پولیٹکل مشینز کیا ہیں اور ہماری جماعتوں کا ان سے کیا تعلق ہے؟

Asad Lashari
اسد لاشاری

پولیٹکل مشینز کیا ہیں اور ہماری جماعتوں کا ان سے کیا تعلق ہے؟

از، اسد لاشاری

وطن عزیز پچھلے ستر سالوں سے نازک صورت حال سے گزر رہا تھا لیکن اب نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔سترسالوں سے ناکامیوں کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دشنام طرازی سیاستدانوں کا وطیرہ بن چکی ہے۔۔میرا مقصد اس نازک صورتحال پر تبصرہ کرنا ہر گز نہیں ،میں صرف پاکستانی سیاست کو امریکی پولیٹکل مشینری کےتناظر میں بیان کر نا چاہتا ہوں اور یہ بتانے کی کوشش کروں گا کہ پولیٹکل مشینز کیا ہیں اور ہماری جماعتوں کا ان سے کیا تعلق ہے؟

انیسویں اور بیسویں صدی کے نصف  تک امریکا میں پولیٹکل مشینز کا کرپٹ نظام رائج تھا۔ عموماً سیاسی مشینز کی اصطلاح تمانی ہال سے وابستہ بدعنوان سیاستدانوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ یہ ایک ایسی نیم سیاسی تنظیم تھی جو شہر کے بدعنوانوں کی سربراہی میں چلا کرتی تھی۔ بڑے بدعنوان کے ماتحت وارڈ انچارج، سیکٹر انچارج اور کاؤنٹی سطح کے عہدیداران کام کیا کرتے تھے۔ ان کا مقصد اور ایجنڈہ صرف اقتدار اور پیسہ حاصل کرنا ہوتا تھا۔

پولیٹیکل مشینز سیاسی جماعتوں اور کاروباری شخصیات کا بھرپور تعاون حاصل ہوتا تھا۔ 1890 سےلے کر 1950 کے دور ان کے عروج کا زمانہ تھا۔ کیوں کہ ان دنوں امریکا میں غربت، مفلسی، بے روزگاری، کالے گورے کی تفریق، مہاجرین کا مسئلہ اور رواداری کا فقدان تھا، جبکہ نسل پرستی بھی اپنے عروج پر تھی۔ نا اہل سیاستدانوں کادور دورہ تھا۔

پولیٹکل مشینز کے عہدیداران، وارڈ انچارج، سیکٹر انچارج، شہر کے صدور اپنے حمایتیوں کی ہر وقت مدد کرنے کو تیار رہا کرتے تھے۔ مثلاً کہیں سڑک بنوانی ہو، نوکری سے نوازنا ہو، ٹھیکہ دلوانا ہو یا کسی کو شاہ رخ جتوئی کی طرح قانونی مشکلات سے بچانا ہو، خواہ کسی بھی قسم کی مدد ہو وہ کرتے تھے لیکن مدد کرنے کے عوض غریبوں اور مہاجرین کو اس بات کا پابند بنایا جاتا تھا کہ جن کی مدد کی گئی ہے وہ پولیٹیکل مشینز کے نامزد  کردہ یا حمایت یافتہ امیدوار کو ہی ووٹ دیں گے، اگرکوئی وعدہ خلافی کرتا یا پھر ان کے نامزد کردہ امید وار کو ووٹ نہیں دیتا تھاتو اس کا بھی بوریا بستر گول کیا جاتا تھا۔

پولیٹیکل مشین کے زوال کے اسباب

60 کی دہائی میں امریکا میں قوانین کو سخت کیا گیا، سول سروسز کا نیا نظام  رائج کیا گیا،عوام کوفوری انصاف کی فراہمی کے لیے عدالتی نظام کو وسیع کر کے نئی عدالتیں قائم کی گئیں۔ اقربا پروری  کی جگہ میرٹ نے لے لی۔ احتسابی عمل کو تیز کیا گیا، اس طرح کی اور بھی کئی اصلاحات کی گئیں، جن کی وجہ سے بدعنوانوں کے لیے امریکا میں زمین تنگ ہو گئی۔ 70 کی دھائی آتے آتے یہ نظام ماضی کا قصہ بن چکا تھا۔ اس کے بعد پولیٹیکل مشینز کا دوسرا گھر بنا پاکستان۔

پاکستانی سیاسی جماعتوں کو یہ سسٹم ایسا بھا گیا  کہ اب تک اس کے سحر میں مبتلا ہیں۔ وطن عزیز میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی کارکردگی، چال چلن کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی پولیٹیکل مشینز سے کتنی مماثلت رکھتی ہیں۔پولیٹیکل مشینزکی طرح پاکستان کی ہر جماعت میں مفاد پرستی، اقربا پروری اور بدعنوانی کے قصے عام ہیں۔ جیسے امریکا میں انیسویں صدی میں اہل افراد کی کوئی قدر نہیں تھی، ویسی ہی صورتحال پاکستان میں آج  ہے۔

میرٹ صرف اشتہارات کی حد تک دکھائی دیتا ہے، باقی ہر جگہ وفاداروں، چاپلوسوں، خوشامدیوں اور جیبیں گرم کرنے والوں کو بھرتی کیا جاتا ہے، چاہے وہ کرکٹ بورڈ، پیمرا اور پی آئی اے ہی کیوں نہ ہوں۔ مفاد پرست خوشامدی اور چاپلوسی کرنے والوں کو بڑے عہدوں اور ٹھیکوں سے نوازا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سندھ  میں اہلیت اور قابلیت کے بجائے اپنی اپنی سیاسی جماعت کے کارکنوں کو عرصہ دراز سے نوازا جا رہا ہے، جبکہ پنجاب میں عوام برسراقتدار جماعت  کے رحم و کرم پر ہیں۔

خیبر پختونخوا میں  عوام نام نہاد “تبدیلی” کو بھگت رہے ہیں۔ جبکہ  بلوچستان میں  نوابوں اور سرداروں نے عام آدمی کے لیے کچھ نہیں سوچا۔ ہر سُو کرپٹ حکمران ہماری سماجی و مذہبی آزادی کو پامال کر رہے ہیں۔ اب کیوں کہ عام انتخابات  قریب آ چکے ہیں،اس لیے پولیٹیکل مشینز کی طر ح سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ ایوانوں سے لے کر سڑکوں تک عوام اور عوامی نمائندوں کی بولیاں لگائی جائیں گی، جبکہ کچھ جماعتوں نے ٹھان لی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے، کسی بھی حال میں اقتدار حاصل کرنا ہے، چاہے اس کے لیے پاکستان میں غیر قانونی طور پرمقیم برمی، بنگالی، بہاریوں اور افغانیوں کو ملک کی شہریت ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ یا پھر کسی کندھے کا سہارا لے کر  کے سازش ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں بطور ایک  مہذب شہری، یہ سوچناچاہیے کہ  آخر  پاکستان میں ایسا کرپٹ نظام طویل عرصے کیوں رائج ہے؟؟۔۔۔ نام نہاد انتخابات اور اصلاحات آخر اس بوسیدہ نظام کے خاتمے کا سبب کیوں نہیں بنتے؟ اس کرپٹ نظام کے تسلسل کی وجہ  کہیں  ہمارے اپنے اندر موجود بدعنوانی  تو نہیں؟ اور ہمیں خود سے یہ بھی سوال کرنا چاہیے کہ ہم نے بطور ذمہ دار شہری اور مجموعی طور مہذب معاشرہ،  کرپٹ عناصر کا راستہ روکنے کے لیے اب تک کون سے عملی اقدامات اٹھائے ہیں؟ حوصلہ پیدا کریں اور بہترمستقبل کی خاطراپنے حال کو بدلنے کی کوشش کریں۔ کیوں کہ ہزار میل کے سفر کا آغاز بھی آخر پہلے قدم سے ہی ہوتا ہے۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*