نیو ورلڈ سوشلسٹ آرڈر، اکیسویں صدی کا خاموش انقلاب

Naeem Baig

نیو ورلڈ سوشلسٹ آرڈر، اکیسویں صدی کا خاموش انقلاب 

از، نعیم بیگ

We are living in an age in which all governments, regardless of the system of political and economic organization, whether interventionistic, socialistic, democratic or dictatorial, tend to occupy an economic command post. I think it’s difficult unless the disparity is stricken off in class system and the moment class system is eliminated, economic command post will disappear itself.

دنیا بھر کے نظام ہائے سیاست تاریخ کی کسوٹی پر مظہر رہے ہیں۔ وہ ابتدا میں اگر بے حد کام یاب رہے ہوں، تو بعد ازاں بَہ وجہ اپنی بنیادی انامولیز اور تغیر پزیری، اس قدر کم زور و نا کام ہوئے کہ ان کا نشان تک مٹ گیا۔ تاریخ ایسے ادوار کو اکثر ان کے دورانیہ کی کسوٹی پر پرکھتی ہے۔ تاہم انسانی ذہن سوشل ارتقاء کے ساتھ ساتھ اپنی معاشی، تہذیبی و سماجی ضروریات کے لیے نئے افق کی تلاش میں ہمیشہ مصروف رہا۔ چُوں کہ یہ فلسفہ ہائے سماجی، سیاسی ثقافتی صورت حال کی تفہیم اور انسانی شعور  کے بدلتے پیمانوں کو نئے تفہیمی معانی سے رُو شناس کراتے رہے ہیں، سو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسوٹی اور پیمانے بھی اپنی ارتقاء پذیری میں بدل جاتے ہیں۔ جوں جوں انسانی شعور اور احساساتی ساخت بدلتی ہے، نئے خیالات بھی فوراً ان کی پیدا کردہ خلاء کو پُر کر دیتے ہیں۔

کل تک امپیرئیل نو آبادیاتی نظام پوری قوت سے دنیا پر چھایا ہوا تھا۔ نو آبادیاتی نظام کا سرخیل یہ کہا کرتا تھا کہ سلطنت برطانیہ میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔  تب اٹھارویں صدی میں انقلابِ فرانس کی جو نِیو عوامی سطح پر روسو کے نظریات نے رکھی، بین ہی کارل مارکس کے فلسفے نے علمی و فکری سطح سے جنم لے کر انیسویں صدی میں جدید سائنسی سوچ پر مبنی کیمونسٹ نظریات کی صورت انسانیت کو ایک نئے گلوبل نظام سے رُو شناس کروایا، جو بعد ازاں دنیا کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

روسو اور کارل مارکس نے جو بنیادی کام کیا، وہ یہ تھا کہ انسانی حق کو ثابت کیا اور  امپیرئیل ذہنیت کے حامل عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے اجارہ داروں سے مخصوص اور کم تر خیرات کے طور پر دیے جانے والے اس معاشی حق کو چھین لیا۔

روسو کو جہاں انقلابِ فرانس کا روحانی باپ کہا جاتا ہے، وہیں کارل مارکس کو کیمونزم نظریات اور جدید سوویت یونین کا بانی کہا جاتا ہے۔ (یہ بالکل الگ بحث ہے کہ انقلاب روس با وجود اس قدر توانا نظریے کے کیوں حکومتی سطح پر پون صدی بعد نا کام ہوا۔ اس کا مختصر جائزہ ہم آگے چل کر لیں گے۔)

دنیا بھر میں انقلاب فرانس سے پہلے عالمی نظام ہائے سیاست بوسیدہ مذہبیت، ملوکیت اور ٹرائبل فاشزم پر مبنی تھے جس کی وجہ سے سماجی اکائی انتہائی افلاس اور حد درجہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئی تھی۔ ان دونوں فلسفیوں نے اپنے اپنے عہد کی نبض پر ہاتھ رکھا اور عہدِ انسانی کو بالترتیب معاہدہ عمرانی اور داس کیپیٹل جیسی نئی آسمانی کتابیں دیں یوں دونوں نے انسانی حقوق، معاشی و معاشرتی عدم مساوات پر مبنی فلسفیانہ مباحث سے دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔

 انقلاب روس کے بعد سوویت یونین میں کیمونزم جس شدت سے اپنے جوبن پر آیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن مارکس کے عملی و علمی جوہر کو اِس کے حقیقی تناظر میں بَہ رُوئے کار نہ لائے جانے پر اور صدیوں سے امپیریلسٹ ذہن سے جڑے سماج کو بیوروکریٹک جبر کے تحت معاشرتی ڈگر پر ڈھالنے سے بالآخر حریف سرمایہ دارانہ نظام کے نئے سماجی اور معاشی ہتھکنڈوں پریسٹرائیکا اور گلاسنوسٹ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اور 1991ء میں سوویت یونین تحلیل ہو کر بکھر گیا، اِس امر کے با وجود کہ لینن اور سٹالن کیمونسٹ پارٹی کے مینیفسٹو کو عوامی جد و جہد کے ساتھ مل کر ہی انقلاب لائے تھے۔ یوں اس بار بھی نظام کی شکست کی وجہ اجتماعی غیر متوازن و غیر ہموار دانش اور نظریے سے انحراف بنی، جو بنیادی طور پر فاشزم کی ہی ایک شکل ہے۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مارکسزم  نا کام نہیں ہوا، بَل کہ سٹالن ازم کا انہدام ہو گیا۔

  جب جنگ عظیم دوم کے بعد ہر دو سیاسی نظام ہائے سیاست (کیمونزم اور کیپٹلزم) اپنی پوری طاقت کو بہ روئے کار لاتے ہوئے گلوبل سطح پر پہلی، دوسری اور تیسری دنیا میں توسیع پسندی کو تقویت دینے اور ہمیشہ کے لیے قابض ہونے کی نیت سے سرد جنگ میں مبتلا ہو گئے۔ کیمونزم  بَہ وجہ سٹالن ازم سوویت یونین اور لیٹن امریکا کے چند ممالک تک محدود رہا۔ جب کہ سرمایہ دارانہ نظام جو اپنے سرمایہ کی طاقت سے اس عالمی منظر نامہ پر اپنے وسیع و عریض بازو پھیلائے پوری دنیا پر سایہ کیے ہوئے تھا، رفتہ رفتہ خود ہی اندرونی طور پر پوسٹ ماڈرن کیفیات، مارکیٹ اکانومی میں مقابلے کی مکروہ اور قبیح شرح کے تحت شکست و ریخت کا شکار ہونے لگا۔ سو آج اپنے ہی نظام کی جوہری خامیوں اور cut throat مقابلے کی فضا میں غیر محسوس طریقے سے رفتہ رفتہ eliminate ہو رہا ہے۔

بہ ظاہر یہ کہا جاتا رہا کہ طاقت ور سرمایہ دارانہ نظامِ سیاست کے  عملی قانون میں کوئی خامی نہ ہے۔ تاہم فکری سطح پر اِس کی نا کامی کی بنیادی وجہ انسان کی قدر و منزلت اور توقیر کو سرمایہ کے آگے ہیچ کر دینا ہے۔ اس نظام میں سرمایہ کو بلند ترین مقام دیے جانے پر جہاں نسلِ انسانی فطرت سے دور ہوئی، وہیں انسانی زندگی عدم مساوات اور سرمایے کے ارتکاز کی بھینٹ چڑھی۔ ایسے غیر ہموار رحجانات کی وجہ سے یہ دنیا پہلے پوسٹ ماڈرن فکر کے تحت معروضیت سے محرومی کا شکار ہوئی اور اب دانش ورانہ جدلیات و تشکیک کے ہاتھوں دیمک زدہ استعماریت کی بَہ دولت اپنے بھیانک انجام کی طرف رواں دواں ہے۔

اوپر بیان کردہ تاریخی سفر، جو تقریباً دو صدیوں پر محیط ہے، کے تناظر اور پوسٹ ماڈرن ماحول میں اکیسویں صدی کی پہلی دھائی کے اختتام پر عالمی اکلوتی قوت امریکا مسلسل جنگی دباؤ (جسے وہ نائن الیون کے بعد مڈل ایسٹ میں عرب سپرنگ اور جنوبی ایشیا میں وار آن ٹیرر کے نام سے شروع کر چکا تھا) کے نتیجے میں اشیائے تصرف کے ایک بڑے حصے کو کھو دینے اور  ممکنہ عالمی کساد بازاری کے خوف میں مبتلا ہو گیا اور ارتکاز سرمایہ کے یقینی منفی نتائج کے سبب گلوبلائزیشن کے مغربی فلسفہ سے خود ہی رُو گردانی کرنے لگا۔ اس کے پاس چارہ نہ رہا کہ وہ عالمی ہجرت کے لگا تار حملوں کے بعد نسل پرستی جیسی گھٹیا فکر اور اینٹی گلوبلائزیشن کی طرف چل پڑے اور عوضانہ کے طور پر دنیا کو انتقاماً سماجی و معاشرتی تباہی کے دھانے پر لے آئے۔

در حقیقت پوسٹ ماڈرن ازم  دوسری جنگ عظیم کے بعد روشن خیالی کے کلیت پسندانہ خیالات کا منطقی نتیجہ ہے۔ جنگ عظیم کے بعد پوسٹ ماڈرن مفکروں نے سماجی اور ثقافتی جہات کو سمجھنے کی کوئی کوشش نہیں کی، بَل کہ، ان کا علمی کام  فقط پہلے سے موجود تنقیدی تھیوریز تک محدود رہا۔ تاہم پوسٹ ماڈرن ازم کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ بڑے بیانیوں یا مہا بیانیوں کی جانب تشکیک پیدا کر کے نئی راہوں پر اساسی کام کیا جائے اور یہ تشکیک مہا بیانیوں کے منفی اطلاقی جہات کا ثمر ہے۔ اس لیے یہ کہنا، بَہ ہر حال، قبل از وقت ہو گا کہ نئے نظریات کی پیدائش میں ان عوامل کو دیکھنا کتنا ضروری ہے کہ واقعی پہلے کوئی خلاء موجود ہے کہ اِس کو پُر کرنے کے لئے نئے نظریات سامنے آئیں۔

یہاں اس سوال کا جواب  تلاش کرنا بھی اہم ہے کہ آج تک محنت اور سرمایہ کے تضاد پر کھڑے معاشرے تبدیل کیوں نہیں ہوئے۔ اس ضمن میں گرامچی نے اس سوال کے تلاش کرنے کی کوشش کی اور بعد ازاں مارکسٹوں اور پوسٹ ماڈرنسٹوں نے بھی ان سوالات کا جواب تلاش کیا۔ یہی وجہ تھی کہ بیسویں صدی کی دوسرے half میں مغربی فلاسفروں نے معیشت اور بالائی ساخت کو سمجھنے کی از سر نو کوشش کی۔ یوں سماج کی کموڈیفیکیشن نے طبقاتی شعور کو ایک بار پھر نئے دو راہے پر لا کھڑا کیا۔

عوامی جمہوریہ چین نے ماؤ کے نظامِ فلسفہ کو جو اساسی طور پر کیمونزم ہی سے derive کیا گیا تھا، سماج کی بنیاد انسانی کارکردگی اور ضروریات کے تحت مطلقاً اپنے ثقافتی، ماحولیاتی، اور تاریخی ورثہ کے پیش نظر سٹیٹ اون رکھا۔ شراکت کا تعلق انفرادی عملی اعانت سے ہی جڑا رہا اور اسی کے تناسب سے ضروریات کا خیال رکھا گیا۔ تاہم آبادی کے دباؤ کو متناسب رکھنے اور کارکردگی کی شرح کو ریلیف دینے کے لیے انھوں نے قانون کا سہارا لیتے ہوئے چھوٹی صنعتوں میں مالی شراکت داری کے فلسفے کو کارکردگی کی بنیاد پر نجی سطح پر برقرار رکھا۔

دوسرے لفظوں میں گراس روٹ لیول پر مخصوص سطح تک نجی ملکیت کی مشروط اجازت نے اکانومی کی شرح کو پروگریسو رکھا، یعنی کیمونزم کی جو شکل سوویت رشیا میں ابھری یہاں وہ ماؤ ازم کے تحت کچھ مختلف تھی۔ تاہم بنیادی خیال وہی تھا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر مرکزیت نہ رہی۔ سرمایے کا ارتکازی سفر اوپر سٹیٹ کی جانب رہا اور ضروریات کا خیال نچلی سطح پر ہی رکھا گیا۔

نجی آمدن کی ایک مخصوص سطح طے کر دینے سے کس قدر ذاتی مسائل سے سٹیٹ نے ذمہ داری اٹھا لی، جس سے شخصی آزادی کا احترام کا تصور بھی ابھرا۔ اسی طرح بین الاقوامی تجارت میں سٹیٹ اونڈ کمپنیاں غیر ممالک میں جہاں فکسڈ سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوئیں، وہیں نجی سمال اینڈ میڈیم کمپنیاں اندرون ملک اشیاء کی پروڈکشن میں مخصوص نجی منافع کی شرح کے مد نظر تجارتی حجم کو نجی لیول پر ترقی دینے لگیں۔ یوں چین کی سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی پرچزینگ پاور پیریٹی کے تناسب سے عالمی منظر میں پہلے نمبر پر ہے اور حجم کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔

اِس طرح عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام میں جو فکری تنزلی سے وسیع طبقاتی و سماجی خلاء پیدا ہوا ہے، اِس میں معاشی طاقت کے ابھرتے ہوئے نئے عالمی مینار  عوامی جمہوریہ چین نے ایشیا کے معروف فلاسفروں کنفیوشس اور بدھا کے بہت بڑے جمالیاتی و تہذیبی کنٹریبیوشن کو نئے معاشی سیاسی نظام کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے ایک نئے سوشلٹ فلسفے کو جنم دیا ہے، جو کسی بھی سیاسی و سماجی نظام کی کام یابی کے پیچھے سوشلسٹ معاشی فکر کے ہونے کو لازم قرار دیتا ہے۔

اس فلسفے کے ابتدائی خد و خال کو 2013 میں چین کے صدر زی نے  onceive کیا۔ جسے پہلے ایشیا کے لیے مخصوص کیا گیا، لیکن بعد ازاں اِس کے دائرۂِ کار کو بڑھا کر 2019 میں یورپ کے کچھ ممالک ساتھ ملا لینے سے عالمی سطح پر آغاز کر لیا۔

مطمح نظر یہ ہے کہ ثقافتی اور جغرافیائی اشتراک سے معاشی اشتراک کو ممکن بنایا جائے۔ اس عمل میں سب سے پہلے ملکوں کو جوڑنے کے لیے انفراسٹرکچر لازم قرار دیا گیا۔

چین کے اس نئے سیاسی و سوشل معاشی نظام کو ابھی انھوں نے خود کوئی نیا نام نہیں دیا ہے، کیوں کہ فی الحال ابتدائی خد و خال وضع ہوئے ہیں۔ ابھی وہ خود اس فکری سوچ کو صرف اینٹی کالونیلسٹ معاشی طرز فکر کا نام دے رہے ہیں۔

کالونیلزم کے بوسیدہ نظام میں یہ طرز فکر حاوی رہا کہ طاقت کے زور پر ایک بڑا ملک چھوٹے ملکوں پر قابض ہو کر وہاں حکمرانی کرے اور وہاں کی معاشیات سے جبر و استبداد کے ذریعے دولت کے ارتکاز کو اپنے ملک میں منتقل کرے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں اب دنیا بھر میں نو آبادیاتی فکر بدل کر نیو کالونیلزم میں ڈھل چکا ہے جہاں دور بیٹھ کر معاشی پابندیوں اور مقاطعہ سے ملکوں کی دولت اور انسانی محنت کو ہتھیا لیا جاتا ہے۔ تاہم چین کے اِس نُیو ورلڈ سوشلسٹ آڈر کو ہم اینٹی نیو کالونیلزم کہہ کر پکار سکتے ہیں، کیوں کہ چین کی اس فکر میں شراکت داری میں وہی عنصر غالب ہے جو ان کے اپنے ہاں معاشی نظام کا حصہ ہے۔

کیمونزم کی اسی نئی طرز کو ہم نیو کمیونزم بھی کہہ سکتے ہیں، تاہم مستقبل میں یہ فلسفہ صرف معاشیات تک محدود نہ رہے گا بلکہ عالمی سطح پر نئے سوشلسٹ عمرانی نظام کی بنیاد رکھنے کا پہلا قدم ثابت ہو گا۔

اہل فکر و دانش اسے عالمی سطح پر نیو ورلڈ سوشلسٹ آرڈر کہہ سکتے ہیں۔ راقم اسی لیے اس نام کو مستند درجے پر لا کر محفوظ کر رہا ہے تا کہ آنے والے دنوں میں یہ اصطلاح علم و ادب کی دانش ورانہ صحت و مباحث کے ان ہی مرکزی منطقوں پر استوار ہو۔ جن کا ذکر احقر آگے پیش کر رہا ہے۔

 نیو ورلڈ سوشلسٹ آرڈر جس اساس پر ایستادہ ہونے کی سعی حاصل کر رہا ہے، ان کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں۔

1۔ انفرادیت کا احساس: قدیم چین کی کلاسک جوہری سماجی خصوصیات میں سر فہرست انڈیوجلزم یا انفرادیت کا فلسفہ رہا ہے۔ ان نظریات کو کلاسیک چایئنیز فلاسفی کا نام دیا جاتا ہے، جس کے تحت ہر چینی اپنی بھر پور انفرادی اور وجودی حیثیت میں ایک مکمل اکائی کے داعی ہیں جو سماج میں ضم ہو کر اجتماعیت کی طاقت بنتی ہے۔

2۔ محفوظ ترین سماج ناکہ غلامانہ محفوظیت: محفوظ ترین سماج کی تلاش میں اکثر انفرادی ہیرو  ورشپ غلامانہ طرز عمل کو تقویت دیتی ہے۔ یوں ہیرو worship طاقت اپنی ہر سچائی کو حق پر سمجھتے ہوئے دوسروں کے حقوق غصب کر لیتی ہے۔ محفوظ ترین سماج قانون کی بالا دستی کے تحت اس برائی کو ختم کرتا ہے اور انفرادی انانیت کے تحت ذہنی و عملی طور پر اکائی کو غلامانہ فہم و فکر سے آزاد کرتا ہے۔

3۔ کنفیوشسنزم و بدھ ازم: بنیادی طور پر مذہب کو ایک مخصوص فاصلے پر رکھتے ہوئے کنفیوشسنزم اور بدھ ازم کی مذہبی تعلیمات کو صرف افراد کے ذاتی فعل تک محدود کر دینے اور سماجی سطح پر ہر دو مذاہب کو صرف ثقافتی ترجیح اور چین میں بسنے والے دیگر مذاہب کی سماجی تقریبات میں ان مذاہب کےصرف ثقافتی تہواروں (عبادات نہیں) کو منانے کے لیے قانون اور عمل داری کو حکومتی اجازت پر مقامی سطح پر منایا جانا قرار پایا ہے۔ یہ فلسفہ حال کے چین میں قابل تعزیر قانون کا درجہ رکھتا ہے۔

4۔ نیو کنفیوشسینزم، بطور عملی نظریہ کا اجراء: نیو کنفیوشنیزم میں چین کی تمام کلاسیکی اقدار کو جو ثقافتی سطح پر رائج تھیں کو جدید کاسموپولیٹنزم کے تحت فطری نظام ہائے زندگی اور کائنات کی تلاش میں فطرت کی بَہ حالی کو اولین رکھا گیا ہے۔ اِس سائنسی طرز عمل میں جدید انسانی انفرادی اور اجتماعی ضروریات کو فطرت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سائنسی ایجادات کے تجرباتی اور ماحولیاتی قیام و اجراء اور جغرافیائی حدود سے بالا تر انسانی رابطوں کو مثبت عمل قرار دیا گیا ہے۔ (یہ گلوبلائزیشن سے نیو گلوبلائزشن کا سفر ہے، جس مغرب اب انکار کر رہا ہے۔)

5۔ شین ڈاوُ کی فلاسفی: چین کے معروف فلاسفر شین ڈاؤ (285-360 قبل مسیح) فلسفے سے اخذ کرتے ہوئے پوزیشنل پاور اور قانون کے سر چشمے کی طاقت کو اپنانے کی ضرورت اور قیام کی ضرورت پر مبنی نظریے کی اہمیت اِس فلسفے کی کلید ہے۔ شین ڈاؤ کے فلسفے کے بیان کو الگ ایک کتاب کی ضرورت ہے۔

6۔ لبرل ازم کا تاریک پہلو: اشرافیہ بَہ مخالف جمہوریت، دوسرے لفظوں میں ایلیٹزم versus جمہور میں جو مشکلات عالمی سطح پر  بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں درپیش ہیں ان سے تجربہ حاصل کرتے ہوئے لبرل ازم کے تاریک پہلوؤں سے بچتے ہوئے حکومتی سطح پر عوامی عدم مساوات کے خاتمےکے لیے تعلیم، روز گار، سماجی رابطے اور رہن سہن کے اداروں کا قیام اور جرائم سے پاک سماج کا اجتماعی سطح پر نفاذ کو ممکن بنانا ہے۔

7۔ بہتر انفرادی مختصر جمہوری لیکن مکمل معاشی آزادی: یہ وہ اہم نکتہ ہے جس پر جدید چین کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس فلسفے میں جیسا راقم نے اوپر ذکر کیا ہے، کہ چین کے قدیم ثقافتی رحجانات کی بنیاد پر اعلیٰ درجے پر فائز  سماج کی اجتماعیت کو ترجیح دیتے ہوئے جہاں اکائی کو مناسب معاشی آزادئِ کار و بسر میسر ہے، وہیں سیاسی در و بست میں کلاس سسٹم کا خاتمہ اور خاندانی سسٹم کا سائنسی بنیادوں پر ضرورت کے تحت قوانین کا استعمال ہے۔ مذہب تہذیبی ثقافت کے طور پر انفرادیت میں شامل ہے، لیکن اجتماعیت میں سرکاری یا ریاستی سطح پر مقیم ہے۔

 اسی سیاسی پس منظر میں پیپلز ریپبلک آف چائنہ نے مارکیٹ اکانومی جو سرمایہ دارانہ نظام کا ہی ایک ٹول تھا، کو نئی سوشل ہیت کے شکل میں آج نیو ورلڈ سوشلسٹ نظام (جس کے چیدہ چیدہ نکات اوپر درج کیے ہیں) میں اپنا لیا گیا ہے۔ اس نظام عمل میں مارکیٹ اکانومی کو اب سرمایہ دارانہ نظام جیسی یک طرفہ طور پر منافع خوری نہیں، بل کہ اشتراک و بدل کے تحت دنیا کے  60 مضبوط ترین ملکوں سے ایک معاہدے کے تحت ون روڈ ون بیلٹ کی نئی تھیوری کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جس میں اب تک چائنہ منگولیا رشیا کوریڈور، چائنہ ایشیا / ویسٹ ایشیا کوریڈور، چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور اور چائنہ انڈونیشیا پیننسولا کوریڈور کی ابتدا ہو چکی ہے۔ بنگلہ دیش چائنہ انڈیا میانمار اکنامک کوریڈور تاحال ابتدائی مرحلے میں ہے۔

اسی طرح وسطی ایشیا میں سلک روڈ اکنامک بیلٹ، ٹونٹی ون سینچری میری ٹائم سلک روڈ، آئس سلک روڈ اور سپر گرڈ جیسے میگا پروجیکٹ اس پوری سوشل فلاسفی کو مہمیز دیں گے۔ جو وسطی ایشیا، جنوب مغربی ایشیا، مشرقی ایشیا اور وسطی ایشا سے لے کر روس اور یورپ تک طویل فاصلے طے کریں گے۔ اسی طرح ایسٹ افریقہ، وسطی افریقہ اور مغربی افریقہ کے علاقے اٹلی اور یونان کے رستے طے ہوں گے۔ یونان، اٹلی، لیگزمبرگ، رشیا اور سوئٹزرلینڈ اب تک یورپ کی نمائندگی کرتے ہوئےاس معاہدے میں ایم او یو سائن کر چکے ہیں۔ مزید یہ کہ سلک روڈ  فنڈ میں یونی ورسٹی سطح پر ممبر ممالک تعلیمی اور ٹیکنالوجی ریسرچ ورک میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔

 مغربی دنیا نے بالخصوص امریکہ نے گذشتہ ایک دھائی میں گلوبلائزشن سے اینٹی گلوبلائزیشین کی طرف سفر کیا ہے ، جس سے نائن الیون سے ٹیررازم کا شروع ہوتا ہوا سفر اب اینٹی گلوبلائزیشین کی طرف گامزن ہے۔ مغرب کے چند سر کردہ لیڈر جن میں امریکا اور برطانیہ کے لیڈر سر فہرست ہیں اس اینٹی گلوبلائزشین تحریک کے روحِ رواں ہیں۔ جس میں ٹرمپ کی اینٹی امیگرینٹس پالیسی اور برطانیہ کی بریگزٹ پالیسی قابل ذکر ہے۔ ایسی صورت میں ون بیلٹ ون روڈ ایک نیا سیاسی طرز فکر بن سکتا ہے جو مستقبل میں سماجی، جغرافیائی، معاشی رابطوں کے ذریعہ عالمی امن کو قائم رکھنے میں مد و معاون ثابت ہو۔

 فی الحال اس ون بیلٹ ون روڈ کے سولہ ممالک سے زائد ممبران ہیں، جو تیزی سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اس جدید فلسفے میں ربط میں آنے والے جن ساٹھ ممالک کا ذکر ہے ان کی جغرافیائی اور ثقافتی حیثیت بھی ایک حد تک دیگر ممالک سے عوامی اور لسانی طور پر سوشلائز ہو جائے گی۔ جو بَہ ہر صورت مستقبل کی مضبوط معاشی دنیا کہلائی جائے گی، جس میں ٹیررازم کے خاتمے کی نوید بھی مخفی ہے، کیوں کہ جب ممالک ایک دوسرے کے معاشی اور جغرافیائی مفادات سے منسلک ہو جائیں گے، تو دہشت گردی خود بَہ خود اپنی موت آپ مر جائے گی۔ نیو ورلڈ سوشلٹ آرڈر میں یہی مثبت پہلو  ون بیلٹ ون روڈ کا جوہر ہے، جس سےسرمایہ دارانہ نظام کے تحت پنپنے والی نیو کالونیلزم  کی شکست بھی مخفی ہے۔

تاہم راقم کی دانش میں اس تھیوری میں (تا وقت کہ اس کے واضح خد و خال عوامی جمہوریہ چین میں خود ظاہر نہ ہوجائیں) نئی طرز کی نیو سوشلسٹ کالونیلزم /توسیع پسندانہ امر کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو اسے موجود سرمایہ دارانہ مغربی یونیلیٹرل طاقت کو توازن میں رکھنے کے لیے سوشلسٹ نیو کالونیلزم کا متوازی نظام کہا جا سکتا ہے، جو وقت کے دھارے میں عملی طور کوئی بھی کروٹ لے سکتا ہے۔ تاہم اِس وقت ہم اسے تاریخ میں اکیسویں صدی کا خاموش انقلاب کہہ سکتے ہیں۔


حواشی:

اِس مضمون کی تیاری میں جہاں راقم کا تسلسل سے “روڈ اینڈ بیلٹ” نظام کا جائزہ شامل ہے، وہیں درج ذیل آرٹیکلز اور وہب سائٹس کا تعاون اور استفادہ شامل ہے۔

1۔  سینٹر فار ڈیجیٹل فلاسفی ہوگوپ سار کیسین کے مضمون انڈی ویوجلیزم اِن ارلی چائنہ فلاسفی آف ایسٹ اینڈ ویسٹ۔

2۔  مضمون “چائنیز پولیٹیکل فلاسفی”  از شاؤ جن چائی ۔

About نعیم بیگ 115 Articles
ممتاز افسانہ نگار‘ناول نگار اور دانشور نعیم بیگ مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔گوجرانوالہ اور لاہور کے کالجوں میں زیرتعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا . لاہور سےوائس پریذیڈنٹ و ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزار‘ا جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزوقتی لکھاری کے طور پر ہمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بشمول عالمی رائٹرز گلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں