکن ملک کے مقتدر اداروں نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔
بلیک آؤٹ کے بعد بلیک آؤٹ نما سنسر کی پہلی مثال ممتاز قادری کے جنازے پر پیمرا کی طرف سے پابندی اور اس پر حقیقتا عمل درآمد تھا۔ اس بارے میں بھی بہت سے لوگوں کا موقف اس صورت میں سامنے آیا کہ ریاست نے جسے سزا دی ہے اس کی کوریج کیسے کی جا سکتی ہے۔دینی طبقوں کے علاوہ اس پابندی کی کسی غیر دینی طبقے نے مخالفت نہیں۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ریاستی سطح پر انتشار کو روکنے کے لیے کسی بھی قسم کی پابندی درست ہے۔
اب ہم اصل قضیے کی طرف آتے ہیں کہ حمزہ عباسی نے ایک ایسے پروگرام میں جس کا دائرہ نہ تو اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں تھا، نہ ہی کوئی سماجیاتی یا قانونی  معاملے بارے میں تھا اور نہ ہی مکالمہ بین المذاہب پر تھا۔ یہ کہنا کہ “احمدیوں کے بارے میں ریاست کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ انھیں غیر مسلم قرار دے۔” سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ایک ایسے انسان کو جس کا بیک گراؤنڈ کسی بھی قسم کا سنجیدہ سوال  کرنے سے تہی ہے۔ جس کے پاس نہ تو قانون کا علم ہے اور نہ ہی وہ دین سے واقف ہے۔
رمضان کے پروگرام میں بغیر کسی بیک گراونڈ کے تحکمانہ انداز میں ایک ایسے سوال کا جواب ہاں یا ناں میں مانگنا جس کا فیصلہ اس ملک کی پارلیمنٹ نے ایک “لبرل سیاسی”جماعت کے دور اقتدار میں ہوچکا ہے اور کئی عشروں سے اس بنائے گئے قانون پر عمل درآمد ہورہا ہے۔جب کوئی “دہشت گرد ” گروہ یہ کہتا ہے کہ پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہمارے دین کے بارے میں فیصلہ کرے تو اس وقت اس کی دہشت گردی پر سب کے سب بیک آواز بولتے ہیں کہ یہ ریاست کے خلاف ہے۔ اسے مارنا چاہیے۔بالکل درست۔ لیکن کوئی اسی ریاست کے بنائے ہوئے قانون کا ایک ٹی وی چینل پر بیٹھ کر مضحکہ اڑاتا اور آخری رمضان میں دوبارہ اس موضوع پر بات کرنی کی تاریخ دیتا ہے اور پیمرا اس پر پابندی لگاتا ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟
پیمرا نے دوسری دانش مندی یہ کی ہے کہ حمزہ کے جواب میں ایک اور پروگرام میں کی جانے والے سخت گفتگو کرنے والوں پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ لیکن آزادی رائے کے محبین اس پر نئی دلھن کی طرح خاموش ہیں۔ اصل بات  یہی ہے کہ اگر کوئی سماجیات کا طالب ہے۔ چاہے وہ ادبیات، دینیات، سیاسیات، فلسفے کسی بھی شعبہ علم کے حوالے سے سماجیات کو دیکھتا ہو۔اسے یہ ماننا پڑے گا کہ اس معاملے میں کسی جزوی شناخت سے زیادہ مسئلہ تحفظ اور امن کا ہے۔ اگر آپ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے سے پہلے کے ماحول پر غور کریں اور بعد کے ماحول کو دیکھیں  تو نظر آئے گا کہ اس قانون سازی کے بعد اس معاملے میں بدامنی کا طوفان رک گیا۔
اس معاملے کو اگر مجرد سماجیاتی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو ہمیں دکھائی دے گا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت ماننے میں جواہر لال نہرو علامہ اقبال کے موقف کے قائل ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور یہ علامہ اقبال ہی کا احسان ہے کہ انھوں نے علما کی ایک بڑی تعداد کو اس پر بات قائل کر لیا تھا کہ قادیانی زندیق نہیں غیر مسلم ہیں۔ زندیق کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی ریاست زندیق ہونے کی صورت میں ان کے ساتھ وہی کرے گی جو اس وقت “دہشت گردوں” کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ یعنی واجب القتل! علما نے علامہ کی بات مان لی۔
آج اگر آپ انہیں دوبارہ مسلم قرار دینے کی تحریک چلاتے ہیں اور اس صورت میں کوئی انتہائی گروہ علما کے پچھلے موقف کو ڈھال بنا کر کوئی غلط اقدام کرتا ہے تو اسے پیدا کرنے کی ذمے داری کس پر ہو گی؟ اگر کسی سازش کے تحت یہ سارے سوالات نہیں اٹھائے جا رہے محض اقلیتوں کے حقوق سے محبت ہے تو اس صورت میں یہ قادیانیوں کے نادان حمایتی ہیں۔
اس ملک میں قانون موجود ہونے کی وجہ سے کسی بھی میں یہ جرات نہیں کہ وہ قادیانیوں کو قتل کرنے کی بات کر سکے یا کرے (اس لیے علما سے یہ سوال بار بار پوچھنا چھوڑ دینا چاہیے کہ قادیانیوں کا قتل کرنا کیسا ہے۔)  قادیانیوں کی عبادت گاہ پر ہونے والے حملے کی کسی مسلمان نے کبھی حمایت نہیں کی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ان کی محبت میں پاکستان کے متفقہ قانون کا مضحکہ اڑائیں۔ اور ظفراللہ خاں کی طرح ایسے وزیر خارجہ سامنے لائیں جس نے قائداعظم کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کے سوال پر کہا تھا کہ مجھے ایک کافر حکومت کا مسلمان نمائندہ سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نمائندہ! جمہور نے اس کی دوسری بات ماننی اور اس کے بارے میں اور اس کی کمیونٹی کے بارے میں متفقہ فیصلہ دیا۔
اس وقت تمام سوالات کے جواب دیے گئے اور کم و بیش ایک صدی سے سوالوں کے جواب تفصیل سے دیے جا رہے ہیں۔ کسی کو مکالمے کا شوق ہے تو علیحدہ فورم بنائے اس پر بات کرے پوری قوم کرب میں مبتلا کرنا سوال نہیں اشتعال ہے۔
آخری بات یہ ہے کہ ممتاز قادری کے واقعے پر کئی سال تک یہ دلیل بار بار دہرائی گئی کہ گستاخ کون ہے اس کا فیصلہ سٹیٹ کرے گی تو اس معاملے میں سٹیٹ کے فیصلے پر بے حقیقت انتشار زدہ سوال اٹھانے والے کی مدح سرائی کیوں؟
فراز کا جملہ دہرانا پڑے گا:
یہ ذرا اونچے لیول کی بات ہے

2 Comments

  1. es thareer k bary ma mira zati ya khayl ha k razi sab ny Islamic studies urdu,& English literature koch na koch zaror parh rakha ha es lia he esa mazmon liekha ha r apni ray bhary umda andaz ma pesh krny ke kosesh ke ha par mira sawal ya ha k media ak esi bhala ban chuki ha jis ko koi pochny wala nhe jesi ha jis ke ha ke bunyad par bas media walo ko videos chaye ta k vho headlines bana skin es liy he kha jata ha k media adab ke bigri hoi ulad ha .Islamic programs k bary ma khao ga k agar ham log ball katwany mochi k pas nhe jaty,sabzi liny qasai k pas nhe jaty joty liny darzi k pas nhe jaty tu ham islam sekhny fankaro k pas q jaty hain or on sy q esy islamic sawalat krty hian.esi lia kety hian k phly .socho pir tulo or pir bulo.sawal krny sy b insan k elam ka pta chalta ha

  2. ویسے بات راضی صاحب کو بھی سمجھ نہیں آئی کیونکہ واقعتا یہ ۔۔۔زرا اونچے لیول کی بات ہے۔۔۔

Comments are closed.