عامر ذکی : تو اتنی جلدی کیوں روٹھا

عامر ذکی

عامر ذکی : تو اتنی جلدی کیوں روٹھا

(آعمش حسن عسکری)

فنکاروں کی بھی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ کچھ فنکار ایک دم سے افق پر نمودار ہوتے ہیں، چھاجاتے ہیں لیکن بامِ شہرت پرزیادہ دیر قیام نہیں کر پاتے۔ کچھ فنکار ایسے ہیں کہ جن کو شہرت دیر سے ملتی اور دیر تک ان کے ساتھ رہتی ہے۔ لیکن فنکاروں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو شہرت کی پروا کیے بغیر اپنے کام میں مگن رہتے ہیں۔ اپنے دل کی آواز سنتے چلے جاتے ہیں اور ساتھ ہی مقام و مرتبہ بھی سمیٹتے جاتے ہیں؛ اور ہر زمانے میں مقبولیت پاتے ہیں۔ عامر ذکی کا تعلق اسی قسم سے تھا۔

اگرچہ وہ گزشتہ چند سالوں سے موسیقی کے افق پر اتنے سرگرم نہیں تھے لیکن اپنے پرستاروں کے دلوں میں ہمیشہ ان کا ایک مقام رہا ہے۔ عامر ذکی کی کہانی پاکستان کے پاپ میوزک کی کہانی ہے۔

عامرزکی نے اپنے فنی سفر کا آغاز اس وقت کیا جب پاکستان کے پاپ میوزک منظر نامے میں عالمگیر، محمد علی شہکی، زوہیب حسن،  نازیہ حسن اور جنید جمشید اپنا مقام بنا چکے تھے۔ ایسے میں اپنی ایک الگ پہچان بنانا ذکی ہی کا کمال تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ایک بنیاد پرست آمریت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور فنون کے لیے بالعموم اور جدید موسیقی کے لیے بالعموم نئے امکانات کے دروازے کُھل رہے تھے۔ تب تک شہری اپر مڈل کلاس کی ایک خاصی تعداد پاپ، جیز اور الیکٹرانک موسیقی کی طرف راغب ہو چکی تھی۔ انھی حالات میں ذکی نے شہرِ کراچی کے ریستورانوں میں گانا اور بجانا شروع کیا۔

ذکی کے فنی سفر میں تبدیلی اس وقت آئی جب ان کی ملاقات اس وقت کے پاپ آئیکون عالمگیر سے ہوئی۔ عالمگیر نے ذکی کے فن کو نہ صرف سراہا بلکہ اپنے ساتھ بھارت، دبئی، انگلینڈ اور امریکہ میں ہونے والے کانسرٹس میں بھی لے گئے۔

عامر ذکی : تو اتنی جلدی کیوں روٹھا
عالمگیر

عالمگیر اور ذکی کی یہ شراکت “البیلا راہی” پر منتج ہوئی جس کی ابتدائیہ گیٹار ذکی نے بجائی۔ اور یہ ذکی کی گیٹار ہی کا یہ کمال تھا کہ یہ گیت آج بھی نیا لگتا ہے۔ تب تک ذکی اپنے آپ کو ایک گیٹارسٹ کےطور ہر پہچانوا چکے تھے۔

لیکن عامر ذکی ایک سچے فنکار تھے اور سچا فن کار کبھی اپنے کام سے مطمئن نہیں ہوتا۔ اسی کشمکش نے عامر ذکی کو آگے بڑھنے پر مجبور کیا اور سنہ ترانوے میں ذکی گیٹارسٹ کی حیثیت سے اس وقت کے مشہور ترین میوزیکل بینڈ وائٹل سائنز کا حصہ بنے۔ لیکن تھوڑے ہی عرصہ میں وائٹل سائنز سے بھی علیحدہ ہوگئے؛ لگتا تھا کہ جیسے ان کی انفرادیت پسند طبیعت ان سے کچھ بڑا کام کروانا چاہ رہی تھی۔

عامر ذکی کی وائٹل سائنز سے علیحدگی پاکستانی پاپ موسیقی کے لیے ایک حسین حادثہ ثابت ہوئی۔ کیونکہ اسی دوران ذکی نے ایک الگ البم ریلیز کیا جس کا تعارفی گیت نوے کی دہائی کے ہر سامع کے لبوں پر تھا اور اب تک ہے۔ جی ہاں…”میرا پیار تم ہی تو ہو”

یہی گیت عامر ذکی کی وجہِ شہرت بنا اور آج تک انھیں اسی گیت سے یاد کیا جاتا ہے۔

عامر ذکی نے ایک غیر روایتی طرزِ زندگی اپنایا۔ اگرچہ یہ غیر روایتی طور اطوار ان کے پیشے سے مطابقت بھی رکھتے تھے، لیکن وہ اکثر اپنے کام اور ساتھی فنکاروں کی اوسط درجیت سے بیزار رہے۔ بائیس سال کی عمر میں شادی کی جو دو سال کے بعد علیحدگی پر ختم ہوئی۔
“میرا پیار تم ہی ہو” کے بعد اگرچہ انھوں نے کوئی سولو البم نہیں دیا لیکن نہ صرف پاکستان میں بلکہ پاکستان سے باہر بھی موسیقی سے بدستور وابستہ رہے۔ وہ کافی عرصہ امریکہ میں مقیم رہے اور وہاں کئی موسیقاروں سے اشتراک کا ارادہ رکھتے تھے۔

پاپ، جیز اور بلیوز موسیقی کی وہ اصناف ہیں جن پر ذکی کی گرفت خاصی مضبوط رہی۔ یہاں تک بعد میں آنے والے گلوکاروں کی ایک فہرست مرتب کی جا سکتی ہے جو ذکی سے متاثر ہو کر اس جانب مائل ہوئے۔ ان میں حدیقہ کیانی اور نجم شیراز کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

سنہ ۲۰۱۴ میں عامر ذکی نے کوک سٹوڈیو کی ایک قسط میں خاص انٹری دی۔ جس میں انھوں نے زوہیب حسن کے شہرہ آفاق گیت “ذرا چہرہ تو دکھاؤ” پر گیٹار پر سنگت کی۔ عامر ذکی بھلے ہی آج کی نسل میں مقبول نہ ہوں لیکن نوے کی دہائی کے شائقین کے لیے ان کا نام خاصا اہمیت کا حامل ہے۔

کل شام افطار کے وقت ان موت کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے پھیل گئی؛ کئی معاصر اور غیر معاصر فن کاروں نے اپنے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جذبات بھرے تعزیتی پیغام نشر کیے، جو اس بات کاثبوت ہیں کہ عامر ذکی کے جانے سے پاکستان کی پاپ موسیقی کا ایک اہم باب بند ہو گیا ہے۔