عورت کیا ہے،یہ عورت سے کیوں نہیں پوچھا جاتا؟

(قاسم یعقوب)

تانیثی تھیوری یا ادب کاتانیثی مطالعہ کن سوالوں کے ساتھ ادب کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے؟ کیا تانیثیت کے وہی فکری اہداف ہیں جن کا ذکر ادب میں تانیثی تھیوری کی بحثوں میں ملتا ہے؟ تانیثی مطالعات نے ان معروضات کی تشفی کے لیے تاریخ کے باطن سے راہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ادبی تھیوری جو ادب کے تشکیل معنی کے نظام کو گرفت میں لینے کا مطالعہ ہے تانیثی تجزیوں کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔گزشتہ صدی کی چھٹی دہائی میں جب ادبی تھیوری کا چلن عام ہوا تواس کے ساتھ ہی ادب کے موضوعاتی مطالعوں کو بھی راہ ملی۔ مابعد نو آبادیاتی اور تانیثی مطالعوں کو ’’نظریانے‘‘ کے پیچھے مابعدجدید فکرکا وہی بنیادی اصول کارفرما تھا کہ وہ تمام اشیا جو مرکزی سمجھی جا رہی ہیں وہ اُن اشیا سے بدلی(Replace) جا سکتی ہیں جو متن مرکز نہیں یا جنھیں حاشیے پر سمجھا جا رہا ہے۔ اصل میں کسی بھی شے کا حتمی ادراک نہیں کیا جا سکتا۔ جو جتنا حاضر ہے اُتنا ہی غائب ہے۔ یوں حاشیے پر موجود اشیا کا بھی مرکزی دعوے کا اتنا ہی حق ہے جتنا مرکزی متن پر موجود فکروں یا اشیا کا۔جو مرکزی ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے وہ’’ مکمل ‘‘ بتائی جا رہی ہے ورنہ وہ بھی ادھوری ہے ۔ اُسی طرح ادھوری جس طرح حاشیے پر موجود فکروں اور اشیا کو ادھورا یا خام ہونے کا ’’سچ‘‘ پہنا دیا جاتاہے۔مابعد جدید فکر نے ایک اور زاویے سے بھی اشیا کی ترتیب الٹنے کی کوشش کی ہے کہ سماجیاتی تشکیلات کی حیثیت تبدیل کی جا سکتی ہے کیوں کہ وہ ایک تشکیل کی حالت میں ہوتی ہیں جو جبر(Oppression)کی وجہ سے وہ ہےئت دکھا رہی ہو تی ہیں جو دکھانے کی کوشش کی جائے۔ اگر سماجیاتی تشکیلات کا کوئی اور رُخ متعین کر دیا جائے تو وہ اسی رُخ کو سچائی بنا کر پیش کر دیں گی۔ یعنی سماجی تشکیل پانے والی اشیا یا فکروں کا کوئی ایک روپ حتمی نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ جبر سے مقدم یا موخر ہو سکتی ہیں۔ ان کی تمام شکلوں کو سامنے رکھنے اور اُن کی حیثیت کو ماننے کا نام ہی مابعد جدیدیت ہے۔ مابعد جدیدیت نے نو آبادیاتی فکر کا پردہ چاک کیا اور دکھانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح معصوم قرات اُن حقائق کو چھپا لیتی ہے جو اصل میں کوئی اور روپ دھارے ہوتے ہیں ، آثاریاتی قرأت ہی دونوں اطراف دیکھنے کی اہلیت رکھتی ہے،جس کی رو سے ہر فکر متن مرکز ہو سکتی ہے اور دبائی گئی سچائیاں جھوٹ کا پردہ چاک کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ تانیثیت نے بھی مابعد جدید عہد کے ساتھ ہی تانیثی مطالعوں کو’نظریایا‘ اور تاریخ کے آئینے میں عورت کے مجموعی کردار اور اہلیت کو ماپنے کی کوشش کی۔یوں عورت تاریخ کے حاشیے سے مرکزِ متن بنائی جانے لگی۔
تانیثیت کو سمجھنے کی طرف پہلا بنیادی تھیسس یورپ میں پیش ہُوا،مگر یہ تھیسس عورت(Feminine)اور مرد(Masculanity)کے درمیان برابری کے مسئلے کو اجاگر کرتا تھا۔ اس میں کسی خطے کے کلچر یا کسی سیاسی مسئلے کو بنیاد نہیں بنایا گیا۔ عورت کیوں مرد سے حقیر تر ہے اور عورتوں کو وہ سماجی حقوق کیوں میسر نہیں جو صرف مرد ہونے کی وجہ سے مرد کو عطاکر دیے جاتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی انسانی حقوق کا پہلا سوال تھا جو باقاعدہ تانیثی تحریک(Feminist Movement)کے آغاز کا موجب بنا۔
تانیثی تھیوری کے حوالے سے اُردو میں بہت کم مقالات میں تانیثیت کو’نظریانے ‘ کی کوشش کی گئی ہے۔ تانیثی تھیوری جس کی بنیاد پر ادب کی تانیثی تنقید وجود میں آئی، بنیادی طور پر تین حصوں پر مشتمل ہے:
۱۔ عورت معاشرے کے تناظر میں
یعنی عورت کے معاشرتی حقو ق کی جنگ، عورت کو سماجی طور پر مرد کے مقابلے میں مساوی حقوق دیے جانے کی جدوجہد۔
۲۔ عورت مرد کے تناظر میں
یعنی مرد نے عورت کو کس طرح دیکھا یا اپنی تحریروں میں دکھایا ہے۔ عورت مرد کے مقابلے میں مرتبہ، درجہ اور حیثیت میں کہاں کھڑی ہے؟ اگر کوئی نا انصافی کی گئی ہے تو کیوں کی گئی اور اُس کے محرکات کیا تھے؟عورتوں کی دانشورانہ حیثیت مردوں کے تناظر سے کہاں متعین ہوتی ہے۔
۳۔ عورت عورت کے تناظر میں
یعنی عورت کو عورت کے تناظر میں دیکھا یا پڑھا جائے۔ عورت ایک صنف(Gender Self)میں مرد کی محتاج نہیں بلکہ مرد عورت کو سمجھ ہی نہیں سکتا عورت ہی عورت کو سمجھ سکتی ہے۔ یوں عورت کو عورت کے مسائل کے ساتھ سامنے لایا جائے کہ عورت کی سماجی، سیاسی، حیاتیاتی اور نفسیاتی درجہ بندی عورت کے تناظر ہی سے متعین کی جائے۔
تانیثیت کے حوالے سے مغربی تاریخ میں انقلابِ فرانس کے بعد سے اس موضوع کو اہمیت دی جانے لگی ہے اس سلسلے میں سب سے اہم کتاب جان اسٹورٹ مل کی The Subjugation of Womenہے جس نے تانیثی حقوق کی آواز کو اس شدت سے اُٹھایا کہ اس کے خیالات کو لبرل فیمنزم کا نام دیا جانے لگا۔بیسویں صدی میں تانیثی تحریک کا سارا مواد ورجینا وولف کی کتابA Room of One’s Own، ڈورتھی رچرڈ سن کا ناول Pilgrimageاور سیمون دی بوائر کی کتابThe second sexنے فراہم کیا۔ تانیثی تحریک کا ادب کے اندر مضبوط اظہار کی ایک وجہ ان کتابوں کی اشاعت بھی تھی جنھوں نے تانیثیت کو ایک علمی وقار سے پیش کیا۔ تانیثی تحریک ادبی تحریک بن گئی جس نے عورت کے مقدمے کی فلسفیانہ حیثیت کو منوانے میں اہم کردار ادا کیا۔بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں انتقادِ نسواں(Gynocriticism)کا اسکول سامنے آیا جس کا نفسیات کے ساتھ بھی گہرا تعلق تھا۔خصوصاً فرائڈ کے جنسی نظریات نے عورت اور مرد کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی طرف کئی ایک اشارے فراہم کئے تھے۔تانیثی ناقدین نے فرائڈ کے ہاں عورت اور مرد کے جسمانی تفاوت کی بحثوں کو اپنے تھیسس میں پیش کیا۔ فرائڈ نے کہا تھاکہ عورت مرد کے مقابلے میں ایک قسم کی نفسیاتی کمی کا شکار ہوتی ہے۔ اُس کے جسم کی ساخت مرد جیسی نہیں، یہی احساس عورت کے اندر رشک اور احساسِ کمتری کا رجحان پیدا کرتا ہے جو بڑی حد تک دانش ورانہ کمتری کا موجب بنتا ہے۔ عورت کے جسمانی طور پر مرد کی نفسیاتی برتری قبول کرنے کے نظریے نے تانیثی ناقدین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
تانیثی تھیوری کی پیش کش میں ایلین شووالٹرکا نام نمایاں ہے۔ ایلین شوالٹر کا عورت کے سماجی اور حیاتیاتی حوالوں سے سمجھنے کی طرف بہت اہم تنقیدی کاہے۔ایلین شووالٹرکا تحقیقی وتنقیدی کام عورت کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے بھی بحث کرتا ہے۔عورتوں میں ہسٹیریا اور جنسی مسائل بھی شوالٹر کی تنقیدات کے اہم موضوع ہیں۔
ایلین شووالٹر نے انتقادِ نسواں(Gynocriticism)کی بنیاد رکھی۔ شووالٹر نے نسوانی تنقید کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا۔
۱۔ نسوانیت(Feminine) : شوالٹر نے عورتوں کی تحریروں کی روشنی میں پہلے مرحلے کو نسوانیت(Feminine)کہا جو1840سے1880تک کا یورپ اور امریکہ کا معاشرہ ہے جس میں عورتوں کے حقوق کو پہلی دفعہ محسوس کیا گیا۔ اس دور کی عورتوں کی تحریریں یا عورتوں کے لیے مردوں کی تحریریں عورت کے بنیادی حقوق کی جنگ لڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ عورت ایک صنف (Gender)کے طور پر اپنے حقوق کے دفاع کا تقاضا کرتی نظر آتی ہے۔عورتوں نے مردوں کے مقابل دانش ورانہ برابری کا نعرہ لگایا۔ شوالٹر نے اس دورکے لیےMale Pseudonym کا لفظ استعمال کیا ہے۔جو اپنی ساخت، لہجے ، خصوصیات اور لفظیات کی وجہ سے مرد مرکز پہچاناجاتا تھا۔اصل میں یہ تحریکEqualismیعنی برابری کے حقوق کی تحریک تھی جو عورتوں سے زیادہ انسانی احترام کا تقاضا لیے تھی۔ جس طرح مارکسی معاشی فلسفے نے مزدور اور مل مالک کے تصور سے انسانی حقوق کی ایک نئی جہت متعارف کروائی تھی۔ اسی سرمایہ داری کلچر کے زیرِ اثر بچوں کے حقوق اور اُن کی اخلاقی اور تعلیمی ضرورتوں کو ناگزیر قرار دیا گیا تھا۔عورت کیا ہے؟ عورت کا سماجی تصور صنفی تفریق ہے یا فطری تفاوت کی بنیاد ہے،نسوانیت(Feminine)عورت کے متعلق ایسے سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہے یا ان سوالوں کی بنیاد پر قائم تحریک نہیں تھی۔ لہٰذا نسوانیت نے عورتوں کے حقوق کو ہی اپنا مقصد اعلیٰ سمجھا۔ جو 1880تک ایک نئی کروٹ لے لیتا ہے۔ یہ زمانہ انقالبِ فرانس کے بعد کا زمانہ تھا جب ہر کوئی جدید انسان(Modern Man)کی عملی حالتوں کا مطالعہ کر رہا تھا۔
۲۔ نسوانی تنقید (The Feminist Criticism): شوالٹر نے دوسرے مرحلے کو نسوانی (Feminist)کہا ہے۔یہ زمانہ1880سے شروع ہو کربیسویں صدی کے آغاز 1920تک کا ہے۔ اس دور میں مردوں کی تحریروں کو مطالعے کو مرکز نگاہ بنایا گیا ۔ یعنی مردوں کی تحریروں میں عورتوں کو کس طرح پیش کیا گیا ہے۔ کیا عورت مردوں کے معاشرے میں برابری کی دعوے دار رہی ہے ۔ مردوں نے عورتوں کو کس طرح سمجھا۔ کیا عورت مرد تناظر میں کم تر رہی یا اعلیٰ صفات کے ساتھ سماجی حرکت میں شامل تھی۔ تانیثیت نے مرد معیارات( Male Standards)کو رد کر نے کے لیے بھی مرد کو اپنے مطالعات کے لیے ناگزیر سمجھا ۔بنیادی طور پر یہ مکتبِ تنقیدAndrocentricتھا اور Male-Orientedتصورِ عورت کو پیش کرتا تھا۔ ایک عورت مرد کے تناظر سے کس طرح کم تر ہے اگر کم تر ہے تو احتجاج اور تنقید سے اس تفریق کو دور کیا جائے۔ عورت اور مرد کی سماجی حصہ داریوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مرد تخلیق کاروں کے ہاں عورت کا تصور کس کس طرح پیش ہُوا ہے۔ مرد کاعورت کے نفسیاتی اور جذباتی حصار میں آنے کا بھی تجزیہ کیا جانے لگا۔
نسوانی تنقید(The Feminist Criticism) نسوانیت(Feminine)کا اگلا پڑاؤ تھا۔ پہلے مرحلے میں عورت کے حقوق کو معاشرے کے تناظر سے تلاش کیا گیا، عورت کے بنیادی تصور انسان کو جگہ دی گئی۔ دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے کا حاصلِ مطالعہ بھی ہے۔ اس مرحلے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے عورت کے مرد تناظر (Male Oriented)مطالعہ کی ضرورت ناگزیر ہے کہ ایک عورت بطور صنف (Gender)اور بطور فرد(Individual) مختلف کیوں ہے اور اُس کو تاریخ کے قید خانوں سے مرد حاکمیت سے کس طرح نجات دی جا سکتی ہے۔اس کے لیے یہ سمجھا جانا ضروری خیال کیا گیا کہ مردوں کی تحریروں کا مطالعہ اور تجزیہ کیا جائے کہ مرد نے عورت کو اپنی تحریروں میں کس طرح پیش کیا ہے اور اگر عورت اپنی تحریروں میں مرد کو پیش کرتی ہے تو اُس کی اپنی حیثیت کیا ہوتی ہے۔ گویا یہ مطالعہ ڈریڈا کے تصور مرد حاکمیت‘‘Pallogocentricism)کا مطالعہ تھا ڈریڈا نے یہ اصطلاح اپنے ایک مضمونPlato’s Pharmacy میں پیش کی۔ مرد معاشرہ اصل میں مرد مرکز ہوتا ہے۔ یوں عورت کا مطالعہ مرد کے اردگرد گھومتا، مرد سے احتجاج کرتا اور مرد کے متعصبانہ رویوں کو چاک کرتا نظر آتا ہے شوالٹر نے اس عہد کو نسوانی (The Feminist) کا نام دیا۔
۳۔ عورت (The Female) : یہ مرحلہ 1920سے شروع ہو کے موجودہ عہد تک پھیلا ہُوا ہے۔ عورت کیا ہے؟ یہ اس دور کا اہم اور بنیادی سوال ہے۔ یہی وہ سوال تھا جو عورت کے سماجی اور انسانی حقوق کے تناظر میں اٹھایا جانا ضروری تھا۔ شوالٹر نے اسے عورت کی خود شناسی (Self Discovery) کا مرحلہ کہا ہے۔ شوالٹر نے عورت کو عورت کے طور پر جاننے پر زور دیا۔ وہ اپنے ایک مضمون Toward a Feminist Poetics میں لکھتی ہے:
women reject both imitation and protest two forms of dependency  and turn instead to female experience as the source of an autonomous art, extending the feminist analysis of culture to the forms and techniques of literature
شووالٹر نے عورت (The Female)کے مرحلے سے متعلق تھیوری وضع کی اور عورت کے اس خود شناس مرحلے کو ’’انتقادِ نسواں‘‘(GynoCriticism)کانام دیا۔ نسوانیت(The Feminine) اور نسوانی تنقیدی نقطہۂ نظر(The Feminist)، دونوں ہی عورت کو ’غیر‘(The others) کے سہارے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی اور عورت کو اپنے تناظر سے سمجھتا ہے اور عورت کو اُس کی خود شناسی کا درس دیتاہے۔مگر حقیقت میں عورت کیا ہے؟ یہی وہ ایک سوال تھا جو نسوانی تنقید(Feminist Criticism)بھی بتانے سے قاصرتھی۔نسوانی تنقید(Feminist Criticism) والے عورت کے متعلق مخلص توتھے اور وہ عورت کوصنف کے درجے سے نکال کے ایک الگ شناخت بھی دینا چاہتے تھے مگر وہ عورت کی شناخت کے خود آشنا محرکات سے آگاہ نہیں تھے۔ایلین شووالٹر نے اپنے ایک مضمون Feminist Criticism in the Wildernessمیں لکھا ہے:
’’کلچرل تھیوری یہ تسلیم کرتی ہے کہ لکھاری عورتوں میں بہت سا فرق ہوتا ہے ،طبقہ،نسل، شہریت اور تاریخ بھی صنف (Gender)کی طرح ادبی تعینِ قدر میں اہمیت رکھتے ہیں۔پھر بھی عورت کا کلچر ایک اجتماعی تجربہ، ثقافتی اجتماعیت کے اندر تشکیل دیتا ہے۔ایسا تجربہ للھاری عورتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ زمان و مکان سے ماورا ہو کے جوڑتا ہے۔‘‘
ایلین شووالٹر نے اس سوال کو ایک اصطلاحGynocriticismمیں پیش کیا۔ گائنو کریٹسزم جسے اُردو میں انتقادِ نسواں کا نام دیا گیا ہے ، کے بنیادی سوال اور داعیے مندرجہ ذیل تھے:
۱۔ عورت کی وجودی شناخت کیا ہے؟
۲۔ عورت بطور صنف(Gender)اور بطور فرد میں کیا اختصاص رکھتی ہے اور وہ اختصاص عورت کے وجودی اور ذاتی حوالوں کو کس طرح معرضِ بحث میں لاتا ہے؟
۳۔عورت کا شعورِ ذات عورت کے نفسیاتی، داخلی اور حیاتیاتی معیارات اور اثرات سے کیسے تشکیل پاتا ہے؟
۵۔ عورت کی جنسی اور صنفی خوبیوں کا دائرہ کار کیا ہے؟
۶۔عورت کے معاشرتی اور جبلی رویے کس طرح کام کرتے ہیں؟
۷۔عورت کے تخلیقی متون کی درجہ بندی عورت کی ذاتی اور داخلی فضا میں کیا شکل اختیار کرتی ہے؟
۸۔ مادر سری اور پدر سری حاکمیت کی تقسیم کا سماجی اور جبلی امتیاز کیا ہے، کیا عورت مادر سری اور پدرسری دائروں میں جبلی طور پر تقسیم ہے یا کر دی گئی ہے۔
اب ہم اگر شووالٹر کے بتائے ہوئے تینوں مرحلوں(Phases)کا مطالعہ کریں اور ان کے بنیادی نکات کو ایک جگہ جمع کریں تو عورت کی ’’شناخت‘‘ ہی وہ بنیادی حوالہ نظر آئے گی جو مختلف اطراف سے اپنا اثبات چاہتی ہوئی ملتی ہے۔
۱۔ عورت کی شناخت کو کیوں حاشیے پر رکھا گیا؟
۲۔ عورت کیوں تاریخ سے غائب رہی اور عورت کو صنفی تناظر سے کیوں کم تر صنف تصور کیا جاتا رہا؟
۳۔ کیا عورت کو سمجھنے یا سمجھانے کے لیے مرد تناظر ہی کافی ہے یا عورت کاسماجی کردار عورت کے تشخص کا ایک ذریعہ قرار پائے گا؟
۴۔ عورت کا حیاتیاتی اور نفسیاتی مطالعہ عورت کے بدن کے حوالے سے کیوں نہیں کیا جاتا؟
۵۔ عورت کیا ہے یہ عورت سے کیوں نہیں پوچھا جاتا؟
نسوانیت(Feminine)، نسوانی تنقید(Feminist Criticism) اور انتقادِ نسواں (GynoCriticism)کے تمام سوالات اور داعیے ’’تانیثیت‘‘ (Feminism)کہلاتے ہیں جو نظریانے(Theorization)کے عمل سے گزر کے ’’تانیثی تھیوری‘‘(The Feminist Thoery)بنتے ہیں۔ تانیثی تھیوری نے ادب کے اندر عورت کی شناخت کو بنیادی سوال بنا کر پیش کیا ہے۔ عورت کیا ہے؟ کیسے پیش کی گئی ہے ؟ تانیثی تھیوری میںیہ سوالات مختلف انداز سے تجزیہ کیے جاتے ہیں۔

About قاسم یعقوب 69 Articles
قاسم یعقوب نے اُردو ادب اور لسانیات میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے ماسٹرز کیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل کے لیے ’’اُردو شاعری پہ جنگوں کے اثرات‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ آج کل پی ایچ ڈی کے لیے ادبی تھیوری پر مقالہ لکھ رہے ہیں۔۔ اکادمی ادبیات پاکستان اور مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد کے لیے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ قاسم یعقوب ایک ادبی مجلے ’’نقاط‘‘ کے مدیر ہیں۔ قاسم یعقوب اسلام آباد کے ایک کالج سے بطور استاد منسلک ہیں۔اس کے علاوہ وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر بھی وابستہ ہیں۔