’تعبیر‘‘: تعبیرِعلم و ادب کی ایک نئی جہت کا آغاز

(قاسم یعقوب)
ادب کی تاریخ میں رسائل کا کردار صرف اشاعتی ضروریات تک محدود نہیں بلکہ ادبی سماجیات کا ایک شعبہ بھی ہے۔دنیا بھر کے ادبی مباحث نے رسائل کی صورت میں جنم لیا اور دیکھتے دیکھتے ہی ایک تحریک بن گئیں۔ بیسویں صدی تو رسائل کی صدی ہے۔ فرانس میں ’علامتی تحریک‘، انگلینڈ میں ’نئی تنقید‘ وغیرہ ادبی رسائل کی مرہونِ منت ادبی تحاریک کے مباحث بن گئیں۔اُردو میں بھی ادبی تحاریک کے فروغ میں ادبی رسائل نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً ترقی پسندی اور جدیدیت کی تحریکوں کے پہلو بہ پہلو اسلامی اور پاکستانی ادب کی تحاریک ادبی رسائل نے عوامی بحثوں کا مرکز بنائیں۔
اس وقت اُردو کے ادبی منظر نامہ پہ رسائل کی کوئی کمی نہیں۔ تخلیقی ادب اور تحقیقی و تنقیدی ادب کو ادبی رسائل بہ احسن عوامی مقبولیت کا حصہ بنا رہے ہیں۔اُردو ادبی رسائل کو دو حصوں میں واضح طور پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک قسم اُن ادبی رسائل کی ہے جو تنقیدی اور تخلیقی ادب کو چھاپ رہے ہیں۔ ان رسائل کو ذاتی اور سرکاری دونوں حیثیت میں شائع کیا جا رہا ہے۔ ان رسائل میں(کراچی سے) دنیازاد،آج،مکالمہ،اجرا، ارتقا (لاہور سے) سویرا،( فیصل آباد سے) نقاط، زرنگار،( ملتان سے) پیلوں ، (بہاول پور سے) الزبیر،(میانوالی سے) آبشار، (راولپنڈی سے) لوح، تسطیر، سمبل شامل ہیں۔ سرکاری رسائل میں سب سے معتبرا’ادبیات‘ ہے۔ان اہم ادبی رسائل میں تخلیقی ادب کا پلڑا بھاری ہے۔ تنقیدی مواد بھی تخلیقی ادب کے زُمرے میں ہی سامنے آتا ہے۔نئے ادبی مباحث اور نئی تھیوریز کو مرکزِ مطالعہ بنایا جا رہا ہے۔
دوسری قسم جامعات کے ادبی رسائل کی ہے۔ جامعاتی سطح پر ادبی تنقید اور تحقیق کو خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ایک خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے جو جامعات کے اُردو شعبہ جات تحقیقی اور تنقیدی مواد کی دستیابی کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔جامعاتی سطح پر تنقید اور تحقیق کا معیار بہت حد تک تاثراتی مضامین طرز کا ہے جس میں موضوعات کے نئے پن اور تحقیق کے نام پر جمع آوری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
مگر ادبی رسائل کے منظر نامے پر’’ تعبیر‘‘ نے پورے ادبی رسائل کے جھرمٹ میں اپنی الگ شناخت کے ساتھ قدم رکھا ہے۔ ’’تعبیر‘‘ کی ادبی حصہ داری(Contribution)کئی ایک جہات میں تقسیم ہے۔ ابھی ’’تعبیر‘‘ کے محض دو شمارے شائع ہوئے ہیں مگر اپنے رجحانات کی بنا پر اسے جامعاتی رسائل میں سب سے منفرد قرار دیا جا سکتا ہے۔
’’تعبیر‘‘ کے مدیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر ہیں جو تحقیقِ ادب میں ایک معتبر نام ہیں۔اُن کی مجلسِ ادارت میں ڈاکٹر ظفر حسین ظفر اور ڈاکٹر ارشدناشاد جیسے محقق اور ناقدین بھی شامل ہیں۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے حال ہی میں ’’تعبیر‘‘ کا آغاز کیا تو کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ ’’تعبیر‘‘ اپنی الگ پہچان بناپائے گا۔ عموماً جامعاتی رسائل میں زیادہ ترسکالر طلبا لکھتے ہیں جن کے مضامین کی نوعیت تدریسی نوعیت کی ہوتی ہے۔ خالص علمی اور تحقیقی مضامین (جو جامعاتی رسائل کا اصل ہدف ہونا چاہیے) خال خال ہی نظر آتے ہیں۔
’’تعبیر‘‘ کے دوسرے شمارے میں بھی تحقیقی اور تدوینی ضروریات کو اولیت دی گئی ہے۔پہلا مضمون ابرار عبدلاسلام کا ہے جو آبِ حیات کے پہلے ایڈیشن میں مومن جیسے قادر الکلام شاعر کے عدم تذکرہ کو موضوع بناتا ہے۔ ابرار صاحب نے محمد حسین آزادکی مومن مخالفت کا کھوج لگایا ہے اور کچھ غیر معمولی حقائق ،جنھیں ادب کا خاص طالب علم بھی کم جانتاہے، کو دریافت کیا ہے۔
محمد توقیر احمد پی ایچ ڈی کے سکالر ہیں۔ اُن کا رشید حسن خان پر ایک وقیع کام سامنے آ چکا ہے۔ اس بار انھوں نے ’’دیوانِ غمگین‘‘ اور مخزن الاسررا‘‘ کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے۔غمگین انیسویں صدی کے آغاز کے اہم شاعر تھے جن کے غالب کے ساتھ فارسی خطوط کا ایک مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ توقیر کو اس مضمون کی داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔ تحقیقی اصولوں اور زبان کی گہری معنویت کے ساتھ اس مضمون نے تحقیقی ذوق رکھنے والوں کے لیے بہت سامان مہیا کر رکھا ہے۔ مدیرِ اعلیٰ نے مضمون کے آخر پر ’’استدراک‘‘ کے عنوان سے مضمون نگار سے کچھ سوال بھی کئے ہیں۔کچھ اغلاط نی نشان دہی بھی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی واحد سرگرمی ہے جو کسی تحقیقی رسالے میں کی جا رہی ہے۔ان میں زمرد کوثر کے مقالے کا حوالہ تک نہ دینے والے غلطی کا نکشاف بھی ہے۔ جو مقالہ دیوانِ غمگین کی تدوین پر منحصر ہے۔
رحمت علی شاد نے قراۃ العین حیدر کے شعری شعور پر لکھا ہے۔ فکشن پر عمدہ تنقید کہی جا سکتی ہے۔ ’’تعبیر‘‘ کے دواور اہم مقالے رؤف پاریکھ صاحب کا ’’علمِ لغت، لغوی معنیات اور لغت نویسی‘‘ اور شفیق انجم صاحب کا ’’مخزن کے مقاصد اور شیخ عبدلقادر:ایک نئی خواندگی‘‘ ہیں۔
علمِ لغت کے حوالے سے رؤف پاریکھ کا نام سب سے معتبر بن چکا ہے۔ وہ نہ صرف علمِ لغت کے قدیم مباحث سے پوری طرح واقف ہیں بلکہ اُردو میں نئی لسانیات کی بحثوں کو بھی لا رہے ہیں۔ زبان دانی صرف لفظوں کی جمع آوری یا درستی تک محدود عمل نہیں بلکہ زبان کی لسانی سائنس سے آگاہ ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔رؤف پاریکھ نے لغوی معنیات میں زبان کی نئی معنیاتی حدود کا مطالعہ پیش کیا ہے جو اس رسالے کا سب سے اہم حصہ ہے۔
شفیق انجم کا مقالہ سر عبدلقادر کی واقعی نئی پڑھت پیش کرتا ہے۔عبدلقادر کا نام اقبال کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ملی خدمات کے زُمرے میں سر عبدالقادرقومی درجے کی شخصیات شمار کی جاتی ہیں۔ اُردو میں مابعد نوآبادیاتی مطالعات نے’ معصوم قرات‘ کو شدید دھچکا لگایا ہے اور ہمارے تمام اہم ناقدین اور ادبی شخصیات ایک کٹہرے میں کھڑے نظر آتے ہیں۔سر عبدلقادر کی شخصیت مابعد نوآبادیاتی مطالعہ میں ایک نیا روپ دھارتی نظر آتی ہے۔ میں نے اس مقالے میں ایک نئے سر عبدالقادر کی دریافت کی۔جو اپنے رسالے’’مخزن‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’یہ تو مشیتِ ایزدی میں آ چکا ہے کہ زبان انگریزی کا خدا کی خدائی میں سب سے بڑھ کر رواج ہو‘‘
شفیق انجم نے مجھے اقبالی مفکرین کو بھی ایک نئی نظر سے دیکھنے کی دعوت دی۔ میں نے اپنے کتب خانے سے بہت سی کتب کو کھنگالا اور اُن کی نئی خواندگی کا آغاز کیا۔ میرے خیال میں یہی اس مقالے کی کامیابی ہے اور مدیر ’’تعبیر‘‘ کا قابلِ ستائش انتخاب۔
سندھ یونیورسٹی میں فرہنگ نویسی کے حوالے سے ’’گلباز‘‘ کا مقالہ بھی موجود ہے اس کے ساتھ ’’اردو اور افغان‘‘از حمید اللہ خٹک جیسے مضامین علمی در وَا کرتے نظر آتے ہیں۔
احمد علی انگارے کے افسانوں کے حوالے سے شہرت رکھے والے اہم کہانی کار ہیں جو تیسری دہائی میں سامنے آئے اُن کے زبان پر ایک مقالہ انگریزی زبان میں شمائلہ حلیم کا بھی شامل کیا گیا ہے۔ ہمارے دوست محمد شیزار نے لیکسیکو گرافی اور تدریسی تھیوری کو آکسفرڈ ڈکشنری اُردو انگریزی کو موضوع بنایا ہے۔
’’تعبیر‘‘ صرف نو مقالات کی مجلس پر منحصر ادبی رسالہ ہے۔ ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ صرف نو مقالات(سات اُردو اور دو انگریزی )مقالات کے سہارے ایک معیاری رسالہ پیش کیا جائے۔ آج کے منظر نامے میں زیادہ مقالات کی نسبت کم مقالات پیش کرنانہایت کٹھن کام ہے۔معیاری مضامین کا انتخاب اور پھر کوئی ایک مقالہ بھی کسی سے کم نہ ہو، اعتماد سے پیش کرنا بہت مشکل مدیرانہ کارگزاری ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ساحرمبارک باد کے مستحق ہیں جنھوں نے کمال محنت اور اپنے ہی نہیں بلکہ شعبے کے علمی مزاج کو سامنے رکھ کے ادارت کے فرائض انجام دیے ہیں۔
رئیسِ جامعہ ڈاکٹر شاہد صدیقی بھی مبارک کے مستحق ہیں جنھوں نے علمی اور تحقیقی کام کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ علمی و ادبی مشاورت میں بھی پیش پیش ہیں۔

About قاسم یعقوب 69 Articles
قاسم یعقوب نے اُردو ادب اور لسانیات میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے ماسٹرز کیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل کے لیے ’’اُردو شاعری پہ جنگوں کے اثرات‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ آج کل پی ایچ ڈی کے لیے ادبی تھیوری پر مقالہ لکھ رہے ہیں۔۔ اکادمی ادبیات پاکستان اور مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد کے لیے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ قاسم یعقوب ایک ادبی مجلے ’’نقاط‘‘ کے مدیر ہیں۔ قاسم یعقوب اسلام آباد کے ایک کالج سے بطور استاد منسلک ہیں۔اس کے علاوہ وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر بھی وابستہ ہیں۔

1 Comment

  1. تعبیر اردو زبان و ادب کا تحقیقی مجلہ شمارہ 3 جنوری تا جون 2016 خطوط نمبر مل سکتا ہے کیا کہیں سے

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.