آئی کے ایف : علم کو کیوں کر مقامی ضرورتوں سے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے؟

(ناصر عباس نیر)

آئی کے ایف: چند ابتدائی باتیں

علم کو دیسی بنانے(انڈیجنائزنگ) کا عمل ،سادہ ترین لفظوں میں کسی بھی علم کو ،خواہ وہ کہیں سے مستعار لیا ہو، یا خود تخلیق کیا ہو، اسے مقامی ضروتوں سے ہم آہنگ کرنے سے عبارت ہے۔ مقامی ضرورتوں کا تصور جتنا وسیع ، حقیقی اور منصفانہ ہوگا، علم کو دیسی بنانے کا عمل بھی اتنا ہی وسیع اور حقیقی ہوگا۔ علم کو دیسی بنانے کا خیال، علم کے سلسلے میں ایک طرف تنقیدی رویے کو مستقلاً اختیار کرنا ہے ،یعنی ایک نظری تناظر کو بروے کار لانا ہے اور دوسری طرف اس کے عملی وافادی پہلووں سے سروکار رکھنا ہے۔ سب سے اہم دونوں میں توازن برقرار رکھنا ہے۔ تنقیدی رویے یا نظری تناظر کا فقدان ، علم کو محض ایک شے میں بدل سکتا ہے ، اور ہم سب کو ایک صارف یا کنزیومر۔ جب کہ عملی پہلووں سے پہلو تہی، علم کو محض ایک ذہنی مشق میں بدل سکتی ہے، جس سے ایک شخص کی دانش ورانہ نشوونما کا امکان تو ہے، مگر علم اپنے وسیع سماجی ثمرات عطا کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ علم کو دیسی بنانے کا خیال ایک اعتبار سے اسے ْانسانی و سماجی ٌ بنانے کا خیال ہے،اور علم کو ایک محدود اشرافیہ کی دنیا سے نکال کر ، عوامی و اجتماعی دنیا میں لے آناہے۔ 

علم کو دیسی بنانا، ایک تنے ہوئے رسے پر چلنے کے مترادف ہے۔ ایک طرف علم کی تخلیق و نشوونما کو جاری رکھنا ہوتا ہے،اور دوسری طرف اسے حقیقی عملی و سماجی ضرورتوں اور تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوتاہے۔ حقیقی عملی وسماجی ضرورتوں کا حد سے بڑھا ہوا دباؤ علم کی تخلیق کے اس عمل کو متاثر کرسکتاہے، جسے خالص، بے غرض جستجو سے تحریک ملتی ہے۔

موجودہ زمانے کا کارپوریٹ کلچر کسی علم کا خیال،اپنی ضرروتوں سے پیدا کرتا ہے، اور پھر بھاری فنڈ نگ سے علم کی تخلیق کرواتاہے۔ علم کو دیسی بنانے کا خیال، کارپوریٹ کلچر کے علم کو بھی دیسی بنانے کی سعی کرتا ہے ،یعنی اس پر تنقید کرکے ،اور اس کے نظری و علمی دونوں تناظرات کو سامنے رکھتے ہوئے ۔
علم کو دیسی بنانے کا عمل سب ملکوں کے لیے ضرروی ہوتا ہے،مگر ہر ملک مختلف تاریخ اور مخلتف سماجی و تعلیمی ضرورتیں رکھتا ہے ۔ ترقی یافتہ اور خصوصاً مغربی ملکوں میں علم کو دیسی بنانا، وہاں کے لوگوں کی آزادی ، انفرادیت ، خوش حالی ،صنفی مساوات کو ممکن بنائے رکھنے ،نیز انھیں مذہبی شدت پسندوں سے محفوظ رکھنے سے عبارت ہے!

جب کہ پاکستان میں علم کو دیسی بنانے کا عمل ایک حد تک جنوبی ایشیائی اور افریقی و لاطینی ملکوں کے اسی عمل سے مماثلت رکھتا ہے مگر مغربی ملکوں سے نہیں۔ ہمیں جو بات ْخاصٌ بناتی ہے وہ ہمارا نو آبادیاتی ماضی ہے، جس کے بھوت اور سائے اب بھی ہماری روزمرہ زندگی سے لے کر ہماری سیاسی وریاستی پالیسیوں ، سرکاری اداروں، میڈیا اور اکیڈیمیا میں دکھائی ہی نہیں دیتے ، لوگوں کی حقیقی تخلیقی صلاحیتوں کا گلا بھی گھونٹتے محسوس ہوتے ہیں،اور انھیں خوف ، نفسی الجھنوں، احساس کمتری، ثقافتی اجنبیت میں بھی مبتلا کرتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ آزادی کے بعد رد نوآبادیات یعنی ڈی کولونائزیشن کا جو عمل ،سیاسی، آئینی ،انتظامی ،ادارہ جاتی، دانش ورانہ اوراکیڈیمیا کی سطحوں پر پوری تندہی ،اور حقیقی آزادی حاصل کرنے کے ولولے کے ساتھ شروع ہونا چاہیے تھا ،وہ نہیں ہوا۔

رد نو آبادیات یعنی حقیقی آزادی کے عمل کے شروع نہ ہوسکنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ابھی ایک قسم کی نو آبادیات کا طوق اترا ہی تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے نتیجے اور بعد میں امریکی نو آبادیات کا طوق ہمارے گلے آن پڑا، اوراس نئی محکومی کو نئے ولولے کے ساتھ نئے ارباب بست وکشاد نے خوش آمدید کہا اور اب عالمگیریت کی نئی معاشی پالیسیوں کا طوق ،اور نئی قسم کی لسانی و ثقافتی یکسانیت سے پیدا ہونے والی اجارہ داری،اس پر مستزادہے۔

علم کو دیسی بنانے کے خیال کی اگر اصل یعنی جینیالوجی دیکھی جائے تو اس کی ابتدائی مثالیں ان تمام ملکوں میں مل جاتی ہیں ،جنھوں نے دوسری قوموں کے علوم کے ترجمے کیے۔ ترجمہ بجائے خود کسی دوسری زبان کے متن کو دیسی بنانے کا عمل ہے۔

ترجمے کا مثالی تصور یہ ہے کہ ایک زبان کے متن (ماخذ متن ) کا لسانی مساوی اپنی زبان(ہدفی زبان) میں دریافت یا قائم کیا جائے،یہاں ہم اس مشکل بحث کو نہیں چھیڑتے کہ آیا ایک زبان کا ٹھیک ٹھیک مساوی دوسری زبان میں ممکن ہے یا نہیں،لیکن یہ کہنا ضروری ہے کہ ترجمے میں لسانی مساوی کی تلاش ہر ہر قدم پر کی جاتی ہے، اور اس تلاش کے عمل کا آغاز تفہیم سے ہوتا ہے۔ ہم کسی دوسری زبان کے متن کی تفہیم ، اپنی زبان کے ذریعے کرتے ہیں، لیکن اس دوران میں ترجمہ کئے جانے والا متن اور اس کی زبان ،اور ہماری زبان میں ایک کش مکش ہوتی ہے۔ اسی دوران میں دو مختلف زبانوں کے امتیازات اور حدود دونوں واضح ہوتے ہیں۔ مترجم دوسری زبان کے امتیازات و حدود کو ،جو اس کی اپنی زبان سے کافی مختلف ہوسکتے ہیں، انھیں اپنی زبان کے امتیازات و حدود سے ہم آہنگ کرتا ہے، ان کی اجنبیت دور کرتا ہے، ان کے غیر ملکی، غیر متعلق ،غیر ضروری ہونے کی خصوصیات کو ممکن حد تک کم کرتا ہے۔اگر کوئی مترجم ایسا نہیں کرسکتا ،یعنی غیر ملکی زبان کے متن کی اجنبیت اور اس کے غیر ملکی ہونے کی خصوصیت برقرار رہتی ہے تو ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اس نے ترجمے کی بنیاد یعنی تفہیم کو بری طرح نظر انداز کیا ہے۔ یہ عمل غیر ملکی و غیر مقامی متن کو دیسی و مقامی بنانے کے عمل کا آغاز ہے۔
جو عمل ترجمے کے دوران میں ہوتا ہے ،وہ عمل کسی دوسری زبان کے متن کو پڑھنے کے دوران میں بھی ہوتا ہے،مگر غیر واضح اور غیر شعوری انداز میں ۔ نیز قاری پر یہ ذمہ داری نہیں ہوتی ہے (جو مترجم پر ہوتی ہے ) کہ وہ اپنے علاوہ اپنے ہم زبانوں کے لیے بھی غیر ملکی متن کو قابل فہم بنائے۔ مترجم کی ذمہ داری بہ یک وقت اخلاقی، سماجی اور ثقافتی ہوتی ہے،یعنی اسے اصل متن کے ساتھ وفادار و دیانت دار رہنا ہوتا ہے، اسے ابلاغ و ترسیل کے دوران میں اپنی محدود ذات سے نکل کر اپنے ہم وطنوں و ہم زبانوں کا خیال کرنا ہوتا ہے۔ یہ ذمہ داری بڑی حد تک ایک غیر ملکی زبان کے متن کو دیسی و مقامی بنانے کا عمل ہے۔ واضح رہے کہ یہ ترجمے کا مثالی تصور ہے،جسے اسی ملک کے شہری اختیارجو ذہنی آزادی رکھتے ہوں ،اور ریاستی آئیڈیالوجی کے جبر سے آزاد ہوں۔

یہ سمجھنا سادہ لوحی ہوگی کہ ترجمہ محض ایک سادہ سا عمل ہے ،حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ترجمے میں مرکزی چیز زبان ہے ،اور زبان (روزمرہ کے ابلاغ کے علاوہ ) اس ساری سیاست کی آماج گاہ ہے، جس کا سلسلہ ایک طرف مذہبی ،سیاسی ،نسلی، ثقافتی شناختوں تک پھیلا ہوا ہے،دوسری طرف بیانیے تشکیل دینے ،بیانیوں کا جواب تیار کرنے اور ہر طرح کی جنگ و آزادی کی حقیقی و ممکنہ مساعی سے جڑا ہے۔ یہ سب خود اپنی زبان میں متن تیار کرنے کے دوران میں در آتا ہے اور دوسری زبان سے ترجمے کے عمل پر شدت سے اثرا نداز ہوتاہے۔ یہ بات بے حد اہمیت اختیار کرجاتی ہے کہ ترجمہ کب ، کہاں اور کون کررہا ہے ؟ یہ سوال ہمیں نو آبادیاتی عہد کے تراجم پر ایک نظر ڈالنے سے فوراً سمجھ آجاتاہے۔ نو آبادیاتی عہد کے تراجم کی سیاست ہر گائیتری چکرورتی نے اپنی کتاب آؤٹ سائیڈ ان ٹیچنگ مشین میں شامل مضمون پالیٹکس آف ٹرانسلیشن میں بحث کی ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
نو آبادیاتی عہد میں انگریزی سے اردو، ہندی ،بنگالی ،پنجابی، سندھی سمیت دوسری ہندوستانی زبانوں میں ترجمے کیے گئے، اور ان سب زبانوں اور کلاسیکی مشرقی زبانوں (عربی، سنسکرت ،فارسی) سے انگریزی میں بھی ترجمے کیے گئے۔ انگریزی استعمار کار کی زبان تھی ،اور اس کے نسل پرستانہ، آفاقی ہونے سائنسی ،برتر ہونے کے بیانیوں سے شدت سے مملو تھی، جب کہ تما م ہندوستانی زبانیں استعمار زدوں کی زبانیں تھیں جن کے بولنے والوں کو یقین دلایا گیا کہ وہ علم ، ثقافت، سیاست ، اخلاق ،نسل کی سطح پر پس ماندہ ہیں۔ یورپ کے مقابلے میں پس ماندگی کا بیانیہ کم و بیش تمام ہندوستانی ورنیکلر میں سرایت کرگیا۔ اس پس ماندگی سے لمحاتی نجات کا ذریعہ کلاسیکی زبانیں تھیں، جنھیں نئی تعلیمی و سرکاری پالیسی کی مدد سے حاشیے پر دھکیل دیا گیا۔ یوں ورنیکلر زبانوں میں ان کی پس ماندگی کا بیانیہ بری طرح سرایت کرگیا ۔ نو آبادیاتی ہندوستانیوں کے پاس اس صورت حال سے نجات کے تین راستے تھے: کلاسیکی زبانوں کی طرف مراجعت، انگریزی کی غیر مشروط قبولیت اور ورنیکلر زبانوں میں انگریزی سے ترجمہ اور انگریزی کی طرز پر متن سازی کا عمل۔ کلاسیکی زبانوں کی طرف مراجعت اگرچہ احساس کمتری و پس ماندگی سے کچھ دیر کے لیے نجات دیتی تھی، مگر یہ زبانیں نئے سیاسی وانتظامی وتعلیمی بندوبست میں ْفاضل ، زائد ،غیر ضرروی ٌ بن گئی تھیں، اور وقتی مگر گئے زمانے کے افتخار کا ایک نفیساتی وسیلہ بن گئی تھیں۔ دوسری طرف انگریزی کو، جو نئے بندوبست میں ترقی ،روشن خیالی، اشرافیائی برتری کی ٹھوس علامت ،اور مادی ومعاشی ترقی کا حقیقی ذریعہ تھی، اسے ہندوستان کی انتہائی محدود اشرافیہ ہی قبول و اختیار کرنے کے قابل تھی۔ ہندوستانی عوام اپنی مقامی زبانوں یعنی ورنیکلر میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور تھے ،جن میں نئے علوم موجود ہی نہیں تھے۔ ورنیکلر زبانوں میں موجود یہ ْخلاٌ انگریزی سے ترجمے ،اور انگریزی کی طرز پر نئے متن بنانے کی راہ ہموار کرتا تھا۔ اور اسی عمل سے ان سب زبانوں میں وہ سب استعماری بیانیے سرایت کرتے تھے ،جن سے انگریزی مملو تھی۔ دوسرے لفظوں میں جب ورنیکلر زبانوں میں انگریزی سے ترجمے کیے گئے تو یہ ان تراجم سے مختلف تھے، جن کا ذکر ہم نے ابتدا میں کیا ہے۔ ان کو ترجمہ کرنا، در اصل اس خلا کو بھرنا تھا، جو حقیقی نئے علم کی جستجو سے پیدا ہونے والا خلا نہیں تھا ، بلکہ انگریزی ،استعماری متون کی نقل تھا۔ یہ بات زور دے کر کہنے کی ہے کہ انگریزی اور ہندوستانی ورنیکلر میں جو تعلق قائم ہوا، وہ مساوی انسانی زبانوں کا تعلق نہیں، طاقت ور و محکوم ، ترقی یافتہ و پس ماندہ ، اشرافیائی و حاشیائی زبانوں کا تعلق تھا، اور آزادی کے ستر برسوں کے بعد بھی موجود ہے،بلکہ عالمگیریت نے اسے مزید بڑھاوا دیا ہے، بس اس فرق کے ساتھ کہ پہلے برطانوی انگریزی تھی ،اور اب امریکی انگریزی ہے۔

یہ سب عرض کرنے کا مقصد دراصل پاکستان میں علم کو دیسی بنانے کی ان بنیادوں کو واضح کرنا ہے ، جنھیں سامنے رکھے بغیر ہم یہ عمل شروع نہیں کیا جاسکتا۔ رد نو آبادیات یعنی ڈی کولونائزیشن وہ پہلا قدم ہے ،جو اس سمت اٹھایا جانا چاہیے، اور اولین مرحلہ اس تعلق کی ڈی کولونائزیشن یعنی مابعد نو آبادیاتی کھنگال اور ستھرائی ہے جو سفید انگریزی اور کالی ورینکلروں میں انیسویں صدی میں قائم ہوا تھا۔نیز ان سب بیانیوں سے آزادی ہے ،جو تعلیمی نظام، اداروں ،میڈیا اور ترجموں کے ذریعے عام لوگوں تک مسلسل پہنچ رہے ہیں ،اور ان کے تصور آفاق و دنیا پر اثرا نداز ہورہے ہیں۔ جب تک ہم یہاں کے سب لوگوں کو اس بنیادی سطح پر آزادی کا حقیقی احساس نہیں دلاتے ،اور وہ حقیقی آزادی کا تجربہ نہیں کرتے جو معنی سازی کی سطح ہے ، ان کے عام و خاص اظہار کی سطح ہے ، ان کے خیالات قائم کرنے سے لے کر اپنی شناخت قائم کرنے کی سطح ہے ،یعنی زبان، تب تک علم کو دیسی بنانے کا خیال ایک دعوے سے زیادہ نہیں۔

لیکن اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ وہ نئے زمانے کے علوم جو زیادہ تر انگریزی میں ہیں، ان سے الگ ہوجائیں، اس سے زیادہ ظلم اور کوئی نہیں ہوگا کہ عالمی سطح پر موجود علم سے ہم کٹ جائیں۔ جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا گیا علم کو دیسی بنانا تنے ہوئے رسے پر چلنا ہے۔ انگریزی کو بہ طور زبان پڑھنااور اس میں موجود دنیا بھر کے علوم سے استفادہ کرنا ایک بات ہے، اور انگریزی زبان کو استعمارو اشرافیہ کی علامت سمجھ کر اسے فرفر بولنا، اور اسے دوسر ی زبانوں پر اجارہ دارانہ حیثیت سے غالب رہنا ،اور پھر اس کی مدد سے اپنی ثقافت وروایت سے اجنبیت اختیار کرنا بالکل دوسری بات ہے۔

اس صورت ِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے چند اساتذہ نے علم کو دیسی بنانے کا سوچاہے، یعنی اس کی روح کے مطابق کچھ عملی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے محرک اول شعبہ ء انگریزی کے شاہ زیب خاں ہیں، جنھوں نے انگریزی زبان و ادبیات کے ذریعے پاکستانی طلبا کے ہاں پیدا ہونے والی ثقافتی و نفسیاتی اجنبیت پر عمدہ مقالات لکھے ہیں ، جو بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔ انھوں نے ہی انڈیجینائزنگ نالج فورم (آئی کے ایف) کی تجویز دی، جسے دوستوں نے سراہا ہے۔ چند دن پہلے انھوں نے اپنے دفتر میں ہم خیال دوستوں کو جمع کیا، جن میں ڈاکٹر امجد مگسی(پاکستان سٹڈیز سنٹر)، اکرم سومرو (انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکشنز سٹڈیز)، ڈاکٹر ضیغم عباس ( مائکرو بیالوجی اینڈ مالیکیولر جینٹکس)،ڈاکٹر احمد عثمان (انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز)،ڈاکٹر محمد اسلام (انگلش لینگوئج ٹیچنگ اینڈ لنگوسٹکس ) اور راقم شامل تھے ۔ ہم سب دوستوں نے بحث و گفتگو کے بعد اس فورم کے مقاصد ہم نے طے کیے، جو در ج ذیل ہیں:
انڈیجینائزنگ نالج فورم ، یعنی آئی کے ایف، کے قیام کا مقصد علم کی دنیا ،جس کے کناروں کا تصور آسان نہیں،اسے پاکستان کے حقائق کے ساتھ جوڑنا ہے۔ ہم اس بات پر مسلسل غور کرتے رہیں گے کہ پاکستان کے حقائق کیا ہیں، اور حقائق کے تصور پر کسی ریاستی و نظریہ تشکیل اشرافیہ کا غلبہ نہیں ہونے دیں گے۔

الف : ہر شعبہ، وہ سائنسی ہو یا سماجی یا لسانی و ادبی، اس کی تحقیق کو زمینی حقائق کے ساتھ جوڑا جائے اور کی مقصدیت کے اعتبار سے بہتر کیا جائے۔
ب: پاکستانی علمی حلقوں  میں علمی حساب کتاب  اور پڑتال کے مکالمہ کو شروع کیا جائے۔ ہمارے یہاں علمی حساب کتاب اور پڑتال کاتصور ہی ناپید ہے۔ کوئی ادارہ جس علم کو پیدا کرتا ہے یا فروغ دیتا ہے ، اس پر مکالمے کو فروغ دینا ہمارے مقاصد میں شامل ہے۔
ج:یونیورسٹی سطح کے مضامین علمی کے اندر سے نوآدیاتی دور کے مفروضوں کو کھنگال کر نکال باہر  کیا جائے۔ ہم جانتے ہیں یہ سب سے مشکل کام ہے۔ پاکستانی یونیورسٹیوں کے مختلف شعبہ ہائے علم اپنے نوآبادیاتی ماضی کو روایت کے درجہ پر سمجھنے لگے ہیں،اور اسے جاری رکھنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے بلکہ فخر بھی کرتے ہیں۔ اس سوال پر کم ہی غور کیا جاتا ہے کہ مغربی یونیورسٹیوں میں پڑٖھائے جانے والے مضامین علمی میں جس طرح کی تحقیق ہوتی ہے ،اور جس طرح ہر بات ،ہر مفروضے اور ہر روایت پر سوال قائم کرنے کا رواج ہے، وہ نو آبادیاتی عہد میں قائم ہونے والی یونیورسٹیوں اور ان کی طرز پر بعد میں قائم ہونے والے اداروں کے مضامین علم میں کیوں نہیں؟ اصل بات استعماریت اور جدیدیت میں فرق کی لکیر کھینچناہے ۔ اول کو مسترد اور دوم کو خوش آمدید کہنا ہے،مگر اپنے مقامی دیسی ، حقیقی تقاضوں کے مطابق۔
د:یونیورسٹی  سطح کے مضامین علم کے نصاب کو پاکستانی شہریوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ یہاں ہم ہر سطح پر مساوات کو پیش نظر رکھنا چاہتے ہیں۔
ر:نوآبادیاتی دور کے قائم شدہ ڈسپلنز کے تصورات کی شناخت کر کے ان کی عدم افادیت کو واضح کیا جائے۔
س:ایسی تحقیق جو کہ پاکستانی جمہور کے نقطہ نظر سے مفید ہو اس کو تلاش کر کے عام کرنے کی کوشش کی جائے۔
ط:سائنس اور علوم انسانی کے درمیان حائل خلیج کو کم کیا جائے۔ پاکستان کا یہ ایک اہم ترین مسئلہ ہے، جو مغربی ہونیورسٹیوں کے مسئلے سے مختلف ہے۔ وہاں کم یا زیادہ فنڈ سے دونوں میں فرق محسوس ہوتا ہے مگر ہمارے یہاں سائنسی اور انسانی علوم(سوائے انگریزی ) میں تقریباً وہی فرق کیا جاتا ہے جو کسی زمانے میں گورے اور کالے میں تھا۔
ع:سائنسی مضامینِ علم میں پاکستانی مسائل کے حل کے حوالے سے تحقیق کو فروغ دیا جائے ۔
ف:گلوبل فائنڈنگزیعنی عالمی تحقیق کو پاکستان میں عام بنانے میں کردار ادا کیا جائے۔ ایسے ماہرین ہونے چاہئیں جو عام لوگوں کی زبان میں عام فہم انداز میں دنیا بھر کے علم کو پہنچائیں۔
ل: علم کو کیسے پاکستانی سماج میں عدل، امن اور معاشی خوشحالی کے فروغ میں معاون بنایا جا سکتا ہے اس حوالے سے علم سے مدد لی جائے۔
م: یونیورسٹی ڈسپلنز میں چھپےاینگلو سینٹرزم یا انگریز مرکزیت اور یورو سینٹرزم یا یورو مرکزیت کو واضح کر کے اس کوختم کرنے کے حوالے سے علم کے نام پر برطانیہ، یورپ اور امریکہ کی تہذیبی مرعوبیت پیدا کرنے کے رویے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اس کے لیے ایک طرف نو آبادیاتی عہد اور پس نو آبادیاتی عہد کے تمام شعبوں پر تحقیق کی ضرورت اجاگر کی جائے ،اور دوسری طرف خود علم کی مسلسل تخلیق کو ممکن بنانے کی اہمیت اجاگر کی جائے۔ ہم خود اپنے ذہنی وسائل اور اپنی ثقافتی جڑوں سے وابستہ رہتے ہوئے علم کی مسلسل تخلیق کے بغیر یورومرکزیت کا خاتمہ نہیں کرسکتے۔
ن:پاکستانی ضروریات کے مد نظر رکھتے ہوئے تحقیق کو فروغ دیا جائے۔ بین الکلیاتی اور بین الشعبہ جاتی تعاون و اشتراکِ عمل کو فروغ دیاجائے،او انٹر ڈسپلنری یعنی بین العلومی تحقیقی منصوبہ جات کی افادیت کے حوالے سے کوشش کی جائے۔

یہ ہمارے ابتدائی خیالات ہیں۔ ہم ان پر مسلسل غوروفکر کرنے اور انھیں مزید بہتر بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں،اور انھیں رُو بہ عمل لانے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں، اوران سب لوگوں کی بے لاگ آراء کی خواہش رکھتے ہیں جو ہم سے اتفاق یا اختلاف کرتے ہیں۔ ہم مکالمے پر دلی یقین رکھتے ہیں۔

About ناصر عباس نیرّ 36 Articles
ڈاکٹر ناصرعباس نیر اردو زبان کے تنقیدی ادب کا ایک با اعتبار حوالہ ہیں۔ اس سلسلے میں کئی مستند کتابوں کے مصنف ہیں: ان میں ● جدید اور مابعد جدید تنقید ● لسانیات اور تنقید ● متن ،سیاق اور تناظر ● مجید امجد: حیات، شعریات اور جمالیات ● ثقافتی شناخت اور استعماری اجارہ داری ● مابعد نو آبادیات اردو کے تناظر میں ● اردو ادب کی تشکیل جدید شامل ہیں۔ ان کی زرخیز ذہنی صلاحیتوں کے با وصف ہم یقین رکھ سکتے ہیں ک کتابوں کی یہ فہرست بڑھتی ہی جائے گی۔ حال ہی میں فکشن میں بھی اپنا ایک توانا حوالہ اپنی افسانوں کی کتاب ●خاک کی مہک کی صورت مہا کر چکے ہیں۔ جبکہ ● چراغ آفریدم انشائیہ کی طرف ان کی دین ہے۔ ● اردو تنقید پر مغربی اثرات کے عنوان سے ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کیا۔ اس کے علاوہ ہائیڈل برگ سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کے حامل ہیں۔ ite here abotu Nasir abbas

10 Comments

  1. It’s a nice and constructive step. It would be an honor to be a part of it.

    Subbah Mir

  2. عمدہ تجاویز ہیں۔کوا ہنس چالی سے عاجز ہے اور اپنی ہنس کوی بولیوں کو خالص کائیں کائیں میں تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔مقامیت انسانی تمدن سے منفک نہیں ہو سکتی۔علم کے پھیلائو کا قدیمی اصول آج بھی جاری و ساری ہے۔علم اصطلاحات بندی سے نہیں خالص تجزیوں سے مربوط ہے۔ناصر عباس نیر کی علمیت سے انکار نہیں ہے۔ انہیں انسانیت کو تجارتی بنیادوں پر منقسم کرنے کی بجائے انسانی تمدن کی روشنی میں انسانی اجتماعیت کے فروغ پر توجہ دینی چاہیئے۔اس دور کا نعرہ یہ ہونا چاہیئے دنیا بھر کے انسان دوست عالموں ایک ہو جائو۔علم کی پاسبانی کے لیے! انسانی ایکتا کے لیے۔مقامیت کی کوئی حد نہیں یہ سرائیکی اور تخت لاہوری میں منقلب ہو کر نئے ملکوں کی تشکیل کے در وا کر سکتی ہے۔انسانی آفاقیت کی تلاش اس دور کی اولین ضرورت ہے۔فرحت اللہ بیگ کی صاحب بہادری کو لوٹا تہذیب کی جانب واپس نہیں لایا جا سکتا۔

  3. بہت خوب کام ہے واقعی اس امر کی طرف توجہ دی جانی چاہیے کہ آخر آزادی کے بعد سے اب تک ھم غلامانہ سوچ سے باہر کیوں نہیں نکلے اورایک آزاد قوم کے شایان شانھم نے اس خطے کے دیسی تقاضوں کے مطابق سماجی تشکیل کے مراحل طے کرنے کے اقدامات کیوں نہیں کئے ۔اللہ کرے یہ فورم اپنے طے کردہ مقاصد و اہداف کوکامیابی کےساتھ آگے بڑھائے ۔فورم بنانے پر مبارکباد

  4. منصوبے كے بنیادی خط و خال بہت عمدہ ہے امید ہے كہ اخلاص و استقامت كے ساتھ اس پر عمل جاری رہے گا. اگر ہمیں بھی خدمت كا یا مصاحبت كا موقع دیا گیا تو تعاون كے لیے تیار ہیں

  5. دیر آید درست آید۔ ہم عام طور پر فخر اور کمتری کی نفسیات میں جینے عالے لوگ ہیں، جو بیماری کی حد تک حساسیت زدہ اور صارفی خصوصیات کے حامل ہیں۔ یوں تجزیاتی انداز میں اپنی مقامی ضرورتوں کے تناظر میں علم کے ردوقبعل سے یقینی طور پر ہماری سہل پسندی کا خاتمہ بھی ہونے کا امکان ہے اور ممکنہ طور پر علمی پیداوار میں حصہ دار بننے کا موقع بھی میسر آئے گا۔ میرے لیے اس میں یہ اضافی مسرت ہے کہ اس کام کا آغاز یونیورسٹی اساتذہ سے ہو رہا ہے۔ ورنہ ہم تو جگالی کرنے کے لاکھوں لے رہے ہیں اور پھر چلاتے بھی ہیں کہ رلمی روایت ختم ہو رہی ہے۔

  6. بہت ہی اچھی تجا ویز یا خوبصورت خواب ۔۔ یہ مراد کیسے بر آئے گی وہاں جہاں آوے کا آوا ہی الٹا ہے سو چ کے ما یوسی ہوتی ہے ۔۔ مگر یہ بھی ہہے کہ کہیں نہ کہیں سے تو آغا ز کرنا ہی ہوگا ۔۔۔

  7. یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں ڈاکٹر ناصر عباس نیر صاحب جیسی رجحان ساز شخصیت کی شاگرد ہوں جن کے علمی مقام ومرتبے کا عملی ثبوت آپ کے دیگر علمی وادبی کارناموں کے علاوہ اس تحریک کی بنا ڈالنا بھی ہے۔ یقیناً آپ کی سربراہی میں بہت سے اذہان میں شعوروآگہی کے نئی شمعیں روشن ہوں گی۔

Comments are closed.