جنرل شکریہ منظور یا نا منظور

ایک روزن لکھاری
سید کاشف رضا

(سید کاشف رضا)

جنرل راحیل شریف بیس برسوں میں پہلے ایسے آرمی چیف ہیں جو اپنی مدت ملازمت کے خاتمے پر ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر ان کے خیالات اور اقدامات سے نامتفق لوگوں کے لیے بھی ایک بار تو یہ کہنا بنتا ہی ہے کہ : شکریہ راحیل شریف۔ لیکن کیا ان کے سب اقدامات پر شکریہ واجب ہے؟ کیا وہ ایک جنرل یعنی عمومی شکریے کے مستحق ہیں؟ اب یہ جو کہا جا رہا ہے کہ جنرل راحیل شریف کی لیگیسی جاری رہنی چاہیے تو یہ لیگیسی ہے کیا؟ اور کیا یہ جاری رہنی چاہیے؟
general-raheel-and-nawaz-sharifجنرل راحیل کے تین برسوں کے دوران بہت سے معاملات سامنے آئے اور ان کی لیگیسی کی تشریح دو طرح سے کی جا سکتی ہے۔ اگلے آرمی چیف کو ان کی لیگیسی جاری رکھنے کا مشورہ تو وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سمیت بہت سے لوگ دے رہے ہیں لیکن اس سے پہلے یہ بھی ضروری ہے کہ جنرل راحیل شریف کی پالیسیوں کو سود و زیاں کے پیمانے پر ناپ کر بھی دیکھ لیا جائے۔
۱۔ جنرل راحیل شریف نے ملک کے سیاسی معاملات میں پہلی مداخلت جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو بچانے کی بالواسطہ کوششوں سے شروع کی۔ حال ہی میں اس کی تصدیق جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے جیو نیوز کو ایک انٹرویو میں بھی کی ہے۔ پرویز مشرف کا ملک کے کسی صوبے، حتیٰ کہ کراچی میں بھی کوئی اسٹیک نہیں۔ ملکی سیاست کے دو بڑے فریق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے جمہوریت کی تازہ بحالی کے بعد مخالفین کے لیے سیاسی برداشت کے جس کلچر کو فروغ دیا ہے اس کے ہوتے ہوئے یہ ناممکن تھا کہ عدالت اگر پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا دے دیتی تو سیاسی حکومت اس پر عمل درآمد بھی کرتی۔ لیکن اگر پرویز مشرف نے آئین توڑا، اور دو مرتبہ توڑا تھا تو اسے کم از کم ایک دن کے لیے جیل جاتے دیکھنا ایک منطقی آرزو تھی جس کی راہ میں جنرل راحیل بظاہر مزاحم ہوئے۔ پرویز مشرف کے سب جرائم معاف کیے جا سکتے ہیں۔ آصف زرداری کے پاکستان کھپے کے نعروں میں سندھ کے غریب بھی اپنی شہید رانی کے قتل کے سہولت کار کو بھول سکتے ہیں۔ لیکن بلوچوں کے دلوں کو اگر وفاقِ پاکستان سے جوڑ کر رکھنا ہے تو پرویز مشرف کو سزا ملنا ضروری ہے۔ اس سزا یا پرویز مشرف کے آزادانہ عدالتی ٹرائل کی راہ میں جو بھی حائل ہو گا وہ پاکستانی وفاق کی خدمت نہیں کرے گا۔ ہونا یہ چاہیے کہ نیا آرمی چیف پرویز مشرف کے آزاد عدالتی ٹرائل کو چلنے دے اور پیٹی بند بھائی کو بچانے کی ایسی کوششیں نہ کی جائیں جو جنرل راحیل شریف کے دور میں ہوئیں۔
۲۔ عمران خان اور طاہرالقادری کے سن دو ہزار چودہ کے دھرنوں کے دوران جنرل راحیل شریف کا کردار کچھ زیادہ قابلِ اطمینان نہیں تھا۔ حکومت نے اسلام آباد میں فوج طلب کر رکھی تھی مگر یہ فوج نظر نہ آئی۔ جب پارلیمنٹ ہاوس اور پی ٹی وی سینٹر پر حملہ ہو چکا اور سپریم کورٹ کی دیوار پر شلواریں لٹکائی جا چکیں، فوج صرف اس کے بعد آئی اور وہ بھی خاص طور پر بلانے پر۔ ان معاملات پر سابق وفاقی وزیر مشاہداللہ نے لب کشائی کی اور یہ کہا کہ دھرنوں میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا۔ اس پر انھیں وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس دھرنے کے دنوں کی لیگیسی بھی ایسی نہیں جو نئے آرمی چیف کے لیے قابلِ تقلید ہو۔
۳۔ جنرل راحیل شریف نے آرمی پبلک اسکول سانحے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تو اس سے پہلے سیاسی اداروں سے پوری پوری قیمت بھی وصول کی۔ فوجی اختیارات میں اضافے کے لیے آئین میں ترمیم تک کی گئی۔ ان کی فرمائش پر فوجی عدالتیں بھی بنا دی گئیں۔مگر جب پھانسیاں شروع ہوئیں تو معلوم یہ ہوا کہ جو مجرم پندرہ پندرہ اور بیس بیس سال سے جیلوں میں بند تھے ان کی بڑی تعداد کو تو پھانسی دے دی گئی لیکن پھانسی پانے والے دہشت گردوں کی تعداد کافی کم رہی۔ پنجابی طالبان کے سربراہ عصمت اللہ معاویہ نے فوج کے خلاف کارروائیاں ترک کرنے کا اعلان کر دیا تو اس کی تلاش بھی ترک کر دی گئی۔ افغان حکومت نے بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھائیں تو افغان طالبان کے لیے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے دل میں جگہ ایک بار پھر بننے لگی۔ اور ہمیں یہ بھی بھول گیا کہ جب پاکستانی طالبان ہمارے پچاس ہزار شہریوں کو قتل کر رہے تھے تو افغان طالبان ان کے ہر طرح سے مددگار تھے اور انھوں نے پاکستانی طالبان کو کبھی ڈس اون نہیں کیا تھا۔
۴۔ سندھ میں فوج کو طالبان اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف آپریشن کرنا تھا مگر اس نے ان دو سیاسی فریقوں پر سختی شروع کر دی جو نظریاتی طور پر ہی مذہبی عسکریت پسندوں کے خلاف تھے۔ پیپلز پارٹی کے رہ نما ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا گیا۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر ان پر دہشت گردوں کی معاونت اور اپنے اسپتال میں ان کا علاج کرنے کا الزام لگایا گیا۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ’دہشت گردوں‘ میں لیاری گینگ اور ایم کیو ایم دونوں کے ’دہشت گرد‘ بھی شامل کیے گئے جو ایک دوسرے کے شدید ترین مخالف تھے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف بھی آپریشن چلتا رہا اور پھر قائدِ تحریک نے خود ایک ایسا موقع فراہم کر دیا جس سے اسٹیبلشمنٹ کو یہ موقع ملا کہ وہ ایم کیو ایم کو اس کی لندن قیادت سے کاٹ دے۔ قدرت کے اس کرشمے کو میں بھی خوش گوار ہی سمجھ رہا تھا مگر اس کے بعد فاروق ستار کی ایم کیو ایم سے بے جا فرمائشیں شروع کر دی گئیں۔ انھیں الطاف حسین کے خلاف قراردادیں منظور کرنے پر مجبور کیا گیا جس سے فائدہ تو کچھ ہونا تھا نہ ہوا، البتہ ان ووٹروں کے دل میں ضرور شک بیٹھ گیا جنھوں نے قراردادیں منظور کرانے والے ان ایم کیو ایم ارکان کو الطاف حسین کے نام پر ہی ووٹ دیے تھے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا وہ کراچی کی دیواروں پر لکھا ہوا نظر آ رہا ہے اور خاکم بدہن انتخابی نتائج کے بعد باقی لوگوں کو بھی نظر آ جائے گا۔ اسٹیبلشمنٹ یہ قراردادیں منظور کروا کر ایک سنگین غلطی کر چکی ہے۔ اب اسے چاہیے کہ کراچی کے سب سیاسی کھلاڑیوں کو اپنا کھیل سیاسی میدان میں بھرپور طریقے سے کھیلنے دے۔ تشدد کی سیاست کرنے والوں کے پر کافی مقدار میں کاٹے جا چکے اور اس سلسلے میں فوج بھی داد کی مستحق ہے لیکن معاملہ تشدد کی سیاست کی روک تھام تک ہی محدود رہنا چاہیے۔ سیاست میں غیر ضروری مداخلت سے وہ بت ایک بار پھر general-bajwa-salutesکھڑا ہو جائے گا جو ایک طویل تاریخی عمل کے نتیجے میں کرم خوردہ ہو چکا تھا۔
۵۔ بلوچستان میں امن و امان کی صورتِ حال حالیہ مہینوں میں سب سے زیادہ خراب ہوئی ہے۔ اس کی جڑیں پرویز مشرف کی پالیسی میں ہیں۔ نوازشریف حکومت نے بلوچ قوم پرست رہ نما ڈاکٹر عبدالمالک کو بلوچستان کا وزیراعلیٰ بنا کر ایک ماسٹر اسٹروک کھیلا تھا۔ مگر کچھ قوتیں بلوچ تعلیم یافتہ طبقے اور مڈل کلاس پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ بلوچستان میں کسی بھی شیڈو ملیشیا کی حمایت کا خیال بھی انتہائی خطرناک ہو گا۔ بلوچستان میں فرقہ پرست قوتوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی ضرورت ہے جو جنرل راحیل شریف کے دور میں نہیں ہو سکی۔ بلوچستان کے مری اور مینگل رہ نماؤں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وہ بہت باوقار لوگ ہیں۔ اختر مینگل اور چنگیز مری کی صورت میں ان دونوں قبائل کی جو نئی قیادت سامنے آئی ہے اسے وفاقِ پاکستان کا اثاثہ سمجھنا ہوگا۔ بلوچستان کی سیاسی ہیئتِ ترکیبی ایسی ہے کہ کوئی جماعت وہاں سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکتی۔ اس لیے اگر اختر مینگل دو تین کے بجائے پانچ چھ یا سات آٹھ صوبائی نشستیں حاصل کرتے نظر آئیں تو سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
۶۔ خارجہ معاملات میں چین سے متعلق پالیسی اور خصوصاً سی پیک پر ملک میں وسیع تر اتفاق رائے موجود ہے اور جنرل راحیل کی قیادت میں فوج بھی اس میں تعاون کر رہی ہے۔ افغانستان اور ایران کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی قیادت میں افغانستان کو اپنی اسٹریٹجک ڈیپتھ سمجھنے کا ڈاکٹرائن تبدیل کیا جائے۔ سی پیک میں روس کو شامل کر کے اسے گرم پانیوں تک رسائی

Pakistan's Prime Minister Nawaz Sharif (R) talks with Qamar Javed Bajwa, Pakistan's newly designated Army Chief, at the Prime Minister's House in Islamabad, Pakistan, November 26, 2016. PID/Handout via REUTERS

دے کر اچھا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایسی ہی رسائی افغانستان کو بھی دینی چاہیے اور افغانستان کی جمہوری حکومت کو مضبوط کرنے میں اس کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے۔ایران سے تعلقات کے بگاڑ میں ان نامحتاط بیانات کا بھی ہاتھ تھا جو ایرانی صدر کے کئی برسوں کے بعد پاکستان کے دورے کے بعد سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سامنے آئے۔ ایسے بیانات کی اگر ضرورت بھی ہو تو وزارتِ خارجہ کی جانب سے دیے جا سکتے تھے۔ایران بھی سی پیک میں شامل ہونا چاہتا ہے اور چین بھی اس پر آمادہ ہے۔ اگر سی پیک میں ایران اور اس کی بندرگاہ چاہ بہار کو بھی حصہ دیا جائے تو ایران شاید اس بندرگاہ کی ترقی کے لیے بھارت سے مدد طلب کرنے سے گریز پر آمادہ ہو سکے۔
۷۔ آئی ایس پی آر ایک ایسا ادارہ ہے جو پاکستانی افواج کی ترجمانی کا پابند ہے۔ اس ادارے کی جانب سے سیاسی اعلامیوں اور ٹویٹس کا سلسلہ خوب نہیں۔ اگر فوج کو کسی سیاسی معاملے پر بات کرنی ہے تو وزارتِ دفاع کے ترجمان کی مدد لی جا سکتی ہے۔ میموگیٹ اور ڈان لیکس جیسی چیزوں کی بنیاد پر عوام کی منتخب قیادت کی حب الوطنی پر شک کرنا مناسب نہیں۔ حب الوطنی کوئی محدود تصور نہیں جس کی تشریح صرف ملک کے سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہو۔ قومی مفاد ایک ایسی چیز ہے جسے ملک کی مختلف سیاسی قوتیں مکالمے کی جدلیات کے ذریعے طے کرتی ہیں۔ اسے بزور شمشیر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس ملک میں رہنے والے اٹھارہ کروڑ عوام جس دھرتی کے باسی ہیں اس میں ان کے پرکھوں کی قبریں موجود ہیں۔ ان کا اپنا خون پسینہ اسی مٹی میں پیوست ہوتا ہے۔ ان کے منتخب رہ نماؤں کو سیکیورٹی رسک سمجھنے کی روش ترک کرنا ہو گی۔ نئے آرمی چیف نے وزیراعظم نواز شریف سے پہلی ملاقات میں کیپ پہن کر انھیں سلیوٹ کیا سے میز کے پار رکھی ایک کرسی پر بیٹھ کر بات کی۔ مزید بہتر یہ ہوتا کہ وزیراعظم یک نشستی صوفے اور آرمی چیف سہ نشستی صوفے پر آرام سے بیٹھے ہوتے۔ میز کے پار بیٹھے شخص سے بات چیت مجھے ذاتی طور پر بھی پسند نہیں، اس لیے میں اسے کسی اور کے لیے بھی پسند نہیں کر سکتا۔ تاہم ایسی تصویریں بھی کسی جمہوری ملک کے شایانِ شان نہیں جن میں وزیراعظم اور آرمی چیف ایک ہی طرح کی دو کرسیوں پر ساتھ ساتھ ایسے بیٹھے ہوں جیسے وہ دو سربراہانِ مملکت ہوں۔
جنرل راحیل نے انگلی اٹھانے کے باربار مطالبوں کے باوجود مارشل لاء نہیں لگایا۔ شکریہ راحیل شریف۔ مگر انھیں جنرل شکریے یعنی عمومی شکریے کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا دور جمہوریت کو مضبوط کرنے کے حوالے سے جنرل کیانی سے بھی برا ثابت ہوا۔ یہ ایک ایسی لیگیسی ہے، جس سے گریز ہی میں ہمارے ملک کی بہتری ہے۔ ایسا نہ ہوا تو منیر نیازی کے مشہور مصرع میں یوں ترمیم کرنا پڑے گی:
ع: اک اور جنرل کا سامنا تھا منیر مجھ کو

About سیّد کاشف رضا 23 Articles
سید کاشف رضا شاعر، ادیب اور مترجم ہیں۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے ’محبت کا محلِ وقوع‘ اور ’ممنوع موسموں کی کتاب‘ کے نام سے اشاعتی ادارے ’شہرزاد‘ کے زیرِ اہتمام شائع ہو چکے ہیں۔ نوم چومسکی کے تراجم پر مشتمل ان کی دو کتابیں ’دہشت گردی کی ثقافت ‘ اور ’گیارہ ستمبر‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بلوچستان پر محمد حنیف کی انگریزی کتاب کے اردو ترجمے میں بھی شریک رہے ہیں جو ’غائبستان میں بلوچ‘ کے نام سے شائع ہوا۔ سید کاشف رضا نے شاعری کے علاوہ سفری نان فکشن، مضامین اور کالم بھی تحریر کیے ہیں۔ ان کے سفری نان فکشن کا مجموعہ ’دیدم استنبول ‘ کے نام سے زیرِ ترتیب ہے۔وہ بورخیس کی کہانیوں اور میلان کنڈیرا کے ناول ’دی جوک‘ کے ترجمے پر بھی کام کر رہے ہیں۔