نامولود بچوں کے آزار سے ڈریو

Saadullah Jan Barq
سعداللہ جان برق، صاحبِ مضمون

نامولود بچوں کے آزار سے ڈریو

از، سعد اللہ جان برق

کیا آپ اس بات پر یقین کریں گے کہ کسی ملک بلکہ ایک پورے خطے کی تباہی کا ذمے دار ایک ایسے شخص کو قرار دیا جائے جس کا بظاہر اس تباہی سے کوئی بھی تعلق بنتا نظر نہیں آتا، بلکہ پورا شخص بھی نہیں اس کے جسم کا کوئی حصہ بھی نہیں بلکہ سر پر پہنی ہوئی ٹوپی کو اس تباہی کا باعث قرار دیا جائے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب افغانستان میں قتل و قتال کا بازار گرم تھا۔ لاکھوں مہاجر پاکستان میں پڑے تھے اور افغانستان کا چپہ چپہ لاشوں سے اٹا پڑا تھا۔

کوئی اس تباہی کا ذمے دار امریکا کو ٹھہرا رہا تھا کوئی روس کو، کوئی ڈالروں اور کوئی ریالوں کو کہ اچانک چشم گل چشم نے جو اس وقت صرف قہر خداوندی تھا اور علامہ بریانی عرف برڈ فلو نے اسے ڈینگی مچھر اور سوائن فلو کے درجے پر اپ گریڈ نہیں کیا تھا۔ قہر خداوندی نے اچانک اعلان کیا کہ افغانستان میں ساری تباہی کا ذمے دار علامہ برڈ فلو اور اس کی قراقلی ٹوپی ہے۔

حالانکہ یہ بھورے سنہرے رنگ کی قراقلی علامہ کی اپنی خریدی ہوئی یا قبول کی ہوئی بھی نہیں تھی بلکہ علامہ کو اس کے والد محترم سے وراثت میں ملی تھی جس کے بارے میں وہ اپنے اجداد سے روایت کرتا تھا کہ یہ ٹوپی اس دنبے کی نسل کے کسی تاریخی دنبے کی ہے۔ اس دنبے اور اس کی نسل سے متعلق اور بھی بہت سارے انکشافات تھے۔ شکر ہے اس نے یونانی دیومالا نہیں پڑھی تھی ورنہ وہ اس دنبے سے بھی کوئی نہ کوئی رشتہ نکال ہی لیتا جو یونانی اسطورہ میں کسی دشوار مقام پر تھا اور جو خالص سونے کا تھا اور جس کو حاصل کرنے کے لیے یونانی سورماؤں نے آر گوناٹ نام کی ایک ٹیم بجھوائی تھی۔

علامہ اس جدی پشتی قراقلی کو صرف جمعہ، جمعرات اور چہلم برسی کی تقریبات میں پہن کر جاتے تھے کہ یہی خاندانی روایت تھی یا عیدین کے مواقع پر زیب سر کرتے تھے۔ قراقلی میں صرف چند مقامات پر ادکا دکا بالوں کے گچھے ہی اس کو بطور قراقل شناخت دیے ہوئے تھے ورنہ اسے کسی بھی کثیر الاستعمال اور گندے برتن سے تشبیہ دی جا سکتی تھی، وقت کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر سوراخوں کی وجہ سے قراقلی ایئر کنڈیشن بھی ہو گئی تھی۔

اب ایک ایسی قراقلی کو افغانستان میں آئی ہوئی تباہی سے جوڑنا صرف قہر خداوندی کا کام تھا ورنہ بظاہر اس کا وہی تعلق بن سکتا تھا جو ’’ مگس‘‘ کو باغ میں جانے نہ دینا کا ہے لیکن جب بات کو جینرلائز کر کے قہر خداوندی نے اپنا مکمل بیان ریکارڈ کیا تو بات سمجھ میں آگئی۔

قہر خداوندی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں عرصہ دراز سے قراقلیوں کا کاروبار چل رہا تھا جس کے لیے اکثر حاملہ بھیڑوں کو ذبح کر کے بچہ نکال لیتے تھے۔ جتنا بچہ کم عمر ہوتا اتنی ہی اس کی اون چمک دار اور زیادہ قیمتی ہوتی تھی، اس کے مطابق اس ظالمانہ کاروبار میں اتنی بھیڑیں اور ان کے بچے جان سے گئے تھے جس کے حساب کے لیے ہندسے کم پڑ جاتے ہیں۔

افغانستان، ترکستان میں صرف یہی ایک عجیب و غریب کاروبار نہ تھا بلکہ اس کے ساتھ ہی ایک اور بھی قبیح کاروبار مائیں بیچنے کا ہوتا تھا۔

جس طرح بھیڑ کا بچہ جتنا کم عمر (پیٹ کے اندر) ہوتا تھا، اتنا قیمتی ہوتا تھا، اسی طرح انسان کی ماں جتنی بوڑھی ہوتی تھی اتنی ہی بیش قیمت ہو جاتی تھی کیونکہ عمر کے ساتھ ساتھ قالین بافی میں اس کی مہارت بھی بڑھتی جاتی تھی۔ چنانچہ جس ملک میں اس قسم کے کاروبار چل رہے ہوں، بچوں ماؤں اور پھر انسانی ماؤں کی بد دعائیں آخر کہیں نہ کہیں تو جانا تھیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہم نے دیکھا کہ اس بات پر قہر خداوندی نے علامہ کو بری طرح پچھاڑ دیا تھا کیونکہ علامہ کے پاس جو سب سے بڑا بم ’’کفر‘‘ کا تھا وہ اس موقعے پر بالکل بھی کام نہیں آرہا تھا۔

قہر خداوندی کہتا پھرتا تھا کہ افغانستان پر ماؤں اور بچوں کی بد دعاؤں سے جو کچھ گزری وہ تو گزری اور گزر رہی ہے لیکن اب خطرہ ہمارے سر کے اوپر منڈلا رہا ہے۔ مزید زور ڈالنے کے لیے وہ رحمن بابا کو بھی اپنی مدد پر لے آتا:

د آزارہ چا بازار موندلے نہ دے

سوک چہ بل آزاروی ھغہ آزار شی

یعنی آزار سے آج تک کوئی بچ نہیں پایا اور جو دوسروں کو آزار دیتے ہیں، وہ خود آزار میں مبتلا ہو جاتے ہیں بلکہ ایک اور بزرگ شاعر حافظ الپوری کا وہ شعر جو انھوں نے رحمان بابا کے شعر سے متاثر ہو کر کہا ہے باقاعدہ ترنم سے پڑھتا تھا اور آخر میں ایک درد ناک ’’ہائے‘‘ بھی منھ سے نکال لیتا تھا۔

د آزارہ چا بازار موندلے نہ دے

پہ سور اور کے شین غندل ختلے نہ دے

یعنی آزار سے کسی نے بازار نہیں پایا ہے اور آگ میں آج تک کسی نے سبز کونپل اگتے نہیں دیکھی ہے۔

اس موڑ پر آ کر وہ ’’سفید مرغوں‘‘ کا نوحہ پڑھنے لگتا جو آج کل علامہ کے بہت زیادہ زیر استعمال رہتے ہیں اور اسی رعایت سے وہ اس کے شکم مبارک کو برڈ گریو یارڈ یعنی پرندوں کا قبرستان کہتا ہے۔

ویسے یہ بات اس کی دل کو لگتی ضرور ہے، آدمی کتنا ہی فضول کیوں نہ ہو بات بڑے پتے کی کہہ رہا ہے کہ افغانستان نے تو بھیڑوں اور ان کے بچوں کا آزار بھگت لیا لیکن خدا خیر کرے پاکستان میں ان دنوں علامہ بریانی کا نظریہ فکر بلکہ نظر شکم بہت زیادہ پھل پھول رہا ہے اور بچارے سفید مرغوں کا جو حشر نشر ہو رہا ہے، وہ بھی کچھ کم دل آزار نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان میں کرنے کا کام صرف یہی ایک رہ گیا ہو کہ جتنے زیادہ مرغے ہڑپ سکتے ہو ہڑپ لو۔ بلکہ باقاعدہ جنگی بنیادوں پر مرغ خوری کا سلسلہ چل رہا ہے۔ کہیں ان کے دل سے بھی کوئی ایسی ویسی بد دعا نہ نکلے جیسی افغانستان میں بھیڑوں اور بھیڑوں کے ’’نامولود‘‘ بچوں کے دلوں سے نکلی تھی۔

express.pk