ناول کا مرکز، ادیبانہ اور شاعرانہ انصاف از، اورحان پاموک

ادیبانہ اور شاعرانہ انصاف
اورحان پاموک

ناول کا مرکز، ادیبانہ اور شاعرانہ انصاف از، اورحان پاموک

انتخاب و ترجمہ: زبیر فیصل عباسی

“ناولوں میں ایک حقیقی یا تصوراتی مرکز ہوتا ہے جو انہیں دیگر اصنافِ ادب جیسا کے مہم جوئی کے قصے یا رزمیہ نظموں سے الگ کرتا ہے۔ ناول ہمیں چھوٹی چھوٹی مشاہداتی تفصیلات کے ساتھ لے کر چلتے ہیں اور آہستہ آہستہ اُس ملفوف سچائی کی طرف لے جاتے ہیں جیسا کہ ناول وعدہ کرتے ہیں۔ چلیں ہم آسانی کے لیے ان مشاہدات کو حسّی تجربہ (sensory experience) کہہ لیتے ہیں۔

مثلاً جب ہم کوئی کھڑکی کھولتے ہیں، کافی کی چُسکی لیتے ہیں، اونچی سیڑھیاں چڑھتے ہیں، ہجوم میں محو ہو جاتے ہیں، ٹریفک کے اژدہام میں پھنس جاتے ہیں، دروازے میں انگلی دے بیٹھتے ہیں، چشمہ گُم جاتا ہے، سردی میں ٹِھٹِھرتے ہیں، پہاڑ پر چڑھتے ہیں، موسمِ گرما کے شروع دن ہی میں تیراکی کرتے ہیں، کسی خوب صورت خاتون سے ملتے ہیں، ایسی خَتائی کھاتے ہیں جو بچپن سے اب تک دوبارہ نہیں کھائی، ریل گاڑی میں کھڑکی سے باہر دیکھتے ہیں، ایسا پھول سونگھتے ہیں جسے پہلے کبھی نہیں دیکھا، اپنے ماں باپ سے ناراض ہو جاتے ہیں، بوسے کا تبادلہ کرتے ہیں، پہلی بار سمندر کا نظارہ کرتے ہیں، کسی سے حسد محسوس کرتے ہیں، ٹھنڈے پانی کا گلاس پیتے ہیں ۔۔۔ تو ان میں سے ہر ایک احساس کا اچُھوتا پن اور پھر جب یہ احساس ہمارے ذاتی تجربات سے گُھل مِل جاتا ہے تو یہ ناول کو سمجھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کی بنیاد فراہم کر دیتا ہے۔”

ادیبانہ و شاعرانہ انصاف

جب میں چھوٹا تھا تو حسن، جو میرا ہم عمر ہی تھا، نے غلیل سے پتھر پھینکا جو میری آنکھ کے ذرا نیچے آ کر لگا۔ بہت سالوں بعد مجھے یہ واقعہ دوبارہ یاد آیا جب ایک دن حسن نے مجھ سے پوچھا کہ میرے ناولوں میں برا کردار حسن ہی کیوں ادا کرتا ہے؟

ہمارے سکول میں ایک موٹا سا شریر بچہ ہوا کرتا تھا جو آدھی چھٹی یا تفریح کے وقفہ کے دوران مجھے تنگ کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا۔ برسوں بعد ایک کردار کو کم ظرف دکھانے کے لیے میں نے اسے اسی موٹُو کی طرز پر تخلیق کیا۔

اس کردار کو اس موٹُو کی طرح کھڑا رہنا تھا یہاں تک کہ اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے اور وہ فریج سے نکالے ہوئے دیو ہیکل جگ کی مانند لگنے لگا۔ جب میں چھوٹا تھا تو اپنی ماں کے ساتھ خریداری کے لیے بازار جاتا۔ مجھے ان قصابوں سے خوف آتا تھا جو اپنی بدبودار دکانوں میں خون آلود کپڑتے پہنے، لمبی لمبی چُھریاں ہاتھ میں پکڑے کھڑے رہتے۔ گوشت کے وہ ٹکڑے جو وہ ہمارے لیے کاٹتے تھے میں وہ نہیں کھاتا تھا چونکہ وہ بہت چربی والے ہوتے تھے۔

میری کہانیوں میں قصائی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ممنوع جانوروں کو ذبح کرتے اور کسی نہ کسی جان لیوا اور نیچ حرکت میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ اور وہ کتے جو ہمیشہ تمام زندگی میرا پیچھا کرتے رہے وہ میری کہانیوں میں یوں نمودار ہوتے ہیں جیسے وہ میرے پسندیدہ ہیرو کو خبردار کرنے اور ہوشیار کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

اسی طرح ایک معصومانہ انصافی احساس کا میرے یہاں نتیجہ یہ بھی رہا کہ بینکار، استاد، فوجی اور بڑے بھائی کبھی اچھے کردار میں نہیں ڈھل سکے۔ اور نہ ہی حجام حضرات کیونکہ بچپن میں ان کی دکان پر جاتا تو میری آنکھوں میں آنسو ہوتے اور میرے ان کے ساتھ تعلقات بھی کمزور ہی رہے۔


مزید ملاحظہ کیجیے: بیا داد بونیت (Piedad Bonnett): کولمبیا کی شاعرہ کی دو نظمیں

زبیر فیصل عباسی کی ایک روزن پر شائع شدہ دیگر تحریریں


چونکہ بچپن کی گرمیوں میں ہبیلیاڈا کے گھوڑے پیارے لگے تو اس لیے گھوڑے اور تانگے ہمیشہ اچھے کردار میں دکھاتا رہا ہوں۔ میرے گھوڑے حساس، نازک، البیلے، اور معصوم سے ہوتے ہیں اور اکثر کسی برائی کے ستائے ہوئے۔

میرا بچپن اچھے اور سمجھ دار لوگوں سے بھرا ہوا ہے جو میری طرف دیکھ کر مسکراتے تھے اسی لیے میری کتابوں میں اچھے لوگوں کی کثرت ہوتی ہے، لیکن انصاف ہمیں سب سے پہلے برائی کی جانب متوجہ کرتا ہے۔ اس طرح کے قاری ذہن میں آرٹ گیلری میں پھرنے والے ایک شخص کی طرح انصاف کے لیے ایک مدہم سا احساس ہوتا ہے جیسا کہ ہم شاعروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ برائی سے انتقام لیں۔

جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا کہ میں برائی سے بدلہ اکیلے لیتا ہوں اور ایسا میں اپنے ہی وضع کردہ طریقے سے کرتا ہوں لیکن کرتا اس طرح سے ہوں کہ پڑھنے والا انتقام کو محسوس نہ کرے اور اسے یہ بدلہ خوب صورت نہ لگے۔ کیونکہ انتقام بچوں اور مہم جوئی کے مزاحیہ قصوں میں ہی جچتا ہے جیسا کہ جب کوئی ہیرو ولن کو سزا دیتا ہے اور ساتھ کہتا جاتا ہے،”یہ مکا اس جرم کی پاداش میں اور ۔۔۔ یہ مکا اس جرم ۔۔۔“

میں نے ناول نگاری میں ایک اور ہی طریقہ ایجاد کیا ہے۔ میں سطر در سطر حسن یا قصائی کے خطرناک جرم کی تفصیل درج کرتا جاتا ہوں حتیٰ کہ وہ کردار گھبرا جائے اور چھری اس کے ہاتھ سے گر جائے اور وہ روتے  ہوئے دکان دھو رہا ہو ۔۔۔ اور روتے روتے کہے،”براہِ مہربانی، میرے بھائی، میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ میرے ساتھ سختی سے پیش نہ آؤ۔۔۔ میرے بھی بیوی اور بچے ہیں!“

انتقام، انتقام کو بڑھاوا دیتا ہے۔ دو سال پہلے جب آٹھ یا نو کتوں نے میکا پارک میں مجھے گھیر لیا تو مجھے لگا کہ شاید انہوں نے میری وہ کتابیں پڑھ لی ہوئی ہیں اور جانتے ہیں کہ میں نے ان کو استنبول میں گھومتے رہنے کی وجہ سے ادیبانہ انتقام کی بھینٹ چڑھایا ہوا ہے۔

ادیبانہ انصاف میں ایک خطرہ رہتا ہے۔ اگر اسے بہت طول دیا جائے اور بڑھا چڑھا کر بیان کیا جائے تو یہ آپ کی کتاب اور آپ کے کام کو خراب کر سکتا ہے۔ ۔۔۔ بلکہ آپ کی زندگی تباہ کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اپنا انتقام متانت کے ساتھ لیتے جائیں اور کسی بھی سمجھ دار شخص کے نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی تحریر خوب صورت بھی لگے، لیکن کہیں نہ کہیں کچھ کتے اس انتظار میں ہوں گے کہ وہ اس انتقامی ذہن کے ادیب کو کسی کونے میں دھر لیں اور اپنے دانت اس کے جسم میں گاڑ دیں۔


References

The Naive and the Sentimental Novelist ناول کا مرکز، ادیبانہ اور شاعرانہ انصاف از، اورحان پاموک

2ادیبانہ و شاعرانہ انصاف دوسرے رنگ: مضامین اور ایک کہانی صفحہ ۵۰۔۔۵۱ ۔

About زبیر فیصل عباسی 7 Articles
مصنف اسلام آباد میں مشاورتی ادارے، Impact Consulting کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ہیں۔ اس سے پہلے United Nations میں بطور مشیر بھی کام کر چکے ہیں۔ ملکی و بین الاقوامی معاشی و ترقیاتی پالیسیاں ان کی دلچسپی کی حامل اور تخصیصی موضوعات میں شامل ہیں۔ لیکن ان کی شاعری اور کہانیاں لکھنا بھی ان کی ذات کے لطیف و جمالیاتی حوالے ہیں۔

1 Comment

  1. زبیر فیصل صاحب، میری جانب سے شدید مبارکباد قبول کیجئے۔ بہت عمدہ انتخاب اور بہت رواں ترجمہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.