ایک نا گزیر بلاوے کی روداد

Atif Aleem

ایک نا گزیر بلاوے کی روداد

کہانی از، محمد عاطف علیم

ان دنوں رات کے پہلے ہی پہر کہرا اترنا شروع ہوتا تو گلی چپ کی چادر تانے ایک آلکس میں اونگھنے لگتی۔

یہ وہ وقت تھا جب گلی میں قدموں کی آخری چاپ بھی معدوم ہو چکی تھی اور اب وہاں گھنی چپ تھی جس کی سر سراہٹ نے اس پر بھی گہری نیند طاری کرنا شروع کر دی تھی۔ ابھی نیند کے جھولے نے ٹھیک سے اٹھان بھی نہ پکڑی تھی کہ اچانک ایک سائیکل سوار گھنٹی بجاتا گزرا اور اس کی آنکھ کھل گئی۔

اس کے ہلکورے لیتے دماغ میں جمی نیند کی دبازت میں گھنٹی کی آواز دیر تک ارتعاش پیدا کرتی رہی۔

گھنٹی کی آواز کا سحر اور رات کی گھپ خاموشی، اس کے لا شعور میں آخری بلاوے کی علامتوں کے طور پر جانے کب سے محفوظ پڑی تھیں۔ سو اس نے جان لیا کہ یہی وہ رات ہے جب اس کے عمر بھر کے سفر کو تمام ہونا تھا۔

بستر پر لیٹے لیٹے اسے سانس لینے میں مشکل ہوئی تو اسے لگا کہ جیسے ٹھنڈے ٹھار کمرے میں سے کسی نے ہوا کی چادر سرکانا شروع کر دی ہو۔ اس نے مُنھ کھول کر سانس لیا لیکن آکسیجن نا کافی تھی۔ اسے زور لگا کر پھیپھڑوں میں ہوا کو بھرنا پڑا۔ اس مشقت سے وہ ہانپ گئی اور سانس لینا زیادہ دشوار ہو گیا تو اس نے ہمت سمیٹی اور بستر میں ایڑھیاں جما کر خود کو اوپر کھسکایا پھر جسم کے گرد لحاف کو دباتی تکیے کے سہارے بیٹھ گئی۔

فضا سے ہوا کھینچنے کی کوشش میں اس کا سینہ لوہار کی دھونکنی بنا ہوا تھا۔ اس نے گلے کی پھولی رگوں کو سہلاتے ہوئے کچھ دیر اپنی سانس کے بحال ہونے کا انتظار کیا پھر زیرو کے بلب کی زرد روشنی میں انہیلر کو ٹٹول کر دو پف کھینچے اور فوری ریلیف کے لیے آکسیجن سلنڈر کی نالی کو ڈھونڈ ذرا سی ناب کھول کر گیس ماسک کو ناک پر جما یا اور چند گہرے سانس کھینچے کے بعد نڈھال سی ہو لحاف میں سرک گئی۔ ماسک سے نکلتی آکسیجن کی ہلکی سی پھوار اور سوں سوں کی آواز کے تسلسل میں ایک کیف سا تھا کہ وہ پھر سے ہولے ہولے غنودگی کی گہرائیوں میں اترنے لگی۔ تب کچھ یاد آنے پر اس نے سر کو جھٹک کر خود کو نیند کے ہلکورے سے آزاد کیا اور چوکنی سی اٹھ کر بیٹھ گئی۔


مزید دیکھیے:  شوق انصاف  کہانی از، نصیر احمد


اسے آج کی رات جاگ کر گزارنا تھی۔

اس نے مدہم روشنی میں اپنے سرہانے پڑے سرخ ہندسوں والے ٹائم پیس پر وقت دیکھا، ابھی بارہ نہیں بجے تھے۔ زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اس کی چھوٹی بیٹی اس کے پاس ہی موجود تھی۔ وہ اس کے لیے کھانا لے کر آئی تھی۔ اس کے بہت اصرار پر بھی جب اس نے کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا توگرم گرم سوپ بنا لائی اور اپنے ہاتھوں سے اسے چمچ چمچ سوپ پینے پر مجبور کیا۔

وہ چھوٹی کو آج کی رات کے بارے میں بتانا چاہتی تھی لیکن وہ اپنی بپتا میں الجھی ہوئی تھی۔ آج پھر اس کی اپنے شوہر سے مُنھ ماری ہو گئی تھی اور وہ اپنی بدنصیبی کے احساس سے بھری ہوئی چادر کے پلو سے اپنی آنکھیں پونچھ پونچھ دل کا غبار نکالتی رہی تھی۔ وہ بھی لحاف میں دبکی یہ سوچ کر کہ وہ اپنے رونے دھونے میں اس کی بات کو سنجیدہ نہیں لے گی، اوپرے دل سے ہوں ہاں کرتی رہی۔ جب چھوٹی اسے کھانسی اور سینے کی جکڑن کو کم کرنے والے سیرپ پلا کر قہوہ بنانے گئی تو کھانسی کے ایک مختصر دورے کے بعد بھی وہ اسے اپنے راز میں شریک کرنے کا فیصلہ نہ کرپائی۔

تھوڑی دیر بعد وہ آئی، قہوے کا مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اورکسی اور ضرورت کا پوچھتے ہوئے ٹرے اٹھاکر باورچی خانے میں چلی گئی جہاں وہ کچھ دیر کھٹ پٹ کرتی رہی پھر سونے کے لیے اوپر کی منزل پر چلی گئی۔ ابھی اسے رات کے کسی پہر دوبارہ آنا تھا کہ اس کا روز کا معمول تھا کہ نیند کے دوران شوگر لیول کم ہونے پر وہ جاگ جاتی اور پھر نیچے اتر کر باورچی خانے کا رخ کرتی جس کے بعد وہ احتیاطاً ماں کے کمرے میں بھی جھانک لیتی تھی۔

کیا ہوتا جو وہ اسے روک لیتی، بھلے نہ بتاتی مگر اپنے کمرے میں ہی سلا لیتی کہ کہیں بعد میں چھوٹی کو اور باقی سبھوں کو قلق نہ رہتا لیکن اگلے لمحے وہ پچھتاوے کے بوجھ سے نکل آئی کہ وہ بہادری کے ساتھ آج کی رات کا تنہا سامنا کرنا چاہتی تھی۔

یوں تو خوف اپنے ہر روپ میں ہمیش اس کے ساتھ ساتھ رہاتھا لیکن جب بھی اس کے دماغ میں گھنٹی کی آواز اور رات کی گھپ خاموشی کے اشارے ابھرتے ایک انجانا خوف اسے جھرجھرا دیا کرتا تھا لیکن اب جب کہ لا شعور میں چھپی علامتیں خود کو ظاہر کر چکی تھیں وہ ہونی کے قدیم سے لا حق خوف سے یک لخت آزاد ہو گئی او ر خود کو ایک ٹھنڈی ٹھار کاہل سی خود سپردگی کے حوالے کر دیا۔

’بس اتنی سی بات تھی؟‘ اس نے تکیے پر سر کو جمایا اور مسکرا دی، ’’میں بھی پاگل ہوں، ایویں ای ڈرتی رہی۔ ‘‘

دکھ ا لبتہ یہ تھا کہ ابھی کرنے کو بہت کام پڑے تھے اور یہ سارے کام تنہا وہی کرسکتی تھی۔ وہی اپنے نا گزیر ہونے کا خیال جو عمر بھر سے کام میں جتے رہنے اور دوسروں کے بوجھ کو ڈھوتے چلے جانے کے لازمی نتیجے میں اس کے دماغ میں رچ بس گیا تھا۔

وہ سردیوں کی یخ بستہ راتیں تھیں، لمبی اوراونگھتی ہوئی اور صبح کا اجالا پھیلنے میں ابھی خاصی دیر تھی۔ اسے پہلے سے معلوم تھا کہ آج رات کسی بھی وقت اسے اجالا دیکھے بغیر اور رات کے خاتمے کا اعلان کرتی اذان کی آواز سنے بغیر چلے جانا تھا اور یہ اس کی زندگی کی پہلی رات ہوتی جس کا اختتام اس کے عمر بھر کے معمول کے بغیر ہوتا۔ یہ سوچ کر اسے احساس گناہ سا ہو ا کہ آج وہ تڑکے اٹھ کر وضو نہیں کرے گی، نماز نہیں پڑھے گی، تلاوت نہیں کرے گی اور بستر کے ساتھ والی کھڑکی سے زندگی کو ہولے ہولے بیدار ہوتا نہیں دیکھے گی۔ بس یہی ایک پریشان کن احساس تھا وگرنہ وہ خود کو ہر نا گواری سے آزاد محسوس کررہی تھی۔

وہ تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے نیم دراز حالت میں بیٹھی اپنے کمزور ہاتھوں کی پشت پر ابھری ہوئی رگوں پر انگلی پھیرتے ہوئے چھوٹی کی بے معنی شکایتوں کو یاد کرتے ہوئے مسکرائی اور اس کا دل لاڈ سے اور رفاقت کی خواہش سے بھرگیا۔ اسے ایک بار پھر خیال ستانے لگا کہ اسے چھوٹی کو روک لینا چاہیے تھا۔ خوف کو جھٹکنے کے لیے کسی دوسرے کی موجودگی کا احساس پانے کے لیے نہیں بل کہ اس لیے کہ ابھی کہنے کو بہت کچھ باقی تھا، بہت سی ان کہی باتیں تھیں جو دوسروں کی امانت تھیں۔ وہ یہ سوچ کر ملول ہو گئی کہ چھوٹی کو جانے کی اجازت دے کر اس نے نا قابل تلافی خیانت کا ارتکاب کیا تھا۔

اس نے ایک بار پھر گردن گھما کر گھڑی کے ہندسوں کو دیکھا۔ ابھی چھوٹی کے شوگر لیول کے کم ہونے میں بہت دیر تھی۔ رات کے جس پہر میں بھی ایسا ہوتا اسے لمحہ بھر کے لیے چھوٹی کی مبہم سی رفاقت نصیب ہوجاتی حالاں کہ جب بھی رات کی خاموشی میں دروازہ ہولے سے چرچراتا وہ جاگنے کے با وجود سوئی بن جاتی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ماں کو جاگتے پاکر وہ مروت میں پاس آبیٹھے اور اس کچی نیندوں سونے والی کی نیند پوری ہونے سے رہ جائے۔

یخ بستہ کمرے میں لمحہ بہ لمحہ بڑھتی ہوئی کپکپاہٹ کے با وجود وہ آکسیجن لینے کے باعث خود کو قدرے بہتر محسوس کررہی تھی سو اس نے سلنڈر کی ناب بند کرکے ماسک کو ہٹادیا۔

اب کے برس بھی سردیوں میں گیس ہیٹر کا آسرا نہیں تھا کہ گیس صبح کی گئی آدھی رات کو آتی تھی۔ پچھلی سردیوں میں جب چھوٹی اورفرخی دونوں اس کے پاس موجود تھیں تب بھی گیس کا یہی معمول تھا لیکن ابھی شوگر چھوٹی کی جان کا روگ نہیں بنی تھی لہٰذا وہ رات گئے گیس آنے پر کھانا وغیرہ بنا دیا کرتی تھی اورکچھ دیر کے لیے ہی سہی ماں اور بڑی بہن کے کمرے کو جسے وہ مذاق میں جنرل وارڈ کہا کرتی تھی، گرم کر یا کرتی تھی لیکن ان سردیوں میں گیس کی سپلائی اور پریشر کو جانے کیا موت آئی تھی کہ رات میں اگر ہیٹر جلنے پر آمادہ ہو بھی جاتا تو کچھ دیر میں پھپھکے مار کر بجھ جاتا تھا۔ دوسری طرف اس کے نیم جان پھیپھڑوں کے لیے ٹھنڈی راتوں کو سہارنا اب ممکن نہیں رہاتھا۔ وہ یہ والی سردیاں نکال ہی جاتی اگر اسے گرم راتیں نصیب ہوتیں لیکن کون رات بھر ہیٹر پر نظریں جمائے رہتا کہ کب وہ پھپھکا مار کر بجھے اور وہ گیس کی سوں سوں پر کان جمائے، تیلیاں جلا جلا کر گیس کی بحالی کا یقین کرتا رہے۔

یہ گھر جو کبھی بھرا پرا تھا اب یہاں ماں کے علاوہ فقط ایک چھوٹی ہی رہ گئی تھی لیکن وہ بھی اتنی کھیچل کے قابل کہاں کہ راتوں کو اٹھ کر ٹھنڈ میں ہانڈی چولہا بھی کرے اور رات رات بھر ماں کے کمرے میں گیس ہیٹر کی نگرانی بھی کرتی رہے۔ ماں کی سخت راتیں شروع ہوئیں تو چھوٹی نے کہا بھی کہ وہ ماں کے کمرے میں سوجایا کرے اور گیس کی سپلائی کا دھیان رکھے لیکن ماں نے اس کی بے آرامی کا سوچ کر سختی سے منع کر یاتھا۔

پار سال فرخی بھی ٹھنڈ کے مارے پچھلی سردیاں نہ نکال پائی تھی اور اسے بھی معلوم تھا کہ اس کے اور بڑی کے درمیان بس ایک ٹھنڈے موسم کا فاصلہ ہی رہ گیا ہے۔ یوں بھی بچتی بھی کیسے کہ بڑی اتنی اچھی کہاں کہ اسے جینے کے لیے اکیلا چھوڑ دے۔
اسے استخوانی ہاتھوں کی پشت پر ابھری رگوں کو سہلاتے ہوئے فرخی کا خیال آیا تو اس کا گلا رندھ گیا۔ اس نے کروٹ بدل کر اس کی خالی چارپائی پر نظریں جمادیں جہاں اس کا بیمار ہیولا اس کی دوسراتھ کو ابھی تک موجود تھا۔

فرخی بہادری کا بوجھ اٹھائے جینے کے لیے پیدا ہوئی تھی کہ اسے عمر بھر نفی کو اثبات میں بدلنے کی لا حاصلی میں مبتلا رہنا تھا اور پھر ایک روز چپ چاپ مر جانا تھا۔ سب سے بڑی نے اپنے سے بعد پیدا ہونے والی بہنوں کے حصے کا دودھ بھی چوس لیا تھا۔ اس کے بعد پیدا ہونے والی دو بہنیں بھینس کے کھلے دودھ کو سہار نہ سکیں اورپانچواں برس لگنے سے پہلے ہی آنکھ مچولی کھیلتے کسی اور دنیا میں جا چھپی تھیں۔ فرخی اگر ماں کے دودھ سے محرومی اور بیماریوں کے پے در پے حملوں کے با وجود اگر پانچویں سے چھٹے سال میں داخل ہوئی تو یہ اس کی جنگجو طبیعت کے باعث ہی ممکن ہوا تھا اور یہ بھی اسی کا جگرا تھا کہ وہ جینے کے مخدوش امکانات کے با وجود موت سے لڑتے بھڑتے عمر کی چار دہائیاں نکال گئی تھی۔  

اس کے بعد آچھو اس دنیا میں آیا تو ماں کا دودھ بھی رواں ہو گیا تھا اور لڑکیوں والے گھر کی سوگوار چھاپ بھی اس گھر سے مٹ گئی تھی۔ فرخی کا خدا کے بعد پہلا جھگڑا آچھو سے ہی ہونا تھا کہ ماں نے جو لاڈ فرخی کے لیے سنبھال رکھے تھے وہ آتے ہی اس نے چرا لیے تھے جب کہ دوسرے جھگڑے کا فریق اس کا باپ تھاجو اپنے دل میں عورت ذات کے لیے دائمی تحقیر رکھتا تھا اور بیوی ہو یا بیٹی، انہیں ایک محفوظ فاصلے پر رکھنے کا قائل تھا سو ایک روز تنہا تنہا ننگے پاؤں مٹی میں کھیلتے وقت اس نے آچھو کو باپ کے کندھے پر سوار دیکھا تو طے کرلیا کہ باپ کے ساتھ اس کا جھگڑا تاعمر چلنے والا تھا۔

فرخی نے خود کو تسلیم کروانا تھا سو پرائیویٹ میٹرک کرتے ہی اس نے محلے کے ایک سکول میں پڑھانا شروع کر دیا اور ایف اے کے بعد اسے بھاگ دوڑ کرکے ایک میونسپل سکول میں ملازمت بھی مل گئی۔ تب وہ اپنی ماں کی بیٹی ہوا کرتی تھی اور اس کے ساتھ مل کر گھر کو گھر جیسا بنانے کے پرجوش خواب دیکھا کرتی تھی۔ سب سے بڑی کا بوجھ کچی عمر میں ہی اتارا جاچکا تھا سو باپ کی ازلی لا تعلقی کے باعث اسے اس گھر کے سرپرست کی حیثیت بھی حاصل ہو گئی تھی۔ انہی دنوں اس نے کمیٹی ڈال کر بھائی کو پہلی سائیکل خرید کر دی تو وہ اپنے سے چھوٹوں کے باپ کے طور پر بھی تسلیم کرلی گئی لیکن ابھی اور تسلیم کیا جانا باقی تھا سو اس نے چولہا جھونکتے جھونکتے پرائیویٹ بی اے کے بعد بی ایڈ اور ایم اے تک کرلیا۔ وہ ابھی اور سربلند ہوتی کہ اچانک اسے لال جوڑا پہنا کر اپنے باپ جیسے ایک مرد کے حوالے کر یا گیا اور اماوس کی طرف اس کا سفر شروع ہو گیا۔ اب اس کا ماں سے بھی جھگڑا شروع ہو گیا کہ اس کے خوابوں کے قتل پر سب سے زیادہ وہی خوش تھی۔

دو ہی سال بعد وہ بیوہ ہوکر گھر واپس آ گئی تھی لیکن اب وہ کوئی اور تھی، اپنے خوابوں سے محروم ایک لا تعلق سا وجود۔ تب اس نے اپنے سائے کو سہیلی مانا اور اپنی کھوئی ہوئی ملازمت پر واپس آ گئی۔ اسے خود کو منوانے سے محروم کر یا گیا تھا سواس نے خاموشی اور بیماری میں پناہ ڈھونڈ لی تھی اور پھر ایک روز ماں سے لڑتے بھڑتے اس نے اپنا علم بغاوت بغل میں دابا اور کفن اوڑھ لیا۔
ماں کو اس سے بس یہی ایک شکوہ تھا کہ اس نے ماں سے جھگڑا پالنے کے بعد ایک بار بھی اس کے دل میں جھانکنا ضروری نہ سمجھا تھا۔ وہ اپنی کمزوریوں کی ماری ماں کے لیے بہادری کی علامت تھی اوراس کے بعد اب جینے کے لیے کچھ رہ بھی نہیں گیا تھا۔  

یخ بستہ موت کے ماحول سمے اس کے پاس چھوٹی نہ سہی فرخی تو موجود تھی سو وہ خالی چارپائی کو مخاطب کرتے دل میں مدتوں سے جمع بخار کو ہلکا کرتی رہی۔ فرخی جب زندہ تھی تو جانتی تھی، سب کچھ، ایک ایک نقطہ، ایک ایک شوشا تک سو جب شنید کے قدیم بحران کی ماری ما ں جس نے سہ جانے اور چپ رہنے کی تربیت پائی تھی جب کبھی روح کی گہرائی تک بھر جاتی تو فرخی کے سوا کون تھا جو اس کی سنتا لیکن اپنی ضیق النفسی سے ہلکان فرخی کو بھی کہاں شنید کی تاب تھی سو وہ جھلا اٹھتی تھی اور کوئی تلخ بات کرکے ماں کو مزید زخمی کر یتی تھی لیکن آج وہ اپنی خالی چارپائی پر ہیولا سی پڑی، نا گواری دکھائے بغیر اسے صرف دیکھ سکتی تھی اور سن سکتی تھی۔

تھوڑی دیر پہلے ٹھنڈ جو اس کی برداشت میں تھی، دھیرے دھیرے برداشت سے باہر ہونے لگی تھی حالاں کہ ابھی ٹھیک سے رات کانصف بھی نہیں ہوا تھا۔ اس کے اوپر ایک موٹا لحاف تھا جس پر ایک کمبل تھا لیکن ٹھنڈ تھی کہ سات تہوں میں بھی گھسی جارہی تھی۔ اس نے ناک تک لحاف کھینچا اور کپکپاتے ہوئے تھوڑا اور اپنے اندر سمٹ گئی۔

اس نے یاد کیا کہ ایک بار وہ چھوٹے کے ساتھ مری گئی تھی۔ سردیوں کا جوبن تھا لیکن اس میں ابھی گئی جوانی کا اتنا زور ضرور باقی تھا کہ ٹھنڈ کی شدت کو سہار سکے۔ اس نے یونہی باتوں میں اس حسرت کا اظہار کیا تھا کہ زندگی میں اتنا کچھ دیکھنے کے با وجود اس نے کبھی برف پڑتے نہیں دیکھی۔ چھوٹے کے پاؤں میں تو پہلے ہی بلیاں بندھی تھیں، یہ سننا تھا کہ جھٹ ماں کو جھپی ڈال چٹاخ پٹاخ دو پاریاں لیں اورمری جانے کا پروگرام بنا لیا۔ اگلے ہی روز اس نے ایک دوست سے اس کی کھٹارہ کار مانگی اور ناں ناں کرتی ماں کو کار میں لاد یہ جا اور وہ جا ( ہائے چھوٹے!۔ ۔ ۔ ماں صدقے، جانے تو اس وقت کہاں اور کس حال میں ہو گا؟ )

وہ رات مرادوں والی تھی کہ اس رات مری میں خوب برف پڑی۔ جب برف کے گالوں نے کھڑکی کے شیشوں کو نرمی سے تھپتھپایا تو اس نے بھاگ کر کھڑکی کھول دی۔ اس کے سامنے طلسمی دھاگوں سے بنا ہوا ایک منظر پھیلا ہوا تھا، مال روڈ کے کالے آسمان کے بیک ڈراپ میں روئی کے چھوٹے چھوٹے گالے اترتے اور زرد روشنیوں کی مہین کرنوں میں پروئے جاتے تھے۔ اس کی آنکھوں نے اتنا بھرپور حسن کبھی نہ دیکھا تھا سو وہ پاگل ہو اٹھی۔ اس نے پلٹ کر چھوٹے کو دیکھا جو دن بھر کی ڈرائیونگ سے ماندہ سویا پڑا تھا، وہ سدا کی ڈراکل اسے سویا چھوڑ کر اکیلی ہی سیڑھیاں اتر کر مال پر نکل گئی۔ وہاں اس جیسے اور بھی بہت تھے، گرم میدانوں کے باسی جو برف دیکھنے کی چاہ میں اپنے گرم بستروں سے نکل پڑے تھے اور اب مارے خوشی کے چیخیں مار رہے تھے اور ایک دوسرے پر برف کے گولے پھینک رہے تھے لیکن وہ وہاں کسی کو نہیں دیکھ رہی تھی۔

وہ سحر زدہ تھی اور اس کی زبان پر سبحان تیری قدرت کا ورد تھا۔ اس نے دل ہی دل میں چھوٹے کا شکریہ ادا کیا اور رات کے کالے آسمان سے برستے یخ بستہ نور کو اپنی سانسوں میں اتارتی جانے کس سمت چل پڑی۔ یہ تو تب پتا چلا کہ ٹھنڈ کیا ہوتی ہے جب برف اترنا بند ہوئی اورتیز ہوا نے اس کی جسم میں چھریاں اتارنا شروع کر یں۔ سو ایک ٹھنڈ وہ تھی اور ایک یہ، مگر وہ بھی کیا تھی کہ اس ظالم کی دل آویزی جینے کی امنگ سے بھری ہوئی تھی، ٹھنڈ تو آج تھی جو اپنے ساتھ موت کا سندیس لے کر آئی تھی۔

کیسے ممکن تھا کہ مری کی ٹھنڈ یاد آئے اور چھوٹے کی یاد نہ آئے، اس بہانے اسے تو آنا تھا اور دھڑلے سے اس کے دل کو روندتے ہوئے چلے جانا تھا۔ سو جانے کتنی دیر وہ اپنا دل تھامے، بھیگی آنکھوں چھوٹے کے خیال سے گھائل ہوتی رہی۔

وہ چھوٹی سے بڑا اور باقیوں سے چھوٹا تھا اور ان آٹھ بچوں میں سے پانچویں نمبر پر تھا جو اپنی زندگی کا پانچواں برس پورا کرنے کے بعد بھی زندہ رہے تھے۔ وہ بڑا ہو چکنے پر بھی چھوٹا کہہ کر بلایا جاتا رہا جس پر وہ ہمیشہ طیش میں آیا کرتا تھا، اس کا دوسرا معروف نام مٹھو تھا۔ وہ زور لگا ہارا لیکن کسی نے اسے اصل نام سے پکارنا ضروری نہ سمجھا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ اصل نام سے پکارے جانے کا مطلب اسے باعزت فرد تسلیم کیا جانا تھا اور پیچ در پیچ وجوہات کی بنا پر کوئی اسے برابری دینے پر آمادہ نہیں تھا۔ وہ خود بھی اس کے اصل نام کے ساتھ ساتھ اسے مٹھو پکارا کرتی تھی لیکن ایک فرق کے ساتھ کہ جب وہ مٹھو کہتی تو اس کے مُنھ میں شیرینی گھل جاتی تھی، وہ بھی جانتا تھا لہٰذا اس نے کبھی ماں کا برا نہیں منایا۔

چھوٹا ایک طرح کا پرابلم چائلڈ تھا۔ اس کی کبھی باپ سے بنی نہ بہن بھائیوں اور نہ کسی اور سے کہ وہ ایک باغی روح تھا جو تراشیدہ راستوں پر سر جھکائے چلنے کی بجائے اپنا راستہ خود بناتا تھا اور اکثر مُنھ کی کھاتا تھا۔ اس سے پہلے اس گھر میں بغاوت کا علم فرخی کے ہاتھ میں تھا لیکن اس کی بغاوت نظریاتی کی بجائے شخصی بنیادوں پر استوار تھی، چھوٹے کی بغاوت اس کے بر عکس تھی اور لا محدود تھی۔ وہ ضدی تھا، سرکش تھا، اپنی کرنے والا تھا، بہت خامیاں تھیں اس میں لیکن اس کی شخصیت کا خام پن اسے نظر انداز کیے جانے کی اہانت سے جنم لیتا تھا، وہ یہ بات سمجھتی تھی یہی وجہ ہے کہ اس گھر میں وہ چھوٹے کے ہونے کا واحد جواز تھی۔
وہ جو بچپن سے تنہا تنہا رہنے کا عادی تھا، جانے کب اور کیوں اس نے اپنی ذاتی بولی ایجاد کر لی تھی اور دوسروں کی بولی بھول گیا تھا، نتیجہ یہ کہ نہ وہ کسی کی بات سمجھتا نہ کوئی اس کی سمجھنے پر تیار ہوتا۔ وہ گھر میں اور گھر سے باہر بیک وقت بے شمار لوگوں کے ساتھ ٹکراؤ کی حالت میں تھا، اسے سسٹم، مذہب اور سماج سمیت ہر ایک کے ساتھ مسئلہ تھا، وہ بہت سی اندھی دیواروں کے ساتھ ٹکرایا پھرتا تھا جس میں وقت کے ساتھ شدت ہی شدت تھی۔

اکثر گھر میں یہ ٹکراؤ جھگڑے کی صورت بھی اختیار کرلیتا جس میں ہمیشہ اسے اپنی سادگی کے ہاتھوں مات ہوتی اور وہ اس کی مات پر دکھی ہوجاتی۔ وہ بھی چھوٹے سے زیادہ مختلف نہیں تھی۔ فرق یہ تھا کہ وہ جنم جنم سے ہاری ہوئی فوج کی سپاہی تھی اور عادی تھی اپنی بغاوت کو خود کچل دینے کی جب کہ چھوٹا اپنی ذات کا پرچم تھام کر چلتا اور بیک وقت سب کے ساتھ آمادہ پیکار رہتا۔ وہ دل سے چاہتی تھی کہ چھوٹا اس کے زیادہ قریب رہے اسی لیے وہ بچپن سے ہی اس کے بازار کے پھیروں اور سفروں کا ساتھی تھا۔ اس کی اولاد میں سبھی الگ الگ وجوہات کی بنا پر ٹوٹے پھوٹے کھلونے تھے، اپنی خام چالاکیوں کے با وجود ہارے ہوئے اور زخم خوردہ تھے۔ وہ سب کا مرہم بننا چاہتی تھی لیکن ایک چھوٹے کے سوا کوئی اس کا طلبگار ہی نہیں تھا۔

وہ چھوٹے کی باغیانہ طبیعت سے ہمیشہ خوفزدہ رہی تھی۔ جب کبھی وہ بغیر بتائے راتوں کو غائب ہو جاتا تو وہ اس پر خوب بگڑتی لیکن وہ بھی ایک ڈھیٹ کہ ہر بار اسے لاڈیاں کر کے ٹھنڈا کر یتا لیکن کرتا وہی جو اس کا من چاہتا۔ آخری دنوں میں اس کی بھائیوں کے ساتھ کچھ زیادہ ہی تُو تُکار ہونے لگی تھی۔ وہ ڈرے ہوئے تھے کہ چھوٹا خفیہ والوں کی نظروں میں آ چکا ہے اور کسی بھی وقت غائب کر دیا جائے گا، چھوٹا اس بات پر برہم ہوتا کہ انہیں اس کی نہیں اپنی سلامتی کی فکر تھی۔

ایک بار ایسا ہوا بھی کہ چھوٹا بہت سے دنوں کے لیے غائب ہو گیا۔ جس روز وہ گیا اس رات بہت سے سادہ کپڑوں اور درشت چہروں والے کچھ لوگ گھر میں گھس آئے اور سارے گھر کو الٹ پلٹ کر چلتے بنے۔ بہت دنوں بعد چھوٹا واپس آیا تو وہ ماں ہونے کے با وجود پہلی نظر میں اسے پہچان نہ پائی تھی۔ اس کا رنگ سیاہ پڑچکا تھا اور نچلے ہونٹ میں مسلسل کپکپاہٹ اتر آئی تھی۔ اس نے اسے بہت کریدا لیکن جواب میں ایک پھیکی سی مسکان کے سوا کہنے کو اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔

وہ جب سے واپس آیا تھا اس کی آنکھوں میں ایک ہولا دینے والی ویرانی بس گئی تھی۔ وہ چلتا تو یوں احتیاط سے کہ کہیں اس کا وجود بکھر نہ جائے۔ جب اپنی نوکریاں اور عزت بچانے کی فکر میں مبتلا بھائیوں نے اسے گھر سے چلے جانے کا کہا تو وہ ماں کے پاس آیا اسے خوب خوب پاریاں کیں اور پھر اپنا سفری بیگ لے کر گلی میں اتر گیا۔

بہت دنوں بعد خبر ملی کہ اس نے خود کو جلا وطن کر دیا تھا اور سرحد پار کرکے نا معلوم دیسوں کو سدھار گیا تھا۔ وہ کبھی کبھار ماں کو خط لکھ کر اپنی خیر خبر دے دیا کرتا تھا لیکن یہ نہ بتاتا کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔ گھر میں ایک فرخی تھی جو چھوٹے کے لیے دکھی تھی لیکن کب سے ماں کے ساتھ سہیل پنا ختم کرچکی تھی جب کہ چھوٹی دوسرے شہر میں ہوا کرتی تھی سو وہ اپنا غبار دل میں چھپائے تکیے کو سینے کے ساتھ بھینچ کر رو لیا کرتی تھی۔ جب چھوٹے کی جانب سے خاموشی کے وقفے میں طوالت آئی تو اس نے کرلا کرلا کر بڑوں کو اس کا پتا چلانے پر مجبور کیا، انہوں نے تو خیر کچھ اور بتایا لیکن اسے پتا چل گیا کہ وہ کسی برفیلے ملک کی جیل میں ہے اور اسے باہر نکالنے والا کوئی نہیں۔

وہ دیر تک بے حس سی پڑی آکسیجن کی سوں سوں سنتی رہی۔
’’کیا میں اسے دیکھے بغیر ہی چلی جاؤں گی؟‘‘

اس کے دل پر کٹار سی چلی جس سے ا سے اپنی پیش گفتہ موت کے خلاف بغاوت کا جواز مل گیا۔

تب اس پر ایک گیان اترا اور اس نے ماسک اتار کر یخ بستہ ہوا میں گہرا سانس کھینچا۔

وہ اپنے مٹھو کو ایک نظر دیکھے بغیر کیسے جاسکتی تھی۔

اسے ضرور آج رات جاگ کر گذارنا تھی تا کہ وہ اس صبح کا سورج دیکھنے تک زندہ رہے جس نے چھوٹے کی واپسی کی نوید لے کر طلوع ہونا تھا۔

اس نے ایک عزم کے ساتھ زور لگا کر لحاف اپنے گرد کسا تو اس زور آزمائی کے نتیجے میں اسے تھوڑی دیر کے لیے پھر سے گیس کا ماسک مُنھ پر چڑھانا پڑا۔

ایک کمبل اگر اور مل جائے۔ اس نے یاد کیا کہ کیا گھر میں کوئی اور کمبل بھی موجود ہے۔ دماغ پر تھوڑا زور دینے پر یاد آ گیا کہ لحافوں والی پیٹی کے دائیں کونے میں کھیسوں کی تہہ کے نیچے پرانے سویٹروں کی اون سے بنا جانے کن زمانوں کا کمبل دہرا ہوا پڑا ہے۔ اگلا مسئلہ یہ کہ چھوٹے سے سٹور میں دھری پیٹی کو اس وقت کون کھولے اور کون کمبل نکال کر اس پر اوڑھائے۔ چھوٹی بیچاری دن بھر کی ماندی گہری نیند سوئی پڑی ہو گی، وہ خود جاگے تو جاگے کوئی اور تو اسے نہ جگائے۔
کیا کیا جائے؟

تبھی ایک دھڑاکے سے دروازہ کھلا اور کمرہ سائبیریا سے آنے والی ہواؤں سے بھرگیا۔ اب کے کھانسی جو چھڑی تو وہ کھانستے کھانستے بے دم ہو گئی۔ اسی بے دم ہونے کی حالت میں وہ زندگی کی دہلیز سے باہر جاپڑی تھی۔ جانے کتنے پہر وہ ہوش سے بیگانہ پڑی رہی لیکن جب رفتہ رفتہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی تو دیکھا کہ رات وہیں کی وہیں تھی اور ہوائیں شائستگی سے دروازہ بند کرکے اپنے وطن لوٹ چکی تھیں البتہ ایک کاٹ تھی جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئی تھیں۔ اس نے دیکھا کہ کھانسی کے دورے کے دوران اس کے مُنھ سے لوتھڑا سی بلغم نکل کر بستر پر جم گئی تھی۔ اس نے ایک کراہت اور شرمندگی کے احساس سے رومال نکال کر بستر کو رگڑ رگڑ کر صاف کیا اور سلنڈر کی ناب کھول کر مُنھ پر ماسک چڑھا لیا۔

اب کے اسے غنودگی نے اپنی آغوش میں لیا تو قدرے راحت سی محسوس کرتے ہوئے دماغ پھر سے آوارگی پر نکل کھڑا ہوا۔

’’”آچھو تو شاید سویا پڑا ہو گا اس وقت، جانے مرن جوگی فرزی اس کا خیال بھی رکھتی ہے یا نہیں۔ جب وہ پچھلی بار آیا تھا تو چوچا سا مُنھ نکالا ہوا تھا اس نے۔ اب کوئی اسے کیسے سمجھائے کہ اتنا غم نہ کھایا کرے، دھی پتر نصیب کی بات ہے، اللہ کے معاملے اللہ پر چھوڑ دے لیکن جو سب کو سمجھا کر بیٹھے، اسے کون سمجھائے؟۔ ۔ ۔ اور وہ اجُّو؟شوہدیا تو ایک بار ماں کے پاس تو آ پھر دیکھ ماں کیسے تیرا دل ٹھنڈا کرتی ہے۔ پر غلطی بھی تو میری ہے، میں نے ان دونوں پر سوتن جیسی بیویاں لاد دی ہیں اور ان کی نکیل ان کمینیوں کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ “‘‘

اس کا لحاف سے باہر نکلا ہاتھ برف سا ہوا تو اس نے اندر کھینچ کر رانوں میں دبا لیا۔

’’”وے آچھو، وے اجو! بھیڑیو تمہیں اپنے نکے ویر کا ذرا بھی خیال نہیں؟تم دونوں اتنی شان والے ہو، اتنے بڑے بڑے لوگ تمہاری میل جول والے ہیں، اگر تم دونوں بھاگ دوڑ کرو تو مٹھو کا اتا پتا کیوں نہ چلے اور وہ واپس کیوں نہ آئے؟۔ ۔ ۔ ہیں وے! سنا تم نے کہ نہیں؟ اس بدنصیب پردیسی کو پردیس سے لانے کے لیے زمین آسمان ایک کیوں نہیں کرتے ہو؟۔ ۔ ۔ فرخی تو گئی، میری ہک کا ساڑ، خون تھوکتے تھوکتے مرگئی نصیبوں جلی، ماں سے ملنے نہیں آتے تو نہ آؤ کبھی اس کی قبر پر دو پھول چڑھانے ہی آجایا کرو۔ اور وہ تمہاری بیویاں، نخرے پٹیاں، اللہ پوچھے گا انہیں۔ ۔ ۔ اور وہ سب سے بڑی، خیر سے میری پہلی اولاد۔ ۔ ۔ دیکھو تو بھلا ہزار میل کا فاصلہ بھی کوئی فاصلہ ہے؟۔ ۔ ۔ گھر میں اس کا دل کیسے لگتا ہے، اس کے کلیجے میں تڑپ کیوں نہیں اٹھتی؟ ماں نے کوئی سدا تو نہیں اس کے انتظار میں بیٹھے رہنا۔ بس مہینے دو مہینے خط لکھ دیتی ہے کہ اخے! شوہر نہیں ملنے دیتا۔ کوئی پوچھے تم اس سے پوچھے بنا دبئی تک تو ہو آتی ہو، چوری چھپے ماں سے ملنے نہیں آسکتی ؟ شوہدی کسے جہان دی نہ ہووے تے۔ “!‘‘

اس کی یاد کی دھندلی پڑتی سکرین پر ایک ایک کرکے نمودار ہوتی تصویروں اور نا ختم ہونے والے فاصلوں کی تلخی نے اس میں کڑواہٹ بھردی۔

’’اللہ میاں جی! میں کیوں اتنی بدنصیب ہوں کہ میری کوکھ کے جنموں کو تم نے اتنی دور بسادیا کہ میں ان کی شکلوں کو ترستے ترستے اس دنیا سے چلی جاؤں گی۔ وہ آئیں گے تو ضرور، دوڑے دوڑے آئیں گے لیکن جب میں ہی نہ رہی تو وہ آئیں آئیں نہ آئیں نہ آئیں۔ ‘‘
کھانسی کے اگلے دورے کے دوران جب وہ حواس سے بیگانہ ہوئی تو اچانک ایک لمحہ کوندا سا لپکا اور تا افق پھیلتا چلا گیا۔ اس ایک لمحے کے پھیلاؤ میں اس نے دیکھا کہ وہ صحن میں نہلائی دھلائی پڑی ہے اور اس کے گرد بہت سے لوگ اکٹھے ہیں، عورتیں غم سے نڈھال ہو رہی ہیں اور ہر ایک کے چہرے پر سخت سوگواری برس رہی ہے۔

ایک جانب آچھو کسی کے ساتھ گلے لگ کر پرسا لے رہا ہے تو دوسری جانب اجو آستین سے آنکھیں پونچھتے ہوئے ٹینٹ سروس والوں کے ساتھ معاملہ طے کررہا ہے۔ وہیں کہیں فرخی بھی دو گھڑی جی اٹھنے کی مہلت لیے آئی بیٹھی ہے اور پائنتی بیٹھ کر اپنی آنکھیں ماں کے ٹھنڈے تلووں سے مل رہی ہے۔ چھوٹی بھی وہیں کہیں عورتوں میں گھری بیٹھی ہے کہ اتنے میں باہر رکشہ رکنے کی آواز آتی ہے، یہ سب سے بڑی ہے جو اپنے جوان بچوں کا سہارا لیے غم کی تصویر بنی اندر داخل ہوتی ہے، اس کے چھوٹے بہن بھائی اسے دیکھتے ہیں تو واویلا کرتے اس کی طرف بڑھتے ہیں اور اسے گھیر کر ٹھسکنے لگتے ہیں۔

اس منظر میں اس کے لیےکچھ نہیں دھراسو وہ نظریں گھماتی ہے۔ ان بہت سے لوگوں میں اسے چھوٹے کی تلاش ہے۔ وہ خوشی سے نہال ہوجاتی ہے جب دیکھتی ہے کہ وہ بھی موجود ہے اور ایک کونے میں سمٹا ہوا سر کو جھکائے کسی گہری سوچ میں کھویا ہواہے، اگلے لمحے یہ دیکھ کر اس کا دل بیٹھ جاتا ہے کہ چھوٹے کا گلا کٹا ہوا ہے اور اس میں سے رستے خون نے اس کی قمیض کو سرخا رکھا ہے اور پھر وہ یہ دیکھ کر موت در موت مرجاتی ہے کہ کوئی چھوٹے کو اپنے غم میں شریک نہیں کر رہا جیسے وہ کوئی اجنبی ہو اور یونہی رسم دنیا نبھانے کے لیے کہیں سے اٹھ کر چلا آیا ہو۔

’’یا اللہ، ان لوگوں کی نفرتیں اتنی پکی کیوں ہیں، میرے دودھ کی مٹھاس ان کے باپ کی کڑواہٹ پر کیوں غالب نہ آسکی؟‘‘
بچوں کے باپ کا خیال آتے ہی اس نے یہاں وہاں دیکھا لیکن ہمیشہ کی طرح وہ ان میں نہیں تھا، وہ ضرور آیا ہو گا فرخی کی طرح دو گھڑی جینے کی مہلت پاکر۔ اس نے اس کی تلاش میں باہر نکل کر دیکھا تو وہ سچ میں موجود تھا لیکن گلی میں بچھی کرسیوں پر بیٹھا ہوا، اپنے چہرے پر دائمی نا راضگی لیے، سب سے لا تعلق جیسا کہ وہ زندگی بھررہا تھا۔ اسے وہاں دیکھ کر اس کا دل ڈوب سا گیا اور وہ واپس اپنی چارپائی کے پاس آموجود ہوئی۔

بس ایک لمحے بھر کا پھیلاؤ تھا جو کھانسی کے دوران اس کے حواس مختل ہونے پرایک کوندا سا لپکا اور اپنے پیچھے ایک گہری تھکن چھوڑ گیا تھا۔ وہ حواس میں واپس آئی تو اوندھے مُنھ پڑی تھی، اس نے خود کو جتن سے سیدھا کیا اوربستر پر ڈھ سی گئی۔ کھانسی کے دورے کے دوران اس کی بہت سی جان خرچ ہو چکی تھی لیکن دماغ تھا کہ پہلے کب ایسے جگا ہو گا۔ اس نے مصنوعی آکسیجن کی مدد سے تھوڑا سنبھالا لیا تو فیصلہ کیا کہ جیسے بھی ہو چھوٹی کو بلا لیا جائے۔ وہ آئے تو اس پر کمبل ڈال دے، گرم گرم یخنی پلا دے، لیکن وہ آئے تو کیسے؟ اس کی پکار تو دہلیز پار کرنے سے رہی اورجسم میں اتنی جان نہیں کہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جائے اور اسے جھنجھوڑ کر جگادے۔

اس نے پلٹ کر گھڑی کی طرف دیکھا، سرخ چمکتے ہوئے ہندسے گھنٹہ بھر آگے بڑھ چکے تھے، یعنی رات ابھی بہت سی باقی تھی۔ تب اسے خیال آیا کہ ایسا نہ ہو کہ جب چھوٹی رات کے کسی پہر آئے تو کچھ بھی نہ باقی رہا ہو اور وہ ساری عمر اس افسوس میں گذار دے کہ اس نے ماں کو اکیلا کیوں چھوڑ دیا تھا۔

’’نہیں، یہ چھوٹی کے ساتھ ظلم ہو گا۔ آخر ایک وہی تو ہے جو دو ڈھائی سال سے میرے گوڈے کے ساتھ لگی رہی ہے، کیا میں اسے عمر بھر کے افسوس کے حوالے کرکے جاؤں؟۔ اسے بلانا تو ہو گا اور پھر کیا پتا وہ آئے اور ہونی کوٹال دے۔ ہونی کو کیوں نہیں ٹالا جا سکتا کہ کیا پتا آج رات کے بارے میں جو میں نے سوچ رکھا تھا وہ نرا وہم ہی ہو۔ ‘‘

اس کے دماغ نے زندگی کے امکان کو تلاش کیا تو وہ جینے کے لالچ میں آ گئی۔

’’اگر میں نہ رہی تو یہ گھر کیسے چلے گا؟‘‘

کچھ بھی ہو اسے زندہ رہنا ہو گا کہ ابھی بہت کاج پڑا تھا جو صرف وہی کرسکتی ہے۔

کمرے کی سیال دیواروں پر کٹیلی ہواؤں کے ایک اور جھکڑ نے حملہ کیا تو اسے لگا جیسے وہ موت سے پہلے مرجائے گی اور آسانی سے نہیں، جیسا اس نے خود کی تسلی کے لیے سوچ رکھا تھا، بل کہ شاید کسی جھکڑ کے ایک دھکے سے وہ سرد جہنم میں جاگرے گی اور اس کی اتھاہگہرائیوں میں برہنہ بدن برف کے کوڑے کھانے کا عذاب اس پر ہمیشو ہمیش کے لیے نازل ہو جائے گا۔

اب کے اس کی سانس اکھڑی تو اس نے چاہا کہ لحاف میں سے ہاتھ نکال کر آکسیجن والا ماسک چڑھالے لیکن ہاتھ نے جنبش کرنے سے انکار کر یا، انگلیوں کی پوروں سے کندھے تک اس کے دائیں بازو میں اکڑاؤ اتر آیا تھا، شاید اس لیے کہ وہ کافی دیر تک دائیں جانب کروٹ لیے لیٹی رہی تھی۔ اس نے ہمت مجتمع کرکے کروٹ لی اور چت لیٹ گئی پھر اس نے بائیں ہاتھ کی مدد سے دائیں ہاتھ کو اٹھایا اور رانوں کے درمیان دبالیا جو اس کے جسم میں واحد ایسی جگہ تھی جہاں قدرے حدت باقی تھی۔

دائیں بازو کی رگوں میں خون کی روانی ہوئی تو اس ہاتھ کی انگلیاں جنبش کرنے کے قابل ہو گئیں اور اسے اطمینان ہوا کہ ابھی اس کا بازو مردہ نہیں ہوا ہے لیکن کب تک؟ کمرے کی سیال دیواریں کٹیلی ہواؤں کے پے در پے حملوں کو روکنے میں نا کام ہو چکی تھیں۔ کچھ دیر گذرتی کہ وہ سردی سے اکڑ کر مرگئی ہوتی۔ وہ جو اپنے نا گزیر ہونے کا سوچ کر اس میں پھر سے جی اٹھنے کا لالچ پیدا ہوا تھا اب موت کے خلاف اس کی مدافعت کا بہانہ بن گیا تھا۔

’’پیٹی میں جو کچھ پڑا ہے اگر اس پر لاد دیا جائے اوریخنی یا قہوے کا ایک گرما گرم کپ پینے کو مل جائے تو جینا کیا مشکل ہے۔ ‘‘، اس نے سوچااور پھر سے چھوٹی کو بلانے کا حیلہ کرنے کا سوچا۔

’’چلو آواز تو دی جائے، کیا پتا وہ خود یا اس کا خوند اتفاق سے یہیں کہیں ہوں۔ ‘‘

شاید یہ اتفاق ہی ہو کہ جب وہ یہ سوچ رہی تھی اس کے کمرے سے ملحق ٹی وی لاؤنج میں کوئی کھٹ پٹ سی سنائی دی اور ایک نا گوار خیال نے اس کے مُنھ کی کڑواہٹ میں کچھ اور اضافہ کر یا:

’’اوہ! تو وہ پہلے سے ہی یہاں منڈلا رہا ہے۔ ‘‘

چھوٹی کا شوہر خاندان بھر کا چہیتا تھا کیوں کہ دوسروں کے خیال میں اس نے پہلے بڑی بہن اور پھر ماں کی خاطر قربانی دی تھی اور دوسرے شہر سے اس شہر میں اپنا تبادلہ کرالیا تھا تا کہ چھوٹی گھر کو ڈسٹرب کیے بغیر ماں کے پاس رہ سکے۔ اس نے کیا بھی یہ کہ سارا بندوبست اپنے ہاتھ میں لے کر گھر کا بڑا بن بیٹھا تھا۔ ماں کی دوا دارو، گھر کے چھوٹے موٹے مسائل، آنے جانے والوں کی خاطر داری اور گلی محلے میں گپ شپ کے تعلقات، اس نے وہ سب کام اپنے ہاتھ میں لے لیے جو ایک مرد ہی کرسکتا تھا اور اس سیانپ سے کہ گھر واقعی گھر جیسا دکھنے لگا تھا۔

اس کی اس لا زوال قربانی نے اپنے اپنے محفوظ ٹھکانوں میں بیٹھے چھوٹے بڑوں کو ممنون احسان کررکھا تھا۔ خاص طور پر بڑا آچھو تو اپنے چھوٹے بہنوئی کا گرویدہ تھا کہ اگر وہ نہ ہوتا تو اس کے احساس ندامت میں جانے کتنا اضافہ ہو گیا ہوتا۔ خود ساس کے ساتھ بھی اس کا رویہ عام طور پر فدویانہ نہیں تو ہم دردانہ ضرور تھا۔ دور کا رشتے دار ہونے کے تئیں وہ اکثر ماں کے پاس آ بیٹھتا اور دوسرے رشتے داروں کی چغلیاں لگا لگا کر اس کا دل بہلایا کرتا تھا۔

اس میں سے کوئی برائی تلاش نہ کر پانے کے با وجود ماں اس کی موجودگی میں بے چین سی ہو جاتی، وہ کوشش کرتی کہ اس کے ساتھ اس کا کم سے کم سامنا ہو۔ وہ اسے ہمیشہ اپنے من میں میٹھی چھری کے نام سے یاد کرتی کہ اس نے جان لیا تھا کہ اس کے لہجے کی مٹھاس خود غرضی کے زہر سے کشید کی ہوئی تھی اور در اصل وہ اس کی موت کا انتظار کر رہا ہے تا کہ اس گھر پر سہولت کے ساتھ قبضہ کر سکے۔

اسے یقین تھا کہ اس کے مرتے ہی جب وہ اپنے اصل روپ میں سامنے آئے گا تو اس کی بیوی سمیت اس کا کلمہ پڑھنے والے اس کی اصلیت کو جان کر حیران رہ جائیں گے۔ اسے خیال آیا کہ یہ جو اس میں اپنی پیش گفتہ موت کو جل دینے کا خیال پیدا ہوا تھا اس کی ایک وجہ اس گھر کو چھوٹی کے شوہر کے نا پاک ارادوں کا نا کام بنانا بھی تھا۔

’’اچھا ہے میری آواز پر وہی آئے اور دیکھ لے کہ ابھی میرا مرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ‘‘

اس نے چہرے سے لحاف سرکایا اور بستر کے گدے میں اپنی کہنیاں گاڑ کر تکیے کی ٹیک کے سہارے بیٹھنے کے قابل ہو گئی۔ اس سخت جدوجہد کے بعد اس نے مُنھ پر ماسک رکھ کر چند گہرے سانس لیے اور پھر سلنڈر کی ناب بند کرکے آواز دینے کے لیے اپنی ہمت مجتمع کی:
’’چھوٹی!‘‘

شاید گلے میں کچھ پھنس گیا تھا کہ کوشش کے با وجود اس کی آواز نہ نکلی۔ اس نے اس بار زیادہ زور لگا کر آواز دی لیکن مُنھ سے ایک بے معنی آواز کے سوا کچھ نہ نکلا، تیسری بار اور پھر چوتھی بار، وہ اسے آوازیں دئیے گئی اور پھر ایک دہشت ناک خیال نے اسے لرزا دیا، اس خیال سے رہائی پانے کے لیے وہ ایک جنون کے عالم میں اپنے حلق میں پھنسے الفاظ کو نکالنے کے لیے زور لگانے لگی لیکن وہی غوں غوں جیسی مہمل آواز۔ اس نے اپنی ساری توانائی خرچ کر ی اورپھر ہار کر نڈھال سی بستر پر گر گئی۔
اس کی آواز مر چکی تھی۔

زیادہ دیر نہیں گذری جب چھوٹی اس کے پاس بیٹھی تھی، تب تو وہ چھوٹی سے اچھی بھلی باتیں کرتی رہی تھی۔ اس نے چھوٹی کو اپنے بلاوے کا تو نہیں بتایا لیکن اپنی صحت کی خرابی اور اداسی کے بہانے اسے بڑی اوردونوں بڑوں کو فون کرکے فوری بلانے پر اصرارکیا تھا۔ چھوٹی نے خیری سلا کہہ کر اس کی بات کو روا روی میں لیا تھاجس پر وہ جھنجھلائی تو چھوٹی کو وعدہ کرتے ہی بنی کہ کاموں سے فارغ ہونے پر وہ تینوں کو فون کر ے گی۔ سو جب وہ چھوٹی سی باتیں کررہی تھی تب تو اس کی زبان میں بڑی روانی تھی، اب اچانک کیا ہو گیا تھا؟

اس کی پیش بینی میں بھی ایسا کوئی اشارہ نہیں تھا کہ جسم کی موت سے پہلے اس کی آواز کو موت آجائے گی۔ اس نے ساری عمر بے بسی کی حالت میں بسر کی تھی لیکن ایسی بے بسی تو کبھی نہ دیکھی تھی۔ یہ تو اس نے کبھی سوچا ہی نہ تھا کہ وہ اپنے ہی گھر میں مدد گاروں کی موجودگی کے با وجود تنہائی اور لا چارگی کی موت سے ہم کنار ہو گی۔ اس نے جینے کے امکانات کو ہاتھ سے نکلتے دیکھا تو آنسوؤں کی ایک دھار اس کے پچکے ہوئے گالوں کو بھگو گئی۔

’’صرف اایک کمبل اور گرم مشروب کا ایک کپ، کیا پتا میں جی اٹھوں۔ ‘‘

موت کی سرحد پر کھڑے کھڑے جو اسے اپنے نا گزیر ہونے کا احساس ستانے لگا تھا، آواز کے گم ہوجانے کے بعد اس میں شدت آ گئی تھی۔

ابھی کتنا کچھ باقی تھا منتوں سے مانگے آچھو کی نرینہ اولاد کے لیے ایک اور منت، اجُو کے دل کو نرمانے اور منانے کا ایک اور جتن اور پھر مٹھو جو اس کے دل کا گہرا پھٹ تھا اوراس وقت جانے کن برفیلے ملکوں میں کس قید میں پڑا ہو گا یا کہیں ہو گا بھی یا۔ ۔ ۔ اس کا دل اچانک مٹھی میں آ گیا اور وہ دیر تک کچھ سوچنے کے قابل نہ رہی۔

تب اسے ایک شک گذرا کہ کیا واقعی وہ زندہ ہے یا مرچکی ہے؟اس خیال کے آتے ہی اس نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچیں، ہڈیالے کندھوں کو دبایا، گردن، سینہ، پیٹ، ٹانگیں اور پاؤں سب کو باری باری ٹٹولا اور جانا کہ اس کا پورا جسم ابھی تک زندہ تھا، دماغ بھی یقیناً زندہ تھا کہ وہ سوچ سکتی تھی، کڑھ سکتی تھی اور اپنی بے بسی پر رو سکتی تھی۔

’’چھوٹی پتا نہیں کب جگے۔‘‘، اس نے مایوسی سے سوچا، ’’لیکن وہ ٹی وی لاؤنج سے سنائی دینے والی آہٹ ؟‘‘

اگر الفاظ نہیں تو پیغام دینے کا کوئی اور وسیلہ اختیار کیا جاسکتا تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل پر نظر کی۔ وہاں چند شیشیاں پڑی تھیں اور ایک شیشے کا گلاس جس کے ساتھ کھانے کا ایک چمچ رکھا تھا۔ اسے سوجھی تو اس نے اپنے لرزتے ہاتھ میں اپنی بدن کی کل توانائی سمیٹی اور چمچ اٹھا کر ٹن ٹن گلاس پر بجانے لگی۔ چمچ دیر تک گلاس سے ٹکراتا رہا لیکن اس سے نکلنے والی آواز نا شنیدہ رہی۔

اسے بچپن میں پڑھی اور سنی سنائی کئی ایسی کہانیاں یاد آئیں جو جینے کی جدوجہد پر مبنی تھیں، ہر کہانی میں زندگی کی نا ممکن اور مایوسانہ جدوجہد کے بعد ہیرو کو اچانک غیبی امداد مل جاتی تھی اور وہ اپنوں میں پہنچ کر ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگتا۔ وہ کسی داستان کا عنوان نہ سہی پر کیا اسے غیبی امد اد نہیں مل سکتی؟ اگر چھوٹی کی نیند نہ ٹوٹے تو ایسا کیوں ممکن نہیں ہوسکتا کہ گھر بیٹھے اچانک آچھو کو کوئی اشارہ ملے اور وہ تڑپ کر چار کپڑے بیگ میں ٹھونسے اور گاڑی گھر کے راستے پر ڈال دے یا اسی شہر میں رہتے ہوئے اجو کو اچانک ندامت گھیر لے کہ وہ صرف مکان سے حصہ نہ ملنے اور اپنی بیوی کی لگائی بجھائی میں آکر اس دھاگے کو توڑ بیٹھا ہے جو ماں کے دل کے ساتھ بندھا ہوا تھا، یا۔ ۔ ۔ یا (اور اس امکان پر اس کا دل اچھل کر حلق میں آنے لگا) کسی برفیلے ملک میں مٹھو کو جیل میں ڈالنے والے بدمعاشوں کے دل میں اچانک رحم جاگ اٹھے اور وہ اس بدنصیب کو جیل سے نکال کر جہاز میں سوار کرادیں کہ جاؤ تمہاری ماں تمہارا انتظار کر رہی ہے۔

ان میں سے کچھ بھی نا ممکن نہیں تھا اور پھر کیا نا ممکنات صرف ماؤں کے لیے ہی رہ گئے ہیں؟

اس نئے خیال کے بعد اب امکانات کا دائرہ وسیع ہو چکا تھا سو اس کی سماعت نے چھوٹی کے قدموں کی چاپ سے دھیان ہٹا کر ڈور بیل کے ساتھ تعلق جوڑ لیا۔ وہ انتظار کرتی رہی اور خود کو یقین دلاتی رہی لیکن دروازے پر کوئی گاڑی رکی نہ بے تابی سے گھنٹی بجی۔ اسے یہ خیال بھی گذرا کہ کہیں آواز کے ساتھ سماعت بھی نہ مر گئی ہو لیکن اگلے لمحے اس نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ جب وہ چمچ سے گلاس کو بجا رہی تھی تو اس کے کان صاف ٹن ٹن کی آواز سن سکتے تھے۔

ہیجان کی حالت دیر تک چلی تو اس کے لیے سانس کھینچنا مشکل ہو گیا۔ اس نے پھر ہمت کی اور اپنے ہاتھ کو گھسیٹ کر سلنڈر تک لے گئی اورہاتھ کی محتاط جنبش سے اس کی ناب کو کھول کر ماسک کو مُنھ پر چڑھالیا۔ آکسیجن گیس کی کیف آور سوں سوں نے اس کے سینے کے مدوجزر کو ہموار کرنا شروع کر یااور اس کے ساتھ ہی وہ غنودگی میں اترنا شروع ہو گئی۔ اس نے آنکھیں پٹ پٹا کر خود کو جگائے رکھنے کی کوشش کی۔ وہ کچھ دیر نیند سے لڑتی رہی پھر بے ارادہ ایک کیف کی کثیف گہرائیوں میں اترتی چلی گئی۔

اس نے دیکھا کہ اس خواب آگیں کیف کی تھاہ میں ایک شہر تھاجس کی گلیاں ہتھیلی کی لکیروں کی طرح ایک دوسرے کو کاٹ رہیتھیں۔ وہ ایک بہاؤ میں گلی گلی تیرتے ایک بند گلی میں داخل ہو گئی، یہیں ایک گھر تھا جو بے دیوار اور بے در تھا۔ اس گھر کے لا محدود وسعتوں میں پھیلے ہوئے صحن میں ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے بہت سے راستے بنے ہوئے تھے، ان میں سے ہر راستہ نا معلوم سے نا معلوم کی جانب جاتا تھا۔ اس نے دیکھا کہ اس گھر میں کچھ لوگ تھے۔ ایک ڈھلتی عمر کا مرد تھا جس کے گورے چٹے بارعب چہرے پر سجی سرخ داڑھی اس پر خوب پھب رہی تھی، اس کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ اپنی رانگلے پایوں والی چارپائی کے بے شکن اور بے داغ بستر سے اترا اور کچھ دور بیٹھ کر

ہاتھ میں جگر جگر کرتا پیتل کا لوٹا لے کر وضو کرنے لگا۔ وہیں ایک چھوٹی عمر کی لڑکی تھی جو مُنھ سر پر دو پٹا درست کیے صحن میں بنے چولہے پر دیگچا چڑھائے سلی لکڑیوں میں آگ دھکانے کی کوشش میں دھواں دھواں ہو رہی تھی۔ اس کے قریب ہی فرش پر ایک کتاب کھلی پڑی تھی، وہ چولہے میں پھونکے مارتے ہوئے اپنی آنکھیں پونچھتی اور ایک نظر کتاب پر بھی ڈال لیتی تھی۔ شاید وہ سکول میں پڑھتی تھی اور سکول کی پڑھائی اور گھر کے کام کاج کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش میں مبتلا تھی۔ صحن میں کچھ ہی دور دو کم سِن بچے کفن میں لپٹے ہوئے ساتھ ساتھ پڑے تھے اور ایک عورت جو اس مرد کی بیوی اور ان بچوں کی ماں ہو سکتی تھی ان کے پاس بیٹھی بین کر رہی تھی۔ اچانک وہ عورت پلٹ کر لڑکی کو دیکھتی ہے پھر اس پر چلاتے ہوئے جھپٹتی ہے اورکتاب اٹھا کر چولہے میں ڈال دیتی ہے۔ لڑکی رونا شروع کر دیتی ہے۔ اس پر مرد اپنا وضو ادھورا چھوڑ کر بڑھتا ہے اور لڑکی کو سینے سے لگا کر خود بھی رونا شروع کر دیتا ہے۔

وہ جو کیف کی کثافت میں بہتی ہوئی اس گھر میں داخل ہوئی تھی کچھ فاصلے پر کھڑی اس ابسرڈ منظر کو دیکھتی رہتی ہے۔ تبھی اچانک ایک آندھی اٹھتی ہے اور سلی لکڑیوں سے اٹھتا دھواں ایک دیو کی شکل دھار لیتا۔ اس نے دیکھا کہ دیو کے بڑے سے سر پر ایک ننھا سا سہرا بندھا ہوا تھا اور گلے میں گوٹے تلے والا ایک ہار جھول رہا تھا۔ وہ چولہے کے پاس خوف سے منجمد لڑکی کی جانب دیکھ کر قہقہہ لگاتا ہے۔ اس کا قہقہہ شاید کوئی سگنل تھا کہ اسی آن بہت سے شتونگڑے اپنے گلوں میں اسی طرح کے ہار ڈالے گاتے بجاتے گھر میں داخل ہو جاتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر عورت بھی کفنائے ہوئے بچوں کو بھول کر ان میں شامل ہو جاتی ہے اور انہی کی طرح ناچنے اور شادی بیاہ کے گانے لگتی ہے۔

وہ کچھ فاصلے پر کھڑی اس عجیب تماشے کودیکھتی ہے اور جان لیتی ہے کہ یہاں اس کم سن لڑکی کا بیاہ رچایا جارہا ہے۔ تب مرد آگے بڑھتا ہے اور دیو سے گلے ملتا ہے اور لڑکی کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔

اچانک وہ دیکھتی ہے کہ وہ کمسن لڑکی غائب ہو چکی تھی اور اس کی جگہ وہ خود کھڑی خوف سے کانپ رہی ہے۔ تبھی شتونگڑوں کا ہجوم اس کے گرد اکٹھا ہو کر فارس کرنے لگتا ہے، وہ گا رہے ہیں، ناچ رہے ہیں اور اس کا مُنھ چڑا رہے ہیں اور پھر دیو آگے بڑھتا ہے اور اسے دبوچ کر ویمپائر کی طرح اپنے بڑے بڑے دانت اس کی گردن میں گاڑ دیتا ہے۔ وہ چیختی ہے اور اس عورت اور مرد کو مدد کے لیے پکارتی ہے لیکن دیکھتی ہے کہ مرد اس تماشے سے لا تعلق سا بہت اطمینان سے اپنا ادھورا وضو مکمل کرنے میں مشغول ہو چکا ہے اور عورت ایک سہولت کے احساس کے ساتھ کفنائے گئے بچوں پر بین کر رہی ہے۔ تب دیو قہقہہ لگاتا ہے اوراپنے شتونگڑوں کی ہم راہی میں اسے گھسیٹتا ہوا باہر نکل جاتا ہے۔

ایک کراہ کے ساتھ اس کی آنکھ کھلی تو کمرے میں ماسک سے نکلتی سوں سوں کی آواز اسے لمحۂِ موجود میں کھینچ لائی۔ اسے خود کو، کمرے کے ماحول اور اپنی کیفیات کو جاننے میں تھوڑی دیر لگی۔ وہ چت لیٹ کر چھت سے لٹکتے پنکھے کے ساکت پروں کو گھورتے ہوئے اس بارہا کے دیکھے ہوئے خواب کی گرفت میں تھی۔ اس خواب اور اس کے نتیجے میں حملہ آور ہونے والے یادوں کے غول بیابانی نے اس طرح اسے گھیر لیا تھا کہ وہ اپنا نا گزیر ہونا اور موت سے لڑنا بھول گئی۔ کچھ یوں ہوا کہ نا گزیریت کے جواز کو تھامے پیش گفتہ موت کے ساتھ دُو بہ دُو لڑنے والی ماں خواب کے دوران ہی کہیں چپ چاپ مر گئی تھی۔ اس کی جگہ اس سرد جہنم میں جھلستی ایک نیم جان عورت رہ گئی جو بد تہذیب شتونگڑوں کے ہجوم میں گھری ہوئی تھی۔

وہ اپنے ہونے کے احساس سے ما ورا خالی ذہن کے ساتھ کمرے میں اس جگہ کو گھورتی رہ گئی جہاں سال دو سال پہلے اس شخص کی چارپائی بچھی ہوتی تھی جس کے ساتھ وہ کم عمری میں بیاہی گئی تھی اور جسے اپنا خون پلاتے ہوئے اس نے ساری عمر کاٹ دی تھی۔ اس ان گھڑاور دائمی طیش میں مبتلا شخص کے ساتھ جڑی ان گنت یادیں شتونگڑوں کا روپ دھار کر اس کے گرد گا رہی تھیں، ناچ رہی تھیں اور اس کا مُنھ چڑا رہی تھیں۔

ماں کی حالیہ افسوس ناک موت نے اس عورت کو کچھ دیر کے لیے دو بارہ زندہ کر دیا تھا جو اپنی زندگی کا پہلا سانس لیتے ہی مر گئی تھی۔ اس کے لیے کہرے کی یخ بستگی میں بھیگتی گلی میں قدموں کی کوئی چاپ نہ تھی، جب کہ سائیکل کی گھنٹی بجے دیر ہو چکی تھی۔

وہ ایک ہاری ہوئی نا تواں عورت خالی آنکھوں ان شتونگڑوں کو تکتی رہی جو اپنی لال زبانیں نکال کر اس کا مُنھ چڑا رہے تھے، شور مچارہے تھے اور ناچ ناچ بے حال ہورہے تھے۔

اس نا گزیر بلاوے کی منتظر پامال عورت کے لیے اس رات کا سورج دیکھنا قطعی طور پر ایک بے معنی خواہش تھی۔

جب سیال دیواروں سے ٹکراتی برفیلی ہواؤں نے ایک دھڑاکے سے دروازہ کھولا تو شتونگڑوں کا شور ان ہواؤں کے شور میں ڈوب گیا۔
تب اس نے در و دیوار پر بھر پُور نگاہ کی پھر گیس ماسک کو اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور لحاف کو سر پر کھینچ لیا۔

About محمد عاطف علیم 14 Articles
محمد عاطف علیم شاعر، افسانہ اور ناول نگار ہیں۔ مشک پوری کی ملکہ اور گرد باد ان کے اب تک آنے والے ناول ہیں، جنہیں قارئین اور نقادوں میں بہت پذیرائی ملی ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.