ہمیں بہت سی کہانیاں چاہییں

Syed Kashif Raza

ہمیں بہت سی کہانیاں چاہییں

از، سید کاشف رضا

دنیا جیسے جیسے قریب آتی جا رہی ہے، دنیا کی مختلف ثقافتیں اور مختلف ملک بھی ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ دوسری ثقافتوں میں دل چسپی کی روایت قدیم ہے۔ یونانی تاریخ داں ہیروڈوٹس نے ان ثقافتوں کے بارے میں بھی لکھا جہاں یونانی دَر انداز کی حیثیت سے داخل ہوئے تھے۔ البیرونی محمود غزنوی کے زمانے میں ہندوستان آئے اور یہاں کی ثقافت کا مطالَعَہ کتاب الہند کے نام سے یاد گار چھوڑا۔ اس کے با وُجُود اَزمنۂِ وسطیٰ میں دوسری ثقافتوں میں دل چسپی محدود تھی۔ بحیرۂِ روم اور بحیرۂِ احمر کا راستہ عثمانی ترکوں کے کنٹرول میں آ جانے کے بعد یورپ نے اپنا مال غیر ملکی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے نئے راستے تلاش کرنا شروع کیے تو دوسری ثقافتوں میں دل چسپی کا نیا دور شروع ہوا۔

اس دور کی ابتداء سفر نگاروں اور نامہ نگاروں کی تحریروں سے ہوئی، اور پھر بھر پُور صنعتی دور کے آتے آتے مطالعۂِ مشرق کے لیے علم کی ایک نئی شاخ قائم ہوئی جسے استشراق، یا Orientalism کا نام دیا گیا۔ جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ کے ممتاز محققین اور تاریخ دانوں نے اس علم میں خاص امتیاز حاصل کیا۔

یہ سوال البتہ باقی رہا کہ کیا کوئی دوسری ثقافت، اور خاص طور پر مغربی ملکوں کی طرح کی ایک ایسی ثقافت جو بَر تری کے زُعم میں مبتلاء ہو، کسی اقتصادی لحاظ سے کم خوش حال ثقافت کا غیر جانب دارانہ مطالَعَہ کر بھی سکتی ہے، یا نہیں۔ ایڈورڈ سعید کی شاہ کار کتاب Orientalism اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے۔

اب گلوبلائزیشن نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم ہر ثقافت کے اپنے ہی راوی کے مُنھ سے سنیں کہ وہ ثقافت کیسی ہے، اس کے خد و خال کیسے ہیں، اس کی اقدار کیا ہیں، اس کا تصورِ زندگی اور تصورِ حقیقت کیا ہے۔

مختلف زبانوں کا ادب، شاعری اور فکشن ہمیں دنیا کی مختلف ثقافتوں سے جس انداز میں متعارف کراتے ہیں، اس کا موازنہ دیگر اقسام کے متُون سے نہیں کیا جا سکتا۔ ایک جانب ٹیکنالوجی کی بَہ دولت دنیا کی مختلف ثقافتوں، اور مختلف افراد کی قربت کے امکانات بہتر سے بہتر ہوتے چلے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب تراجم میں بھی روز بَہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔

تاہم ان تراجم میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جو ثقافت اور جو ملک اقتصادی لحاظ سے زیادہ ثروت مند ہے، اسے اپنے ترجمانوں اور راویوں کو دنیا بھر میں پہنچانے میں زیادہ آسانی ہے۔ جو ملک اقتصادی لحاظ سے پسِ ماندہ ہیں ان کی کہانیاں دنیا بھر میں کم پہنچی ہیں، اور اسی وجہ سے دنیا انھیں جانتی بھی کم ہے۔

ایک مسئلہ اور بھی ہے۔

اپنے TED Lecture میں نائیجیریا کی ابھرتی ہوئی فکشن نگار چمامندا نگوزی اڈیچی Chimamanda Ngozi Adichie بیان کرتی ہیں کہ ان کے کسی ناول میں ایک باپ دکھایا گیا جو اپنے بچوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اڈیچی سے کسی نے کہا کہ یہ بات شرم ناک ہے کہ افریقی مرد بچوں پر جسمانی تشدد کرتے ہیں۔ اڈیچی کے مطابق انہوں نے جواب دیا کہ انھوں نے حال ہی میں امریکی ناول امیریکن سائیکو پڑھا ہے، اور انھیں یہ جان کر بہت شرم آئی کہ نو جوان امریکی serial killing کرتے پھرتے ہیں۔

اڈیچی کا مقصد یہ بتانا تھا کہ کسی بھی خطے کو صرف ایک کہانی، یا اس ایک کہانی کے مختلف وَرژن کی مدد سے جانا نہیں جا سکتا۔ افریقہ کی کہانی میں صرف بھوک، قحط، خانہ جنگی اور فسادات نہیں ہیں۔ جب بھی کسی خطے کو غیر کی آنکھ سے دیکھا جائے گا تو وہ غیر اس خطے کی ایک آدھ ہی کہانی سنا پائے گا۔ لیکن جب خطے کے مکین اپنی کہانیاں خود کہنے لگیں گے تو وہ ایک کہانی نہیں بَل کہ بہت سی کہانیاں ہوں گی۔

چمامندا نگوزی اڈیچی انگریزی میں لکھتی ہیں اور شاید اسی لیے ان سے افریقہ کی وہی صورت پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا جو ہم خبروں میں دیکھتے سننے کے عادی ہیں۔ کیا ایسا تو نہیں کہ نو آبادیاتی زبان میں لکھنے سے ہم خود پر نو آبادیاتی توقعات بھی عائد کر لیتے ہوں؟

اڈیچی نے اس پر غور کیا ہو یا نہ کیا ہو، کینیا کے معروف ادیب نگوگی وا تھیونگ او نے اس پر ضرور غور کیا اور انگریزی میں لکھنے، اور لکھ کر مشہور ہو جانے کے بعد اپنی قبائلی زبان گیکویو میں ایک بار پھر لکھنا شروع کر دیا اور اب ان کے فکشن اور نان فکشن کو گیکویو سے ہی انگریزی میں ترجمہ کیا جاتا ہے۔

جاپان یورپ کی نو آبادی نہیں رہا، مگر اس پر مغرب کے اثرات بہت ہیں۔ پچھلے سال جب جاپان کے جاپانی زبان ادیب ہارُوکی مُوراکامی کو نوبیل انعام دیے جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی تھی، تو ادب کا نوبیل انعام جاپانی نژاد کازواؤ اشی گُورو کو دیا گیا جو جاپانی نژاد ہیں مگر انگریزی میں لکھتے ہیں۔ کیا یہ اس بات کا علامتی اظہار نہیں کہ کچھ لوگوں کے خیال میں جاپان اپنی کہانی اپنی زبان میں نہیں سنا سکتا؟

آج جب دنیا ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہے تو ہم ہر خطے کی کہانی اس کی اپنی زبان میں سننے کے قابل ہو چکے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ادب کا ایک قاری چند ہی زبانیں سیکھ سکتا ہے اور بہت سے ملکوں کا ادب اسے کسی تیسری زبان میں پڑھنا پڑتا ہے۔ ہاروکی موراکامی ایک ایسے جاپانی مصنف ہیں جو کئی حوالوں سے ترقی پذیر ملکوں کے ادیبوں کے لیے ایک مثال ہیں۔ وہ اپنی ملکی زبان میں لکھتے ہیں، لیکن انگریزی ادب سے اس کا شغف بھی بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے انگریزی سے بہت سے تراجم کیے اور وہ انگریزی موسیقی کے بھی عاشقِ صادق ہیں۔ وہ جاپان کو اپنی اور پرائی دونوں آنکھوں سے دیکھنے پر قادر ہیں، سو ان کا مطالَعَہ دل چسپ ثابت ہو سکتا ہے۔

لیکن کسی بھی علاقے میں زندگی کی تفہیم اگر کسی ایک کہانی سے ممکن نہیں تو صرف ایک قسم کے ادب یا صرف ادب سے بھی ممکن نہیں۔ زندگی اپنے اظہار کے لیے نئے نئے پیراہن تراشتی ہے۔ سیاست، معیشت، کھیل اور فلم بھی زندگی کے اظہار کے مظاہر ہیں۔ کثیر جہتی زندگی سے شغف ہمیں ادب کے ساتھ ساتھ دیگر اصناف کے مُطالَعات کی جانب بھی لے جاتا ہے۔

افضال احمد سید نے کہا ہے:

ہمیں بہت سے پھول چاہییں

اور ہمیں اپنی زندگی اور معاشرے کو سمجھنے کے لیے بہت سی کہانیاں چاہئیں۔ یہ کہانیاں تلخ بھی ہوں گی، اور شیریں بھی۔ لیکن انھیں سُننے سنانے سے پہلے ایک فراخی، ایک آزادی بھی تو چاہیے۔ کہانیاں دستک دے رہی ہیں۔ آئیے دروازے کھول دیں۔


سید کاشف رضا نے یہ مضمون کتابی تبصرہ جات کے سہ ماہی مجلے، کراچی ریویو، کے شمارہ نمبر 3 کے لیے بَہ طورِ اداریہ لکھا۔ اس مضمون کی ایک روزن پر ڈیجیٹل اشاعت کے لیے دست یابی کی بابت ہم ان کے ممنون ہیں۔

About سیّد کاشف رضا 27 Articles
سید کاشف رضا شاعر، ادیب، ناول نگار اور مترجم ہیں۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے ’محبت کا محلِ وقوع‘، اور ’ممنوع موسموں کی کتاب‘ کے نام سے اشاعتی ادارے ’شہر زاد‘ کے زیرِ اہتمام شائع ہو چکے ہیں۔ نوم چومسکی کے تراجم پر مشتمل ان کی دو کتابیں ’دہشت گردی کی ثقافت‘، اور ’گیارہ ستمبر‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بلوچستان پر محمد حنیف کی انگریزی کتاب کے اردو ترجمے میں بھی شریک رہے ہیں جو ’غائبستان میں بلوچ‘ کے نام سے شائع ہوا۔ سید کاشف رضا نے شاعری کے علاوہ سفری نان فکشن، مضامین اور کالم بھی تحریر کیے ہیں۔ ان کے سفری نان فکشن کا مجموعہ ’دیدم استنبول ‘ کے نام سے زیرِ ترتیب ہے۔ وہ بورخیس کی کہانیوں اور میلان کنڈیرا کے ناول ’دی جوک‘ کے ترجمے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ان کا ناول 'چار درویش اور ایک کچھوا' کئی قاریانہ اور ناقدانہ سطحوں پر تحسین سمیٹ رہا ہے۔ اس کے علاوہ محمد حنیف کے ناول کا اردو ترجمہ، 'پھٹتے آموں کا ایک کیس' بھی شائع ہو چکا ہے۔