نصابات میں سے ’’تاریخ‘‘ کی حقیقت کھرچنے کا گھناؤنا اثر

یاسر چٹھہ
نصابات میں سے ’’تاریخ‘‘ کی حقیقت کھرچنے کا گھناؤنا اثر
از، یاسر چٹھہ
بچپن میں اس راقم کو اپنے اردگرد کی اشیاء اور مظاہر و واقعات کے متعلق اپنے شاید ہم عمروں کے برابر کا ہی تجسس تھا۔ ہر وقت کچھ نا کچھ نیا جاننے کی لگن لگی رہتی تھی۔ آج بھی کافی حد تک اپنی نالائقی، کم علمی اور جہل کا دھڑکا لگا رہتا ہے، اس لیے ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ کوئی کتاب دیکھ لی جائے، کسی سے پوچھ لیا جائے، کچھ نا کچھ سیدھی سادی سی جان پرکھ کی کوشش جاری رہتی ہے۔ لیکن بچپن کی معصومیت سے عبارت خوبصورتیوں کی ایک بات بہت پُرلطف حوالہ بن کے یاد آتی ہے۔ جاننے کی لگن اور تجسس کا مادہ دو عجیب سی چیزوں سے منسلک رہا۔
ایک تو یہ تھا کہ پھول کس وقت کَلی کی کوکھ پورے کا پورا کِھل جاتا ہے، اور دوسرا یہ کہ کلائی پر بندھی گھڑی رات کس وقت تاریخ بدل دیتی ہے؛ ان لمحات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی لگن۔ ان دونوں چیزوں کے راز کو پا لینے کی خواہش میں، باوجودبار ہا کی کوششوں کے، کبھی کامیابی نا ہوئی۔ کلائی گھڑی پر تاریخ کے بدلنے کے لمحے سے پہلے ہی آنکھوں میں نیند اتر آتی، اور بچے ہونے کے ناطے گھر میں موجود بڑے اتنی سی اجازت بھی نا دیتے کہ رات کے وقت اَن کِھلی کَلی کے پاس مسلسل کھڑے رہ کر اس سے پُھول بننے کا دل سے روح میں اتر جانے والا لمحہ نصیب ہوتا۔ خیر پہلی محبت کی شدت کی طرح چاہے گئے یہ دونوں لمحات ملے بھی تو اس وقت، جب عمرِ قلیل کے کئی سال گزر جانے کے بعد رات تاخیر سے سونے کی آزادی کے دن نصیب ہوئے!
بظاہر رومانویت سے بھرپور یہ تمہید کہیں آپ کو اپنے اپنے بچپن کے حسین لمحات کے امڈتے سیلاب کی نذر نا کردے۔ اے بھلے قاری، ابھی رات باقی ہے، اور بہت ساری بات باقی ہے۔ اس متن کی یہ رات رومانویت اور ستاروں سے بھری رات ہر گز نہیں۔ اے کاش کہ اس رومانویت پر آج ہم گیت لکھ سکتے، اور مل کر گاتے۔ لیکن آج تو ایک مختلف رات ہے۔ آج جس رات کی بات کرنا ہے وہ اس سوال سے عبارت ہے کہ ہم جو سرکاری اسکولوں کے پڑھنے والے بچے تھے ان کا قصور بتایا جائے؛ کہ ان کو پڑھائی جانے والی کتابوں میں چوری چُپکے سے بدل دی جانے والی “تاریخ” کا ذمے دار کون ہے؟ کس نے ہم سے ہمارا وہ وقت چھینا کہ جب ہمیں سچ کی ساری پہنائیاں پرکھنے کی اجازت ہونا چاہیے تھی۔ ہم پر ہمارے سے بڑے سمجھ داروں کو کون سی بداعتمادی تھی کہ ہم کسی تشکیل شدہ دشمن کے آلۂِ کار بن جائیں گے؟ ہم سے بڑے، جو اس وقت نصاب سازیوں کو اپنے اہتمام میں لیے ہوئے تھے، انہیں ہماری مخفی صلاحیتوں اور معصوم فطرتوں کے بابت کیوں تسلی نہیں تھی؟ ہم سے دن دیہاڑے ہمارا بچپنا کیوں چھین لیا گیا؟ ہمیں قلق تھا کہ ہماری کھلونا کلائی گھڑیوں میں تاریخ نا جانے کیسے اور کب بدل جاتی ہے، لیکن ہمارے ساتھ تو کئی سطح کا تاریخ و حقائق کی تحریف وتبدیلی کا غیر رومانوی کھیل کھیلا جارہا تھا۔ ہمارے بڑوں میں نا جانے اس قدر احساس عدم تحفظ کیوں تھا، اور صد افسوس کہ، آج بھی ہے۔
اس پر بہت سی مضامین رقم ہوچکے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں موجود درسی کتب کے ساتھ بہت اندھیر مچایا گیا ہے۔ حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ آج ہم اس مضمون میں دیکھنے کی اور اپنے تئیں اس اندھیرے میں سے روشنی کی کرن اجالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے اور کیسے کیا جاتا ہے۔ اور اس سے سرکاری تعلیمی اداروں کے نصابوں کے علاوہ وطنِ عزیز کے مہنگے نجی تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات بھی محفوظ نہیں۔ نجی اسکولوں کے متعلق اٹھائے گئے اس نکتہ کے متعلق بحث کسی اور دن پہ چھوڑ کر ملک کے معروف “غیر سرکاری” دانش ور اور تاریخ دان، ڈاکٹر مبارک علی کے بیان پر غور کیجیے۔
ڈاکٹر مبارک کہتے ہیں کہ تاریخی واقعات کی تشریحات و تفاسیر شاذ و نادر ہی اصولوں اور اقدار پر مبنی ہوتی ہیں۔ بلکہ ان کا انحصار تو طاقت کے مراکز پر ہوتا ہے کہ انہیں کون سی چیز سُود مند لگے۔ تو اب دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں وہ حلقے جن کے پاس نظریات و تاریخ سازی کی طاقت تھی انہوں نے کون سے طریقوں اور حربوں سے پاکستان میں پڑھائی جانے والی تاریخ سے متعلقہ کتب میں تحریف و تبدیلی کا ارتکاب کیا۔
پہلے پہل تو اس بات کا ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نا ہوگا کہ 1959 ع کی پہلی جامع تعلیمی پالیسی کی سفارشات کے سلسلے میں ہمارے اس وقت کے نئے نئے بنے دوست، امریکہ کے ماہرین نے اپنے تئیں بڑے پَتے کی تجویز دی۔ ان ماہرین نے کہا کہ تاریخ، جغرافیہ اور شہریات (Civics) کے مضامین کو ایک ہی مضمون ‘معاشرتی علوم’ میں سمو دیا جائے۔ اس کا سرِ دست ایک نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے پڑھائے جانے والے مضمونِ تاریخ پر بیک جنبشِ قلم دو تہائی حصے کی کاٹ لگ گئی۔ اس کے متعلق پیش کردہ منطق میں یہ کہا گیا کہ ایک نوزائیدہ ریاست کے افراد کو اپنے مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے، نا کہ تاریخ پڑھتے پڑھتے انہیں ماضی کی راہداریوں میں گُم رہنا چاہیے۔ دوسرا ذیلی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ تاریخ کو ایک آزاد مضمون کے طور پر تقریباً دیس نکالا دے دیا گیا۔ اب رہی سہی ایک تہائی تاریخ کی تدریس کا کام محض ایک سوچے سمجھے اور اچھی طرح کاٹ چھانٹ کر قومی حافظے اور یادداشت کے اپنے طے کردہ نئے خطوط پر، اپنی مرضی کے حُفّاظ تیار کرنا تھا۔ سرکاری اسکولوں میں چھٹی سے آٹھویں جماعت تک تاریخ کے مضمون کو معاشرتی علوم میں ڈال دیا گیا۔ جب کہ نَویں اور دسویں جماعتوں کی سطح پر مطالعۂِ پاکستان کا مضمون، جسے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں متعارف کروایا گیا، اس میں رکھ دیا گیا۔ مطالعۂِ پاکستان میں بَسی تاریخ کا کام اب صرف اور صرف قومی شناخت کی تشکیل کرنا رہ گیا۔
بقول ممتاز دانش ور ڈاکٹر روبینہ سیگل، نئی قومی شناخت کی تشکیل، تشکیلِ مکرر اور پختہ کاری کا عالی مرتبت عمل اس بات کا متقاضی تھا کہ گزرے ماضی کو دو قومی نظریہ کی عینک سے دیکھ کر  صورت پذیر کیا جائے۔ ماضی کو پھر سے نئے خطوط پر استوار کرکے رقم کیا گیا اور سنایا گیا۔ مقصد زیرِنظر یہ تھا کہ نیا حاصل شدہ وہ ملک جو بہت سی لسانی اکائیوں، قومیتوں اور گروہوں سے عبارت تھا، ان سب کے سر پر مذہب کی ایک ہی ٹوپی پہنا کر یک رنگی و یکسانیت حاصل کی جائے۔ اس نئے بیانیہ کی تخلیق و تشکیل کے کارِ خاص کے سلسلے میں جو حقائق و واقعات، ریکارڈز اور یادداشتیں اسے روانی سے آگے بڑھنے کے عمل میں دخل اندازی کرتی محسوس ہوئیں، ان کے  ہونٹ سِی دیے گئے، نظر انداز کردیا گیا، یا ان پر دیگر پردے ڈال دیے گئے۔ یہ تھا تاریخ کو نیا چوغہ پہنانے کا عمل۔


اس طرح کے تشکیل کردہ حقائق کی بنیاد پر تیار شدہ درسی کتب، اور ان درسی کتب پر مبنی تعلیمی سرگرمیوں کا کیلنڈر یا رواں دواں کریکولم ، اور ان کتب، نصاب اور تعلیمی کیلینڈر پر انحصار کرنے والے امتحانی نظام سے عشروں برسوں سے تیار ہو کر نکلنے والی کھیپ آج ایک ایسی رومانویت کا شکار ہے کہ جو اکیلے ہی دوڑ کے مقابلے میں حصہ لے کر خود ہی پہلے نمبر پر آنے کو تیار بیٹھی ہے۔ ہر چند سال بعد نئی تعلیمی پالیسی اس امید پر بنائی جاتی ہے کہ اب کی بات تعلیمی انقلاب بس آنے ہی کو ہے۔

ان سب تعلیمی پالیسیوں میں اس بات پر آہ و زاری ہو رہی ہوتی ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام کی پیداوار طالب علم تنقیدی سوچ کا حامل نہیں ہے؛ وہ نئے اور جدید خطوط پر سوچ نہیں سکتا، اس میں تخلیقیت کا عنصر مفقود ہے۔ اس ساری فضا میں البتہ کچھ حلقے اپنی ترکیب و نفسیات میں مزید ہی خاص ہیں۔ اور ان حلقوں میں تو ایسا بھی ہے کہ جو چند ایک طالب علم اپنی بے پناہ فطری صلاحیتوں کے سہارے کچھ نمایاں کام سرانجام دے جاتے ہیں، یہ احباب ان کی مثال دے دے کر کسی مثبت اور تعمیری تجزیے کی جانب جانے والے رستے پر چلنے سے پہلے ہی بھٹک جاتے ہیں۔

نتیجہ آج کی علمی اور دانش کی غلامی ہے اور ملک سے باہر کے وسائل پر انحصار ہے۔ صاحبانِ اقتدار و اختیار، یہ جان لیجیے کہ تخلیقیت اور تنقیدی نظر زندگی گزارنے کے ایک خاص ڈھنگ سے عبارت ہے، یہ دانش میں شعوری طور پر روا ملاوٹوں سے نہیں مل پاتی۔ اسے جہاں اپنی مرضی کی تاریخیں اور واقعات بدل کے، اس طرح تیار کردہ مواد کے حفظ کرنے والوں کی درجہ بندی کے جائزے کی بناء پر قائم امتحانی نظام  سے کشید کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی وہاں کچھ اور حاصل نہیں ہوگا، ماسوائے چند رٹنے کے ماہر طوطے۔ چند حقائق کو حرف آخر کی طرح منوانے کی فرمائش، انہیں متبادل حقائق کو پرکھنے کی عادت نہیں ڈال پائے گی۔
  اگر آپ طلباء و طالبات کوعلم کے تخلیقی عمل میں ساجھے دار نہیں مان پائیں گے، بلکہ ان اذہان پر اپنے پروپیگنڈہ کی مصنوعی رومانویت کی افزائش کرتے رہیں گے تو آپ اپنے کسی نظریاتی عدم تحفظ کو تو شائد چھپاتے پھر سکیں گے، پر آپ علم کے پیدا کرنے والے اور نئی اختراعات کرنے والے آزاد فکر تعلیم یافتہ افراد پیدا نہیں کر پائیں گے۔
آپ کی جامعات میں ادھار کے مانگے علوم و نظریات کا ہی چلن ہوگا، آپ علاج برطانیہ اور امریکہ وغیرہ ہی سے جا کر کرواتے رہیں گے، آپ مشینری جرمنی اور اٹلی سے ہی منگواتے رہیں گے، آپ کو مشیر بھی درآمد ہی کرتے رہنے پڑیں گے۔ تنقیدی نظر اور تخلیقیت، سوچ کی کہیں اور بیٹھ کر تیار شدہ اور طے شدہ گٹھریوں کو کھنگال کر ہی آتی ہے۔ یہ خالی دعا کرنے سے یا خواہش کے گھوڑے دوڑانے سے نہیں آتی۔
About یاسرچٹھہ 136 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔

1 Comment

  1. بہت اچھا لکھا ….یه گھناؤنا جرم بار بار ہوتا رہا ہے اس حد تک کہ ایک وقت میں اتنی مایوسی چھا گئی تھی کہ سرکاری میڈیا میں بتاےگیے حقائق بھی کوئی نہی مانتا تھا ….جنگ کے دنوں میں بی بی سی اور مارک ٹیلی سنا جاتا تھا …..

1 Trackback / Pingback

  1. افیونی رومانویت کا چلن عام ہے — aik Rozan ایک روزن

Comments are closed.