معرفتِ ذات میں تضادات کا سوال اور اس کے علمی فوائد

معرفتِ ذات میں تضادات کا سوال اور اس کے علمی فوائد
Base painting: The Gleaners by Jean Francois Millet

معرفتِ ذات میں تضادات کا سوال اور اس کے علمی فوائد

از، یاسر چٹھہ

معرفت ذات کو انسانی شعور ی تاریخ کے ہر دور میں ایک عمدہ سرگرمی اور مصروفیت سمجھا گیا ہے۔ معرفت ذات کی جانب جدوجہد میں انسانی تاریخ کے کئی سارے ستارہ صفت لوگوں نے زندگیاں تیاگ دیں۔ ہر ایک نے کسی کے دیے ہوئے طریقے، (اس جملے میں بیان کردہ “کسی” کبھی کوئی اعلی انسانی و غیر انسانی ہستی تھی، یا کسی کے ذاتی انتخاب و آزمائش کے طریقے تھے)۔ مختصرا آدرش پسندوں اور علم دوستوں کے لیے معرفت ذات ایک اہم حیاتی وظیفہ رہا ہے۔

اپنے آپ کو جس قدر بھی غیر اہم کہہ لوں، کم ہے۔ کثر نفسی کی لاکھ کوششیں بھی مختلف زاویہ ہائے  نظر سے خبط عظمت ذات کی تعبیریں نظر آئیں گے۔ لیکن کچھ کہنے کی ہمت پھر بھی کیے دیتا ہوں۔ اس پر کہیں پڑھا تو نہیں اور نا ہی کسی سے سنا ہے؛ اور جس طرح وہ فلمیں ڈرامے بنانے والے کہتے ہیں نا  کہ کوئی واقعاتی مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی، اسی طرح عرض کرتا ہوں کہ کوئی کاپی رائٹ کے حقوق کی خلاف ورزی اور سرقہ کاری کا احساس محض اتفاقیہ ہوگا۔

ہم میں اور ہم سے مختلف سماجی روابط میں منسلک لوگ جن سے ہمارا تعلق واسطہ رہتا ہے، بہت سارے تضادات ہوتے ہیں۔ ان تضادات کی بابت ہم تفہیم، تشریح، تشخیص، تشخص کاری یا زمرہ کاری جیسے مختلف امکانات کی کھیتیاں بو سکتے ہیں، اپنی سہولت اور سہل کاری کے لیے وہ کھیتیاں جب من چاہے کاٹ سکتے ہیں۔ ان امکانات کی کاشت اور کاٹ ہماری موضوعیت پر بہت زیادہ منحصر ہوتی ہیں۔ مثلا کبھی کسی کے تضادات کی پہچان اور اس کے بعد ان کی تفہیم میں ہمیں اپنا زیر غور و زیر نظر پدنہ سا انسان نظر آتا ہے، تو کبھی ہم اس کے تضادات سے اس کے آدرشوں کے عظمت کا احساس کرتے ہیں بھلے وہ ان آدرشوں سے کافی فاصلے پر بستا ہو، ہم کم از کم اسے اچھے آدرشوں سے منسلک ہونے کے اس کے انتخاب کا سماجی اجر دینے پر تیار ہوتے ہیں۔

To know and not to know, to be conscious of complete truthfulness while telling carefully constructed lies, to hold simultaneously two opinions which cancelled out, knowing them to be contradictory and believing in both of them, to use logic against logic, to repudiate morality while laying claim to it, to believe that democracy was impossible and that the Party was the guardian of democracy, to forget whatever it was necessary to forget, then to draw it back into memory again at the moment when it was needed, and then promptly to forget it again: and above all, to apply the same process to the process itself — that was the ultimate subtlety: consciously to induce unconsciousness, and then, once again, to become unconscious of the act of hypnosis you had just performed. Even to understand the word ‘doublethink’ involved the use of doublethink.
George Orwell, 1984

خیر یہ موضوع بحث کی جزویات ہیں۔ مضمون کو مرکزی نکتہ جس کے لیے یہ تمہید باندھا پڑی وہ اب عرض کرنے کی اجازت مانگتا ہوں۔

اپنے آپ پر، اپنی ذات پر، اپنے آدرشوں پر، اپنے خیالات پر، اپنے بیانات پر، اپنے احساسات پر، اپنی اقدار پر، اور ان کے نتیجے میں اپنے رد عملوں پر سوال یا سوالات قائم کرنا بیک وقت آسان بھی ہے، اور عین اسی لمحے انتہائی مشکل امر بھی ہے۔ خود بینی ذاتی سطح پر اور اسی کی توسیع میں سماجی، معاشرتی اور قومی سطح پر کچھ سادہ معاملہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک مضبوط شخصیت،  پر اعتماد و حقیقت پسند اور ترقی پسند افراد، معاشروں، اقوام اور اداروں کی ایک اہم مثبت صفت ہوتی ہے۔

ہم فہم عامہ common sense کے  وسیع سماجی سمندر میں غرق آب سوجھ بوجھ کے حامل ہوتے ہیں۔ ہماری تشکیل و تعمیر ہمارے گرد موجود اور ہماری آنکھوں، کانوں اور پروپیگنڈہ کے سماجی، معاشرتی ماحول اور اداروں نے کی ہوتی ہے۔ یہ تعمیر و تشکیل اپنے مختلف رنگوں کی آمیزش سے ترتیب پائی ہوتی ہے۔

One is fruitful only at the cost of being rich in contradictions.

Nietzsche from Twilight of the Idols

اول تو ہمیں، بھلے ہم جس معاشرے میں بھی جنمے ہوں، جہاں کہیں کی رسمی تعلیم پائی ہو، کم از کم وقتا فوقتا اپنی رسمی و غیر رسمی تعلیم و شعور کو چیلنج کرنے والے علوم سیکھنے اور پڑھنے کی ضرورت کا احساس کرنا ضروری ہے۔ کسی بھی ریاست و ملک کی رسمی تعلیم کچھ ایجنڈوں اور پروپیگنڈوں کا ملغوبہ ہوتی ہے۔ ہمارے فعال و مفعول طریقوں سے حاصل شدہ علوم و شعور کو چیلنج کرنے والے علوم کے قائم کردہ سوالات کی بھٹی میں ڈالنا خود اپنے آپ کو روشنی سے ہمکنار کرنے کے لیے از حد ضروری ہے۔

کبھی کبھی ہمیں اپنی کہی کچھ باتوں اور مختلف مواقع پر لیے گئے stances کو پرکھنے کا وقت نکالنا ہمیں اپنے اندر کے تضادات سے رو برو کرنے میں بہت معاون ہوسکتا ہے۔

But then arises the doubt, can the mind of man, which has, as I fully believe been developed from a mind as low as that possessed by the lowest animal, be trusted when it draws such grand conclusions?
Charles Darwin

جیسے ٹیکنالوجی طب اور دیگر اطلاقی اور مادری علوم )pure sciences) کی بہت ساری پیش رفتوں اور ترقیوں میں آمدہ مسائل اور سامنے آن کھڑی الجھنوں کے سلجھاوے نے انسانی تہذیب کو آگے بڑھایا، عین اسی طرح کسی عمومی فرد، گروہ، معاشرے اور قوم کی فکریات و فہم عامہ کے اندر کے تضادات کے جراتمندانہ انداز  سے سلجھاوے (نہ کہ محض self pity کی بنیادوں پر حقیقت و احوال کی تشریح کا سہارا لے کر حالات سے منھ چھپانے) کی کوشش کرنا کسی فرد، گروہ، معاشرے اور قوم کو نئی ارفع حالت وجود کی طرف لانے میں اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔

In art, and maybe just in general, the idea is to be able to be really comfortable with contradictory ideas. In other words, wisdom might be, seem to be, two contradictory ideas both expressed at their highest level and just let to sit in the same cage sort of, vibrating. So, I think as a writer, I’m really never sure of what I really believe.
George Saunders

فرد اپنے شعورِ ذات سے اپنے اندر نئی روشنی پا سکتا ہے، گروہ اور اقوام نئی منازل طے کرسکتے ہیں۔ بے معنویت اور لغویت معنی خیزی کے اجالوں کے نئے در کھول سکتے ہیں۔ خوش آمدید، آئیے اپنے تضادات کے بیچ کے خالی منطقوں کو کردار کی جرات مندی سے  نئے دنوں، اچھے دنوں، عمدہ شعوری رفعتوں کی تصویریں بنائیں۔ بس رکیں مت، ورنہ جوہڑ ہو جائیں گے۔

About یاسرچٹھہ 212 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔