کچی مٹی تو ہر جگہ کی ہی مہکتی ہے! انسان را، انسان را، انسان را… ۔

Y2R Yasser Chattha

کچی مٹی تو ہر جگہ کی ہی مہکتی ہے! انسان را، انسان را، انسان را… ۔

از، یاسر چٹھہ

جانے وہ وقت کب آئے گا جب اسلام آباد کی مَٹی کو اپنی مٹی کہہ سکیں گے۔

گھر؟؟؟ سے باہر، سامنے کھلی جگہ پر، سورج کے نیچے، کچی مٹی کی چھاتی پر فریدون نے ایک گلاس پانی گرایا۔

کچی مٹی تھی، مہک اُٹھی۔ تازہ مہکار کی سُوندھی خوش بُو ناک کے رستے دماغ میں پہنچی۔ دل اب کام سے گیا ہے۔ یا ہم نے تھک کر رخصت پر بھیج دیا ہے۔

سیاسی، جمالیاتی اور معاشی خودیاں selves ایک دوسرے سے دست اندازی، یا پھر شاید، لبِ مکالمہ ہو گئے۔ عین اس لمحے آ جانے والا ایک خیال، نیم مٹیالے مجازی صفحے پر منتقل کر دیا۔

اسے بھول جا، اسے بھول جا، اسے بھول جا (کہیں دور گہرائی سے آتی آواز، شاید گونج بھی رہی ہے)، جس کا تصدیقی میسیج، بہ ہر حال، ابھی موصول نہیں ہوا۔


مزید دیکھیے:  انسان نے دوزخ کس شوق میں اوڑھ لی  از، ذوالفقار علی

جمہوریت میں اک امید و آس تو ہے نا  از، نصیر احمد


کچھ لمحے گزر جاتے ہیں۔ لمحے کب ٹھہرتے ہیں۔ کیسی تردید بیانی اور تضاد گوئی کا مہلک مرض پال رہا ہوں۔

تو جیسا کہ کہا، دوسرے لمحوں میں زمین کی چھاتی پر تنہا سورج جیسے ہاتھ لپکا کر اور چہرہ کچھ نیچے کر کے بولا:

“میں اس جیسی کئی زمینوں کا نظر باز ہوں۔ مجھ سے کیا چُھپا ہے۔ مجھ سے سن لو، اور ذہن میں بٹھا لو۔ یہ زمین کسی کی نہیں ہوتی۔

” کیا دیکھتے نہیں ہو۔ یہ میری ہی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے؛ جب تم کھڑے ہوتے ہو، یا بیٹھتے ہو، میں سب کا سایہ زمین پر بناتا ہوں۔ کیا تمہارا سایہ نہیں بنتا؟ یا کہ تم دیکھتے ہی نہیں ہو!

” تم اپنے ایک لمحے کے لیے، اپنے کئی لمحوں کے سودے کر لینے کے عارضے میں ہو۔ لیکن تمہیں احساس نہیں۔ اپنے زیادہ لمحے چھیننے کے لیے، اپنے تھوڑے لمحوں کو قربان کر دینے کے علم، اور ان علموں پر عمل کرنے کی جرات کو اپنے اندر سے کشید کرو۔ اور لگا دو نعرۂِ مستانہ۔

“دیکھو، میں پرانا خدا نہیں ہوں۔ میں نیا خدا ہوں۔ جو ملکیتِ سایہ بھی دیتا ہے تو میری جانب پُشت کرنے والے کو۔ تم پرانے خداؤں کے ذوقِ پرور دگاری سے باہر جھانکو۔ وہ سپردگی مانگتے ہیں۔ میں آزادی دیتا ہوں۔ مجھے سجدہ مت کرو۔ میں تمہیں اپنی آغوش میں لے لوں گا۔ تمہیں سایے کی ملکیت دیتا ہوں، دیتا رہوں گا۔ انسان را! مجھے پرانے خداؤں کی شبیہ پر مت دیکھنا۔ اب بڑے ہو جاؤ۔ فلک نے برسوں محنت کی ہے۔ رائیگاں نا جانے دینا۔ انسان را، انسان را، انسان را…. ۔

“چلو، واپس گھومو۔ اس مٹی کی خوش بُو لو، اگر تو تم انسانوں اور تمہاری مشینوں کے آہنی ہاتھوں، شکنجوں اور زیادہ کی حِرص سے پامالی کے بعد بھی کچھ خوش بُو بچی ہے۔

“تم اسی مَٹی سے ہی ہو، اور اسی مٹی میں جانا ہے۔

“میں تمہارے اوپر ہوں۔ گو کہ نصب ہوں پر نظر رکھتا ہوں۔

“میرے جیسا ظرف مانگو کہ سب کو دیتا ہوں اور پھر بھی کم نہیں ہوتا ہوں۔ میں بخیل نہیں ہوں، اس لیے میرے خزانے بھرے رہتے ہیں۔

” اور جان رکھو، بارش اور بادل عارضی وقفے ہیں۔ یہ میرے دستِ بے پایاں کو محدود نہیں کر سکتے۔ پس، آس نا چھوڑو، سب تمہارا ہے۔ یہ زمین تمہاری ہے، اور تم اس زمین کے ہو۔ میری گواہی کی قسم، سب تمہارا ہے۔”

About یاسرچٹھہ 124 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔