ماہ رمضان میں اللہ کے نام پر مارشل لا اور پکوڑوں والے کا اجتہاد

سلمان حیدر
سلمان حیدر

ماہ رمضان میں اللہ کے نام پر مارشل لا اور پکوڑوں والے کا اجتہاد 

غرض ایک روح پرور نظارہ دیکھنے کو ملتا تھا جس میں ماہ رمضان میں بھوک سے بے حال نوجوانانِ ملتِ مرحوم حصولِ علم کی مشقت سے تنگ آ کر احترامِ رمضان میں ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہے ہوتے تھے۔ یونی ورسٹی شہر سے بارہ پتھر باہر تھی سو کہیں جا کر کچھ کھا لینا غیر شرعی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر ممکن بھی تھا۔ یوں سمجھ لیجیے اللہ میاں کے نام پر مارشل لاء ضیاء کے بعد اگر کسی نے لگایا تھا تو وہ ہمارے وقتوں کی یونی ورسٹی انتظامیہ تھی۔

از، سلمان حیدر

قائد اعظم یونی ورسٹی سے نکلے دس یا شاید گیارہ سال ہو گئے، اب نجانے کیا صورت ہو گی لیکن جن دنوں ہم وہاں تھے یونی ورسٹی میں رمضان کا بھر پُور اہتمام ہوتا تھا۔ کھانے پینے کے تمام ٹھکانے دن بھر بند رہتے تھے۔ کینٹین کے کھانوں پر بھنبھنانے والی مکھیوں کو خالی میز کرسیوں پر بھنبھنانا پڑتا تھا۔ ہاسٹل کے میس سے کھانا کھا کر بد ہضمی کروانے اور روزہ نہ رکھنے کا عُذرِ شرعی مہیا کرنے کی سہولت بھی صرف بعد اَز نمازِ مغرب فراہم کی جاتی تھی۔

غرض ایک روح پرور نظارہ دیکھنے کو ملتا تھا جس میں بھوک سے بے حال نوجوانانِ ملتِ مرحوم حصولِ علم کی مشقت سے تنگ آ کر احترامِ رمضان میں ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہے ہوتے تھے۔ یونی ورسٹی شہر سے بارہ پتھر باہر تھی سو کہیں جا کر کچھ کھا لینا غیر شرعی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر ممکن بھی تھا۔ یوں سمجھ لیجیے اللہ میاں کے نام پر مارشل لاء ضیاء کے بعد اگر کسی نے لگایا تھا تو وہ ہمارے وقتوں کی یونی ورسٹی انتظامیہ تھی۔

لے دے کر تازہ پھلوں کے جوس کی ایک دکان تھی وہ بھی رمضان کے احترام میں پھلوں کا رس خریدنے والوں کی جیبیں نچوڑنے کا کام صبح سے نمازِ عصر کے وقت تک معطل رکھتی تھی اور صرف پھل بیچا کرتی تھی۔

مزید احتیاط یہ تھی کہ پھل کاٹ کر فراہم کرنا بھی معطل ہو جاتا تھا اور سالم پھل فروخت کیے جاتے تھے۔ یہ سالم پھل اور ایک جنرل سٹور پر دست یاب چند بد ذائقہ سینڈوچ روزہ خوروں کو دست یاب تھے لیکن روزہ خوروں کی تعداد اس قدر تھی کہ سینڈوچ کی ایسی کئی دکانیں اور پھلوں کے چند باغات بھی روزہ بہلانے کو نا کافی ہوتے۔

نتیجہ یہ کہ عام طور پر عصر کے وقت سینڈوچ کی خالی ٹرے دیر سے دکان تک پہنچنے والوں کا مُنھ چڑایا کرتی تھیں اور پھل والا یونی ورسٹی سے ہاسٹل لوٹنے والوں کی واپسی کے وقت کا اندازہ لگا کر مسجد میں گھس جایا کرتا تھا تا کہ پھلوں کی عدم دست یابی پر اس کے درجات بلند کرنے کے خواہش مند حضرات کا غیر موجود روزہ خراب نہ ہو۔


مزید دیکھیے:

جنگ نامہ battle of the vegetables سبزی اور گوگل میپ  از، یاسر چٹھہ

نئے اسلام آباد ایئرپورٹ کا اسم گرامی رکھنے پر جھگڑا  از، یاسر چٹھہ

گو گیٹ اَیم، M.b.Q گو از، سلمان حیدر


خوراک کے اس اندوہ ناک بحران میں یونی ورسٹی کے نزدیک ایک ہوٹل والے نے عجب اجتہادی راستہ نکالا تھا کہ جسے دیکھ کر قرونِ اولیٰ کے مسلمان یاد آ جایا کرتے تھے۔

طریقہ اس مجتہدِ عصر، بل کہ مجتہد ظہر کا یہ تھا کہ وہ شام ساڑھے سات بجے ہونے والی افطاری کے لیے ظہر سے بھی پہلے کڑھائی چڑھا دیا کرتا تھا اور پکوڑے تلنے شروع کر دیتا تھا۔ مزید اہتمام یہ تھا کہ پکوڑے تلنے اور تولنے کا سامان تو سڑک کنارے ایک چھدرے سے درخت کے سائے میں کیا گیا تھا لیکن ان پکوڑوں کی قیمت دینے دس پندرہ قدم دور ایک دکان کے کاؤنٹر پر جانا پڑتا تھا جہاں خریدار کو پیسے پکڑتے ہوئے بتایا جاتا تھا کہ محدود تعداد میں روٹی بھی دست یاب ہے اگر کوئی خریدنا چاہے تو۔

اگر خریدنے والا حیرت سے پوچھے روٹی تو اسے بتایا جاتا تھا کہ سحری میں کچھ بچ گئی تھی میں نے سوچا آپ سے پوچھ لوں۔ خریدار اگر خریدار ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھ دار بھی ہو تو وہ عام طور پر ایسے اینڈے بینڈے سوال نہیں کیا کرتا تھا اور پائین دو دے دیو کہہ کر پکوڑوں کی قیمت کے ساتھ روٹی کا نذرانہ بھی پیش کر دیا کرتا تھا۔

نتیجہ اس اجتہاد کا یہ تھا اگر آپ ظہر سے عصر کے درمیان ہاسٹل کے دروازے پر کھڑے ہوں تو فوج در فوج مسلمان پکوڑوں کی تھیلیاں ایک ہاتھ میں اٹھائے دوسرے ہاتھ سے ان میں چٹنی کے پیکٹ ٹٹولتے جوق در جوق ہاسٹل کی طرف آتے دکھائی دیتے تھے۔

شام سات بجے کھلنے والے روزے کے لیے دوپہر بارہ بجے پکوڑے تلنے کی ترکیب جس دماغ میں آ سکتی ہے اگر وہ آج سے گیارہ بارہ سو سال پہلے پیدا ہونے والی کسی کھوپڑی میں ہوتا تو میرا خیال ہے اپنے وقت کا فقیہ قرار پاتا۔

اب صرف گیارہ سو سال لیٹ ہو جانے کی وجہ سے وہ پکوڑے بیچ رہا ہے تو اس سے آپ مسلمانوں میں اہلِ علم کی نا قدری کا اندازہ لگا سکتے ہیں اگر چِہ ہمارے کم زور ایمان والے دوستوں کا خیال ہے کہ جو گیارہ سو سال پہلے فقیہ تھے ان میں سےزیادہ تر آج ہوتے تو پکوڑے ہی بیچ رہے ہوتے۔ خیر کم زور ایمان والوں کی باتوں کا کیا کرنا بارہ بجے کے تلے پکوڑے سات بجے کھانے کے لیے معدہ مضبوط چاہیے ایمان تو پلاسٹک کا بھی مل جاتا ہے۔

About سلمان حیدر 9 Articles
سلمان حیدرفاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں؛ با معنی اور جرات اظہار سے تابندہ شاعری کرتے ہیں؛ سماجی اورتنقیدی شعور سے بہرہ ور روشن خیال اور ترقی پسند آدرشوں کے حامل انسان ہیں۔ اس سے پہلے ڈان اردو کے لئے بلاگز لکھتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تنقید ڈاٹ آرگ کے اردو سیکشن کے مدیر ہیں- "تھیئٹر والے' کے نام سے ایک سنجیدہ تھیئٹر گروپ کا اہم حصہ ہیں۔ اعلی درجے کی سماجی و سیاسی طنز ان کی تخصیص ہے۔