اچھا ہوا جوش صاحب مر گئے

Naseer Ahmed, the writer

اچھا ہوا جوش صاحب مر گئے

از، نصیر احمد

جوش ملیح آبادی کا بھی ہمیں صدمہ ہے۔ ان کی اتنی تعریفیں نہیں ہوئیں جتنی تعریفوں کے وہ حق دار تھے۔ انھوں نے ذاتی طور پر یہ کمی پوری تو کر لی مگر پھر بھی۔

لیکن جوش صاحب علامہ اقبال، فیض احمد فیض اور حفیظ جالندھری جیسے فرشتوں کی دنیا میں انسان تھے اور فرشتوں کی دنیا میں انسان ہونا تو جرم ہی ہوتا ہے۔ کچھ اکڑ جاتے ہین۔ کچھ بگڑ جاتے ہیں اور کچھ پسِ پردہ سازشیں کرنے لگتے ہیں۔

کچھ یوسفی صاحب نے ان کی عشق بازی اور شراب نوشی کا تمسخر اڑایا ہے۔ جوش صاحب سنتے تو کہتے کہ یہ نفیس سے بنیے کیا جانیں کہ رندوں کے امام اور حسیناؤں کے محبوب کا درجہ بہت بلند ہوتا ہے۔

خود پرستی ان میں تھی مگر وہ اپنے گھر والوں کے لاڈلے تھے تو جو گھر میں لاڈلے ہوتے ہیں، ان میں خود پرستی تو آ ہی جاتی ہے۔ کبھی آپ نے ایسا بھی کوئی لاڈلا دیکھا ہے جو اپنے قصائد میں مبتلا نہ ہو اور دوسروں کو بھی قصیدہ گوئی پر مجبور نہ کرتا ہو؟
ان پر ولایت کے دورے بھی پڑتے تھے اور یہ ان کا مزاج نہ تھا کہ ان کی ولایت کسی کم تر بار گاہ پر ناصیہ فرسائی کرے۔ وہ تو طمطراق سے جناب امیر کی بار گاہ میں شوخیاں دکھانے لگتے تھے۔

وہ عام سے آدمی تو تھے نہیں کہ نو گزے سرکار کی مجاوری کرتے یا کسی برتن فروش کی دانش وری کے آگے سر خم کرتے۔
اسلامی پس منظر کا یہی ہوتا ہے کہ آپ ٹھیک طرح سے کافر نہیں بن پاتے اور اپنا کفر پکا کرنے لگیں تو اکثر کافی کچرا ہو جاتے ہیں۔ اور کفر کو کچرے کی آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لیے دماغ کو بہت وسیع رکھنا پڑتا ہے جس کے لیے بڑا جگرا در کار ہے۔

پھر انھیں اپنے حسب نسب پر ناز تھا اور اس سلسلے میں وہ مبالغے بھی کرتے تھے لیکن کون خاندانی انسان یہ سب نہیں کرتا؟ یہ سادات ہی کو دیکھ لیں، ہمارے دوست ہیں لیکن ابھی تک ذوالفقار تھامے ہیں اور دسیوں کی آبادی میں لاکھوں کو تہہِ تیغ کرتے رہتے ہیں اور پھر ہم خود دنیا ابھی تک قتل گاہوں کا شکوہ کرتی ہے اور ہم خان بابا کی سخاوتوں کا چرچا کرتے رہتے ہیں۔ پھر ہندوستان سے، اپنے ملیح آباد سے انھیں الفت تھی۔ تو کون ہے جسے اپنے گوٹھ گراؤں سے پیار نہیں ہوتا؟

کہتے ہیں معاشقوں میں ڈنڈی مارتے ہیں تو یہ بھی سمجھ میں آنے والی بات ہے، معاشقے یادوں میں ایسے ہی ہوتے ہیں، تھوڑا سچ، تھوڑا جھوٹ اور بہت زیادہ مبالغہ۔ مولانا روم بھی تو ہیں، ان کو ہَمہ دم داد ملتی ہے۔ جوش صاحب نے اپنے معاشقوں کو روحانیت سے وضو نہیں کرایا تو ان کی بات اپنی وقعت کھو بیٹھی؟


مزید دیکھیے: معاصر غزل گائیکی کا سب سے بڑا نام، غلام علی  از، پروفیسر شہباز علی


لیکن ان کی انسان دوستی اور عقل پسندی تو ایک شان دار بات ہے اور ہمیشہ رہے گی کہ انسان دوستی کو خرد سے جدا کر دیں تو نتائج بھیانک ہی ہوتے ہیں۔

علامہ کی نا دانیوں پر جوش صاحب نے ٹھٹھا کیا، پاکستان میں مردُود و معتوب ہو گئے۔ اشتراکیوں نے بھی جوش صاحب کو نظر انداز ہی کیا۔ فیض کو وہ جوان سعادت مند سمجھتے تھے اور ان کے پیر دانا بنے رہتے تھے۔ اتنی قد آور شخصیت کو بچہ بنا دیا؟ جوش صاحب ایسے ہی تھے، قد آور شخصیتوں کی اناؤں سے کھلواڑ کرتے رہتے تھے۔

اپنی ہزار ہا خامیوں کے با وجود جوش صاحب خرد دشمنی اور اس کے نتائج پر واویلا کرتے تھے۔ تو یہی زندگی سے محبت کرنے والے انسان اور شاعر کی عظمت ہوتی ہے۔

صرف جوش صاحب نہیں، ملک کے بہت سارے شان دار لکھنے والے اشتراکیوں اور جماعت اسلامی والوں کی فرشتہ سازی کی نذر ہو گئے۔ اب ہمارے دوست زال سعدی ہیں، شان دار شاعر ہیں مگر لیکن ادبی منصورہ اور ادبی کریملین سے ان کا کوئی ناتا نہیں اس لیے ان کی بات ہی نہیں کی جاتی۔

اب شاعری کو  سخن نا فہموں کی سر پرستی حاصل ہے اور یہ بے ذوق بھی رگ گل سے بلبل کے پر باندھنے والوں کو بھی نہیں پوچھتے بَل کہ وہ تو ان کو پسند کرتے ہیں جو رگ گل اور بلبل کے پر کو کچرے سے آلودہ کر دے۔ یوں پاکستان میں حسن و جمال کی تذلیل کی سر پرستی کرتے رہتے ہیں۔ یوں بھی پاکستان میں اب شا عری بھی ڈنٹر نہ پیلے تو پاکستانی روایات کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔

جوش صاحب کی قدر کیا ہونی ہے؟ اچھا ہوا جوش صاحب مر گئے ورنہ کوئی تیز گو ڈائن کسی کٹھ ملا کو اکسا دیتی اور جوش صاحب کی پٹھنولی بھی کام نہ آتی۔