پاکستانی معاشرے میں تبدیلی لانے کا خواب

(سجاد خالد)

 

پاکستان مسلسل جس بحران کا شکار ہے ۔ یہ بحران کیا ہے۔ اس بات پر تو دائیں اور بائیں بازو کے لوگ متفق ہیں کہ بحران موجود ہے۔ لیکن ان دونوں میں بحران کے حوالے سے نہ تو وجوہات پر اتفاق ہے اور نہ نتائج پر۔ کچھ باتیں ایسی ہیں جن پر سب پریشان ہیں ۔ اُن میں سے ایک بات ہے کرپشن۔

ایک کا خیال ہے کہ اسلام سے دوری نے ہمارے معاشرے کو کرپٹ بنا دیا ہے اور دوسرے کا خیال ہے کہ کرپشن عالمگیر انسانی اخلاقیات سے
گریز کا پیش خیمہ ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ معاشی نظام، سرمایہ داری، جاگیرداری اور عدم مساوات کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ وجوہات میں اختلافات کے باوجود یہ مسئلہ مشترکہ دلچسپی کا حامل ہے۔

ایک اتفاق یہ ہے کہ تعلیم کا فقدان ہے۔ مگر تعلیم کیسی ہونی چاہیئے، اس پر کوئی متفق نہیں۔ اس سلسلے میں ایک اتفاق کسی حد تک پایا جاتا ہے کہ تعلیمی نظام اور سلیبس پورے ملک کے لئے ایک جیسا ہونا چاہئے۔ علاقائی تحریکوں کا یہ مطالبہ بھی اپنے اندر جان رکھتا ہےکہ علاقائی زبانوں میں تعلیم دی جائے۔

کسی حد تک یہ اتفاق جدید تعلیم یافتہ طبقے میں موجود ہے کہ سیاست سے فوج کو دُور رکھا جائے اور اسے سیاسی قیادت کے تابع ہونا چاہیئے۔  اِس بات پر بھی ایک حد تک اتفاق پایا جاتا ہے کہ عدلیہ کو آزاد ہونا چاہیئے۔ اسی طرح میڈیا کی آزادی بھی اکثریت کے نزدیک مثبت تبدیلی کے لئے ضروری ہے۔اس بات پر تو کسی کو اختلاف نہیں کہ ریاست کو فلاحی ہونا چاہیئے۔ صوبائی خودمختاری پر بھی قومی سطح پر اتفاق پایا جاتا ہے۔

اگر میں ان تمام اقدامات  کی فہرست بناؤں جن پر اکثریت کا اتفاق ہے تو وہ یہ ہیں

  1. آزاد عدلیہ
  2. کرپشن کا خاتمہ
  3. یکساں تعلیمی نظام
  4. فوج سیاسی حکومت کی ماتحت
  5. فلاحی ریاست
  6. صوبائی خود مختاری
  7. آزاد میڈیا

اس لسٹ میں جو کچھ بھی ہے، اُس پر تو اکثریت کا اتفاق ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کام کون کرے گا۔ کم از کم جو لوگ ان تمام امور میں خود کو سنجیدہ سمجھتے ہیں اُنہیں اِس کے لئے ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار ہونا پڑے گا۔ عدلیہ، میڈیا اور سیاسی حکومت کی خودمختاری پلیٹ میں رکھی ہوئی نہیں ملے گی اور نہ ہی یکساں تعلیمی نظام، کرپشن کا خاتمہ، صوبائی خودمختاری اور فلاحی ریاست کا خواب بغیر کسی خراج کے ملے گا۔

ایک عمارت کی تعمیر میں جو میٹیرئل استعمال کیا جاتا ہے وہ اگر ناقص ہو تو ڈیزائن جتنا بھی خوبصورت ہو اُس عمارت کا زمین بوس ہونا مقدر ہوتا ہے۔ جیاں تک ڈیزائن کا تعلق ہے تو اوپر دی گئی لسٹ ایک بے ترتیب ڈیزائن لگ رہی ہے لیکن مسئلہ کسی اُصول کو طے کر کے اُس کے لئے قربانی دینے کا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ تبدیلی کے لئے جس سطح کے افراد کی ضرورت ہے ، پاکستان کا معاشرہ اس معاملے میں بانجھ ہو چکا ہے۔ یہ بانجھ پن کوئی سیاسی جماعت، کوئی حکومت، کوئی تبلیغی جماعت ، کوئی اخبار یا ٹی وی چینل ، کوئی ویب سائٹ یا کوئی تعلیم ادارہ اکیلا دور نہیں کر سکتا۔ کیونکہ پورا معاشرہ دیمک زدہ ہو گیا ہے۔

معیاری انسان جو اس پروگرام کی اینٹ ، سیمنٹ ، لوہا ، اور پلستر، سب کچھ ہے ،ہمیں میسر نہیں۔ ہم اپنا سوسائٹی کا دایاں بازو دیکھیں یا بایاں بازو، نتیجہ ایک سا ہے۔انسان سازی تاریخ کی سب سے بڑی سائنس ہے۔ جو انسانی کردار کی خوشبو سے آغاز کرتی ہے، قربانیوں سے راستے طے کرتی ہے اور شہادت پر مکمل ہوتی ہے۔

کوئی سوسائٹی متاثر ہوئے بغیر قربانی نہیں دیتی۔ انسان کے جذباتی اور عقلی وجود کو بیک وقت متحرک کرنے کے لئے وہ اُستاد، وہ جج، وہ  ماں باپ، وہ دوست، وہ آرٹسٹ، وہ شاعر، وہ ادیب، وہ اینکر، وہ بینکر، وہ انجینئر، وہ سائنس دان، وہ ڈاکٹر اور وہ سرمایہ دار چاہیئں جن کے ساتھ زندگی کا کچھ عرصہ گزرے تو جینے کا مزہ آنے لگے، زندگی بامعنی ہا جائے، بے انصافی سے بُو آنے لگے، جہالت سے تکلیف ہونے لگے، جھوٹ سے جی گھبرانے لگے۔ جن کے ساتھ رہ کر انسان خود کو اہم سمجھنے لگے۔ جن کی قربت میں وقت تھوڑا محسوس ہو اور چیلنج زیادہ۔ جن کا حوصلہ دیکھ کر کوئی کام ناممکن نہ لگتا ہو۔ جن کی صحبت مشکل پسندی کو عادت بنا دے۔

میری رائے میں جن کو یہ تکلیف ہے کہ تبدیلی کیوں نہیں آتی، اُن کو اپنا درد منظرِ عام پر لانا ہو گا۔۔ اگر رول ماڈل نہیں ملتے تو رول ماڈل بننا ہو گا۔ اگر فانوس نہیں جلائے جا سکتے تو چراغوں کی قطار لگانی ہو گی۔

اس وقت ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارا سوچنے والا طبقہ بڑی بڑی باتیں کرنا سیکھ گیا ہے۔ یہ خالص جذبے سے بھرے ہوئے کم علم انسانوں کو گفتگو سے عاجز کر دنیے کا فن سیکھ گیا ہے۔یہ اپنی سوچ کو قلم اور زبان کے ذریعے بازار میں لے آیا ہے۔ کوئی اچھا  خریدار  مِل گیا تو ٹھیک ورنہ دل ہی دل میں اپنی قسمت کو کوستا رہتا ہے۔ مجھے اِن سے کم اُمید ہے۔

مجھے تو اُن خالص، جذباتی، کم علم لیکن باعمل لوگوں سے امید ہے جو بڑی بڑی باتیں تو نہیں کر سکتے لیکن  کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میرے پاس جب بھی کوئی ایسا شخص آیا اور اُس نے اپنا پراگرام سامنے رکھا تو میں نے باتوں کے زور پر اُسے کام کرنے سے نہیں روکا بلکہ اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ میں اگر یہ سمجھتا بھی تھا کہ اِس کے ذہن میں اپنے کام کی فکری بنیادیں مضبوط نہیں ہیں تب بھی میں نے کچھ سوالات اُس کے سامنے رکھے جن پر اگر وہ تنہائی میں غور کر لے تو انٹیلیکچوئل بے عملوں سے بہتر نتائج دے سکتا ہے اور اگر نہ بھی سمجھا تو کچھ ایسا کر جائے گا جس کی بنیاد پر بعد میں آنے والوں کو کم عملی تجربے سے ہی وہ فہم حاصل ہو جائے گا جو تجربہ نہ کرنے والے دانشوروں کو کبھی حاصل نہیں ہو سکا۔

یہ دنیا صرف سوچ سے نہیں بدلی جا سکتی۔ آج اگر تاریخ اُٹھائی جائے تو بڑے بڑے کام کرنے والوں کے تجربے ہی سے انسانی دانش بڑھی ہے خواہ وہ کام کرنے والے خود اپنے کام کی اُس حکمت سے واقف نہ رہے ہوں۔ لیکن بعد میں آنے والوں نے عمل کا نتیجہ دیکھ کر ہی عقل حاصل کی۔

ہم پاکستانی معاشرے میں جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں اُس کے نقوش تو ذرا دیر سے اُفق پر اُبھریں گے لیکن اُس کا آغاز ہر اُس شخص کو آج اور ابھی کرنا ہے جو خود کو اِس معاملے میں مخلص سمجھتا ہے۔ رول ماڈل دیانت سے بنتے ہیں تو اپنے گریبان میں میں بھی جھانکتا ہوں اور آپ بھی۔