لائف آف پائی ، نفسیات اور تصوف کا سُرمئی علاقہ

لائف آف پائی

لائف آف پائی ، نفسیات اور تصوف کا سُرمئی علاقہ

از، فرحت اللہ

بچپن کے حیرت زا اجاڑ دنوں کی طرف نظر کرتے ہوئے مجھے ہمیشہ دنیا داریوں میں لپٹی گُتھی دنیا کے بالکل نیچے، پیچھے یا کسی بھی پہلو پرت پر سے اس کی بے بہا اداسی پر نظر ڈالنے کا موقع ملتا آ رہا ہے۔ خوش قسمتی یا بد قسمتی سے بچپن ہی سے زندگی کا یہ رخ کبھی سامنے سے ہٹا نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فلمی مابعدالطبیعیات کے خارجی پہلو میں بھی مجھے تنہائی میں لپٹی گُندھی کہانیاں نظر آتی ہیں۔ کہانیاں جو آؤٹ سائیڈر، باغی، سالک، مِس فِٹس اور دانش ور کے گرد بُنی جاتی رہی۔ اس حوالے سے دو تین سال میں ایسی چند فلمیں دیکھنے کا موقع ملا جن پر بات کرنے کو من کر رہا ہے۔ جن میں ’شخص‘ کی ‘فردیت‘ کے پراسیس کے بعد ’فرد‘ بننے کی کہانیاں فلمائی گئیں۔ جس میں ’سی مرغ‘ کی تلاش ہو، جو یوٹوپیائی مہمات پر مشتمل ہو۔

’فردیت‘ اور فلمی دنیا کے تعلق پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے، پہلے ’لائف آف پائی‘ کے بارے میں بات ہو جائے، جو کہ میری پسند کی بیس بہترین فلموں میں سے ایک فلم ہے۔ ہدایت کار ہیں ’اینگ لی‘، جو اس سے پہلے ’بُروک بیک ماؤنٹین‘ نامی فلم کی ہدایت کاری پہ آسکر ایوارڈ لے چکے، عرفان خان، سورج شرما، تبو اور ناصر حسین نے اس فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ عرفان خان کی عمدہ اداکاری قابلِ ذکر ہے۔

سو معاملہ کچھ یوں ہے کہ پائی π  کی علامت ریاضی کا ایک دل چسپ و حیرت انگیز مظہر ہے۔ یہ مظہر تب دیکھنے کو ملتا ہے جب آپ کو دائرے کے قطر اور محیط  کا تناسب چاہیے ہوتا ہے۔ مختصراً یہ علامت زندگی اور فرد کی نسبت و تعلق کے لامحدود امکانات کے باوجود فرد و سماج کے ایک دوسرے سے خاص فاصلے پر متعینہ کردار کا اظہار کرتی ہے۔

اس فلم میں پِسِن پٹیل کی کہانی بیان کی گئی ہے، جو باوجوہ  پائی π کی عُرفیت پا لیتا ہے۔ پائی بچپن ہی سے ایک آزاد خیال خاندان کا  ایک متجسس مزاج بچّہ ہوتا ہے۔ جو رات کو سونے سے پہلے بھگوان کی کہانیاں سنتا ہے، پھر جلد ہی اس کی دل چسپی یسوع مسیح اور اللّٰه کے کردار میں بڑھ جاتی ہے۔ اس مرحلے پہ پائی کا دماغ تینوں مذاہب کی عبادات و عقائد کا ملغوبہ بن کے رہ جاتا ہے۔ اس کے والد اسے سمجھاتے ہیں:

”بیک وقت ہر چیز میں ایمان رکھنا، کسی بھی چیز میں ایمان نہ رکھنے کے برابر ہے۔“

وہ پائی کو بتاتا ہے کہ اسے ایک وقت میں کسی بھی ایک فکر/مذہب کو خوب سٹڈی اور پریکٹس کرنا چاہیے، اس کے بعد ہی کسی اور فکر/مذہب کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ بلوغت تک پہنچنے کے بعد پائی کے مزاج میں ایک طرح کا وسیع انتشار دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ دنیا کو سمجھنے کےلیے ورلڈ کلاسیک کا  مطالعہ کرتا ہے، زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا ہونے کے بعد، زندگی معمول کے ڈَگر سے ہٹ جاتی ہے۔ خوابوں اور فینٹاسی کے رنگ پھیکے اور دھیمے پڑنے لگ جاتے ہیں۔ یہ کچھ اس میں وجودی کیفیات اکتاہٹ، تھکان اور امتلائے ذات کی کیفیات پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔ جیسا کہ وہ آگے جا کر بیان کرتا ہے:

”ہماری دنیا کے جادوئی رنگ پھیکے پڑنے لگے۔ اسکول بور تھا فیکٹس، فکشن اور فرنچ کے علاوہ لفظ تھے اور سلسلے تھے کبھی نہ ختم ہونے والے، بالکل میرے عجیب و غریب نام کی طرح.. میں بہت بےچین تھا، میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا، جو میری زندگی کو معنی دے دے، اس میں رنگ بھر دے اور پھر میں مِلا آنندی سے۔”

کامیو کی لکھی کتاب ‘اجنبی’ پڑھنا، بذات خود اس کردار ‘Pi’ کے نفسی رجحانات و میلانات کو آشکار کرتا ہے۔

پائی کے والد کا چڑیا گھر ہوتا ہے کولکتہ میں، اسے اپنے چڑیا گھر کو یہاں سے ختم کرکے شمالی امریکہ لے جانا پڑتا ہے۔ ایک کارگو جہاز پہ پائی  اپنے والدین اور بڑے بھائی سمیت بیٹھ کر اپنے منزل کی طرف نکل پڑتے ہیں۔ راستے میں فلپائن کے قریب، گہرے ترین سمندری علاقے ‘ماریانا ٹرنچ’ پہ اُن کا جہاز طوفان کی زد پہ آ جاتا ہے۔ طوفان میں ایک بچاؤ کشتی پہ صرف پائی اور چار جانور بچ جاتے ہیں، جن میں ایک چمپانزی، لگڑبگا، زرّافہ اور ‘رچرڈ پارکر’ نامی بنگال ٹائیگر زندہ بچ جاتے ہیں۔ لگڑ بھگڑ زرّافہ اور چمپانزی کو ختم کر ڈالتا ہے، جبکہ لگڑ بھگڑ رچرڈ پارکر کے ہاتھوں ختم ہو جاتا ہے۔ اب کشتی پہ پائی پٹیل اور رچرڈ پارکر باقی رہ جاتے ہیں۔ رچرڈ پارکر  بے شک ایک سرکس کا شیر ہے لیکن بھوک اور پانیوں کا ساتھ اسے جلد بے زار کر دینے والا ہے۔ کئی ایک بار اس نے پائی پہ حملہ بھی کیا، پائی بچ گیا تو اسے سوچنا پڑا کہ اب کشتی پہ زندہ رہنے کے لیے رچرڈ پارکر کو تربیت دینا لازمی ہے۔ پائی کو اس جان جوکھم والے کام سے کس طرح نبٹھنا پڑا، یہ قابلِ دید ہے۔


مزید دیکھیے: بارے کُچھ آرٹ فلموں کے از، ذوالفقارعلی


اب چلتے ہیں ہم ان علامات کی طرف، جس کو سمجھ کر کئی ایک شاندار فلموں کی نفسی یا روحانی تعبیر کر سکتے ہیں۔ ہم جان جاتے ہیں کہ ‘خودی’ کا یہ سفر، نفسیات میں ‘فردیت’ اور تصوف میں ‘سلوک’ کی طرح ہے یا محتاط الفاظ میں اس کے متوازی چلتا ہے۔ یہ علامات اس فلم اور دیگر کئی شاندار فلموں میں ایک تواتر سے سامنے آتی ہیں۔ عالمی ادب کے شاہکاروں میں بھی ان علامات کی فراوانی ہے۔ ان پہ اگلے چند فلموں کے تبصروں میں بات ہوگی۔ ذرا ان علامات کا تعین کرتے ہیں:

1۔ دوست لڑکی: یعنی آنندی زندگی کا منچلا نظریہ، (یاد رہے کہ ہم اس فلمی تعبیری سلسلے میں ہیروئن کو نظریے اور گہرائی اور ہیرو کو طاقت اور پھیلاؤ کی علامت سمجھ کے ہی آگے بڑھ رہے ہیں) ‘آنندی’ یعنی ’خوشی‘ کا تعاقب: یہ کردار زندگی کے سب سے عامیانہ رواقی اندازِ فکر کا نمونہ بن کے سامنے آتا ہے۔ کچھ لوگ خوشی کے پیچھے لگے اپنے دِن کُترتے ہیں، کچھ کو سوالوں سے پیچھا چُھڑانے میں پوشیدہ سکون کی تلاش ہی مناسب ہے اور کُچھ لوگ اِن سب سے پرے حیرت کی جُستجو میں اُفتاں و خیزاں رہتے ہیں۔

2۔ سمُندر: زندگی یا آنات کا بہاؤ، طوفانِ نوح کے عظیم پانیوں کا واقعہ ہو، ’نُو‘ Nu نامی پہلے سمُندر کی بات ہو، پانیوں پہ لیٹے ’نارائن‘ہو یا  Styx کا کراماتی پانی،’پروٹیوس‘ کی تفہیم ہو، موسی کے پانی ہوں، ’ترستان‘ کے یا ’رومولس‘ کے پانی کی کہانی ہو، عظیم ہرکولیس کی ڈرسی Dirce نامی پانیوں کنارے تربیت، ’ہیراکلیٹس’ کے ’بہاؤ‘ کی بات ہو، مہا بھارت کے ’کرن‘ کو بہا لینے والا ’اکوا‘  Acva دریا، گنگا جمنا کا تقدس، فردوسی کے شاہ نامے کے ’دارا‘ کو بہا لیے جانے والا Euphrates یا فرات،’پرسیوس‘ کو بہانے والا سمُندر، پانیوں سے تخلیق کی اسلامی روایت، دریائے سندھ کی تہذیب ہو، یا میسوپوٹیمیائی تہذیب، ایجیئن میں ٹرائے کا سفر اور اوڈیسیئس کی دس سالہ آوارہ گردی کا سفر یا خلا میں پانیوں کی تلاش، ہیمنگوے کا ’بوڑھا اور سمُندر‘ ہو،  میلوِل کا ’موبی ڈِک‘، پانی زندگی ہی کی علامت ہے۔ ٹھاٹھیں مارتے سمُندر کی لہروں کی زد پر زندگی اُن دنوں کا استعارہ ہے، جب شخصیت سے فردیت تک کے ’ہفت خواں‘ سر کیے جاتے ہیں۔ براہِ راست لہروں کی اُٹھا پٹخ کے رحم و کرم پہ ہونا علامت ہے کسی تناظر (سماجی، جزیریائی پناہ گاہ) کی عدم موجودگی میں زندگی کے ناقابلِ برداشت ہونے کی۔ زندگی کو براہِ راست نہ جھیلنے سے بچنے کےلیے، سمُندر جھیلنے سے بچنے کے لیے تعصُّبات اور خود فریبیوں کے جزیرے اور بر اعظم کام آتے ہیں۔

اسی طرح ’لائف آف پائی‘ میں سمُندر زندگی میں مخصوص سماجی تناظر کی معدومیت سے عمومی تناظر کے حصول تک کی کہانی ہے۔ جہاں لا محدود سمُندر (زندگی) میں اپنے لا محدود ارادے کو لگام ڈال کر سماج کے جزیریائی مقام  پر اپنی جگہ دوبارہ طے کی جاتی ہے۔

3۔ کارگو بیڑہ: کمیونٹی ـــ خارجی دنیا، جزیرے یا براعظم کے متعین مزاج کے برعکس رجحانات و میلانات کے متحرک تنّوع کی علامت ہے۔ پائی کا باپ اپنے چڑیا گھر کے جانوروں کو نیند کی گولیاں دیتا ہے، پائی کے پوچھنے پر وہ کہتا ہے۔

”سفر کا تناؤ جانوروں کےلیے اچھا نہیں ہوتا۔”

یہ علامت سفر کے دوران اپنے تمام تر تجربوں کو خود سے گزرنے دینے کی ہے تاکہ اپنے مختلف نفسی کیفیات (جانوروں) کو سفر کے تجربات کی نظر ہونے یا اس پر اثر انداز ہونے سے بچایا جا سکے۔

4۔ کارگو جہاز کا امریکہ کی طرف جانا۔ یہ مشرق سے مغرب کی جانب جاتے نظریاتی گروہ کا، اپنے فروعی معاملات سے متعلق رہتے ہوئے،  جانبِ مغربیت سفر ہے۔ جہاز کی تباہی، در اصل اس گروہ کے خاتمے کا بیان ہے۔ یہ کارگو جہاز ایک ایسے گروہ کی نشان دہی کرتا ہے جو سماجی اور ثقافتی تفاعلی حوالے سے اپنی بنیادوں سے ہٹنے والے مختلف ثقافتی اِکائیوں پر مُشتمل ہوتا ہے۔ Simsum  (کیا یہ جادوئی لفظ ‘سِم سِم’ تو نہیں؟) نامی ایک جہاز، جو آخر کار ثقافتی اور مابعد الطیبیعیاتی بُحران (سمُندری طوفان) کی تاب نہ لاتے ہوئے، ‘اپنے ماحول سے بےفکر، پرتھوی کی سب سے گہری جگہ’ ڈُباؤ کی نذر ہو جاتا ہے۔ جس میں ہیرو Pi، جو “انفرادیت” کی نہایت کمیاب پَود اور نشو و نما کی نمائندگی کرتا ہے، بچ پاتا ہے۔

5۔ کشتی: پرسونا/نقاب، یہ ایک متناقضہ paradox ہے کہ اگر ہم پرسونا کو ’اختیاری جبر‘ کہیں۔ اس میں آپ اختیار سے کام لےکر بھی اپنے پرسونا سے باہر نہیں نکل سکتے کہ نکلتے ہی پرسونا، پرسونا نہیں رہے گا، اس لیے کہ یہ پرسونا کا دوسرا اصول ہے، اولین اصول یہ ہے کہ پرسونا کے بغیر سماج میں کوئی جگہ نہیں۔ آگے کئی ایک فلموں اور ادبی شاہکاروں میں کشتی کا رول سامنے آرہا ہے۔

6۔ کشتی پر جانور: مختلف انسانی طبائع یا ٹائپس ـــ

شیر کو ارادیت اور تشکیک کی علامت کی حیثیت سے دیکھیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ کیوں باقی تین عوامل فلم کے حاشیوں پر چلے جاتے ہیں! چمپانزی ارتقاء کے مبداء، توارث کا تسلسل، لگڑ بھگڑ قدیم وحشی فطرت کی علامت جبکہ زیبرا مفعولی تشخص کا استعارہ ہے، جو توارث کے جبر اور تشدد کے سماجی عناصر کے اثرات کے نیچے بے بس دم توڑ جاتا ہے۔ لگڑ بھگڑ پر شیر کی فتح در اصل شک اور ارادے کا تشدد کے سامنے نہ جھکنے کا استعارہ ہے۔

۵۔ ہیرو پائی کا اپنی کشتی (لائف بوٹ، اور لائف بوٹ کے اپنے پورے لوازم کے ساتھ) کے باہر جانا، آنا، پھر جا کے واپس آنا، ارادہ، تشکیک یا تعصُّب کے مراحل کی طرف اس کے رویّے کی نشان دہی کرتا ہے۔

7۔ ایمرجنسی بیگ: (فلم: آل از لاسٹ) پرسونا یا شخصیت کے ہنگامی یا بُحرانی صورت حال میں کام آنے والے عوامل کا سمبل ہے، جس کو معاشرتی اِستِحسان  social approval حاصل ہوتا ہے۔ جو ایک حد کے بعد کام نہیں دیتے۔

8۔ شیر کی تربیت: ‘دائیں دماغ کا اثبات’  یا ذاتی ما بعد الطبیعیات کا اختراع ــ بالآخر کشتی کو شیر کے ساتھ قبول کرلینا، دراصل ‘دائرے کی جدلیاتی سفر کی تکمیل’ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ مُجرّد تعصُّب کا درندہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہر نظریے کی کوئی نہ کوئی خامی ہوتی ہے، اس خامی یا weak point پر تعصُّب کا شیر بِٹھا دیا جاتا ہے جو ابُوالہول کے برعکس، سوال اٹھانے والے کو چیر پھاڑ کے کھانے کو تیار مِلتا ہے۔ ذات کے ساتھ سامنا کرنے کے اس سفر میں ہم جان جاتے ہیں کہ ہم اصل میں کچھ بھی تو نہیں ہیں۔ ہماری ذات  ‘شخصیت کے اس جنگل’ میں بالکل ہی اجنبی رہتی ہے۔ ہمیں کسی نہ کسی نظریے کو اس کے عواقب کے ساتھ قُبول کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ بتایا جاتا ہے۔

“بُھوک آپ کی ساری غلط فہمی دُور کرسکتی ہے… مانا کہ رچرڈ پارکر (شیر: ارادہ، تشکیک، تعصُّب!) پالتو نہیں بن سکتا، لیکن میں اسے ٹرین ضرور کر سکتا ہُوں..”

چونکہ، اگر بُھوک ضروریات کا پیش خیمہ ہے اور ضروریات کا تعلق سماج سے جا جُڑتا ہے تو سماج کی طرف واپسی یعنی انسانی خوبیوں خامیوں کو برداشت کرنے کی استعداد پیدا کرنا ہی ایک حقیقت پسندانہ رویّہ قرار پاتا ہے۔

9۔کشتی پر پائی کے جاگتے کے خواب اجتماعی لاشعور کی گہرائیوں میں اترنے کا بیان ہے۔  یہ وحدت کا بیان ہے کہ چیزوں کا صدوری منبع کیا ہے؟ اسے ہم لاشعوری تلازمات کا غیرمنطقی بہاؤ بھی کہہ سکتے ہیں۔

10۔ جزیرہ: خطّۂ خود فراموشی، (شٹر آئی لینڈ، آئی لینڈ، کاسٹ آوے اور اوڈیسیس میں بھی جزیرے کا کردار قابلِ غور ہے۔ دریا/ سمُندر کے تمام اساطیر میں بھی جزیرہ سامنے آتا ہے۔) یہ دراصل فردیت کی منزل کا ایک پڑاؤ ہے۔ بذاتِ خود منزل نہیں۔ فردیت کے عمل سے گزرنے والے اگر اس پڑاؤ پر مقیم ہوئے تو سمجھنا مشکل نہیں کہ اس فرد (سالک) نے اپنی راہ کھوٹی کر لی۔ یہ زندگی کا محدود اور غیرمتحرک وِژن ہے۔ جزیرہ بر اعظم کی کلیّت کے مد مقابل جزوی پن کی علامت ٹھہرتا ہے۔ اسی طرح جزیرے پر پانی محدود حِسّیت اور سمُندر کے مقابلے میں، جو زندگی کی کُل کی علامت ہے، زندگی کے غیر معمولی پہلو کا اظہار ہے۔ یہاں پر دریاؤں سے منسوب تہذیبوں کے سمُندر سے نسبت و تعلق کی طرف ایک اشارہ ملتا ہے ”زندگی کا محدود مگر متحرک وِژن“ اور جزیرہ جو سمُندر (کبھی کبھار دریا) کے اندر ہوتا ہے، وہ سمُندر سے براہِ راست متاثر متلون مزاجی اور اکھڑپن، نری مالیخولیائی جذباتیت کا استعارہ بن جاتا ہے۔

11۔ بر اعظم پر واپسی، کسی بھی سوچ کا تدریجی انجماد یا عقیدہ میں بدل جانا ہے۔ فرد انسان ہونے، بننے کو قبول کرتا ہے۔’البر کامیو‘ کی الفاظ میں کہیں تو ”انسان ہی انسان کا انجام ہے۔“

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.