فروٹ بائیکاٹ مہم : اے دوست، مجھے اپنے بھرم کو کسی مہم کا نام سونپ لینے دو

لکھاری کی تصویر
یاسر چٹھہ

فروٹ بائیکاٹ مہم : اے دوست، مجھے اپنے بھرم کو کسی مہم کا نام سونپ لینے دو

(یاسر چٹھہ)

ہرسماجی عمل اخلاقی سوالوں کے کسی نا کسی گرداب میں ضرور ہوتا ہے۔ بہت کم اعمال و افعال ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے فیصلوں کے لباس کے کونے کو نا پکڑ رہے ہوں۔ بہت کم معاملات آسان انتخاب کی عیاشی فراہم کرتے ہیں۔ انہیں مبارک ہو جو زندگی کو اور اس سے منسلک معاملات کو سیاہ و سفید کے دو آسان رنگوں میں دیکھتے ہیں۔ ہم سے یہ نہیں ہو پاتا۔

فروٹ بائیکاٹ مہم کا معاملہ بھی اس سماجی و اخلاقی سوالوں کے نظام کا ایک  ایسا ہی حصہ کہا جا سکتا ہے۔ یقینا فروٹ بائیکاٹ کے معاملے سے متعلق ایک اخلاقی سوال ضرور وابستہ ہے کہ ریڑھی بان غریب ہیں، ان کا پھلوں کی بے شرمی سے بڑھی قیمتوں میں کوئی خاص کردار نہیں۔ لیکن یہ بھی تو دیکھنا ہوگا کہ ہماری معیشت میں کتنے ریڑھی بان ہیں؟ کیا محض ان کی فکر کسی صارف کو اپنے حق ترک خریداری  سے باز رکھنے کا مطلق جواز ہے؟  کیا دوسرے مزدور کے بارے میں کسی نے سوچا کہ اس کو کب سے پھل خریدنا دشوار ہو چکا؟ کیا ہم اس لئے با جماعت مرنا شروع ہو جائیں کہ گورکن اور کفن کا ساہوکار بے روزگار ہو چلا ہے؟ یقینا کسی بشر دوست اور حساس انسان کے لئے، کسی آنے والے کلاسیک فکشن کے لئے یہ بہت عمدہ موضوع و خیال ہوسکتا ہے۔ وہ چار دنوں میں مہان افسانہ نگار، بھگوان ناول نگار اور منعم ڈرامہ نگار بن سکتا ہے؟ لیکن مکرر کہیں گے کہ پھر سے دیکھ لیجئے کتنے لوگ گورکن ہیں، کتنے کفن کے تاجر ہیں؟ ہم مرنے کا حساب کرنا شروع کر لیں گے۔

اگر اپنے ذاتی بھرموں کو لفظوں میں ڈھالنے سے معاشرتی سفید پوشی کا لبادہ متاثر نا ہوتا تو تجزیہ میں کچھ گہرائی آسکتی تھی۔ لیکن کیا کریں؟ گھبراہٹ ہوتی ہے۔ تھوڑا درمیان درمیان والا کام کرتے ہیں۔

مجھے ذاتی طور پر رمضان کے ثواب اور بخشش کی حسابیات و شماریات کو نظروں کے کیلکولیٹروں کے سامنے رکھنے کے باوجود بھی رمضان سے بہت خوف آتا ہے۔ میرے کمزور ایمان کو دوش دے لیجئے؛ اس خوف کو میری منافقت کے گلے میں ہار بنا کر ڈال دیجئے۔ مجھے خوف آتا ہے کہ مجھ جیسے پھلوں کے متعلق مثبت جھکاؤ رکھنے والے، انہیں پسند کرنے والے کو یہ مہینہ پیغام دیتا ہے ک بھائی صاحب، ہاتھ کھینچ لو۔ اب تمہارے لئے یہ شجر ممنوعہ کا پھل ہے۔ کبھی تو احساس ہوتا ہے کہ اماں حوا کم از کم شجر ممنوعہ کا پھل کو کھانے میں آزاد تو تھیں۔ ہم پر تو اس ماہ مقدس اور نیکیوں کے لوٹ سیل والے مہینے میں بھی اس جنت نما مارکیٹ اکانومی سے سزا لینے کا موقع مشکل سے ملتا ہے۔ سال کے پورے بارہ قمری مہینوں میں سے اس مہینے ہمارے گھر میں سب سے کم پھل آتا ہے۔ سادہ سے حساب سے بتاؤں تو ان با مرادوں کی خریداری ایک چوتھائی سے بھی کم کردیتے ہیں۔

فروٹ بائیکاٹ مہم
ڈان ڈاٹ کام، جون 3

میں بطور صارف کل سے طنز کر رہا تھا۔ مختلف فیس بک سٹیٹس ڈال کر اس بائیکاٹ کے مشکل سوال کو ٹال رہا تھا۔ لیکن کچھ شور سا تھا۔ لگتا تھا کہ کسی اور، اپنی ذات سے باہر بیٹھے آدمی پر طنز کر رہا ہوں؛ لیکن آنکھیں بند کرلینے پر، اپنے احساسات کو خاموش کرنے کی کوشس کے باوجود بھی وہ طنز میرے اپنے آپ پر بھی برابر لگتی محسوس ہوتی تھی۔ کہہ لینے دیجئے کہ وہ طنز تہہ در تہہ میرے اور مجھ جیسوں کے حالات پر ایک سیاہ قہقہہ تھا۔

رمضان آنے لگتا ہے۔ مولانا صاحب کہتے ہیں، مومنو خوش ہو جاؤ، شیطان رجیم قید ہونے لگا ہے؛ یہ سنتے ہی، البتہ اندر کا رند سہم جاتا ہے کہ پہلے تو اپنے گناہوں کو اس شیطان کے کھاتے ڈال کر ضمیر کی خلش سے آسانی سے آزادی مل جاتی تھی؛ یہ انسان معصوم کا معصوم رہ جاتا تھا۔ اس مہینے تو وہ بھرم میں ٹوٹنے لگتا ہے۔ سوال یہ بھی سر اٹھائے کھڑا رہتا ہے کہ شیطان کے ایک مہینے کے لئے زندان میں ڈل جانے پر بھی یہ کون ہے جو بہت آزاد ہے؟ یا اسے جمع کے صیغے میں ڈال کر کہہ لیجئے، یہ کون ہیں جو بہت ہی آزاد ہو جاتے ہیں؟ یہ کون ہیں جو ہم ایسوں کو مجبور کردیتے ہیں، پھلوں کے خریدنے کو دسترس سے باہر کر دیتے ہیں۔

ایک آواز آ رہی ہے کہ یہ اسی قبیل میں سے ہیں جو اسلام آباد کے کسی سیکٹر، کسی محلے میں پانی کی فراہمی کا مسئلہ زیادہ شدت سے درپیش ہونے پر پانی کا ٹینکر 1200 روپے سے بڑھا کر 4500 روپے کا کر دیتے ہیں؛ جو عید پر بین الاضلاعی ویگن کے 80 روپے کرایہ کو بڑھا کر 250 روپے کر دیتے ہیں؛ یہ وہی ہیں جو اوجھڑی خورد جیسا سانحہ ہوجانے پر عورتوں کے زیور لوٹنے کے لئے ان کے بازو کاٹ لیتے ہیں؛ یہ وہی ہیں جو ہوائی جہاز گر جانے پر موبائل فونوں اور زیورات کو اکٹھا کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ انسانی اعضاء کو درندے نوچ رہے ہوتے ہیں۔

فروٹ بائیکاٹ ایک چھوٹا سا احتجاج ہے کہ ہمیں بطور صارف بھی اختیار ہے کہ ہم ہاتھ اور منھ روک لیں؛ ہمارے جیسوں کا بھرم اس بائیکاٹ میں رہ جاتا ہے؛ خدا کرے کہ عید قربان کے آس پاس بھی کسی ایسے بھرم کا وسیلہ ہوجائے کہ قربانی کے جانوروں کا وزن اور حجم دیکھ کر ہمارے جیسوں کے ایمان کی کمیت و وزن پرکھنے اور پروفائلنگ کرنے والوں کے سامنے کسی سیاسی و سماجی مہم میں شرکت کا حوالہ ہو۔

اس بائیکاٹ مہم سے کیا حاصل ہوگا، نہیں پتا، لیکن ایک بات حوصلہ افزاء معلوم ہوتی ہے کہ پاکستانی صارف جن کی کوئی خاص قابل ذکر اور موثر انجمن نہیں جبکہ ہر چھوٹے موٹے تاجر کی انجمن تاجران اور فلاں فلاں انجمن موجود ہے، صارفین کی آواز کو بھی کوئی چینل اور ذریعہ ملنے کی توقع ہے۔ صارفین کو اس حق انتخاب کے استرداد کا پورا حق میسر ہے۔

ایک عرض ان کے نام جو بائیکاٹ سے اختلاف رکھتے ہیں

ست بسم اللہ اختلاف کیجئے، چند چھوٹے ریڑھی بانوں کا نقصان ہوتا ہے۔ آپ کی اس فکر کا یہ زاویہ ہمیں بھی عزیز ہے۔ پر ساتھ ہی کچھ یاد بھی آنے لگتا ہے؛ ذرا عرض کرنے دیجئے کہ جب کچھ گنہگار ملک عزیز میں دفاعی بجٹ کے حساب کتاب کی بات کرتے ہیں تو ہمارے سامنے غریب چھوٹے سپاہی کا منھ اور قربانی کر دی جاتی ہے، احساس گناہ بڑھایا جاتا ہے کہ کیسی بات کر رہے ہو، شہیدوں کو طعنے دے رہے ہو؛ مذہبی اجارہ داروں کے سامنے کچھ عرض کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں تو پورے کا پورا مذہب ریڈ الرٹ میں ڈلتا دکھایا جانے لگتا ہے۔ پتا نہیں کون کون سی توہینوں کے ہتھیار نکال لئے جاتے ہیں۔ کیا اب حسابوں کتابوں اور منافع کی کسی با حیا حد سے بالا تر پھل بیچنے کی منڈی کی کڑیوں پر کوئی روک ٹوک کرنے لگیں،  تو پھر کوئی جدید نعرہ، کوئی نیا معصوم خیال ہمیں چپ کرانے کے لئے ہی تو نہیں ہے؟

About یاسرچٹھہ 212 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔