ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی

ایک روزن لکھاری
عزہ معین

ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی

(عزہ معین)، سنبھل،  بھارت

ایک بات سمجھنے سے قاصر ہوں  کہ خود کو درویشی کے مسند پر خود ہی فائز کرنے والے لوگ اتنے دنیادار کیسے ہو سکتے ہیں؟
کیا اس سے پہلے اس لفظ کے مفہوم سے واقفیت ضروری نہیں ہے ؟
کیا کسی بھی انسان کی تحقیر کا حق یہ منصب اپکو ودیعت کرتا ہے ؟
انسان کے ظاہر سے اسکے باطن کا اندازہ لگانے والے ہم کون ہیں ؟
انسانوں کے روپ میں یہ فسادی کس قدر ہولناک کھیل کھیل رہے ہیں۔
کیا اس سے  کسی مسلک کا، ادارہ کا یا قوم  کا فائدہ ہو رہا ہے، بس اپنے ذاتی مفاد کو حاصل کرنے کے لئے  صرف اور صرف عوام میں خستہ حالی کے عنصر پیدا کئے جارہے ہیں۔
آج قوم اپنے حقوق کی نہیں بلکہ اپنے وجود کے استحکام کی کشمکش کے عالم میں مبتلا ہے ،جہاں امیدیں طلوع شمش کی شعاعوں کے ساتھ بلند ہوتیں ہیں اور شام ہوتے ہوتے مایوسی کے انبار میں غرق ہو جاتی ہیں ۔ قوم اپنی لا علمی، بے روزگاری اور سیاسی بحران  کو زیب و زینت کا حصہ تسلیم کر چکی ہے۔ جس قوم میں ہزاروں بلقیس بانو کی آوازیں ہندوستانی عدلیہ کی چوکھٹ پر آکر دم توڑ دیتی ہیں وہیں یہ حضرات قوم کے غم میں سکون کے ساتھ سو رہے ہوتے ہیں۔

ایسے پرشکن ماحول میں موصوف حضرات سماج کی فلاح بیہودگی کی فکر نہ کرکے انکو انتشار کی راہ کا مسافر بنا رہے ہیں ، جو سفر قوم کے لئے زوال آمدہ ہے یا یہ کہئے کہ ان حضرات کو قوم کی زمینی حالات سے آشنائی ہے ہی نہیں ۔ تو فکر کی شمع کیسے روشن کرینگے ؟ مسلم قوم روز بروز ایک نئی مصیبت سے رو برو کی جاتی ہے چاہے ہو وہ تین طلاق ہو یا کسی گلوکار کا متنازع بیان ۔ان سینسیٹو مسائل پر بھی ان میں سے کچھ موصوف گلیم رہبری اوڑھ کر رہزنوں کا کام انجام دیتے ہیں ۔ایسے ہی ایک موصوف حضرت (خود اعلان قوم پرست ) نے قوم کی پیروکاری کا ڈھونگ رچتے ہوئے سونو نگم کے متنازعہ بیان پر غیر ذمدارانہ بیان دےکر خود پرستش کا مظاہرہ کیا ہے۔

مذکورہ بحث سے یہ بات صاف ظاہر ہو گئی ہے کہ ان حضرات کی قربانیاں قوم کی پسماندگی میں کس حد تک ہیں ۔ان حضرات کے لئے قوم کو پسماندگی کی راہ پر لے جانا اتنا ہی آسان ہے جتنا سمندر میں پتھر مارنا مگر شاید ہی ان میں سے کوئی جانتا ہو کہ وہ پتھر کتنی گہرائی تک جاتا ہے ۔
آج ہم اہل قلم کی ذمداری ہوتی ہے کہ ہم ان حضرات کے پروردہ مسائل کو حل کرکے ان کی پروری ختم کریں اور قوم کو اسکی عظمت کی ضیا سے روبرو کرائیں ۔آج قلم کی طاقت سے بے حس قوم کو بیدار کرکے سچائی پیش کرنی کی ضرورت ہے کہ جہاں عوام اپنی خستہ حالی کا نوحہ پڑھ رہی ہے تو  وہیں خود کو قوم کا ہمدرد کہنے والے ، غربہ نوازی کا دم بھرنے والے غریبوں کا مال کھائے جا رہے ہیں جن کے لئے صرف اور صرف خود پرستش ہی خدا پرستی ہے۔ جن کا ضمیر خود خدا سے جدا ہے، پر انکے الفاظ ناصح کی قوت رکھتے ہیں ۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ قوم کو خواب گراں سے بیدار کرنا آسان نہیں لیکن جس طرح چھوٹے چھوٹے سوراخ بند کمرہ میں سورج طلوع ہونے کا پتا دیتے ہیں اسی طرح چھوٹی چھوٹی کاوشیں ایک نئی امید کو جلا بخشتیں ہیں۔اگر ہم اہل قلم اپنی ذمےداری کو نہ سمجھیں تو وہ وقت دور نہیں کہ جب ہمارہ وجود ہی خطرہ میں آجائے۔ آج اختلاف و انتشار کی نہیں بلکہ اتحاد کی ضرورت ہے۔ بس اپنے مضمون کو ان چند الفاظ کے ساتھ اختتامیہ جامہ پہنانا چاہتی ہوں کہ جس قوم کے رہنما غیر ذمدارانہ حرکات میں مشغول ہو جائیں اس قوم کا مستقبل اپنے زوال کی پیشین گوئی خود کرتا ہے۔