آخری مقدمہ جو منٹو لڑرہا ہے

(آصف فرخی)

تقسیم، تقسیم، ہر بار اور بار بار تقسیم۔۔۔ اسی ایک جگہ پر آن کر ایسے نقادوں کی سوئی اٹک جاتی ہے۔ وہ نہ اس سے پہلے کے منٹو کو دیکھتے ہیں اور نہ اس کے فوراً بعد کو۔ جس زمانے میں تقسیم والے افسانوں کا سلسلہ شروع ہوا، لگ بھگ اسی زمانے میں منٹو نے ’’بابو گوپی ناتھ‘‘ جیسا افسانہ لکھا جسے کوئی نقاد ان کے اہم افسانوں کی فہرست میں شامل کرے یا چھوڑ دے، یہ افسانہ منٹو کے (اور اسی وجہ سے ہماری زبان کے) مُنفرد افسانوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ تکنیک سے لے کر موضوع واسلوب تک، منٹو کے بنیادی سروکار اس افسانے میں کارفرما ہیں۔ لیکن اس فرق کے ساتھ کہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ جیسے اتنے ہی منفرد افسانے میں جیسے حون کی بو پر نقاد چلے آتے ہیں اور افسانے کی نظریاتی تعبیریں پیش کرنے لگتے ہیں جو افسانے سے بڑھ کر ان کا اصل مدّعا ہے۔ ’’بابو گوپی ناتھ‘‘ میں سے ایسی کوئی صورت برآمد کرنا کہ جس کی نظریاتی تعبیر ممکن ہو سکے یا سود مند ثابت ہو، قریب قریب ناممکن ہے۔ اس لیے کہ یہ افسانہ اپنی تکمیل تک پہنچتے پہنچتے خود متکلّم راوی (جس کا نام منٹو ہے) اور اس کا نقطۂ نظر جس کے تحت افسانہ build-up ہو رہا ہے، اس کو بالکل ہی اُلٹ دیتا ہے۔ آخری نقش جو قائم رہتا ہے وہ زینو کے آنسوؤں اور بابو گوپی ناتھ کی آنکھوں میں دُکھ بھری ملامت کا نقش ہے، جس کی وار کے سامنے جب راوی کا نقطۂ نظر نہ ٹہر سکا تو نظریاتی تعبیر کس دورسے داخل ہوسکے گی؟ چند سطروں میں ایک ایک لفظ اپنی جگہ اینٹ کی طرح چُنا ہوا ہے اور بیانیہ پوری طرح ممکن ہے کہ point of view میں تبدیلی کا احساس بھی پوری طرح نہیں ہونے پاتا اور پیروں تلے سے زمین نکلتی جاتی ہے:
’’مجھے ابھی غلطی کا احساس بھی نہ ہوا تھا کہ بابو گوپی ناتھ اندر داخل ہوا۔ بڑے پیار کے ساتھ اس نے اپنے رومال سے زینت کے آنسو پونچھے اور بڑے دکھ کے ساتھ مجھ سے کہا۔ ’’منٹو صاحب! میں سمجھا تھا آپ بڑے سمجھ دار اور لائق آدمی ہیں ____ زینو کا مذاق اڑانے سے پہلے آپ نے کچھ سوچ لیا ہوتا۔‘‘
بابو گوپی ناتھ کے لہجے میں وہ عقیدت، جو اسے مجھ سے تھی، زخمی نظر آئی۔ لیکن پیش تر اس کے کہ میں اس سے معافی مانگوں اس نے زینت کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بڑے خلوص کے ساتھ کہا۔ ’’خدا تمہیں خوش رکھے۔‘‘
یہ کہہ کر بابو گوپی ناتھ نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ ان میں ملامت تھی____ بہت ہی دکھ بھری ملامت ____ اور چلا گیا۔‘‘
وہ چلا جاتا ہے اور اپنے پیچھے دکھ بھری ملامت چھوڑ جاتا ہے جس میں منٹو کا کمالِ فن سمٹ آیا ہے۔
اور یہ اسی کمال کا جزو ہے کہ یہ سوال نہیں اٹھایا جاسکتا کہ ایک معمولی کوٹھے میں ایک طوائف کی دل شکنی ہوگئی تو کون سی قیامت آگئی۔ قیامت تو یہ ہے کہ قیامت نہ آئی۔ عقل مندی کے احساسِ برتری کے باوجود، ’’منٹو‘‘ کا کردار خفّت اٹھاتا ہے اور انسانیت، بابو گوپی ناتھ کے الوژن کے ہم رکاب چلتی جاتی ہے۔ خود اپنے آپ کو expose کرکے۔۔۔ اور اس کا Denoument افسانے کا خاص کمال ہے۔۔۔ راوی/ مصنّف نے کسی قسم کے Manipulation کی گنجائش نہیں چھوڑی۔
یہ کمالِ فن، تکنیک کا یہ Perfection ’’ہتک‘‘ اور ’’بو‘‘جیسے افسانوں میں ذرا ذرا سی تفصیل میں گُندھا ہوا ہے۔ ’’ہتک‘‘ میں سوگندھی کی وجودی تنہائی کا بیان منٹو کے انداز کو بہت bleak اور stark بنا دیتا ہے مگر اس سے پہلے ’’کالی شلوار‘‘ میں سیاسی، مذہبی حوالہ ’’الّو کی پٹّھی‘‘ کی بات کرتے کرتے سلطانہ اور شنکر کے درمیان آجاتا ہے:
’’میں بھی الّو کی پٹّھی نہیں۔‘‘
’’مگر وہ آدمی خدا بخش جو تمہارے ساتھ رہتا ہے ضرور الّو کا پٹھا ہے۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اس لیے کہ وہ کئی دنوں سے ایک ایسے خدارسیدہ فقیر کے پاس اپنی قسمت کھلوانے کی خاطر جارہا ہے جس کی اپنی قسمت زنگ لگے تالے کی طرح بند ہے۔‘‘ یہ کہہ کر شنکر ہنسا۔
اس پر سلطانہ نے کہا۔ ’’تم ہندو ہو۔ اس لیے ہمارے ان بزرگوں کا مذاق اڑاتے ہو۔‘‘
شنکر مسکرایا۔ ’’ایسی جگہوں پر ہندو مسلم سوال پیدا نہیں ہوا کرتے۔ پنڈت مالدیہ اور مسٹر جناح اگر یہاں آئیں تو وہ بھی شریف آدمی بن جائیں۔‘‘
’’جانے تم کیا اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہو ____ بولورہو گے؟‘‘
تقسیم والے افسانوں میں یہ کاٹ اور معنی خیز تفاصیل کا استعمال یوں ہی اچانک نہیں آگیا تھا بلکہ یہ انداز منٹو کے افسانوں میں دھیرے دھیرے تکمیل کو پہنچ رہا تھا۔ سلطانہ اور سوگندھی اپنے حالات کے علاوہ کسی اور سانحے کی ماری ہوئی نہ سہی، یہ پہلے آتی ہیں اور ان کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان افسانوں کو کیا سراسر غیر سیاسی قرار دیا جاسکتا ہے؟ میرے لیے یوں سوچنا بھی مشکل ہے مگر یہ سوال اٹھا کر میں ان کے جنسی پہلو کی اہمیت کو کسی طور کم کرنا نہیں چاہتا۔ ’’دھواں‘‘، ’’کالی شلوار‘‘، ’’بو‘‘ اور ’’ہتک‘‘ جیسے مکمّل افسانے اور پھر بمبئی کی فلمی زندگی کے چھوٹے بڑے افسانوی مرقعے جن میں چند ایک کرداروں اور ان کی سچویشن کو امرِ واقعہ بنا کر افسانے کی تشکیل کی گئی ہے، ان میں جنسی کشاکش اور مرد وزن کے تعلقات کے ذریعے سماجی تبدیلی کے عمل کو انفرادی زندگیوں میں بروئے کار آتے ہوئے دکھایا گیا ہے، یہ سب محض منٹو کے ’’اہم‘‘ افسانوں کا پیش خیمہ نہیں بلکہ اصل منٹو ہے۔ ان افسانوں نے منٹو کو منٹو بنایا۔ وہی منٹو جس نے تقسیم کے افسانے لکھے، گہرے انسانی المیے کے احساس میں ڈوبے ہوئے۔ اس لیے کہ وہ انسانی المیے کو محسوس کرنے اور افسانے میں ڈھالنے کی ہُنر سے آشنا ہوچکا تھا۔ ان افسانوں میں منٹو کا ایک اختصاص یہ بھی کم نہیں کہ تقسیم کے واقعات اور فسادات کی ہول ناکی کے آگے جہاں اچھے اچھے افسانہ نگار ____ وہ جو اس سے پہلے منٹو کے ساتھ قدم ملا کر چل رہے تھے، اور انیس بیس کا معاملہ رکھتے تھے ____ نظریاتی چھتریوں کی پناہ میں آگئے جب کہ منٹو، مطعون ومقہور منٹو انسانی المیے پر نظریں جمائے رہا۔ اس کی توّجہ اسی طرف مرکو ز رہی، اِدھر اُدھر بھٹک کر بکھر نہیں گئی۔
’’ٹھنڈا گوشت‘‘ اور’’کھول دو‘‘ جیسے افسانوں نے پہلے پہل اس لیے Offend کیا کہ سیاسی بربریت کا اظہار جنسی صورت میں ہوا ہے۔ ان کے لکھے جانے کے اتنے عرصے بعد اگر یہ افسانے ہمیں حیران پریشان نہیں کرتے تو پھر ہم صدمہ اٹھانے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اس عرصے میں ساری دنیا میں جنسی معاملات کے اظہار میں زیادہ بے باکی آگئی، لیکن یہ بھی تو دیکھیے کہ منٹو کے بعد اردو افسانے کو کیا ہوگیا؟ منٹو اور اس کے ساتھ عصمت چغتائی نے ہمارے لیے جو آزادی حاصل کی تھی، ہم اتنی ہی تیز رفتاری سے پیچھے چلے گئے۔ ایسا نہیں کہ جنسی میلان یا عمل زندگی میں کسی کام کا نہ رہا ہو لیکن اردو افسانے سے یہ سراسر غائب ہو کر رہ گیا۔ بڑی مشکل سے حاصل کی ہوئی آزادی یوں ہی گنوادی۔ منٹو کے بعد آنے والوں میں ضمیر الدین احمد کے چند افسانے ضرور یاد آتے ہیں ____ ’’آئینے کی پشت‘‘، ’’سوکھے ساون‘‘ اور ’’تشنۂ فریاد‘‘ ____ ورنہ دور دور تک بڑی خاموشی ہے۔ اور تنہائی۔ سلطانہ رنگے ہوئے کالے کپڑے پہنے بیٹھی ہے اور سوگندھی خارش زدہ کتّے کو گود میں لے کر ساگوان کے پلنگ پر سوچکی ہے۔
انبالہ سے دلّی آنے کے بعد سلطانہ اپنے فلیٹ کی بالکنی سے ’’سامنے ریلوے شیڈ میں ساکت اور متحرک انجنوں کی طرف گھنٹوں بے مطلب دیکھتی رہتی۔‘‘ کبھی کبھی ’’وہ گاڑی کے کسی ڈبّے کو جسے انجن سے دھکا دے کر چھوڑ دیا ہو اکیلے پٹڑوں پر چلتا دیکھتی۔۔۔‘‘ ایسا لگتا ہے کہ کسی نے کانٹا بدل دیا ہے اور اس اکیلے ڈبّے پر بیٹھ کر اردو افسانہ کسی اور پٹڑی پر چلا گیا ہے۔ سلطانہ پیچھے رہ گئی ہے اور سوگندھی بھی جو جنس پر انحصار پھر اس سے بے زاری، اپنی بے آسرا تنہائی اور وجود کی برہنگی کے ساتھ اپنے بعد لکھے جانے والے افسانوں میں ژاں پال سارتر کی قُربت (Intimacy) اور کامو کی فاحشہ (The Adulterous Woman) کی پیش رو معلوم ہوتی ہے۔ اردو افسانے میں یہ نقش منٹو کے سوا کہیں اور نہیں ملتا اور جب منٹو کے ہاں موجود ہے ہم اس سے اب کیوں مُنھ چھپائیں؟
کسی ایک دور میں لکھے ہوئے افسانوں یا ایک کیفیت کی حامل تحریروں سے منٹو کی باقی تحریروں کی اہمیت کم نہیں ہونا چاہیئے۔ تقسیم کے افسانے پڑھنے اور آہ بھرنے کا مطلب یہ نہ ہونا چاہئے کہ جنس اور دوسرے معاملات پر لکھے جانے والے افسانے توجہ سے محروم ہو کر رہ جائیں۔ یوں بھی منٹو کے ہاں ایسی کوئی تقسیم موجود نہیں ہے۔ ’’سوراج کے لیے‘‘ جیسے نسبتاً ابتدائی دور کے افسانے کو کس خانے میں رکھیں گے؟ منٹو کے افسانوں کااس طرح بٹوارا ممکن نہیں۔ اور جب یہ تقسیم نہیں ہوسکتی تو صد سالہ سالگرہ کے موقع پر بھی مجھے رنگ میں بھنگ ڈالنا مقصود ہے کہ آدھا نہیں ، پورا منٹو پڑھنے پر اصرار ہے ____ اس لیے کہ منٹو، منٹو ہے۔ نہ آدھا نہ کم ____ اس جیسا اور کوئی نہیں۔ جو وہ کہہ رہا ہے، کسی اور نے اس طرح نہیں کہا، اتنی قوّت، اتنی جرأت اور اس قدر زندگی آفرینی کے ساتھ ____ زندگی ہے تو منٹو ہے۔ اتنا ہی منٹو، ویسا ہی منٹو جو نقادوں کے کم کیے سے کم ہونے والا نہیں۔
یہ آخری مقدمہ ہے جو منٹو لڑرہا ہے ____ سلطنتِ برطانیہ کے خلاف یا مملکت خداداد کے خلاف نہیں بلکہ ہمارے آپ کے خلاف، ان سب کے خلاف جو اتنے برس کے بعد بھی اسے پوری طرح قبول نہیں کرنا چاہتے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.