سکول سے بھاگتے بچے! یہ کس کی سستی اور نا کامی ہے؟

Yasser Chattha

سکول سے بھاگتے بچے! یہ کس کی سستی اور نا کامی ہے؟

از، یاسر چٹھہ 

سکول سے، جزوی طور پر، یا کسی خاص مضمون کی کلاس سے، بھاگنا ایک تعلیمی معیار، educational quality، سے متعلق اہم مسئلہ ہے۔ لیکن اس کو بڑی عمر والے، اپنی گزری عمر کے ناستلجیا میں رومانوی رنگ دے کر دیکھتے ہیں۔ دیکھنے والوں کو تو حق کہ جیسا مرضی دیکھیں، پر ساتھ ہی اس معاملے کو تھوڑا اگلے، complicated، درجے پر جا کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

بے محابہ سادگی، oversimplification، کسی سماجی، معاشرتی اور تہذیبی مظہر سے، social, societal and civilisational phenomenon، اس کی تصویر میں موجود کئی رنگ پھیکے ڈال دیتی ہے۔ سوچنے کے اس روَیّے سے سطحیت کی مدد و استعانت ہوتی ہے۔ حقائق و مظہریات کو صرف سیاہ و سفید، only in black and white میں دیکھنے کی فکری  brinkmanship کو رواج ملتا جاتا ہے۔

 اس مظہر کو، میں ان مختلف اجزائے حقیقت، یا پہلوؤں کی کُل، یا اس کے چند عوامل کو ملا جلا کر دیکھتا ہوں:

  1. یہ بہت منفرد توانائی والے بچے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے سکول، ان کی توانائی اور دل چسپی کے مطابق، یا ان کے قریب قریب کی دل چسپیوں کے موافق سر گرمیاں پیدا کرنے سے قاصر رہتا ہے۔
  2. یہ وہ بچے ہو سکتے ہیں جن کے اندر adventure، کرنے کی خواہش نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔
  3. یہ وہ بچے ہو سکتے ہیں، جن کو گھر سے، بَہ وجُوہ، وہ فکری اور حوصلہ افزا ستائش اور مدد میسر نہیں، جس کی کسی بھی بچے کو ایک مکمل معاشرتی فرد، socialised human being، بننے کے لیے اشد ضرورت ہوتی ہے۔
  4. یہ ایسے بچے ہو سکتے ہیں جن کا اپنی عمر سے پہلے بچپنا چِھن گیا ہو۔ جو یہ سمجھنے لگ گئے ہوں کہ تعلیم کا حصول ان کی زندگی میں مَثبت امکانات پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ یہ تعلیمی نصاب کی life orientation کا بھی سوال ہو سکتا ہے، اور اس کی عمومی efficacy کا معاملہ بھی ہو سکتا ہے۔
  5. یہ وہ بچے ہو سکتے ہیں جنہیں پڑھانے والوں کے انداز، اور ان کی توجُّہ کو اپنی جانب مبذُول رکھنے والی تدریسی پیش کاری، presentation، میسر نہیں ہوتی۔ نتیجتاً، مختلف، range and spectrum کے ایک نوع کے انتشارِ ذہنی کا شکار ہو جاتے

ہیں۔ اس انتشارِ ذہنی کو کسی ترتیبِ نو، ربط میں اپنے طور پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Photo via Uzair Salar wall, at Facebook
  1. تعلیم انسانی شخصیت کی تعمیر کی (تعلیمِ عامہ، mass education کی صورت میں کسی بھی ریاست و معاشرت کی فکری و سیاسی بنیادوں کی صورت، template، پر ڈھلائی اور موڑائی کا ایک اہم مقام و محل، social engineering site/locale) سَمت میں ایک جامع سماجی و ثقافتی سر گرمی کے مجموعے اور نظام کا نام ہوتا ہے۔ اس تسلسل و نظام میں گھر، سکول، برادری، سول سوسائٹی، عمومی معاشرتی گروہ اور سماجی فرقے، اور دیگر چھوٹے درجے کے cliques وغیرہ، سب باہم مل کر، اور مختلف جِہتوں، زاویوں اور تناسب سے کام سر انجام دیتے ہیں۔

جو، جب، اور جہاں کہیں اس تخلیقی تسلسل کا ناتہ ٹوٹا، تو آپ کے معاشرے نے اپنی پاؤں پر کلہاڑی چلا لی، اور اپنے مستقبل پر سرمایہ کاری سے پہلو تہی کا ایک اور پتھر اپنی آنکھ پر مار لیا۔ اب اس تمثیل، analogy، میں ہی ایک اور کام کرنے کا ہے۔ وہ کام یہ ہے کہ آیا ہم نے تعلیم کے مسئلے پر کھڑے ہونا، گرنا ہے، دیکھنا ہے، یا خود اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کو پگھل کر زمین پر گرنے دینا ہے۔ یاد رہے تو بھلا ہی ہے کہ ہر بار کسی Oedipus کے اپنی آنکھوں کو نوچ ڈالنے سے شہر و معاشرت اور ریاست پر آئی بَلائیں نہیں ٹَلتیں۔

پسِ نوشت

اس تحریر کا سکوپ سکول سے ڈراپ آؤٹ ہوئے، اور سکول سے باہر رہ گئے بچوں، out of school children کو زیرِ نظر نہیں، beyond its scope، رکھا رہا۔

About یاسرچٹھہ 167 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔