مجھ ایسی فیمینسٹ کا نعرہ  ہے، میرا دماغ میری مرضی

Munazza Ehtisham Gondal

مجھ ایسی فیمینسٹ کا نعرہ  ہے، میرا دماغ میری مرضی

از، منزہ احتشام گوندل


میں نے جب سے سوشل میڈیا پہ لکھنا شروع کیا ہے۔ ایک بات بہت شدت سے محسوس کی ہے کہ لکھاری، ادیب، کالم نگار وغیرھم اور اس کے قارئین کے درمیان ایک فاصلہ ضروری ہے۔ جب قاری لکھاری کے سامنے آ جاتا ہے اور بحث کرنے لگتا ہے تو صورتِ حال عجیب ہو جاتی ہے۔

مثال کے طور پہ ایک نے لکھا کہ رشتے اور اعتبار تکلیف دیتے ہیں۔ اس بات پہ فورا قارئین کی آ را کا ریلہ ٹوٹ پڑا۔ زیادہ تر مشورے جو دیے جاتے ہیں وہ کچھ ایسے ہوتے ہیں۔

ارے آپ توقع نہ رکھیں

آپ ایسی توقع رکھتی کیوں ہیں؟

آپ اپنے اندر سے توقعات سے ختم کردیں، پرسکون ہو جائیں گی۔ وغیرہ

اب اس بات پہ بہت کم دھیان دیا جاتا ہے کہ ہم جو توقع ختم کرنے کے مشورے دیے جارہے ہیں خود کس حد تک توقعات سے خالی ہیں؟ کیا ہمیں اپنے رشتوں سے توقع نہیں؟ کیا ہمیں دوستوں سے توقع نہیں؟ کیا ہم اچھائی کا صلہ نہیں چاہتے؟

ہماری اپنی یہ حالت ہے کہ خود اپنے حصے کے فرائض ادا کر کے بھی ہم دوسروں سے داد کے خواہاں ہوتے ہیں، مگر جب ہمارا کوئی بے چارا دوست جب ہم سے اپنا دکھ بانٹنے کی کوشش کرتا ہے ہم اس پہ عجیب مشوروں کی بوچھاڑ کردیتے ہیں۔

اور ستم رسیدہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید وہ دنیا کا واحد انسان ہے جس نے محبت اور وفا کے بدلے محبت اور وفا کی توقع باندھی تھی، اس کے علاوہ تو سبھی غیر مشروط محبتیں اور وفائیں کیے جا رہے ہیں۔

اب اس صورتِ حال کے بعد جو دوسری صورتِ حال ہے وہ یہ کہ توقع نہ رکھنے، غیر مشروط محبت کرنے کے مشوروں پہ عمل کرنے کے بعد جب بندہ ایک سالک کی منزل تک پہنچ جاتا ہے اور سٹیٹس لگاتا ہے کہ “اب اسے دنیا اور اس میں موجود چیزوں اور رشتوں سے کوئی غرض نہیں رہی” تو ایک بار وہی ہجومِ دانشوراں حملہ آ ور ہو جاتا ہے اور کچھ ایسے جملے آنے لگتے ہیں۔

آپ کیا خود کو رابعہ بصری سمجھ رہی ہیں

انسان کبھی دنیا سے بے غرض نہیں ہو سکتا

ارے بی بی اس دنیا میں دل لگا کے رہو اور یہ بے کار کی باتیں مت کرو۔ وغیرہ وغیرہ

نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کے مصداق آدمی سوچنے لگتا ہے کہ وہ کیا کرے۔ آپ توقعات ختم کرنے کے مشورے بھی دیتے ہیں۔ آپ توقعات سے بالا ہو جانے والے کی ریاضت بھی تسلیم نہیں کرتے۔ تب آ دمی سوچتا ہے کہ وہ کسی سے تذکرہ ہی نہ کرے۔ اس پر جو بِیت رہی ہے سو بیتنے دے۔ ایسے میں پھر یہ دوست حملہ آ ور ہوتے ہیں۔

آپ آ ج کل خاموش کیوں ہیں؟

چپ چپ کیوں رہتے ہیں؟

لوگوں سے بولا کریں، بات کیا کریں؟

جب جواب میں یہ کہا جائے کہ چپ رہنا اچھا لگتا ہے، تو آ گے سے جواب ملتا ہے کہ یہ تو بیماری ہے۔ آپ نفسیاتی ہوتے جارہے ہیں؟ اور اگر کہیں کہ لوگوں سے بات کرکے ٹینشن ہوتی ہے تو آ گے سے گالیاں بھی سننا پڑ جاتی ہیں۔

میں فیمینسٹ ہوں مگر ایسے نعروں کے حق میں نہیں کہ میرا جسم میری مرضی۔ ہاں میرا یہ نعرہ ضرور ہے کہ:  میرا دماغ میری مرضی

خدارا، میرا دماغ میری مرضی