لسانی تشکیلات اور شاعری میں لسان کی استعاراتی اور معنوی حیثیت

Emran Azfar

لسانی تشکیلات اور شاعری میں لسان کی استعاراتی اور معنوی حیثیت

از، عمران ازفر

نذر محمد راشد کی آزاد نظم نے اپنی شناخت کا مرحلہ طے کیا ہی تھا کہ 60 کی دہائی میں افتخار جالب (1936۔ 2003) نے لسانی تشیکیلات کا علم بلند کیا۔ جیلانی کامران نے اپنی کتاب نئی نظم کے تقاضے کے طفیل اس نئی بحث کو اپنی سطح پر ایک رنگ دینے کی سعئِ خوب کی تو انیس ناگی کی دو کتب شعری لسانیات اور نیا شعری افق اپنے زمانے کے تنقیدی فہم کی ترتیب و تنظیم میں معاونِ خاص ہیں۔

سید سجاد ظہیر کی مُرَتَّبہ انتھالوجی، نئی نظمیں، اور خود افتخار جالب کا مرتب کردہ مجموعۂِ مضامین نئی شاعری اس سلسلے کی فکری صورتِ حال اور فنی جدلیات کی تفہیم کاری کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔  

لسانی تشکیلاتی مباحث کی بنیادی روح ادبی متن، خاص کر، شاعری میں لسان کی استعاراتی اور معنوی حیثیت پر قائم ہے۔ اس حوالے سے بنیادی بحث کا سبب افتخار جالب کی مرتبہ کتاب نئی شاعری ٹھہری۔ جس کے تمام نظری مباحث، تاریخی استدلال اور تخلیقی اکائیوں کو افتخار جالب نے لسانی تشکیلات اور قدیم بنجر میں بیان کیا جو کہ فرہنگ پبلشرز کراچی سے “2001” میں شائع ہوئی اور اکادمی باز یافت نے اس کی تقسیم کاری کے فرائض ادا کیے۔ افتخار جالب خود لکھتے ہیں:

 “لسانی تشکیلات زبان کے تمام ذرائع سے فرداً فرداً تعرض کر کے انہیں آج کل کے سطحی اور اکہرے لسانی تار و پود میں ضم کرنے کا وسیلہ بھی ہیں۔ لسانی تشکیلات کے یہ دونوں وظیفے ذہنی و جذباتی آفاق کی ہم آہنگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ نئی دریافتوں کے سلسلے میں ژرف بینی کی تحصیل میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔”

گویا لسانی تشکیلات اساسی طور پر شعر و ادب کی نیابتِ فکری کرتی ہے جس میں موضوع کو مواد پر ترجیح دی جاتی ہے، بَل کہ، مواد کو اس حالت میں پرکھا/دیکھا جاتا ہے کہ یہ اس نظریے کی مدد سے نئے موضوعات کی تلاش و پیشکش میں کامیاب ہو جائیں۔ یہ تحریک ابہام و معنی کی دوئی کی سخت ناقد ہے اور شاعری میں اس سے احتراز کی ضرورت و اہمیت سے بحث کرتی ہے۔  

“لسانی تشکیلات بحران کو پیدا کرنے والے موضوع اور صیغۂِ اظہار کی دو ٹوک تقسیم کو رد کرتی ہیں کہ لسانی تشکیلات نہ موضوع ہے نہ صیغۂِ اظہار، بَل کہ ان پر حاوی اور ان سے ما ورا وہ کلی صداقت ہیں جن کے حصے بخرے نہیں کیے جا سکتے۔”

دعویٰ کیا گیا کہ لسانی تشکیلات نہ موضوع سے متعلق ہے، اور، نہ ہی محض اسلوب یا اظہاری تکنیک سے متعلق، بَل کہ، یہ تحریک ان دونوں پر حاوی ہے اور اس کو الگ ٹکڑوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور یہی وہ نکتہ ہے جو اس تحریک کی عملی فعالیت کو کم زور، بَل کہ، بہت حد تک نا ممکن بنا دیتا ہے۔ جس کے باعث یہ تحریک اور اس کے علم بردار جلد اِدھر اُدھر تتر بِتر ہو گئے۔ سلیم احمد، عزیز الحق، فہیم جوزی، سعادت سعید، تبسم کاشمیری اور دیگر متحرک ارکان جو اس تحریک کے روحِ رواں تھے، ترقی پسندی، اسلامی ادب اور تمثال کاری کی تحریک کا حصہ ہوئے، اور افتخار جالب کا پُر شِکوَہ اسلوب اور بھاری زنجیروں ایسے تراکیب و استعارات محض ایک فکری تحریک کی یاد گار ہوئے؛ اور ان کے تخلیقی نشانات اپنے تسلسل کو قائم رکھنے میں نا کام ہوتے ہیں۔


مزید دیکھیے:  سلیم احمد، غزل اور اینٹی غزل کی بحث  از، طارق ہاشمی


اردو دنیا میں ایک خیال یہ پایا جاتا ہے کہ لسانی تشکیلاتی تحریک اور اس کے سر بر آوردہ اصحاب ایذرا پاونڈ کی تمثال کاری کی تحریک سے متاثر ہیں، اور یورپ میں 1908ء میں برپا ہونے والی امیجسٹ تحریک کو اردو میں 1960ء کی دہائی پیش کیا گیا۔ یہ ایک باطل خیال ہے جو لا علمی پر مبنی ہے۔ قوی امکان ہے کہ افتخار جالب نے مذکورہ بالا تحریک کو پڑھا اور سمجھا ہو گا، مگر ان دو تحریکوں کے درمیان طرفین کا فاصلہ ہے سوائے اس کے کہ یہ دونوں تحریکی ادب میں شاعری کی کار گزاری پر بحث کرتی ہیں۔

دوسرا، یہ کہ یہ شاعری میں زبان کی اہمیت کو استعمال میں لانے پر زور دیتی ہیں؛ مگر، ایذراپاونڈ اور اس کے ساتھی شعراء انگریزی کی درباری اور رومانوی شاعری کے سخت ناقد ہیں، اور نئی زندگی کو تخلیق کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ جس کے حوالے سے ہیوم کی نظم شہر کی شام بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ جب کہ یہ شعراء شاعری میں معنی کے قیام کے لیے روز مرہ کی زبان اور عام زندگی سے شاعرانہ موضوعات کے انتخاب پر زور دینے کے علاوہ زبان کے عضواتی آہنگ سے بھر پُور استفادے کی ترغیب دلاتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں انہوں نے یورپ کی دیہاتی اور اوسط طبقے کی زندگی کو نمونۂِ مشق بنایا اور خاصی حد تک کامیاب ہوئے۔

اسی زمانے میں روس میں شکلووسکی اپنے دیگر احباب کے ساتھ مل کر شاعری میں ہیئت کی اہمیت پر بحث کرتے ہیں، اور کلاسیکی رومانوی ہیت سے احتراز کی اہمیت پر بات کرتے ہیں۔

اس سب کے بَر عکس افتخار جالب شاعری میں زبان کی استعارتی حیثیت پر ڈسکورس کرتے ہیں، جس کی تفہیم کے لیے خود ان کے الفاظ دیکھیں:       

 “اشیاء کی گرد و پیش میں پھیلی ہوئی دنیا کی الفاظ، بہ معنی نشان،کے حوالے سے شناخت،ترتیب اور تقویم سے قطعِ نظر ایک شے کہ گلاب کا پھول ہے،بطورخ شے وجود رکھتا ہے۔ انسانی مشاہدہ اس ایک شے کو،کہ گلاب کا پھول ہے، جو اس کی منتخب کی ہوئی تفاصیل سے صفاتِ کلی کا دائرہ کھینچ کر دیگر اشیاء سے ممیز کرتا ہے۔ ایک ممیز شئے،کہ گلاب کا پھول ہے، خوش بُو، ذائقے، رنگ، لمس اور وزن کی تجزیہ شدہ خاصیتوں سے افادی اور غیر افادی تقاضوں کے تحت کام میں آتا ہے۔ گل دستہ، سہرا، ہار وغیرہ اس ایک شے کا، کہ گلاب کا پھول ہے، بطورِ شے استعمال ہے۔ اکیلا پھول،ایک دوسرے سے بندھے ہوئے پھول، اوپر نیچے پروئے ہوئے پھول اس ایک شے کی کہ گلاب کا پھول ہے، محض ترتیب کے کرشمے ہیں۔ وہ ایک شے کہ گلاب کا پھول ہے مِن و عَن اپنی شئیت سمیت موجود ہے، لیکن ترتیب کے اختلاف نے اسے گل دستے، سہرے اور ہار کے سلسلے میں یک و تنہا شئیت کے علاوہ ایک مختلف ترتیبی اجتماعی شئیت بھی دی ہے۔ وہ ایک شے، کہ گلاب کا پھول ہے،پتی پتی ہو کر، اپنی شئیت کے ذرہ ذرہ ہونے کے بعد جب شکر سے بطریقِ خاص مرکب ہوتا ہے تو ایک نئی شے گل قند کا حصول ہوتا ہے…۔

افتخار جالب کے نزدیک زبان کا معنوی برتاؤ اور تکنیک شعری زبان کا باطن خلق کرتا ہے اور یہی اس سارے مباحث کا مغز/رَس ہے۔ لسانی تشکیلات میں الفاظ اشیاء کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے مخصوص لغوی معنی کی بجائے تصوراتی معنی کو قائم کرتے ہیں کیوں کہ افتخار جالب کے نزدیک شاعری میں برتی گئی زبان کے لغوی معنی سے زیادہ اہم وہ تصوراتی معنی ہوتے ہیں جنہیں شاعر اپنے تخلیقی پراسس میں قائم کرنے کی سعی کرتا ہے۔

اس میں زبان ایک ٹھوس جسم کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اَز خود استعارہ بن جاتی ہے، اور زبان کی اسی وسعت کو شعور میں خلق کرنا اور تخلیقی عمل میں اسے کام میں لانا، لسانی تشکیلاتی نظریات کا رٙس ہے۔

اس عمل میں ہر انفرادی لفظ اپنی موجودگی کا جواز/سبب دوسرے الفاظ سے مہیا کرتا ہے، اور ان الفاظ کی معنوی نہج اور رفتار باہم متصادم ہونے سے خلق ہوتی ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ کسی شاعرانہ خیال یا جذبے کو بیان کرنے کے لیے الفاظ پر قید لگائی جائے، بَل کہ، اس قید اور تعلق داری سے استفادہ کیا جاتا ہے جو الفاظ اور ادب کے اندر موجود ہوتی ہے کہ ان کے معنی پہلے سے موجود ہیں اور انہیں بیرونی جبر سے خلق نہیں کیا جا سکتا۔

ان فکروں مفروضوں سے معنی کے استخراج کے لیے ان فکری مفروضوں کو مِن و عَن شاعری میں بیان کرنے کے ان فکری مفروضوں کے زیرِ اثر سامنے آنے والے ردِ عمل کو تخلیقی عمل میں مرکزی حیثیت دینا ہوتی ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.