ایڈیپس ریکس ، از، سوفیکلیز (حصہ چہارم)

ایڈیپس ریکس 3 2

ایڈیپس ریکس ، از، سوفیکلیز  (حصہ چہارم)

ترجمہ: نصیراحمد

(جوکاسٹا آتی ہے)

جوکاسٹا: تھیبز کے سر کردہ امرا، مجھے دیوتاؤں کا اذن ملا ہے کہ دیوتاؤں کی قربان گاہ پہ جاؤں۔ میرے ہاتھوں میں لوبان سے معطر آملے کی شاخیں ہوں کہ یہ شاخیں اور یہ لوبان دیوتاؤں کو مرغوب ہیں۔

ایڈیپس کی شریف روح زخمی ہے، ہولناک تخیلات کے جلتے تیروں سے۔ اگر قربان گاہ میں وہ خود جاتا ہے تو اس کابات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ نوید نو کی پرانی پیش گوئی کے حوالے سے تفسیر کرے گا۔

(وہ دائیں طرف قربان گاہ کی طرف بڑھتی ہے)

اپالو، اے لاسیائی دیوتا، تمھاری طرف جھکتی ہوں کہ تم سے قریب ہوں۔ اے دیوتا، یہ نذر ونیاز قبول کرو اور ہمیں پراگندگی سے چھٹکارا دلاؤ۔ اپنے راہ بر کو بکھرا ہوا دیکھ کر ہمارے دلوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ ہم ایسے ہی پریشان ہیں جیسے ملاح اپنے راہنما کو بے چین دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔

(قاصد آتاہے)

قاصد:

دوستو، مجھے ایڈیپس کے محل میں یا ایڈیپس جہاں کہیں قیام پزیر ہے، وہاں لے چلو۔

نمائندہ عوام:یہی وہ جگہ ہے، اے اجنبی، ایڈیپس اندر آرام فرما ہے۔

قاصد: میں اس کی خوشحال زندگی کے لیے دعا گو ہوں۔ دیوتا، اس پہ خوشی کی تمام آسائشیں نازل کریں۔

جوکاسٹا: خدا تمھارا بھلا کرے۔ تمھاری خوش روی انعام کی حقدار ہے مگر مجھے بتاؤ تم کیوں آئے ہو اور تمھیں کیا کہنا ہے؟

قاصد: ایک خوشخبری ہے جو میں تمھارے شوہر اور تمھارے گھرانے کے لیے لایا ہوں۔

جوکاسٹا: کیا خبر ہے؟ اور تمھیں کس نے بھیجا ہے؟

قاصد: میں کورنتھ کا رہنے والا ہوں۔ جو خبرلایا ہوں، وہ تمھارے لیے باعث مسرت ہو سکتی ہے، ہو سکتا ہے تمھیں کچھ الم آمیز بھی لگے۔

جوکاسٹا : کونسی ایسی اطلاع ہے جو ہم پر دو طریقوں سے اثر انداز ہو سکتی ہے۔

قاصد: کورنتھ کے شہری ایڈیپس کو اپنا سردار بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جوکاسٹا: کیا بزرگ پولیبس، اب کورنتھ کا حکمران نہیں رہا؟

قاصد: افسوس، موت اسے اس کے مرقد تک لے گئی۔

جوکاسٹا۔ تم کیا کہہ رہے ہو؟ کیا پولیبس مر چکا ہے؟

قاصد: ہاں، اگر میں جھوٹ بولوں تو موت مجھے بھی آ لے۔

جوکاسٹا( ایک کنیز سے) جاؤ جلدی سے اپنے آقا کو بتاؤ۔ اے دیوتا، اب تیری بجھارتیں کہاں ہیں؟ایڈیپس پولیبس کو ہلاک کرنے کے خوف سے کورنتھ سے بھاگا تھا مگر تقدیر کو پولی بس کی موت کسی اور طرح سے منظور تھی۔

(ایڈیپس آتا ہے)

ایڈیپس:عزیز ترین جوکاسٹا،تم نے مجھے کیوں بلایا ہے؟

جوکاسٹا: اس شخص کی بات سنو اور مجھے بتاؤ پیش گویوں کا حشر کیا ہوا؟

ایڈیپس: یہ کون شخص ہے اور میرے لیے کیا خبر لایا ہے؟

جوکاسٹا: یہ کورنتھ سے تمھارے باپ کی موت کی خبر لایا ہے۔

ایڈیپس: اے اجنبی، کیا یہ بات سچ ہے؟ اپنے لفظوں میں مجھ سے سارا حال کہہ دے۔

قاصد: مختصر سی بات ہے، سردار مر چکا ہے۔

ایڈیپس: کسی بغاوت کے سبب یا کوئی مرض حملہ آور ہوا تھا؟

قاصد:  بوڑھوں کے لیے ایک ٹھیس ہی کافی ہوتی ہے۔

ایڈیپس: پھر تو اسے کوئی بیماری ہی لاحق ہو گئی ہو گی؟

قاصد: یہی بات اور اس کی پیرانہ سالی۔

ایڈیپس: آہ، پتھیا کے قدیم زیارت کدے پر کون اعتبار کرے۔ اور دیوتا کے سر پر سایہ فگن پرندوں کے الہامی نغموں پر کیوں کان دھرے۔ انھوں نے پیش گوئی کی تھی کہ میں اپنے باپ پولیبس کو قتل کروں گا۔ اور پولیبس کورنتھ میں اپنی موت آپ مر گیا جبکہ میں یہاں تھیبز میں ہوں۔ میں نے تو اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔

مگر ایک طرح سے میں اس کی موت کا ذمہ دار بھی ہوں۔ کیونکہ پولیبس میری جدائی کا غم نہ سہہ سکا اور مر گیا۔ پولیبس معبدوں کے الہام بھی اپنے ساتھ خاک میں لے گیا۔ یہ الہام بھی خالی خالی لفظ ہی ہوتے ہیں۔

جوکاسٹا: میں نے تو پہلے ہی یہ کہہ دیا تھا۔

ایڈیپس: ہاں تم نے تو بتایا تھا۔ مگر یہ میرا نزار دل تھا جو میرے شعور کا ساتھ نہ دے سکا۔

جوکاسٹا: اب پھر سے یہ باتیں سوچنے بیٹھ نہ جانا۔

ایڈیپس: لیکن کیا مجھے اپنی ماں کے بستر کے بارے میں فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔

جوکاسٹا: ہم قدرت کے فرمان کے دھوکے میں اپنی زندگی ڈرتے ڈرتے کیوں گزاریں؟کوئی بھی مستقبل سے آگاہ نہیں ہے۔ ہمیں موجود لمحے کی روشنی میں جینا چاہیے۔ اپنی ماں کے ساتھ سونے کا خوف نہ پروان چڑھاؤ۔ کتنے ہی لوگ سپنوں میں اپنی ماؤں کے ساتھ ہمبستر ہوتے ہیں؟ کوئی ذی فہم ان باتوں سے پریشان نہیں ہوتا۔

ایڈیپس: سچ کہہ رہی ہو، مگر چونکہ میری ماں ابھی تک زندہ ہے، اس لیے میں اس خطرے سے آزاد نہیں ہو پاتا۔

جوکاسٹا: حالانکہ تمھارے باپ کی موت حیران کن ہے۔

ایڈیپس: ہاں حیرت انگیز۔ مگر میں اس زندہ عورت سے ڈرتا ہوں۔

قاصد: بتاؤ تو سہی ،تم کس عورت سے خوف زدہ ہو؟

ایڈیپس: میروپی۔ شاہ پولیبس کی ملکہ۔ دیوتاؤں کے ایک ہیبت انگیز فرمان کے باعث۔

قاصد: تم اس معاملے کے بارے میں مجھے کچھ بتا سکتے ہو یا مہر بہ لب رہنے کی قسم اٹھا چکے ہو؟

ایڈیپس: بتاتا ہوں۔ اپالو نے اپنے معبد کی کاہنہ کے ذریعے یہ پیام جاری کیا کہ میں ایڈیپس وہ شخص ہوں جو اپنی ہی ماں کے ساتھ شادی کروں گا۔ اپنے باپ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگوں گا۔ یہی وجہ تھی کہ میں نےکورنتھ کو اپنے وجود سے پاک کر دیا۔ اس لیے کوئی ضرر نہیں پہنچا۔ حالانکہ اپنے والدین کے ساتھ رہنا تو مسرت انگیز بات ہوتی ہے لیکن میں یہاں بھاگ آیا۔

قاصد: تو اس ڈر سے تم کورنتھ واپس نہیں گئے؟

ایڈیپس: احمق، تو کیا میں اپنے باپ کو قتل کر دیتا؟

قاصد: اس بارے میں اگر میری اطلاع تمھیں مطمئن کر دے؟

ایڈیپس: اگر تم مجھے مطمئن کر سکے تو میں تمھیں انعام دوں گا۔

قاصد: یہ بات پہلے ہی سے میرے دھیان میں تھی کہ اگر تم کورنتھ لوٹے تو  مجھے نواز دو گے۔

ایڈیپس: ہرگز نہیں، اپنے والدین کے تو میں پاس بھی نہیں پھٹکوں گا۔

قاصد: آہ، بیٹے تجھے ابھی تک خبر نہیں کہ تو کیا کہہ رہا ہے؟

ایڈیپس: تمھارا کیا مطلب ہے؟ خدا کے لیے مجھے بتاؤ۔

قاصد: تو یہ اسباب ہیں جو تمھیں کورنتھ لوٹنے سے روکتے ہیں؟

ایڈیپس: مجھے خطرہ ہے کہیں معبد کا فرمان درست ثابت نہ ہوجائے۔

قاصد: اور تیرے والدین تیرے لیے احساس جرم وگناہ کی وجہ نہ بن جائیں؟

ایڈیپس: یہی خوف تو میرے سینے میں جاگزیں ہے۔

قاصد: ہو سکتا ہے تمھارا ڈر بے بنیاد ہو؟

ایڈیپس: تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو، پولیبس اور میروپی یقینی طور پر میرے ماں باپ ہیں۔

قاصد: پولیبس تمھارا باپ نہیں تھا۔

ایڈیپس: وہ میرا باپ نہیں تھا؟

قاصد: بالکل اسی طرح سے جس طرح تم سے گفتگو کرنے والا یہ شخص تمھارا باپ نہیں ہے۔

ایڈیپس: ہاں تم تو میرے کچھ بھی نہیں لگتے۔

قاصد: اسی طرح پولیبس بھی تمھارا کچھ نہیں لگتا تھا۔

ایڈیپس: پھر وہ کیوں مجھے فرزند کہہ کر بلایا کرتا؟

قاصد: اس نے میرے ہاتھوں سے تمھیں ایک تحفے کے طور پر لیا تھا۔

ایڈیپس: اگر پولیبس میرا باپ نہیں تھا تو پھر وہ مجھ سے اتنی محبت کیوں کرتا تھا؟

قاصد: وہ بے اولاد تھا، اس لیے اس کا دل تم پر واری ہونے لگا تھا۔

ایڈیپس: اور تمھیں میں کیسے ملا تھا؟ تم نے مجھے خریدا تھا یا میں تمھیں اتفاق سے ملا تھا؟

قاصد: تم مجھے کتھاریون کی ایک تنگ گھاٹی میں ملے تھے۔

ایڈیپس: تم وہاں کیا کر رہے تھے؟

قاصد: اپنا گلہ چرا رہا تھا۔

ایڈیپس: ایک آوارہ گلہ بان۔

قاصد: فرزند، تمھاری جان بچانے والا

ایڈیپس: تو نے مجھے کس شے سے بچایا تھا؟

قاصد: تیرے ٹخنے تجھے بتا دیں گے۔

ایڈیپس: اے اجنبی، تو مجھے بچپن کی وہ تکلیف مجھے کیوں یاد کراتا ہے؟

قاصد: میں نے وہ بندھن توڑے تھے جن میں تیرے ٹخنے بندھے تھے۔

ایڈیپس: ہاں وہ نشانات میرے ٹخنوں پر مدتوں تک رہے۔

قاصد: انھی نشانات کی وجہ تمھارا یہ نام رکھا گیا تھا۔

ایڈیپس: میرے ساتھ یہ ظلم کس نے کیا تھا؟ میری ماں یا میرے باپ نے؟

قاصد: جس شخص نے تجھے مجھ کو سونپا تھا ،وہی بتا سکتا ہے؟

ایڈیپس: تو تجھے نہیں، کسی اور کو میں ملا تھا؟

قاصد: ایک اور چرواہے نے مجھے تیرے حوالے کیا تھا؟

ایڈیپس: کیا تم مجھے بتا سکتے ہو؟ وہ چرواہا کون تھا، آخروہ کون تھا؟

قاصد: میرے خیال میں وہ لائیس کی رعایا میں میں سے ایک تھا۔

ایڈیپس: وہی لائیس جو برسوں پہلے یہاں کا بادشاہ تھا۔

قاصد: ہاں وہ لائیس اور وہ شخص اس کے گلوں کا نگہبان تھا۔

ایڈیپس: تم اس شخص کے بارے میں کچھ جانتی ہو؟ کیا یہ وہی شخص جسے ہم نے بلایا ہے؟ کیا یہ وہی چرواہا ہے جس کا تمھیں انتظار تھا؟ جوکاسٹا تم کچھ بتا سکتی ہو؟

جوکاسٹا: اس شخص کی بات کریں ہی کیوں؟ اس گلہ بان کو بھول جاؤ۔ یہ سب بھول جاؤ۔ یہ سب وقت برباد کرنے کی باتیں ہیں۔

ایڈیپس: جب میں نے اپنے جنم کا کچھ سراغ لگا لیا ہے تو تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو۔

جوکاسٹا: خدائے مہربان کا واسطہ ۔ یہ سوال و جواب ختم کرو۔ کیا تمھاری زندگی تمھارے لیے کچھ معنی نہیں رکھتی؟ میرے لیے تو اتنی ہی اذیت بھری زندگی کافی ہے، جتنی میں سہہ سکوں؟

ایڈیپس: تمھیں رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر میری ماں اک کنیز ہے، یا حرم سرا کے خادمین کی نسل میں سے ہے تو تمھارا مرتبہ ومقام تو کم نہیں ہو گا۔

جوکاسٹا: میری بات سن لو۔ میں تمھاری منت کرتی ہوں۔ تم یہ سب نہ کرو۔

ایڈیپس: میں نہیں مانتا۔ سچ جاننا چاہیے۔

جوکاسٹا: میری ہر گزارش تمھارے بھلے کے لیے ہے۔

ایڈیپس: میری بھلائی میرا صبر توڑتی ہے۔ یہ بات ہے تو میں اپنا بھلا نہیں چاہتا۔

جوکاسٹا: تم ہلاکت کی راہ پہ ہو۔ شاید تم یہ کبھی نہ جان سکو کہ تم کون ہو؟

ایڈیپس: لوگو، تم میں سے ایک جائے اور گلہ بان کو یہاں لے آئے۔ اس خاتون کو اپنے شاہی اعزاز رسوا کر لینے دو۔

جوکاسٹا: آہ، بدنصیب۔ یہی ایک لفظ بچاہے جو تمھیں میں کہہ سکتی ہوں۔ وائے میرے پاس یہی ایک لفظ ہی تو رہ گیا ہے۔

(محل کے اندر چلی جاتی ہے)۔

نمائندہ عوام:وہ ہمیں چھوڑ کر کیوں چلی گئی؟ایڈیپس، وہ اتنے حزن آمیز اور دل دوز جذبات میں مبتلا کیوں چلی گئی؟مجھے خدشہ ہے کہ اس کی یہ خاموشی کوئی دہشت ناک سامان اپنے دامن کے اندر چھپائے ہوئے ہے۔

ایڈیپس: مجھے جاننا چاہیے خواہ کتنا ہی حقیر میرا نسب ہو۔ ملکہ، شاید، ایک عورت کی طرح میری بد نسبی پر نادم ہے مگر میں قسمت کا بیٹا ہوں۔ میں کبھی بے توقیر نہیں ہو سکتا۔ گزرے ماہ و سال، میرے سنگ امیری  بسر کر چکے ہیں، غریبی کاٹ چکے ہیں۔ اگر میری بدنسبی ہی سچ ہے تو میں کیوں کوئی اور بننے کی آرزو کروں؟کوئی اور ہی بننا ہے تو مجھے اپنے جنم کا راز جاننے کی اتنی ضرورت ہی کیوں ہے؟

عوام کا سخن:

کاش میرا دل جستجو پیشہ

جان لیتا

آئندہ وقتوں میں

کیا ہوگا

پورے چاند کے اگلے میلے میں

جلتی ہوئی مشعلوں کی روشنی میں

کاش میں دیکھ پاتا رقص

کاش میں سن پاتا نغمہ

جو تیرے الہامی سائے کا جلال  

بڑھاتا ہے

ایڈیپس

پہاڑ پہ ملا تھا

پہاڑ جو پاسبان شجرہ ہے

شاید دیوتا  

ہمارے زخم

بھر دے

ہمارے بادشاہ کی جنم گاہ

ازل تک امر

کر دے

ماہ سال سے عظیم تر پریوں نے

اے بادشاہ

تجھے جنا ہے؟

یا کوہ و جنگل کے دیوتا کا

تو بیٹا ہے؟

یا تو شمس دیوتا کا

فرزند ہے

جو وہاں

رہتا ہے

جہاں پہاڑوں کے سلسلے تمام ہوتے ہیں؟

یا تو فلک پوش پہاڑیوں میں پیدا

ہوا ہے؟

یا تو خدائےکوہ گرد  کو

کہیں سے  

ملا ہے؟

کیا تو دیوتاؤں کا دل موہ لینے والی

شہزادی اور

خدائے کوہ گرد کا

جایا ہے؟

وہ دیوتا شکن

جب بولتی ہے تو

رواں چشموں کا گماں

ہوتا ہے۔

ایڈیپس: امرائے ریاست، اگرچہ میں اسے پہچانتا نہیں مگر میرا اندازہ ہے، یہ سامنے وہی گلہ بان آ رہا ہے،جس کی ہمیں جستجو تھی۔ وہ ہمارے اس دوست کی مانند کہن سال ہے جو یہاں موجود ہے۔ اور میرے محل کے خدام اسے لا رہے ہیں

(گلہ بان غلاموں کے ہمراہ آتا ہے)

نمائندہ عوام: میں اس سے واقف ہوں۔ یہ لائیس کا آدمی ہے۔ تم اس پر بھروسہ کر سکتے ہو۔

ایڈیپس: اے کورنتھ کے رہنے والے۔ کیا یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں تم بات کررہے تھے؟

قاصد: یہ بالکل وہی شخص ہے۔

ایڈیپس:( گلہ بان سے) یہاں آو، میں جو بات پوچھوں اس کا جواب دو۔ کیا تم لائیس کی ملکیت تھے؟

گلہ بان:ہاں، میں اس کا غلام پیدا ہوا تھا اور اسی کے گھر میں پلا بڑھا۔

ایڈیپس: مجھے بتا، اس کے لیے تو نے کیا خدمت سر انجام دی؟

گلہ بان: میں زندگی میں زیادہ تر اس کے ریوڑوں کا نگہبان رہا۔

ایڈیپس: تم لائیس کے ریوڑ چرانے کے لیے کس چراگاہ میں جاتے تھے؟

گلہ بان: کبھی کتھاریون اور کبھی قریب کی پہاڑیوں میں؟

ایڈیپس: تو نے کبھی اس شخص کو دیکھا ہے؟

گلہ بان: یہ شخص وہاں کس لئے جاتا تھا؟

ایڈیپس: یہاں پر کھڑے ہوئے اس شخص کو تو نے کبھی دیکھا ہے یا نہیں؟

گلہ بان: مجھے نہیں یاد

قاصد: میرے آقا، یہ کوئی عجب بات نہیں، میں ابھی اس کی یاد تازہ کرتا ہوں۔ اسے یاد آجائے گا کہ ہم نے تین سال ساتھ گزارے ہیں، ہر سال مارچ سے ستمبر تک،کتھاریون یا قرب و جوار میں۔

اس کے دو گلے تھے اور میرا ایک ریوڑ۔ ہر خزاں میں اپنا گلہ میں گھر ہانک لے جاتا اور یہ اپنا گلہ لائیس کے مویشی خانے میں لے جاتا۔

گلہ بان: یاد آیا، ایسا ہی ہے۔ مگر یہ بہت پرانی بات ہے۔

قاصد: اچھا، تمھیں یہ بھی یاد ہو گا کہ تم نے ایک بچہ میرے حوالے کیا تھا کہ میں اس بچے کو اپنے بچوں کی طرح پالوں؟

گلہ بان: تو پھر؟ تم کہنا کیا چاہتے ہو؟

قاصد: بادشاہ ایڈیپس وہی بچہ ہے۔

گلہ بان: لعنت ہو تم پر۔ زبان سنبھال کر بات کرو۔

ایڈیپس: تجھے زبان سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ یہ شخص ٹھیک کہہ رہا ہے۔

گلہ بان: اے بادشاہ، میرے آقا، میں نے کیا غلطی کی ہے؟

ایڈیپس: تم نے اس بچے کے بارے میں قاصد کی باتوں کا جواب نہیں دیا۔

گلہ بان: اسے کچھ خبر نہیں، یہ فتنہ باز ہے

ایڈیپس: ٹھیک سے کہہ دے، ورنہ یہ تجھ پر بھاری پڑے گا۔

گلہ بان: خدا کا واسطہ۔ ایک بوڑھے کو کانٹوں میں مت گھسیٹ

ایڈیپس: تم میں سے ایک اس بوڑھے کے ہاتھ اس کی پشت پر باندھ دے۔

گلہ بان: اے ناراض بادشاہ، تو کیا جاننا چاہتا ہے؟

ایڈیپس: کیا تو نے وہ بچہ اس شخص کے حوالے کیا تھا؟

گلہ بان: ہا ں کیا تھا، کاش میں اسی دن مر جاتا۔

ایڈیپس: اگر یہ شخص تاخیر پر بضد ہے تو۔۔۔

گلہ بان: نہیں نہیں، میں بتا ہی چکا ہوں کہ وہ بچہ میں نے اس کے حوالے کیا تھا۔

ایڈیپس: تجھے وہ بچہ کہاں سے ملا تھا؟ تمھارے گھر کا تھا یا کہیں اور سے ملا تھا؟

گلہ بان: میرے گھر کا نہیں تھا۔ وہ۔۔۔۔۔ ایک اور شخص نے وہ بچہ میرے حوالے کیا تھا۔

ایڈیپس: کیا وہ شخص یہاں پر ہے؟ وہ شخص کس کا غلام تھا؟

گلہ بان:خدا کے لیے، اے بادشاہ، میں نے اور کچھ بھی نہیں کہنا۔

ایڈیپس: اگر مجھے دوبارہ پوچھنا پڑگیا تو میں تمھیں مار دوں گا۔

گلہ بان: وہ۔۔۔۔ وہ بچہ۔۔۔۔ لائیس بادشاہ کے محل سے تعلق رکھتا تھا۔

ایڈیپس: کسی غلام کا بیٹا؟ یا لائیس کا اپنا بیٹا؟

گلہ بان: آہ، ایک خوفناک بات میرے منہ پہ آیا ہی چاہتی ہے۔

ایڈیپس: اور میں ایک دہشت ناک بات سننے ہی والا ہوں۔ جو بھی ہو، میں یہ بات سنوں گا۔

گلہ بان: لوگ تو یہی کہتے تھے کہ وہ لائیس کا ہی بیٹا تھا مگر تمھاری ملکہ ہی تمھیں سب کچھ بتا سکتی ہے۔

ایڈیپس: میری ملکہ، کیا اس نے وہ بچہ تیرے حوالے کیا تھا؟

گلہ بان: اسی نے، میرے آقا۔

ایڈیپس: کیا تو جانتا ہے؟ کس لیے؟

گلہ بان: مجھے حکم ملا تھا کہ اس بچے سے نجات پاؤں۔

ایڈیپس: ناقابل بیان خاتون

گلہ بان: کچھ پیش گوئیاں بھی تھیں۔

ایڈیپس: بتاؤ

گلہ بان: کہا گیا تھا کہ بچہ اپنے باپ کا قاتل بنے گا۔

ایڈیپس: یہ بات تھی تو تم نے وہ بچہ اس بوڑھے شخص کے حوالے کیوں کر دیا تھا۔

گلہ بان: میرے بادشاہ، مجھے اس بچے پر ترس آ گیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ یہ شخص اسے بچے کو کسی دور دراز ملک میں لے جائے گا۔ ہاں میں نے وہ بچہ بچا لیا مگر کیسی قسمت کے لیے۔ تو ہی وہ بچہ ہے۔ ایڈیپس سے زیادہ تباہ حال شخص اس دنیا میں کوئی نہیں۔

ایڈیپس: آہ اے خدا، سب کچھ سچ تھا، تمام پیش گوئیاں اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے روشنی تجھ پر آخری بار میری نگاہ پڑرہی ہے۔

میں ایڈیپس، جس کی پیدائیش ذلت، جس کی شادی رذالت، وہ خون ایڈیپس پر لعنت بھیجتا ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے بہایا ہے۔

عوام کا سخن

نسل انسانی پر افسوس

جو پیمانے، معیار اور رسمیں، اس نوع کو میں  دوں گا وہ ان سانسوں کی طرح ہیں جو موجود تو ہیں مگر زندگی سے خالی ہیں۔ کس کو حوصلے سے زیادہ خوشی راس آتی ہے؟خوشی ان ہیولوں کی مانند ہے جو روشنی میں شکلیں بدلتے رہتے ہیں۔ یا پھر ایسے سمجھو جو اب میں سوچ رہا ہوں وہ کتنی دیر دماغ میں رہے گا۔

تیری شان چھن گئی

ہائے وہ اشک وغضب کے تیروں بھری کمان

ایڈیپس

تیری زندگی بدل گئی

تیرا سمے بیت گیا

جیسے آسیب

آسیب زدہ کو

چھوڑ دیتے ہیں

تیرا ذہن

اک سخت کمان تھا

سخت کش تیر انداز

نیچے کی جانب

کمان کو کھینچتا گیا

کھینچتا گیا

کہ کمان ٹوٹ گئی

فانی کو لافانی ایسے

توڑ دیتے ہیں

اس اجنبی بلا سے تو تم  

توانا تھا

شیر کی طرح مڑے پنجوں والی

وہ کنواری

سفاک وہ قاتلہ

موت کی مغنی

برج بن کے ٹھہرے تم

اس کے سامنے

شہریوں کی خوشی

کے واسطے

اے سایہ خداوند

اے بادشاہ

اے قانون ساز

دکھوں میں ہمارا

تم ہی تو  

مداوا تھے

کسی قلعے کی مانند

ہمارے نگہبان

اے باحشم بادشاہ

اے  پر ہیبت سردار

تجھ سے زیادہ

ہم نے کسی کو

چاہا نہیں   

اور تجھ سے زیادہ

کسی کو  

سراہا نہیں

مگر اب تیری داستان حسرت

سنا سنا کر

ہم روتے ہیں

تو ہے  

نا مہرباں آقا کی

ٹھوکریں کھاتے

غلام کی مانند

ہائے

تقدیر کی بے وفائی کے

کیسے کیسے

رنگ ہوتے ہیں  

اے ذی مرتبہ

اے ایڈیپس

یہ شہر کا شان دروازہ

تجھے جو سوئے عظمت

لایا تھا

آج تجھ پہ بند ہے

کہ جیسے تو کوئی

رات گئے

بادیے میں بھٹکتا

آوارہ ہے

اے باپ کے حرم میں جانے

کتنی دیر میں تجھے

خبر ہوئی

تیرے باپ کی سربلندی کے دن

وہ آراستہ گلشن

اس کا وہ کاشت کردہ چمن

ملکہ عالیہ

تیری ماں

کیوں چپ رہی

جب یہ دکھ ہم پر

آیا تھا

چشم زمانہ مگر

آنکھیں تمام

چندھیا دیتی ہے

اعمال رفتہ

عمال بنا کر

گڑبڑا دیتی ہے

تیرا کیا قصور تھا

ماضی کی گہرائیوں سے ابھرنے والی

کسی خوف ناک

یاد کی طرح

تیرے راحت کدے سے

اٹھنے والی

شہوانی خو شبووں کا جادو

تیرا مقدور تھا

لائیس  

اپنے لخت جگر کی

موت کا خواہاں

مگر دیوتا نے

شیر خوار کو

زندگی  بخشی

اے دیوتا

تیری سانسیں

فضا میں

کہاں ہیں پنہاں

کہ میرے بین کرتے ہونٹ

چیخنے کے لیے

تڑپتے ہیں

جہاں بھر کے دھتکارے

بادشاہ کے لیے

شہر کے شجر و حجر

سسکتے ہیں

میں اندھا  

میں بے خبر جان نہ سکا

شہر میں امن

اور ایڈیپس کی خوشی

عارضی تھے۔