سقوط ڈھاکہ، 16 دسمبر: بنگلہ دیش کیوں بن جاتے ہیں؟

پاکستان کی بنیاد نظریاتی ہے یا جدلیاتی؟ (حصہ سوئم/آخر)

(حسن جعفر زیدی)

1۔ اس مضمون کے حصہ اول کے لئے یہاں کلک کریں
2۔ اس مضمون کے حصہ دوئم کے لئے یہاں کلک کریں
دوسری عالمی جنگ کے اختتام تک انگریزوں کا دیوالیہ ہوچکا تھا۔ اور انگریز نے برصغیر سے بستر گول کرنے کا بگل بجا دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہندو۔مسلم۔انگریز کی جدلیات کی مثلث کی کشمکش تیز ہوگئی تھی۔ ان تینوں کی ترجیحات یہ تھیں:

1۔ انگریز: ہر قیمت پر برصغیر کو متحد اکائی کے طور پر چھوڑ کر جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے ڈیڑھ سو برس کی کوشش سے جو سول اور فوجی ڈھانچہ کھڑا کیا تھا وہ اسے متحد اس لیے چھوڑنا چاہتے تھے کہ عالمی جنگ کے اختتام پر سوویت یونین اور ابھرتا ہوا چین کا کمیونسٹ انقلاب برصغیر میں داخل نہ ہوسکے کہ اس کے بعد خلیج، مشرق وسطیٰ، مشرق بعید اور افریقہ تک اس کا راستہ روکنا بہت مشکل ہوجاتا۔
2۔ ہندو: کانگرس کے سیکولرازم کے بینر کے تحت پورے برصغیر پر مضبوط مرکزی حکومت کے ذریعہ مکمل اور بلاشرکت غیرے کنٹرول حاصل کرنا چاہتے تھے۔

3۔ مسلمان: ہر حال میں مسلم اکثریتی صوبوں کو ہندوؤں یعنی کانگرس کے مضبوط مرکزی کنٹرول سے آزاد رکھنا چاہتے تھے اور کم از کم مکمل علاقائی خودمختاری چاہتے تھے۔

صاحب مضمون، حسن جعفر زیدی

یہ کشمکش 1944ء میں لارڈ ویول کی جانب سےگاندھی۔جناح ملاقاتوں کے اہتمام اور پھر تمام رہنماؤں کی شملہ کانفرنس کی ناکامی کے بعد اس وقت نئے موڑ میں داخل ہوگئی جب نئی لیبر حکومت کے وزیراعظم ایٹلی نے 1945-46ء میں انتخابات کا اعلان کردیا اور 48ء میں انتقال اقتدار کی تاریخ دے دی۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ تمام صوبائی اور مرکزی اسمبلیوں میں مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت بن کر ابھری۔ مارچ 46ء میں حکومت برطانیہ نے انتقال اقتدار کا فارمولا طے کرنے کے لیے تین وزیروں لارڈ پیتھک لارنس، سٹیفرڈ کرپس اور اے۔وی۔الیگزینڈر کو ہندوستان بھیجا۔ انہوں نے تین ماہ تک تمام سیاسی رہنماؤں کے ساتھ طویل مذاکرات کیے اور بالآخر مئی 46ء میں ایک آئینی منصوبہ پیش کیا۔ جسے وزارتی مشن منصوبہ کہا جاتا ہے۔ اس میں دستورساز اسمبلی بنانے کا خاکہ دیا گیا تھا اور جن سیاسی جماعتوں کو یہ قبول تھا انہیں عبوری حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ دستور سازی کا خاکہ تین گروپوں یا زونوں پر مشتمل تھا۔ جن میں ان صوبوں کو شامل کیا گیا تھا۔

گروپ A ۔ مدراس، بمبئی، یوپی، بہار، سی پی، اڑیسہ۔
گروپ B ۔ پنجاب، سرحد، سندھ
گروپ C ۔ بنگال ،آسام

یہ ایک ڈھیلے ڈھالے وفاق کی سکیم تھی جس میں مرکز کے پاس دفاع، خارجہ، مواصلات اور ان محکموں کے لیے درکار آمدنی کے حصول کے اختیارات تھے۔ باقی سب اختیارات گروپ (زون) اور صوبائی سطح پر منتقل Devolve کردیئے گئے تھے۔ اسے گروپنگ سکیم یا زونل سکیم کہا جاتا تھا۔ اس آئینی منصوبے کے دیباچہ میں پاکستان کی سکیم کو ناقابل عمل قرار دے کر رد کردیا گیا تھا۔ تاہم جناح نے باوجود اس کے کہ لیگ نے مطالبہ پاکستان پر انتخاب جیتا تھا۔ مسلم لیگ کی طرف سے اس منصوبے کو منظور کرلیا۔ لیکن کانگرس نے دستورساز اسمبلی کے قیام اور انتقال اقتدار کی باقی سب شقوں کو تو منظور کرلیا مگر گروپنگ سکیم یا زونل سکیم کو رد کردیا۔ مسلم لیگ جو کسی مخصوص نظریے کے تجربے کے لیے مملکت کے حصول پر کام نہیں کررہی تھی بلکہ وہ اب بھی ہندوستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک ڈھیلے ڈھالے وفاق کو قبول کررہی تھی، کو شدید مایوسی ہوئی۔ اس پر کانگرس کے صدر ابوالکلام آزاد کو بھی بہت مایوسی ہوئی تھی کیونکہ آزاد کے مطابق یہ ایک بہترین حل تھا مگر اس منصوبے کو نہرو نے سبوتاژ کردیا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ گاندھی اور پٹیل بھی اسے سبوتاژ کرنے میں برابر کے شریک تھے۔ اصل بات یہ تھی کہ کانگرس ڈھیلے ڈھالے وفاق کے بجائے مضبوط مرکز کے ذریعے ہندوستان پر گرفت مضبوط کرنا چاہتی تھی۔ اگرچہ اس نے مشن منصوبہ مکمل منظورنہ کیا تھا مگر اسے عبوری حکومت میں شامل کرلیا گیا۔
کانگرس کی طرف سے گروپنگ سکیم کے رد کیے جانے کے بعد مسلم لیگ نے بھی اپنے فیصلے کوواپس لے لیا اور ڈائریکٹ ایکشن کا اعلان کردیا۔ 16 اگست کو ڈائریکٹ ایکشن ڈے منایا گیا۔ اور پورے برصغیر میں ہندو۔مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ صرف کلکتہ میں تین دن میں پچاس ہزار سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ اور پھر یہ سلسلہ نہ رک سکا۔ تین چار ماہ تک نواکھلی سے لے کر بہار اور گڑھ مکتیشر تک خون کے دریا بہا دیئے گئے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے۔
مسلم لیگ جسے عبوری حکومت سے اس لیے باہر رکھا گیا تھا کہ اس نے مشن منصوبہ کی منظوری واپس لے لی تھی۔ مگر فسادات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے اکتوبر 46ء میں لیگ کو بھی عبوری حکومت میں شامل کرلیا گیا۔ اس حکومت میں آئے دن کانگرس اور لیگ کے وزراء کے مابین چپقلش جاری رہتی تھی۔

دسمبر46ء تک برطانوی حکومت اور کانگرس میں یہ طے پا گیا کہ انتقال اقتدار کانگرس کی Terms پر کردیا جائے گا۔ لارڈ ویول جو ابھی تک وزارتی مشن منصوبے پر عملدرآمد کی کوشش کررہا تھا اور کانگرس کو انتہائی ناپسند تھا، برطرف کردیا گیا۔ اس کی جگہ کانگرس کی منشاء سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے تقرر کا اعلان کردیا گیا۔ جناح نے مشن منصوبے کی مجوزہ گروپنگ سکیم کو بچانے کے لیے ایک آخری کوشش کے طور پر دسمبر 46ء میں لندن کا دورہ کیا۔ وہ اسے خونریز مسلم کش فسادات کے باوجود اب بھی متحدہ ہندوستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک ڈھیلے ڈھالے وفاق کو پاکستان کی سکیم سے بہتر سمجھتے تھے۔ لیکن اس ضعیف العمری اور سخت سردی میں دسمبر کے لندن دورے کے دوران برطانوی حکام نے انہیں بتا دیا کہ گروپنگ سکیم اب قصہ پارینہ ہوچکی ہے۔ اس دوران نہرو بھی مختصر دورے پر لندن بلایا گیا تھا۔

مارچ 47ء میں نیا وائسرائے ماؤنٹ بیٹن انتقال اقتدار کے آخری راؤنڈ کے لیے دہلی پہنچا۔ اس کا رویہ جناح اور لیگی رہنماؤں کے ساتھ انتہائی رعونت آمیز اور معاندانہ تھا جبکہ کانگرسی رہنماؤں خصوصاً نہرو کے ساتھ بہت گہرے تعلقات تھے۔ اس نے اپریل اور مئی دو ماہ میں حالات کا جائزہ لیا اور تمام سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ وہ ان ملاقاتوں میں پاکستان کے لیے پاگل پاکستان کا لفظ استعمال کیا کرتا تھا۔ اس لیے کہ جو پاکستان وہ دینا چاہتا تھا وہ ایک کٹا پھٹا پاکستان تھا۔

یکم مئی 47ء کوکانگرسی مجلس عاملہ نے برصغیر کی تقسیم کی منظوری دے دی۔ جس میں پنجاب اور بنگال کو بھی تقسیم کیا گیا تھا۔ منقسم پنجاب اور منقسم بنگال پر مبنی پاکستان کو قائداعظم ہمیشہ نامنظور کیا کرتے تھے۔ وہ اسے کٹاپھٹا، کرم خوردہ اور ناقابل عمل قرار دیتے تھے۔ کانگرس بھی ایسا ہی سمجھتی تھی اور ایک کمزور پاکستان دے کر وہ باقی پورے ہندوستان پر ایک مضبوط مرکز کے تحت کنٹرول حاصل کرنے جارہی تھی۔ اس سلسلہ میں 7-10 مئی کے دوران ماؤنٹ بیٹن اور نہرو شملہ چلے گئے۔
تقسیم کے منصوبے کا ڈرافٹ ڈومینین کی بنیاد پر شملہ کے سیسل ہوٹل میں وی۔پی مینن نے ماؤنٹ بیٹن اور نہرو کی ہدایات کے مطابق تیار کیا۔ یہ بھی فیصلہ کرلیا گیا کہ انتقال اقتدار 48ء کے بجائے اگست 47ء میں ہی کردیا جائے گا۔ تقسیم کی ساری تفصیل، باؤنڈری لائن تک نہرو اور ماؤنٹ بیٹن کے مابین طے ہوئی۔ جس کی منظوری ماؤنٹ بیٹن لندن سے لے کر آیا اور 3 جون 47ء کو پارٹیشن ایوارڈکا اعلان کردیا گیا۔1

قائداعظم کے پاس اسی پاکستان کو قبول کرلینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا جسے وہ ہمیشہ کٹا پھٹا، کرم خوردہ اور ناقابل عمل قرار دیا کرتے تھے۔ تاہم انہوں نے ایک کوشش اور کی کہ پنجاب اور بنگال تقسیم نہ ہوں۔ ان کا خیال تھا کہ کلکتہ کے بغیر مشرقی بنگال معاشی طور پر چل نہیں سکے گا۔ انہوں نے سکھ رہنماؤں کو بہت یقین دہانی کرائی اور گیانی کرتار سنگھ مان بھی گیا، مگر ماسٹر تارا سنگھ نہ مانا اور یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ البتہ بنگال کی تقسیم روکنے کی جو کوشش ہوئی اس میں قدرے کامیابی کی امید پیدا ہوئی۔ حسین شہید سہروردی جو متحدہ بنگال کے مسلم لیگی وزیراعلیٰ تھے، قائداعظم کی آشیرباد سے بنگال کے فارورڈ بلاک کے رہنما سرت چندر بوس اور بنگال پراونشل کانگرس کے صدر کرن شنکر رائے کو بنگال کو متحد رکھنے پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ تجویز یہ تھی کہ متحدہ بنگال ایک الگ تیسرا آزاد ملک بن جائے۔ سہروردی نے بنگال کے رہنماؤں کوقائل کرنے کے بعد ماؤنٹ بیٹن کو اس تجویز سے آگاہ کیا۔ ماؤنٹ بیٹن نے پوچھا کہ جناح کی اس بارے میں کیا رائے ہے تو سہروردی نے بتایا کہ یہ ان کی آشیرباد سے ہی طے ہوا ہے۔ اس کے بعد ماؤنٹ بیٹن نے جناح کے ساتھ ملاقات میں ان سے اس بابت دریافت کیا تو جناح بولے کہ، ’’ہمیں آزاد متحدہ بنگال کے بننے پر خوشی ہوگی۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے ان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہوں گے۔‘‘ یاد رہے متحدہ بنگال کی اس ریاست کا نام سوشلسٹ ری پبلک آف بنگال تجویز کیا گیا تھا۔ لیکن گاندھی، نہرو اور پٹیل نے بنگال کانگرس کی قیادت کو سہروردی کے ساتھ اس قسم کی تجویز پر اتفاق کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور اسے کامیاب نہ ہونے دیا۔ 2

یہ ظاہر ہوا کہ قائداعظم کسی مخصوص نظریے کی تجربہ گاہ کے لیے ملک بنانے نہیں جارہے تھے۔ وہ اس وقت ہی آزاد اور متحدہ بنگال (یعنی بنگلہ دیش) بنانے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ وہ ایک حقیقت پسند pragmatic سیاست دان تھے۔ وہ کسی تھیوکریٹک ریاست کے قیام کے سخت خلاف تھے۔ جب 14 اگست کو ملک کا قیام عمل میں آیا، تو ان کے ہر بیان اور ہر عمل سے یہ بات ظاہر ہوئی۔ مگربنگال اور پنجاب کی تقسیم نہ رک سکی۔ باؤنڈری کمیشن محض برائے نام بنایا گیا تھا۔ لکیر کہاں ڈالی جائے گی یہ فیصلہ نہرو اور ماؤنٹ بیٹن پہلے ہی کرچکے تھے۔ لیکن باؤنڈری کمیشن کے ایوارڈ کا اعلان دونوں ملکوں کے وجود میں آنے کے بعد 17 اگست کو ہوا۔ مشرقی پنجاب بالخصوص وہاں کے دیہاتوں میں رہنے والے مسلمانوں کو یہ پتہ ہی نہ تھا کہ ان کا علاقہ پاکستان میں ہوگا۔ ان پر اچانک سکھوں کے حملوں سے جو قیامت ٹوٹی اس سے معلوم پڑا کہ وہ دشمن کے علاقے میں ہیں۔
پنجاب کے دونوں حصوں میں جو قتل عام ‘خونریزی اور تباہی ہوئی اس کی تفصیل سے آپ سب واقف ہیں۔ لیکن صرف یہ کہوں گا کہ پنجاب کے دونوں طرف کے لوگوں کا یہ چوائس نہیں تھا کہ یہ خونریزی ہو۔ ان پر تاریخ کی جدلیات کا جبر ٹوٹا تھا جس سے بچنا شاید ان کے اختیار میں نہیں تھا۔ کانگرس کی تنگ نظر قیادت اور برطانوی سامراج تھوڑی دانش مندی کا مظاہرہ کرتے اور ڈھیلے ڈھالے وفاق پر مبنی گروپنگ سکیم کے تحت انتقال اقتدار کر دیتے تو یہ عذاب نہ ٹوٹتا اور ضلع گورداسپور اور فیروزپور میں غیرمنصفانہ طریقے سے باؤنڈری ڈال کر مسئلہ کشمیر کی شکل میں ایک ناسور پیدا کیا گیا، اس سے بھی نجات مل جاتی۔ دونوں ملک Security Stataes کی حیثیت سے اپنا اربوں ڈالر کا بجٹ دفاع پر خرچ کررہے ہیں شاید اس سے بھی بچت ہوجاتی۔

تقسیم کے بعد بھی برصغیر میں قوتوں کے مابین کشمکش کی جدلیات بدستور جاری رہی۔ ہندو مسلم تضاد‘ پاک بھارت تنازعہ کی شکل اختیار کرگیا۔ دونوں ملکوں کے مابین تین جنگیں ہوئیں۔ ایٹمی دوڑ شروع ہوئی۔ ادھر سے اگنی اور پرتھوی داغے جاتے، ادھر سے غزنوی اور غوری۔ پاکستان کے اندر، جو بنیادی طور پر صوبائی خودمختاری کی تحریک کی بدولت وجود میں آیا تھا، جب یہاں ’’نظریہ پاکستان‘‘ اور ’’نظریاتی تجربہ گاہ‘‘ کا نام لے کر ان صوبائی حقوق کو سلب کرلیا گیا تو پھر یہ جدلیات اگلے مرحلے میں داخل ہوکر71ء میں ایک اور تقسیم کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔

جس طرح ’’انڈین نیشنلزم‘‘ کا نظریہ 1947ء کی تقسیم کو نہیں روک سکا تھا، ویسے ہی ’’نظریہ پاکستان‘‘ 71ء کی تقسیم کو نہ روک سکا۔ 47ء سے پہلے انڈین نیشنلزم کے علمبردار کہتے تھے، کوئی ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی نہیں سب ہندوستانی ہیں اور یہ کہہ کر وہ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے حقوق کی نفی کرتے تھے ویسے ہی قیام پاکستان کے بعد کہا گیاکہ کوئی بنگال، سندھی، بلوچی، پٹھان اور پنجابی نہیں، سب پاکستانی اور مسلمان ہیں اور یہ کہہ کر بنگالیوں، سندھیوں، بلوچوں اور پٹھانوں کے حقوق کی نفی کی گئی۔ مگر تاریخ کی جدلیات نے ثابت کیا کہ نظریے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، جدلیاتی قوتیں اپنا راستہ بنا لیتی ہیں اور تاریخ آگے بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کے یوم آزادی پر صوبہ بلوچستان میں بھی کالے جھنڈے لہرائے گئے۔ ادھر کشمیر میں ہمیشہ کی طرح پاکستانی جھنڈے لہرائے گئے ہیں۔ آج پاکستان بلکہ پاکستان اور ہندوستان کے حکمرانوں کو نظریئے کے شکنجے سے نکل کر حالات کی جدلیات کی حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے۔ ورنہ سرحدیں اور ملک نظریوں کے مرہون منت نہیں ہوا کرتے۔

حواشی:

1۔ 44ء سے 47ء تک انگریز، کانگرس اور مسلم لیگ کے مابین جدلیات کی تفصیل جس میں مشن منصوبہ کی مجوزہ گروپنگ سکیم کے لئے قائداعظم محمد علی جناح کی کوششوں اور کانگرس کی جانب سے اسے ناکام بنا کر ایک مضبوط مرکز کے تحت ہندوستان کے وسیع علاقے پر اپنا اقتدار قائم کرنے کی خاطر تقسیم ہند کو اپنی منشا کے مطابق منوانے کی کانگرس کی کوششوں اور انگریزوں سے تعاون کی تفصیل کے لیے دیکھئے۔ زاہد چودھری/حسن جعفر زیدی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ۔ پاکستان کیسے بنا؟ دو جلدیں ۔ ادارہ مطالعہ تاریخ لاہور۔ 1989ء۔

2۔ تفصیل کے لیے دیکھئے۔ زاہد چودھری/حسن جعفر زیدی۔ محولہ بالا۔ جلد 2 ص ص 278-281، 323-330