مترجم دو زبانوں کے درمیان پل کی مانند

مترجم دو زبانوں کے درمیان پل کی مانند

مترجم دو زبانوں کے درمیان پل کی مانند

از، سرفراز سخی

زبانوں سے بے غرض محبت کرنے والوں کے ترانے، اس وقت تک گنگنائے جائیں گے، جب تک یہ جہانِ آب و گِل تحرک میں ہے۔ یہ ان ہی کی مرہونِ منت ہے کہ ہم ایک دوسرے کی زبانوں کی ادبی اور غیر ادبی تحاریر کو نہ صرف اپنی زبان میں پڑھ رہے ہیں۔ بَل کہ ایک دوسرے کی اختراع شُدہ اصنافِ سخن و نثر پر رقم طراز بھی ہیں۔ اور اسی بنا پر ہم ایک دوسرے کے سیاسی و سماجی، تہذیبی و ثقافتی، فکری و ادبی اور تکنیکی و سائنسی پہلوؤں سے آگاہ بھی ہیں۔

ترجمہ نویسی فقط دو زبانوں پر دسترس کا نام نہیں یہ ایک فن ہے، جو کہ نہ صرف اپنی زبان، بَل کہ دوسری زبان کے بھی ادب کے مطالعۂِ استغراقی کا حاصل ہے۔ کیوں کہ ترجمہ نویس نے فقط جملہ ہی نہیں، بل کہ اس میں سمائے خیال کی پاس داری کرتے ہوئے اپنی زبان میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ تا کہ چاہے فقروں کے الفاظ کی صوت و صورت بدل جائے، مگر خیال کی اصل ہیئت ذرا متاثر نہ ہو۔

یہی ایک مترجم کی خوبی اور اسی خوبی میں مسکراتی ہوئی اس کی کامیابی ہے۔ اور اسی کامیابی کے ساتھ ڈاکٹر بدر قریشی صاحب نے بے حد متانت و سنجیدگی سے اس سائنسی کتاب آئن اسٹائن کی کائنات کا سائنسی اصطلاحات اور زبان کی نزاکتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، ترجمہ کر کے بے غرض لیکن با مقصد قاری کے سامنے لا رکھا ہے۔

ترجمہ نویسی کے وقت کورے پنوں پر لفظوں کے شہر آباد کرتے ہوئے، جو سکون اور خوشی ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر رہی ہوگی، وہ سُکون اور خوشی اس کتاب کے مسودے سے طباعت، طباعت سے اشاعت، اشاعت سے آ تقریبِ رونمائی تک، میں کئی بار ان کے چہرے پر نہ صرف دیکھ بل کہ ان سے ملاقاتوں کے وقت دوارنِ گفتگو محسوس بھی کر چُکا ہوں۔

البرٹ آئن اسٹائن نے جو کہا ان باتوں کو لے کر، نائیجل کال ڈر کو ایسی کیا سوجھی کہ ان باتوں کو سہل کرتے ہوئے، ایک کتاب رقم کر ڈالی اور کتاب کو آئن اسٹائن کی کائنات کا نام دے، اسے یہ انمول مان بخشا اور ہمیں آئن اسٹائن سے مزید قریب سے قریب تر کر دیا! سوال بے حد مختصر ہے اور اس کا جواب، یہ کتاب۔

اور اسی طرح اس کتاب کو پڑھ کر ڈاکٹر بدر قریشی صاحب کے جی میں کیا سمایا، جو اس کتاب کو سندھی پیراہن پہنا ڈالا! پھر وہی بات، سوال مختصر اور جواب یہ کتاب۔


مزید و متعلقہ: کیا قرآن کریم کا ترجمہ اصل کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟  از، اجمل کمال

بائبل کے ترجمے کی کہانی  از، ڈاکٹر کوثر محمود

ناول کا مرکز، ادیبانہ اور شاعرانہ انصاف از، اورحان پاموک  انتخاب و ترجمہ از، زبیر فیصل عباسی


ڈاکٹر صاحب ایک طرف شاہ، رومی شیرازی، حافظ، غالب، اقبال، خلیل جبران، فیثا غورث، ابن الہثیم اور سقراط سے مدوت و عقیدت کا رشتہ استوار کیے ہیں، تو دوسری طرف کیپلر، گیلی لیو، نیوٹن، ڈالٹن، رتھ فورڈ اور آئن اسٹائن کو اپنے دل میں بسائے ہوئے ہیں، یعنی جہاں وہ ادب اور فلسفے تک رسائی رکھتے ہیں، وہیں انہیں سائنس کا علم بھی ہے۔

عین ممکن ہے کہ یہاں اک سوال آپ لوگوں کے ذہن میں ابھرے کہ ادب اور فلسفے جیسے موضاعات کو چھوڑ سائنس ہی کی کتاب کا آخر کیوں ترجمہ کیا؟ اس بات سے واقف ہوتے ہوئے بھی کہ ہمارے یہاں سائنس جیسے ثقیل و گَراں موضوع کے لیے قاری کی تعداد نہایت کم بے، اس کے با وجود وہ ایسی کیا چیز تھی جو ان کے لیے تقویت و ہمت کا باعث بنی، کہ جس کے بنا پر ترجمے کے واسطے انہوں نے نائیجل کال ڈر کی اس سائنسی کاوش کا انتخاب کیا؟

ڈاکٹر بدر قریشی
ڈاکٹر بدر قریشی

اس بات کے جواب سے قبل میں چاہوں گا کہ ہم لفظ سائنس کی معنی کو تھوڑا سمجھ لیں اور یہ جان لیں کہ یہ کس زبان سے ماخوذ ہے۔ سائنس کو سندھی اور اردو میں علم کہتے ہیں، اور علم کا مطلب ہوتا ہے جاننا یا آگہی حاصل کرنا۔ اپنے ارد گرد کے ماحول کا مشاہدہ کرنا، مختلف قدرتی اشیاء کے بارے میں سوچنا ہی سائنس ہے۔ اور انگریزی میں سائنس کا لفظ لاطینی کے “سیئینشا” scientia اور اس سے قبل یونانی کے “اسکیزیئن” skhizein سے آیا ہے۔ جس کے معنی الگ کرنا، چاک کرنا کے ہیں۔

تو سوال کا جواب یہ ہے کہ سائنس کو ڈاکٹر صاحب فلسفیانہ رُو سے آکسیجن مانتے ہیں، جو انسان کو ایک بڑی مقدار میں بے مول میسر ہے۔ اور آکسیجن کی حقیقت اس کی اہمیت و افادیت عالمِ بٙشٙریت میں کیا معنیٰ رکھتی ہے اس سے ہر بشر مکمل طور پر مُطلع ہے۔ سادہ سے لفظوں میں کہ مشاہدہ کاری کے بغیر زندگی خام خیالی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ اور خام خیالی وہم ہے، اور وہم دماغ کی وہ باطنی قوت ہے جو فاسد خیالات پیدا کرتی ہے۔ جو کہ دیمک کی مانند اندر ہی اندر ہمارے تخلیقی انسان کو چاٹ جاتے ہیں۔ جس کے بعد ہمارے سامنے فقط ایک خالی جسم رہ جاتا ہے، جس کے لیے بینجمن فرینکلن نے کہا کہ:

Some people die at age 25, and aren’t buried until they are 75.

ڈاکٹر بدر قریشی صاحب کی بحیثیت ایک مترجم یہ پہلی کاوش ہے، جو کہ ان کی محنت، جستجو اور لگن کا نتیجہ ہے، احمد مہندی صاحب نے کہا کہ:

رونقِ بزم کی خاطر جو جیا کرتے ہیں

وہ لہو اپنا چراغوں کو دیا کرتے ہیں

گو کہ ڈاکٹر صاحب نہ ہی کوئی سائنس دان ہیں، اور نہ ہی کوئی منجھے ہوئے لکھاری، اس کے با وجود محفل کی آب وتاب کے لیے جو انہوں نے اپنا لہو، اپنی مصروفیات کے باعث ترجمہ نگاری کے دوران، گزرتے پہروں کو بے طمع دیا، بلا شبہ اس اکتساب کے لیے انہیں جتنی داد دی جائے وہ کم ہو گی۔ نائیجل کال ڈر کی یہ کتاب جسے ڈاکٹر بدر قریشی صاحب نے انگریزی سے براہِ راست سندھی زبان میں ترجمہ کیا ہے، ابھی تک اردو اور پاکستان کی دیگر زبانوں میں ترجمہ نہ ہو پائی ہے، میں ڈاکٹر صاحب کی اس بہرہ مندی پر انہیں عمیقِ قلب سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اور امید کرتا ہوں کہ وہ اسی طرح قرطاس و قلم سے رشتہ قائم رکھیں گے۔