مقدس سلطنت ۲۰۲۰: تین ایکٹ کا سیاسی کالمی ڈرامہ

مقدس سلطنت ۲۰۲۰ : تین ایکٹ کا سیاسی کالمی ڈرامہ

از، نعیم بیگ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ایکٹ۔۱

لائٹ فیڈ ان

( دارالحکومت میں بادشاہ کا موتی محل اور معمول کی درباری شام میں جگمگ کرتے وسیع و عریض ہال کے چکنے اور چمکدار فرش پر ایرانی و ترکی ریشمی سلکی قالین بچھے ہوئے ہیں ۔ سامنے ایک بڑے خوبصورت اسٹیج پر مخملی کرسی نما تخت پر بادشاہ گاؤ تکیے پر نیم دراز فروکش ہے۔ بادشاہ کے تخت کے پس منظر میں جنگی و فطری مناظر میں جنگلی جانوروں کی بڑی بڑی قدآور تصاویر نظر آ رہی ہیں ۔ جس میں شیر ، گھوڑے اور گائے نمایاں ہیں ۔ شیر اور گائے کی گردنوں میں پھولوں کے ہار ڈَلے ہوئے ہیں ۔

بادشاہ کے عین پیچھے دائیں اور بائیں جانب بڑے بڑے گلدان پھولوں سے سجے بہار کی آمد کی نوید دے رہے ہیں۔ سامنے مستطیل تپائی پر مختلف انواع کے پھولوں کے گلدستے سجے ہوئے ہیں ۔ان کے ساتھ ہی خشک میوے اور مشروبات رکھے ہیں۔ اسکے دونوں اطراف میں (یو شیپ) مخملی کرسیوں پر وزیر اور ا ربابِ اختیارِ مملکت اور سرکاری افسران بیٹھے ہیں۔ دربار میں کاروبارِ سلطنت و مملکت پر گفتگو ہو رہی ہے۔ دربان اندر آکر کورنش بجا لاتے ہوئے بادشاہ سے مخاطب ہوتا ہے۔)

دربان: ظلِ سبحانی صحافی باریابی کی اجازت چاہتا ہے۔

بادشاہ : پیش ہو۔۔۔۔

(بادشاہ خوش دلی سے ہاتھ اٹھا کر اجازت دیتا ہے ۔تالیاں بجاتے ہوئے منہ چڑھا صحافی دربار میں حاضر ہوتے ہوئے بادشاہ کے سامنے تین بار کورنش بجا لاتا ہے۔)

صحافی : خوب ۔۔۔بہت خوب ۔۔۔ ظلِ سبحانی کا اقبال بلند ہو۔

( وہ بادشاہ کی مدح سرائی کرتا ہے ، اور آداب بجا لاتے ہوئے مسلسل ہاتھ سر تک لے جاتا ہے۔ حالانکہ صحافی بادشاہ کی کہی ہوئی کسی بات  کو سن نہ پایا تھا ، جو اِ س نے چند لمحے پہلے کہی تھی)

صحافی: یہ رہی وہ شاندار اور الوہی مہا ذہانت جو سچائی کے پردوں کو چاک کرتی ہے ۔

(میڈیا وزیر اس کی بات کاٹ دیتا ہے )

میڈیا وزیر : لیکن ۔۔۔میرے ساتھیو !یہ یاد رکھو۔ میرا کہا ہوا ہمیشہ درست ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ میں ظلِ سبحانی کے حکم پر عوام کو انہی کے کہے لفظوں سے متاثر کرتا ہوں ۔

(یہ کہتے ہوئے وزیرِ میڈیا بادشاہ کے سامنے کورنش بجا لاتے ہوئے احتجاج کے انداز میں صحافی کو دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ اوپر اٹھا لیتا ہے۔بادشاہ سر کی جنبش سے تائید کرتا ہے۔ درباری حیران ہیں کہ تائید کس کی ہوئی ہے۔اسی اثنا میں اقوامِ متحدہ میں بادشاہ کی طرف سے مقرر کردہ دراز قد سفیر قدموں تک سبز گاؤں پہنے اور سر پر پہنی ٹوپی میں مور کا ایک پر لگائے بادشاہ کی طرف ڈانس کرنے کے انداز میں قدم بڑھاتا ہوا نپی تلی آواز میں کہتا ہے۔)

سفیر : مائی لارڈ شپ ۔۔۔(کورنش بجا لاتے ہوئے ) میرے آقا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس وقت سلطنت میں لمبی داڑھی اور ٹخنوں سے اوپر شلوار اٹھائے دشمن اپنے چہروں پر نقاب اوڑھے ایک بھیانک جال بچھا رہے ہیں۔ پوری دنیا اس کی دھائی دے رہی ہے۔

بادشاہ : (دربار کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ کو حرکت میں لاتے ہوئے پوچھتا ہے ) کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ لوگ کون ہیں ۔ کیا ہم نے انکی سرپرستی کبھی کی؟

(دربار خاموش رہتا ہے۔ ایک منہ چڑھا قصیدہ خوان کسی طرف سے نکلتا ہے اور کورنش بجا لاتے ہوئے کہتا ہے۔)

قصیدہ خواں : میرے آقا! حضور فیضِ گنجور! آپ شہنشاہِ فیضانِ صحبت ہیں۔ آپ کے عوامی اور انسانی خدمات کے چشمے جو یہاں پھوٹ رہے ہیں وہ ان سے نہ صرف خائف ہیں بلکہ جو عزت و قدر و منزلت آپ کو عوام میں مل رہی ہے وہ اس سے معاشی و سیاسی اندیشوں میں مبتلاہیں۔ اسی لئے انہوں نے اب سرحدی جھڑپیں شروع کر دی ہیں اور شہروں میں سما رہے ہیں۔ تاکہ اپنے عقائد کے بل بوتے پر وہ لوگوں کو گمراہ کر سکیں۔

(یہ سن کر بادشاہ اپنے سنہرے اور گداز تخت سے اٹھتا ہے اور اپنے دربار میں چاروں طرف گہری نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس نے شاہی لباس پہنا ہوتا ہے جس میں ا سکے تمام فوجی میڈل بھی سینے پر آویزاں ہوتے ہیں۔ گلے میں سُچے موتیوں کی مالائیں اور سر پر سنہرا تاج پہنا ہوتا ہے ۔ ایک کونے سے اونچی آواز آتی ہے۔۔۔)

آواز : سب کھڑے ہو جائیں۔

(سارا دربار حکم بجا لاتے ہوئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ بادشاہ کے کھڑے ہوتے ہی دربار میں چاروں طرف چھت سے لٹکے سنہری روشنیوں کے فانوس جل اٹھتے ہیں۔ دیواروں پر لٹکی بڑی بڑی تصویروں پر سرخ سپاٹ لائٹس روشن ہو جاتی ہیں۔ جس سے ان تصویروں میں دوڑتے ہوئے گھڑ سوار غیر محسوس طریقے سے آگے بڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور پورے دربار میں گھوڑوں کی ٹاپوں کے پسِ منظر میں ہنہنانے کی مدہم اور شیر کی دھاڑ کی تیز آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ بادشاہ اپنی گرجدار آواز میں پورے دربار سے مخاطب ہوتا ہے۔)

بادشاہ : میرے ہم وطنواور ساتھیو ۔۔۔ میں آپ سب کے جذبات و احساسات کو سمجھتا ہوں چونکہ آپ ریاست کے ساتھ ساتھ ، عوام کے اور میرے وفادار ہیں ۔ مجھے آپ سب پر فخر ہے ۔ لیکن آپ کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جب میں ایک دفعہ کھڑا ہو جاؤں تو پھر ساری قوم کا میرے پیچھے متحد ہوکرکھڑا ہونا لازم ہے ۔ میں اپنی تلوار کی قسم کھا کر کہتا ہوں (وہ اپنے دائیں جانب دیوار پر لٹکی تلوار کو دیکھتا ہے۔ اس کا ایک ہاتھ کمر پر بندھے ہولسٹر پر ہوتا ہے۔)میں کسی دوسرے ملک ، یا انکے ایجنٹوں کو اپنے ملکی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے سکتا اور نہ ہی کسی ملک کو اپنی سرحدوں کے اندر داخل ہونے کی اجازت دونگا ۔ خدا ئے برتر و اعلیٰ کی مقدس ریاست کی قسم۔۔۔ اس آڑے وقت میں ریاست کو بچانے کے لئے مملکت کے لوگ قربانی دیں اور میں آج اس معزز ایوان اور دربار میں بڑے فخر سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ لازوال قربانی اس ملک کے ذی شان شاہی خاندان اور ارباب اختیار و اقتدار سے شروع ہو گی۔

(تالیوں ، شوخ سیٹیوں اور زندہ باد کے نعروں کے شور میں ہز ہائی نس کنگ ماجن اپنے چغہ کو سنبھالتے ہوئے چبوترے سے نیچے اترتا ہے۔بادشاہ کے نیچے آجانے سے چاروں طرف سر جُھک رہے ہوتے ہیں، تائیدی نظروں سے بادشاہ کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ ظلِ سبحانی اپنے چھوٹے چھوٹے قدموں سے آگے بڑھ کر اپنے وزراء اور سرکاری افسروں سے فرداً فرداً مصافحہ کرتا ہے ۔ کچھ لوگ کنگ ماجن کے ہاتھ چومتے ہیں جو اس تاریخی اعلان سننے کے واسطے یہاں جمع ہوئے تھے۔ کنگ ماجن ہاتھ کے اشارے سے سبھی مہمانوں کو دربار کے ایک کونے میں لگے ایشیائی، یورپی اور کانٹی ننٹل ڈشز سے سجے شاندار بھاپ اٹھتے بوفے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس اثنا میں شاہی ویٹر ہاتھ میں طشتریاں لئے مہمانوں میں مختلف انواع کے مشروب تقسیم کرنے لگتے ہیں۔)

فیڈ آؤٹ

ایکٹ۔۲

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(دارالحکومت کی ایک گلی میں بوسیدہ مکان میں شام کا ایک منظر۔ کمرے میں ایک پرانا سا لکڑی کا پلنگ ہے جس کے قریب ایک کرسی اور میز دھرا ہے۔ دیوار پر کچھ کپڑے ٹنگے ہیں اور میز پر کمپیوٹر اور چند کتابیں پڑی ہوئی ہیں اور اسی کے ساتھ ہی ایک پرانے اونی قالین پر ایک بوڑھا شخص کتاب ہاتھ میں لیے بیٹھا ہے۔ کمرے میں ایک طرف شکسپیئرکے مقبرے کی تصویر اور دوسری طرف سقراط کی زہر کا پیالہ تھامے ہاتھ سے بنی پینٹنگ ٹنگی ہوئی ہیں۔ یہی اس کمرے کا کل اثاثہ ہے۔)

بوڑھا شخص: ارے کیا کوئی میری آواز سنتا ہے؟ میں کب سے پکار رہا ہوں مجھے ایک کپ چائے چاہیے۔۔۔

(بڑی ہوئی شیو، میلے سے کپڑوں میں ملبوس پینسٹھ سالہ بوڑھا پروفیسر اپنے پیٹ کے درد کو اند ر کی طرف دباتے ہوئے چلاتا ہے۔وہ کاٹھ کباڑ جیسے کمرے میں کتابوں کے مٹی سے اٹے ڈھیر کے جھرمٹ اور ملگجی سی روشنی میں فرش پر پرانے اونی قالین پر بیٹھا کچھ پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اتنے میں ایک عورت اپنے لرزتے ہوئے ہاتھ میں چائے کا کپ لئے نمودار ہوتی ہے۔ اسکا چہرہ دھویں سے کالا ہو رہا ہے۔ )

عورت : اب کوئی تماری آواز نہیں سنے گا۔ میرے آقا ۔۔۔ مائی لارڈ شپ! نہ اس گھر میں نہ کوئی باہر۔۔۔۔۔سچائی کی تلاش میں تم اپنی زمین سے رشتے توڑ چکے ہو ۔ سچ یہ ہے کہ کوئی تمیں سچا نہیں سمجھتا۔ انہیں تم پر یقین نہیں رہا۔۔۔۔۔تمہاری سچ کی جھونپڑی کے گرد انہوں نے منافقت اور جھوٹ کے بلند و بالا محل کھڑے کر لئے ہیں۔ اب یہ کٹیا ان محلات کی اوٹ میں چھپ چکی ہے۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ تمہارے خیالات پورے سماج کو گندہ کرتے ہیں، انتشار پھیلاتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ مائی ڈئیر پروفیسر۔۔۔یہ جان جاؤ کہ تم انکے عزائم میں رخنہ ہو۔ (بوڑھی عورت ایک قہقہہ لگاتی ہے۔ ) چونکہ تم قریب الموت ہو ۔۔۔ اس لئے انہوں نے تمہیں نظر انداز کر دیا ہے۔ (وہ چائے کا کپ اس کے نزدیک تپائی پر رکھ دیتی ہے۔) یہ رہی تماری چائے۔۔۔ اور یہ آخری کپ ہے۔ گھر میں سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ مجھ میں اب ہمت نہیں رہی کہ میں اس بڑھاپے میں سارا دن دھوپ میں قطار میں کھڑے رہوں اور اپنے حصے کا راشن حاصل کر سکوں۔ ایک لیٹر دودھ ایک کلو چینی اور ایک ڈبل روٹی کے علاوہ وہ دیتے ہی کیا ہیں؟ اس بار آٹا اور چاول بھی منع کر دئیے تھے۔۔۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں ۔۔۔ قربانی دو ۔۔۔ ملک کے لئے، ریاست کے لئے ۔۔۔ اس آزادی کے لئے جو تمہیں حاصل ہے۔۔۔ آزادی؟ ۔۔۔ کیسی آزادی؟؟ منافقت اور جھوٹ کی سربلندی؟ بھوک میں تڑپنے  اور مرنے کی آزادی؟ فرقہ واریت پر سر کٹوانے کی آزادی؟

( یہ کہتی ہوئی ، بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے نکل جاتی ہے۔ بوڑھا پروفیسر خاموش نظروں سے اسے باہر جاتا دیکھتا ہے ۔کمرے میں گہری خاموشی چھا جاتی ہے ۔ اچانک اس گہری خاموشی میں سقراط کی زہر پیتے ہوئے دیوار پر لٹکی تصویر نیچے گر جاتی ہے اسکے فریم کا شیشہ فرش پر کرچی کرچی ہو کر پھیل جاتا ہے۔)

فیڈ آؤٹ

ایکٹ ۔۳

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(منظر ۔ چند دنوں بعد، بادشاہ کا دربار ہمیشہ کی طرح ویسے ہی سجا ہوا ہے ، وہی ہال ، وہی لوگ، وہی اسٹیج ، امورِ سلطنت پر گرما گرم گفتگو ہو رہی ہے ۔ پورا دربار

خاموش ہے۔ ظلِ سبحانی جوش اور غصہ میں وزیروں، سرکاری افسرو ں اور درباریوں سے مخاطب ہیں)

بادشاہ : کوئی دلیل ، کوئی استدلال یا مزاحمت نہیں ۔۔۔ میں صرف حکم کی تعمیل چاہتا ہوں۔ (وہ بائیں جانب کھڑے سپہ سالار کی جانب خوشمگین نگاہوں سے دیکھتا ہے۔) تم سمجھتے ہو، میں کیا کہہ رہا ہوں؟

سپہ سالار: ( کورنش بجا لاتے ہوئے عرض کرتا ہے) حضور والا ۔۔۔ مائی لارڈ شپ۔ میں پوری طرح سمجھتا ہوں۔۔۔ لیکن میرے فوجی جوان بھوکے پیٹ نہیں لڑ سکتے۔ ان کے پاس اسلحہ کی بھی کمی ہے اور سب سے بڑی بات انہیں لڑنے کے لئے کوئی ٹھوس وجہ چاہیے۔

بادشاہ : کیا کہا ٹھوس وجہ؟ کیا اب تک ہم دشمنوں سے بلاوجہ لڑ رہے تھے؟

( بادشاہ نے قہر آلود نظروں سے سارے دربار کی طرف دیکھا۔ چاروں طرف کھسر پھسر اور سرگوشیاں سنائی دینے لگتی ہیں۔سپہ سالار اپنے موٹے ہاتھ سے اپنے گال کو خجالت سے کھجلاتا ہے ۔ ایک کونے سے آواز بلند ہوتی ہے )

آواز: خاموش ۔۔۔ نگاہ روبرو ، ہمہ تن بگوش، ظلِ سبحانی جلوہ افروز ہیں۔

(سپہ سالار ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے کورنش بجا لاتا ہے اور کہتا ہے۔)

سپہ سالار : جہاں پناہ کا اقبال بلند ہو۔ ہمارا خیال ہے کہ ہمیں اب فیصلہ کر لینا چاہیے کہ ہم عقیدوں پر سجدہ کریں گے ، پرانی دوستیاں نبھائیں  یا نئے عالمی منظر میں اپنی ریاست کی حفاظت کریں گے۔ ہمیں یکبارگی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم دوست ہیں کہ دشمن ؟

(بادشاہ یکلخت چاروں طرف متلاشی نگاہوں سے دیکھتا ہے اور گرجتا ہے۔)

بادشاہ : وزیرِ قانون کہاں ہے؟

(بائیں جانب لوگوں میں حرکت ہوتی ہے اور ایک موٹا سا ٹھگنے قد کا شخص آگے بڑھ کر بادشاہ کو کورنش بجا لاتے ہوئے مخاطب ہوتا ہے۔)

وزیرِ قانون : (وزیرِ قانون تھرتھراتی ہوئی آواز میں) میرے آقا۔۔۔مائی لارڈ شپ ۔۔۔ یہ غلام یہاں حاضر ہے۔

بادشاہ : فوری طور پر پوری ریاست میں نیا قانون لاگو کردو ۔ تمام ریاست میں آج سے عوام کے بنیادی و انسانی حقوق ختم کیے جاتے ہیں۔ صرف ان لوگوں کو استثنا ہے جو اس وقت یہاں دربار میں حاضر ہیں۔ ملک کی تمام جیلوں سے سب قیدی رہا کر دیے جائیں اگر وہ مملکت کو یقین دھانی کروادیں کہ ہر قیدی اپنے ذرائع سے دس فوجیوں کو کھانا اور اسلحہ فراہم کرے گا۔ کوئی انصاف کی کچہری نہیں لگے گی۔ ہم اپنے دشمنوں کو شکست دینا چاہتے ہیں ۔۔۔ ہم اپنی کاز سے وابستہ رہیں گے ہر قیمت پر۔۔۔ اور ہماری کاز ہے ۔۔۔۔ ’’انسان کی آزادی‘‘۔

( ان الفاظ کی ادائیگی کے بعد وہ معنیٰ خیز مسکراہٹ سے درباریوں کی طرف دیکھتا ہے۔’’لونگ لیو دی کنگ‘‘ اور’’ بادشاہ زندہ باد‘‘ کے نعروں سے پورا دربار گونج اٹھتا ہے ۔ لوگوں کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھتے ہیں۔ دربار کے تمام سنہرے فانوس جل اٹھتے ہیں اور دیواروں پر گھڑ سوار حرکت میں آ جاتے ہیں۔ اتنے میں کچھ لوگ بڑھ کر دیواروں پر لٹکی شیروں اور گائیوں کی تصویروں کے گلے میں پڑے پھولوں کے ہار نوچ لیتے ہیں۔ سب لوگ آگے بڑھ کر جہاں پناہ کا ہاتھ چومنا چاہتے ہیں لیکن بادشاہ اپنی دائیں جانب سے اسٹیج پر نمودار ہونے والی اپنی نئی نویلی دلہن ملکہ عالیہ کی طرف مسکراتے ہوئے تفاخرانہ نظروں سے دیکھتا ہے۔ وہ آگے بڑھ کر دھیرے سے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے ۔ پھر دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے درباریوں کو ہال کے ایک کونے میں سجے گرما گرم بوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ’’لانگ لیو دی کنگ‘‘ اور ’’لانگ لیو دی کوئین‘‘ کے شور میں دربار سے نکل جاتے ہیں۔ )

فیڈ آؤٹ

  

About نعیم بیگ 142 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔

2 Comments

  1. “تمہاری سچ کی جھونپڑی کے گرد انہوں نے منافقت اور جھوٹ کے بلند و بالا محل کھڑے کر لئے ہیں۔ اب یہ کٹیا ان محلات کی اوٹ میں چھپ چکی ہے۔۔ ”
    مقدس سلطنتوں کے نام پر اب تک علم و حکمت کی پرورش کی بجائے جہل و ظلم کی افزائش کی گئی ہے۔۔۔مطلق العنانیت ہی وہ مقام ہے جہاں سے ہر سماجی برائی جنم لیتی ہے۔۔۔۔کیونکہ ایک فرد کی رائے سب پر ٹھونسنا ہی سب سے بڑی گمرائی ہے۔۔ تینوں ایکٹوں میں سماج کے طبقوں کو خوبصورتی سے پیش گیا ہے۔۔۔تصویر سے طبقاتی ریاست کی حفاظت ،سلاطین کی سیاست اور رعونت نفس کے بھر پور اظہار کے علاوہ علم و دانش کی پرورش کرنے والوں کی ناگفتہ بہ حالت کی بھی اچھی منظر کشی کی گئی ہے۔۔۔۔

Comments are closed.