مختصر کہانیاں

مختصر کہانیاں

از، قاسم یعقوب

(تازہ اور غیر مطبوعہ مختصر کہانیاں)
___________________

مجھے ایک گم شدہ ناول کی تلاش ہے

ایک زمانہ ہو گیا میں نے ایک ناول پڑھا تھا۔مجھے ناول کی پوری کہانی تو یاد نہیں مگر کہیں کہیں سے اُس ناول کا ایک کردار مجھے آج بھی پکڑتا ہے۔ چلیں آئیے میں آپ کو یہی کہانی سناتا ہوں۔
اُس ناول کاپہلا باب ایک نوجوان کردار ’کاکے‘ کی زندگی پر محیط تھا۔ کاکے کی دونوں آنکھیں ایک نومود بچے کی طرح تھیں۔گول مٹول، معصوم اور شفاف ۔۔۔۔۔بارش کی آواز، چلتے بادلوں کی تصویریں اورتیز ہوا سے ہلتے درختوں کے سوا اُسے کچھ بھی بھلا نہیں لگتا تھا۔اپنی موٹی گردن اور بھاری بھاری پیروں کو اٹھائے محلے میں اکیلا سا گھومتا رہتا۔
کاکا۔۔۔۔ کتنا سیدھا سادھا سا نام ہے مگر کاکا سیدھا سادھا نہیں تھا یا وہ سیدھا سادھا تھا مگر اُسے حالات نے خوف ناک بنا دیا تھا۔ کاکا جس محلے میں رہتا تھاوہاں ایک ڈسپنسری تھی جس میں عورتوں کے نسوانی امراض کا علاج کیا جاتاتھا۔
ایک دن گرمیوں کی سخت دوپہرتھی، کاکا اسی ڈسپنسری کے آگے سے گزرتے ہوئے قریبی مارکیٹ کی طرف جا رہا تھا کہ اُس ڈسپنسری کی مالک عورت نے اُسے ایک ضروری کام سے اندر بلایا۔ڈسپنسر نے کاکے کو غور سے دیکھا اور کہا:
’’کاکے تم کیسے انیس سالہ نوجوان ہو،دیکھو تمھاری آنکھیں تو نومود بچے کی شفاف آنکھوں کی طرح ہیں۔۔۔ اسی لیے تم ان میں حیرانی بھرے ادھر ادھر گھومتے رہتے ہو۔تمھارا علاج ہونے والا ہے، اس عمر میں اگر دونوں آنکھیں شفاف ہوں تو مرض ایک دم حملہ کرتا ہے اور پورا بدن بے کار ہو جاتا ہے ، لاؤ مجھے اپنا چہرہ دکھاؤ ‘‘
ڈسپنسر نے نجانے کیاعلاج کیا، جب وہ وہاں سے نکلا تواُس کی ایک آنکھ سُرخ ہو چکی تھی مگردوسری  ابھی تک شفاف ہی تھی۔
کاکا اُس دن تو چلا گیا مگر ایک عجیب مشکل میں پھنس گیا تھا۔ وہ اپنی اس سرخ آنکھ کے ہاتھوں تنگ تھا یا شاید دوسری آنکھ کی شفافی سے۔۔۔
اب کاکا روز ڈسپنسری چلا آتا اور اُسی ایک سرخ آنکھ سے ڈسپنسر کو دیکھتا رہتا جو کاکے کی دوسری آنکھ ٹھیک کرنے کا وعدہ کر چکی تھی۔
ڈسپنسر عورت کے پاس غیر شادی شدہ عورتوں کے حاملہ کیسس آتے، وہ انھیں بلیک میل کرتی اور خوب پیسا بناتی۔کئی کیس تو ایسے ہوتے کہ لڑکیوں کوکچھ بھی نہ ہُوا ہوتا اور وہ عورت جعلی آپریشن سے دھوکہ دے کے ان کی تسلی کر دیتی۔بڑی بڑی موٹروں میں خوبصورت لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کے آنے والی لڑکیاں ڈسپنسر کے آگے بھیگی بلّی بنی ہوتیں۔ ڈسپنسر انھیں ناک کے بل چلنے کو بھی کہتی تو وہ چل پڑتیں۔ ایسے میں کاکا پاس ہی بیٹھا اپنی آنکھ کا رونا روتا رہتا۔ مگر ڈسپنسر عورت نے اُسے کہ رکھا تھا کہ تیری دوسری آنکھ تب سُرخ ہو گی جب اِس کا علاج ہوگا۔۔۔۔۔۔اور وہ علاج وقت پہ ہوگا۔
ایک دن کاکا ڈسپنسر کے پاس بیٹھااپنی ہی دنیا میں مگن اخبار پڑھ رہاتھا ۔ ایک عورت جو بظاہر ادھیڑ عمر لگ رہی تھی مگر جوانی کی اچھی خاصی رمق اُس میں باقی تھی، ڈسپنسر کو اپنا دکھڑا سنا نے لگی۔یہ عورت کچھ مہینے پہلے بھی ڈسپنسری آ چکی تھی اور ڈسپنسر نے اس کو اچھی طرح دیکھ بھال لیا تھا۔عورت کہہ رہی تھی:
’’ ڈاکٹر صاحبہ مجھے طلاق سے بچا لو،میرا خاوند اور اُس کی ماں مجھے ہر صورت طلاق دلوا دیں گے۔ میں کہاں جاؤں گی، اجڑ جاؤں گی۔ ‘‘
ڈسپنسر اُسے سمجھا رہی تھی؛’’ دیکھو تمھارا خاوند جب تک یہاں نہیں آئے گا تب تک میں کچھ نہیں کر سکتی کیوں کہ بانجھ پن مرد میں ہے تم میں نہیں۔
عورت تقریباً چیختے ہوئے بولی:
’’ نہیں ڈاکٹر صاحبہ اُس میں کچھ نہیں بس میرا ہی قصور ہے، مہربانی کرو میرا علاج کردو، میرا گھر اجڑ جائے گا۔
ڈسپنسر نے لاپرواہی سے جواب دیا:
’’ تو اجڑ جائے کسی اور سے بیاہ کر لینا ،کیا ہوتا ہے‘‘۔
وہ عورت منت سماجت پر اُتر آئی:
’’نہیں ڈاکٹر صاحبہ میرا باپ فالج کا مریض ہے، ماں کی ہڈیاں جواب دے چکی ہیں اور میرا کوئی بھائی بھی نہیں ، میری دو اور بہنیں ہیں اُن کے گھر بھی اجڑ جائیں گے، وہ بھی اسی خاندان میں بیاہی ہیں۔‘‘
ڈسپنسر جیسے اسی حقیقت کواُگلوانا چاہ رہی تھی، چہرے پر کسی گمشدہ خزانے کی کھوج پانے والی خوشی کا اظہار کرتی ہوئی بولی:
’’ٹھیک ہے،میں تمھیں مشکل سے نکلوا دوں گی مگر جیسا میں کہوں گی ویسا کرنا ہوگا تمھیں۔۔۔۔۔ٹھیک؟‘‘
وہ عورت تو جیسے پاؤں ہی پکڑ نے والی تھی، فوراً بولی، ’’جی جی۔۔۔۔ ٹھیک ہے ‘‘
ایک دم ڈسپنسر نے سرنج اٹھائی اور اُس کی سوئی کو میز پر دباکے توڑنے لگی اور ایک پُراعتماد غصے کے ساتھ اُس عورت کی طرف دیکھنے لگی۔ ڈسپنسر کی نظریں اب اتنی تیقن سے گھوم رہی تھیں کہ اُس نے عورت کے عین پیچھے بیٹھے کاکے کوبھی اپنی نظروں کی قوس میں دھر لیا۔
’’میں تو بس اسی کام کی رہ گئی، ایک وہ کاکا ہے کہ اپنی آنکھ لیے بیٹھا ہے اور ادھر تم ہو جس کی دو اور بہنوں کو بھی بچانا ہے۔ ‘‘
کاکا جو اپنی ایک آنکھ کی سرخی لیے روز آ دھمکتا تھا ، اپنے دائیں ہاتھ سے گالوں کے چیدہ چیدہ بالوں کو پکڑ کے کھینچنے لگا،پھر ٹھوڑی کوانگلیوں سے تیز تیز رگڑنے لگا ۔
مجھے اس ناول کا مکمل پلاٹ یاد نہیں، بس کہانی بھی کچھ کچھ یاد رہی گئی ہے۔ ناول کوئی اتنا شاہکار نہیں تھا۔اچھا ناول تو باربار چھپتا رہتا ہے اور آپ کو مارکیٹ میں کہیں نہ کہیں مل جاتا ہے۔آپ بھی کہتے ہوں گے کہ ناول اچھا بھی نہیں تھا ، اُس کا پلاٹ بھی کمزور تھا اوروہ دوبارہ بھی نظر نہیں آیا تو میں کیوں اُس کی ادھوری ،بے سروپا کہانی سنا رہاہوں۔
اصل میں اس کمزورناول کی سب سے حیران کن اور دہشت زدہ لائنیں وہ تھیں جب کاکا ایک گلی سے گزر رہا تھا اور ایک کھیلتی بچی سے اُس کی ملاقات ہوئی تھی۔کاکے نے جب اُسے بیٹی کہہ کے اپنے پاس آنے کو کہا تھا تو وہ بھاگ کے اپنے گھر چلی گئی تھی۔
مجھے اب کچھ بھی یاد نہیں کہ بعد میں کیا کیا ہوتا رہا۔میں اس ناول کو پھر سے پڑھنا چاہتا ہوں اگریہ مجھے کہیں سے دستیاب ہو جائے۔
______________________
دفتر کا کچن

دفتر میں معمول کا کام اور ایک ہی طرح کی مصروفیت اکتاہٹ کا باعث بنتی تھی۔ پہلے تو کھانا کھانے کے بہانے کچھ دیر کے لیے ہم کولیگز باہر ایک ہوٹل پہ اکٹھے ہو جاتے اور کھانے کے ساتھ باہر کی ہواخوری بھی کر لیتے اور یوں تازہ دم ہو کے واپس اپنے دفاتر میں لوٹتے مگر کچھ دنوں سے ایم ڈی نے دفتر ہی میں کھانے کا اہتمام کر دیا تھا۔ ایم ڈی نے یوں تو ہمیں ایک سہولت سے نوازا تھا کہ ہم کیوں بازاری کھانوں سے صحت خراب کرتے ہیں۔ صاف ستھرا اپنے کک کا بنا کھانا کھائیں۔مگراس طرح ہمارے باہر کے مزے بند ہو گئے تھے۔سارا سارا دن فائلوں کے انبار، فون کی گھنٹیاں اور ٹھنڈے اے سی کی ہوا ہماری دنیا بن گئی تھی۔
دفتر میں نعیم نامی ایک آفس بوائے نئی نئی نوکری پہ آیا تھا۔ اُس کی عمر کوئی بیس بائیس سال کے لگ بھگ ہوگی۔صاف ستھرا رہتا تھا اور نہایت دل لگا کے کام کرتا تھا۔اکاؤنٹنٹ فاروق صاحب نے کچن میں ایک شخص کی کمی کی شکایت کی تو سب نے نعیم کا نام لیا کہ اُسے کچن میں لگا دیا جائے۔ اُس کی جگہ ایک خاکروب یوسف مسیح کو آفس بوائے کے طور پر متبادل بھیج دیا گیا۔
کچھ ہی دن گزرے تو نعیم کی چال چلن پہ شک کرتے ہوئے صفت اللہ صاحب نے مجھ سے اُس کی شکایت کی۔ جو دیکھتے ہی دیکھتے آفس کے کچھ اور لوگوں تک پھیل گئی۔ شکایت یہ تھی کہ نعیم کوئی نماز نہیں پڑھتا اور جمعہ کی نماز کے وقت بھی گانے لگا کے سنتا رہتا ہے۔ اس کی اس قسم کی کھلے عام توہین ہم آفیسرز پر ایک مذاق ہے۔ بات ایم ڈی تک چلی گئی۔ اُس نے نعیم کو بلایا اور پوچھاکہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ جس پر نعیم نے یہ بتا کے سب کو حیران کر دیا کہ وہ غیر مسلم ہے ۔ جب اُس نے اپنے آپ کو ایک مسیح بتایا تو سب لوگوں نے انگلیاں دانتوں میں دبا لیں۔ نعمان صاحب تو غصے سے چیخنے لگے کہ ’’ہم ایک عیسائی کے ہاتھوں کا کھانا کھاتے رہے!!ہخ تھوہ۔۔۔۔۔۔‘‘
نعیم اپنے نام ، اپنے لباس اور اپنے اخلاق کسی بھی طرف سے عام عیسائی نہیں لگتا تھا مگر نعمان صاحب نے تو اُس کی برائیوں کی فہرست گنواتے حد ہی کر دی اور اُسے کوڑا کرکٹ اٹھانے اور پاخانے کی صفائی کرنے والا شخص قرار دے دیا۔بلاخر اُسے اپنا مذہب چھپانے کی پاداش میںآفس سے فارغ کر دیا گیا۔ اگلے ہی دن اُس کی جگہ ایک پینتیس چالہ سالہ آدمی کچن میں روٹیاں پکا رہا تھا۔
میں نے اس نئے آدمی کو پہلے دن ہی سب کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا مگر جب وہ کھانا رکھ رہا تھا تو اُس کے کپڑوں اور بدن سے ایسی بدبو آ رہی تھی کہ میں اپنے دوستوں کے مسکراتے چہروں کے باوجود بھی اُس کے ہاتھ کا پکا کھانا نہ کھا سکا۔
___________________

رینٹ کی کار

وہ دونوں اجنبی سے لگ رہے تھے اور کافی دیر سے سٹاپ پہ کھڑے تھے۔عورت نے اپنے ساتھی مرد سے کہا ہمیں کسی کار کو رینٹ پہ لے لینا چاہیے تاکہ جلدی منزل پہ پہنچ سکیں۔مرد نے کہا’’ ٹھیک ہے اس کار کو روکو۔‘‘
کچھ ہی دیر میں کار رک گئی۔ دونوں نے قریبی گاؤں جانے کا بتایا اور کہا کہ اس وقت لوکل بس دستیاب نہیں اور ہم نے جلدی پہنچنا ہے۔کار والے نے فاصلے کا اندازہ کرتے ہوئے کہا:
’’میں اس وقت جاتا تو نہیں مگر آپ کی مجبوری کی وجہ سے چل پڑتا ہوں۔نلے والا گاؤں یہاں سے چوبیس کلو میٹر دورہے اس لیے میں پندرہ سو روپے لوں گا‘‘
دونوں نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کم کرنے کا کہا مگر جب وہ راضی نہ ہُوا تودونوں اُس کے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئے اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ابھی کچھ ہی کلومیٹر ہوئے ہوں گے کہ دونوں کے درمیان ہلکی ہلکی تلخ کلامی نمود دار ہونے لگی۔عورت بھرے جسم اور تانیثی وجاہت کی مالک تھی مرد نہایت ٹھکنا اور بے ڈھنگا تھا۔ عورت شیشے سے باہر جھانکتی ہوئی بار بار اپنے ہونٹوں کو دباتی اور ساتھی مرد کو طعنے مارتی جاتی۔یہ خاموش مکالمہ مسلسل جاری تھا،ایک جگہ اس مردنے کار کو روکنے کا کہا ۔سگریٹ خرید کے وہ دوبارہ کار میں بیٹھ گیا۔
اب کی بار اُن کی تلخ کلامی کچھ اوربڑھ گئی۔ مرد اُس عورت سے دست اندازی کر رہا تھا جو کسی طرح بھی مناسب نہیں لگ رہی تھی۔ بلاخر ڈرائیور بول اٹھا۔
’’بھائی، آپ میاں بیوی ہیں ۔ آپ شریعی کام گھر جا کے کر لیجیے گا ۔راستے میں مناسب نہیں‘‘
مرد فوراً بولا:
’’او، نہیں بھائی ،نہیں۔ یہ میری کوئی بیوی نہیں ،گاؤں کی مٹیار ہے۔ رات ہوگئی تھی نظر آگئی ۔ ایک ہی گاؤں میں جانا تھا سو کرایہ آدھا آدھا بھرنے کی حامی کے ساتھ میرے ساتھ بیٹھ گئی ہے۔‘‘
اب ڈرائیور بھی کچھ مزے لینے لگا اور ان کی اس کھنچا تانی سے محظوظ ہونے لگا۔وہ ٹھگنا مرد تو جیسے آرام سے بیٹھنے کا نہیں تھا۔بار بار پچھلی سیٹ کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتا اور اُس مٹیار کو تنگ کرتا جاتا۔ ڈرائیور سے رہا نہ گیا۔ کہنے لگا
’’عورت کو تنگ کیوں کرتے ہو اگر وہ برا منارہی ہے‘‘
ٹھگنا مرد بولا: ’’اب اسے کون سمجھائے۔۔۔۔۔۔‘‘
عورت جو کافی دیر سے خود کو بچانے کی کوشش میں اپنے ہونٹوں کو مسلے جارہی تھی ڈرائیور سے مخاطب ہوئی:
ٍ ’’میں اس بے ہودہ ٹھگنے کو جانتی ہوں کسی بھی کام کا نہیں، بے شرم۔۔۔‘‘
ڈرائیور نے جب عورت کے بے ساختہ پن کو دیکھا تو نجانے کس رو میں کہہ بیٹھا:
’’اچھا تو میں کیسا مرد ہوں‘‘
اس کی کہنے کی دیر تھی کہ تو تکار شروع ہو گئی ۔ ٹھگنا تو جیسے غصے میں آ گیا اور عورت مزے لینے لگی۔ کافی سفر اسی بحث و تکرار میں کٹ گیا۔ اب گاؤں آنے میں تقریباً آٹھ کلو میٹر باقی تھے۔ایک دم گاڑی رکی اور ٹھگنا باہرنمودار ہُوا، دوسرے ہی لمحے ڈرائیوربھی کار سے نکلا آیا۔ ڈرائیور مڑا اور سیدھا پچھلی سیٹ پہ آ کے بیٹھ گیا اور وہ ٹھگنا مرد کار کوڈرائیو کرنے لگا۔
عورت ان دونوں مردوں کے تبادلے کے دوران گھبرائے ہوئے اپنے موٹے موٹے ہونٹوں کو مسلنے لگی۔ڈرائیور جو بے انتہا جوشیلے پن کا شکار تھا ،سیٹ پہ بیٹھتے ہی عورت پہ حملہ آور ہُوا۔ کار کی رفتار بہت آہستہ تھی۔ عورت نے بھی اُس مرد کو ایسے جکڑ لیا تھا جیسے اب اُسے نہیں چھوڑے گی۔ڈرائیور نے ہونٹوں میں ہونٹ ایسے ڈال دیے جیسے دم گھٹنے والا شخص سانس لینے کی کوشش کر رہا ہو۔
گاؤں آنے میں ابھی دو کلومیٹر باقی تھے۔ کار اچانک ویران کھیتوں کے پاس آکے رکی اوراُس میں سے ایک شخص کا نیم مردہ جسم باہر لڑھکتاہوا نظر آیا۔
اب کار میں صرف دو افراد تھے ۔ عورت اپنے منہ پہ ہاتھ پھیرتی ہوئی ٹھگنے مرد سے کہہ رہی تھی:
’’ذلیل شخص؛میرے ہونٹوں کو چھوڑ ہی نہیں رہا تھا۔ میں نے زہریلی لپ اسٹک کافی مقدار میں لگا رکھی تھی مگر پھر بھی میرے جسم کے ساتھ لٹکتے اُس نے کئی کلومیٹر گزار دیے۔ حرام زادہ کہیں کا۔۔۔۔ چلو کار کو جلدی شہر کی طرف بھگا دو۔مجھے جا کے منہ اور گالیں دھونی ہیں۔‘‘
_______________________

ویگن والا

میرا روز کا معمول ہے کہ میں صبح دفتر ویگن پہ جاتا ہوں۔ عرصہ ہو گیا کہ میں نے اپنی کنوینس استعمال کرتا تھا۔ یوں ایک طرح کی سہولت بھی رہتی ہے اور دوسرا ذاتی کینویس کے مسائل سے جان چھٹی رہتی ہے۔انجن، ٹائروں اور بیٹری کے طرح طرح کے مسائل __ ویگن اس حوالے سے پُر سکون ہے کہ ان جھنجھٹوں سے نجات ملی رہتی ہے۔ ویسے بھی عوامی سواریوں میں زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔زندگی جو ہمارے قریب رہتی ہے مگر ہمیں نظر نہیں آتی۔کئی دفعہ ہم زندگی کے پاس ہوتے ہیں مگر زندگی ہم سے دور ہوتی ہے۔ زندگی کو دیکھنے کے لیے اپنے باہر کچھ بدلنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بس اس کے قریب جانے کی ذرا سی مشقت کرنی پڑتی ہے، یہ پاس کھنچی آتی ہے۔
میں یونہی صبح جلدی گھر سے نکل پڑتا ہوں اور دفتر کو جاتے ہوئے زندگی کو بہت قریب سے محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔سڑکوں پر بھاگتے چہرے، بازاروں میں جاگتی رونقیں اورگرد سے اَٹی باسی فطرت میرا استقبال کرتی ہے۔اپنی خواہش کے خلاف زندہ ہونے والی زندگی مجھے ایک ہالے کی طرح لپیٹ لیتی ہے۔ ویگنیں سٹاپ پہ کھڑی ہوتی ہیں اور ہر ’تازہ‘ سواری کو تاک رہی ہوتی ہیں۔ویگنوں کے کنڈیکٹر ایک ماہر شکاری کی طرح سٹاپ کی طرف بڑھنے والے ہر آدمی کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔یہ جاننے کی کوشش کرتے ہوئے کہ سڑک کے کناروں پر رواں دواں ان لوگوں میں سے کون کون زندگی کے اس گشت میں اُن کے ساتھ چند قدم چل سکتا ہے جس سے اُن کی روزی کی اس گٹھڑی کا بوجھ اُن کے کاندھوں سے کچھ کم ہو جائے۔
میں بھی جب سٹاپ کی طرف بڑھتا تو ایک کنڈیکٹر مجھے پہچان لیتا اور بھاگ کے میرے لیے ایک سیٹ کا انتظام کر دیتا۔ چوں کہ ویگن اسی سٹاپ پہ تیار ہوتی تھی اس لیے مجھے باآسانی جگہ بھی مل جاتی۔رفتہ رفتہ مجھے اس کنڈیکٹر کا نام بھی معلوم ہو گیا اور اس کے تعارف پر میں نے بھی اپنا نام اور کام بتا دیاتھا۔ اُس کا نام رفاقت تھا اور وہ مجھے بھائی صاحب کہتا۔یوں ہم ایک دوسرے کو سٹاپ کی حد تک پہچاننے لگے۔ مجھے تو اس جان پہچان سے ایک قسم کی سہولت مل گئی تھی۔ میں یونہی سٹاپ کی طرف چلنے لگتا مجھے کوئی فکر لاحق نہ ہوتی کہ وین ملے گی یہ نہیں۔یہی خیال ہوتا کہ رفاقت میرے لیے سیٹ کا بندوبست کر رکھے گا۔ حتیٰ کہ کئی دفعہ رفاقت نے میری وجہ سے وین کو لیٹ روانہ کیا کہ بھائی صاحب ابھی تک نہیں پہنچے۔
کئی روز پہلے کی بات ہے کہ میں صبح دفتر کے لیے گھر سے نکلا۔میں کچھ لیٹ تھا۔ مجھے یقین تھا کہ رفاقت وین کے ساتھ نکل گیا ہوگا۔ پندرہ منٹ تاخیر کون برداشت کرے۔ کچھ ہی دن پہلے اُس نے وین بدل لی تھی اور اُس کا نیا ڈرائیور بہت بد لحاظ تھا۔ وین میں بیٹھے ہوئے بھی بد زبانی اُس کا وطیرہ تھا۔ حتٰی کہ عورتوں کا پاس بھی نہیں رکھتاتھا۔ اس ڈرائیور کی وجہ سے میں رفاقت کے ساتھ کوئی بات بھی نہیں کر پاتا تھا جو وہ کبھی کبھار کسی موضوع پر مجھ سے کر لیا کرتا۔
جب میں سٹاپ پہ پہنچا تورفاقت موجود تھا اور مجھے دیکھتے ہی پکارکے کہنے لگا
’’بھائی صاحب، ادھر آ جائیں، ادھر، یہ وین تیار ہو رہی ہے______
بس کچھ ہی منٹ میں________
آگے آ جائیں_______‘‘
میں نے کہا رفاقت تمھاری وین کدھر ہے؟
کہنے لگا:
’’وہ، بھائی صاحب، وہ تو نکل گئی‘‘
میں نے حیران ہو کر پوچھا:
’’نکل گئی؟ اور تم یہاں کیا کر رہے ہو‘‘
رفاقت نے میری بے چینی کو بھانپ لیا اور کہا
’’ بھائی جی، میں سواریوں کو بٹھا دوں‘‘
اس دوران وہ پھر مصروف ہو گیا اور پیچھے سے آنے والی ایک اور ویگن کے لیے سوریاں ڈھونڈ ڈھونڈ کے لانے لگا۔مسافر تو آتے ہی رہتے ہیں، کہاں تھمنے کا نام لیتا ہے۔ کبھی اُس طرف سے اور کبھی اس طرف سے۔ رفاقت اُن کے چہروں کو پڑھنے کا ماہر تھا۔ وہ چہرہ دیکھ کے جان لیتا کہ یہ مسافر اُس کے ساتھ جائے گا یا نہیں۔اگر جائے گا تو کس طرف کو۔ وہ مسافروں کی چال ڈھال سے جان لیتا کہ کون سی ویگن کون سے مسافر کو لے جائے گی۔
نئی ویگن آئی تو سواریوں کو ڈھونے لگا۔ مجھے گرم جوشی سے کہنے لگا : ’’بھائی صاب آپ کے لیے سیٹ موجود ہے۔ ‘‘
میں دفتر سے کافی لیٹ تھا سو اس سے اجازت لی اور وین میں بیٹھ گیا۔ دفتر جا کے میں دفتر کے کاموں میں ایسا غرق ہُوا کہ کچھ یاد نہ رہا۔ گھر کے کاموں اور بچوں کی یاددہانیوں کو بھی بھلا بیٹھا۔
اگلے دن جب دوبارہ سٹاپ کی طرف روانہ ہُوا تو مجھے ایک دم رفاقت کا خیال آیا۔’’ اگر رفاقت نے وین چھوڑ دی ہے تو وہ کل وہاں کھڑا کیا کر رہا تھا۔ وہ محض دوسرے ڈرائیوروں کی خدمت کر رہا تھا!‘‘
یہ خیال آتے ہی مجھے وین نہ ملنے کا خدشہ بھی پیدا ہُوا۔ میں پھر حسبِ معمول لیٹ تھا اور آگے وین نہ ملنے کی پریشانی بھی لاحق ہو گئی تھی۔مگر سٹاپ پہ پہنچتے ہی کیا دیکھتا ہوں کہ سٹاپ پہ رفاقت موجود ہے اور ویگنوں کے لیے سواریاں ڈھو رہا ہے۔مجھے دیکھتے ہی ویگن کے کنڈیکٹر کوپکارنے لگا۔
’’رکیے رکیے، سواری آ گئی ہے اٹھاتے جاؤ۔‘‘
مگر وین والے نے میرے بیس پچیس قدموں کا انتظار نہ کیا، رفاقت نے مجھے دیکھتے ہی کہا
’’ صاب جی، وین بھر گئی تھی، اگلی وین میں خالی سیٹ مل جائے گی، اس وین میں آپ کو کھڑا ہوناپڑتا۔‘‘
وہ میرے کسی سوال کے بغیر ہی غلط ملط وضاحتیں کئے جا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا مگر تمھاری وین کہاں ہے، کیا تم اب کنڈیکٹری نہیں کرتے۔‘‘
کہنے لگا:
’’بھائی صاب، وین تو چھوٹ گئی‘‘
میں نے کہا:’’ وین چھوٹ گئی ؟ مگر کیسے‘‘
وہ مجھے کچھ ذاتی باتیں بتانے لگا،مجھ سے کچھ ہمدردی وصول کرنے کی غرض سے یا شاید ایسے ہی___
کہنے لگا: ’’وہ صاب جی، میری والدہ کی بہن، میری خالہ، مر گئی تھی، لاہور جانا پڑ گیا تھا۔ میں تو مرگ ورگ پر بھی نہیں جاتا۔ کام جو ایسا ہُوا۔ مگر صاب جی، خالہ بھی تو ماں جیسی ہوتی ہے اور پھر ماں نے ناک میں دم کر رکھا تھا کہ چل جلدی کر، لاہور نکلیں، میری بہن مر گئی ہے۔ بس جی، میں وین ڈرائیور کو بغیر بتائے نکل گیا اور چار دن بعد آیا تو نیا کنڈیکٹر تھا، ظاہری بات ہے جی، کون اتنا انتظار کرتا ہے۔ میں کوئی بابو تھوڑی ہوں جی، جومیرے لیے کام رکے رہیں۔‘‘
مجھے دفتر سے پھر دیر ہو رہی تھی مگر میں اُس کی باتوں میں کچھ ایسا محو ہو گیا کہ مجھے کچھ یاد نہ رہا کہ میں نے دفتر بھی پہنچنا ہے۔ میں اُس کے طنز کو جان چکاتھا کہ شاید میں ہی وہ بابو ہوں جس کے لیے کام رُکے رہتے ہیں۔ حالاں کہ زندگی کسی کے لیے نہیں رکتی۔ کام چلتے رہتے ہیں۔ میں نے اس سے پوچھا:
’’تو تم یہاں روز کیا کرنے آ جاتے ہو، نئی وین ڈھونڈو نا‘‘
کہنے لگا ہاں اسے لیے تو آتا ہوں، صبح صبح روازنہ ویگنیں نکلتی ہیں، میں ڈرائیوروں کو یہی بتانے کے لیے تو آتا ہوں کہ میں آج کل فارغ ہوں، ہر گاڑی میں کچھ سواریاں بھرواتا ہوں اور اسے یقین دلواتا ہوں کہ میں بہترین کاریگر ہوں۔‘‘
’’کیا تم سارا دن یہی کرتے ہو‘‘
’’نہیں، بس صبح صبح کے لیے، کیوں کہ اس وقت نئے گاڑیاں بھری جارہی ہوتی ہیں اورہر ڈرائیور پہلے سٹاپ سے گزرتا ہے، بس اُس کی نظر مجھ پر پڑ جاتی ہے۔‘‘
میں اُس کی باتوں سے پریشان ہونے لگا۔ مجھے کچھ کچھ احساس بھی ہو رہا تھا کہ میں اُسے بلاوجہ کیوں کُرید رہا ہوں۔ مگر میں کچھ جاننے کی اشتہا کے ہاتھوں مجبور بھی تھا۔ میں نے وین میں بیٹھنے سے پہلے اس سے اپنا آخری سوال کیا:
’’رفاقت یار، کیا اس طرح روز وقت ضائع کرتے پھرو گے، کیا کام ایسا ملا کرتا ہے۔؟‘‘
اُس نے دور سے آتی نئی ویگن کو زور زور سے ہاتھ کا اشارہ کرتے اورنہایت پرجوش انداز میں اسے اپنی طرف بلاتے ہوئے مجھے جواب دیا:
’’صاب جی، اگر میری ماں جیسی خالہ مر گئی تو میں چلا گیا تھا تو اسی طرح کسی اور کی ماں بھی مر سکتی ہے، کوئی اور بھی کسی مجبوری سے کام چھوڑ کے جا سکتاہے، کسی کا بچہ بیمار ہوسکتاہے، کسی کا ماپ مرسکتا ہے، کہیں کوئی جگہ میرے لیے بھی خالی ہو ہی جائے گی۔ اسی لیے تو میں روز آتا ہوں۔ جس طرح میں گیا تھا تو میری جگہ کسی کی جگہ بن گئی تھی۔اسی طرح کسی کے جانے سے میری جگہ بن جائے گی۔‘‘
اس نے یہ ساری باتیں لاپرواہی اور مجھے توجہ دئے بغیر ایک ہی سانس میں کہہ دی تھیں۔ میں نے اپنے آخری سوال کا جب جواب سنا تو مجھے لگا کہ یہ میرا پہلا سوال تھا۔ مجھے ابھی زندگی کو سیکھنے کا آغاز کرنا ہے۔زندگی جس جبر کے کلیے سے مرتب ہوئی ہے مجھ سے زیادہ یہ بہتر طریقے سے سمجھتا ہے۔مجھے لگا جیسے رفاقت مجھے سمجھا رہا ہے کہ زندگی کی جبریت کا شکار اگر میں ہو سکتا ہوں تو کوئی اوربھی سکتا ہے۔ کوئی بھی کسی کے لیے مجبور ، حتمی اور لازمی نہیں۔ میں اُس کی باتیں سوچ رہا تھا اور وین میں بیٹھے دفتر کو جا رہا تھا۔

About قاسم یعقوب 69 Articles
قاسم یعقوب نے اُردو ادب اور لسانیات میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے ماسٹرز کیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل کے لیے ’’اُردو شاعری پہ جنگوں کے اثرات‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ آج کل پی ایچ ڈی کے لیے ادبی تھیوری پر مقالہ لکھ رہے ہیں۔۔ اکادمی ادبیات پاکستان اور مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد کے لیے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ قاسم یعقوب ایک ادبی مجلے ’’نقاط‘‘ کے مدیر ہیں۔ قاسم یعقوب اسلام آباد کے ایک کالج سے بطور استاد منسلک ہیں۔اس کے علاوہ وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر بھی وابستہ ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.