13/12/2018

تاریخ تو نہیں لکھتے : اپنا مذہب و مسلک لکھتے ہیں

ایک روزن لکھاری
ڈاکٹر مہدی حسن
تاریخ تو نہیں لکھتے : ہم تو اپنا  مذہب، اپنا مسلک، اپنے خواب لکھتے ہیں
 
از، ڈاکٹر مہدی حسن
اگر ہم اپنی تاریخ میں کی گئی تبدیلیاں واپس لے لیں تو ہمارے بہت سے مسائل آج ہی ختم ہو سکتے ہیں۔ ہم نے جن چیزوں کی شکل بگاڑی ہے ان میں علامہ اقبال کا فلسفہ بھی شامل ہے۔ جب بھی اقبال کا ذکر آتا ہے تو لوگوں کے ذہنوں میں ان کے دو چار مخصوص شعر ابھرتے ہیں جیسا کہ
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نوازہم لوگوں نے علامہ اقبال کے ایسے ہی پانچ سات اشعار یاد کر رکھے ہیں اور انہی سے ان کے کام کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ علامہ اقبال کی علمی و سیاسی زندگی کے تین دور ہیں۔ ان میں پہلے دور کو ہم ‘ہندو مسلم اتحاد’ کا دور کہہ سکتے ہیں۔ اس دوران وہ یہی کہتے رہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو مل جل کر رہنا چاہیے کیونکہ ہندوستان کی ترقی اور لوگوں کی زندگی میں بہتری اسی صورت ممکن ہے۔

اقبال کا دوسرا دور ‘پان اسلام ازم’ کا دور ہے جس میں ان کی خواہش تھی کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو متحد ہو کر ایک امت کے طور پر آگے بڑھنا چاہیے۔ اس دور میں وہ وطنیت کے خلاف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمان کو علیحدہ وطن کی ضرورت نہیں ہے، وہ جہاں بھی رہتا ہے امت کا حصہ ہے لہٰذا اسے قومیت پرستی کے بجائے مسلم امہ کے حوالے سے سوچنا چاہیے۔

ہم تاریخ تو نہیں لکھتے

بہت سی دیگر مسلم جماعتوں کی سوچ بھی ایسی تھی اور ان کی جانب سے تقسیم برصغیر کی مخالفت کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ اسلام قومیت پرستی کی اجازت نہیں دیتا۔ علامہ اقبال کی علمی و سیاسی زندگی کے تیسرے دور میں ان کی سوچ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے قیام کی تھی۔ اس حوالے سے انہوں نے قائداعظم کو اس قدر عمدہ خط لکھے ہیں جن سے تمام لوگ واقف نہیں ہیں۔ ان خطوط میں انہوں نے قائداعظم کی سیاسی رہنمائی کی ہے جس میں خاص طور پر پنجاب کی سیاست کے حوالے سے بہت اہم باتیں ملتی ہیں۔

یہ خطوط ہماری تاریخ کا اہم ترین حصہ ہیں مگر آج کی نسل اور آج کے سیاست دان ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان خطوط کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو بانیان پاکستان کی سوچ کا اندازہ ہو سکے اور وہ یہ جان سکیں کہ اس دور میں کون سے خیالات اور مسائل ان لوگوں کے پیش نظر تھے۔ علامہ اقبال جدید اسلام کے قائل تھے۔ وہ رجعت پسندی یا تقلیدی اسلام کے بجائے مسلم جدیدیت کے داعی تھے۔ ہمارے ہاں مذہبی لوگوں کی بھاری اکثریت تقلید پر یقین رکھتی ہے۔

جیسا کہ آپ بھی سنتے آئے ہیں اور میں بھی یہ بات بچپن سے سنتا چلا آ رہا ہوں کہ اگر ہم خلفائے راشدین جیسا معاشرہ قائم کر لیں تو ہمارے تمام مسائل فوراً ختم ہو جائیں گے۔ مگر لوگ یہ نہیں جانتے کہ 1400 سال پرانا معاشرہ آج دوبارہ تخلیق نہیں ہو سکتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سماج تبدیل ہوتا رہتا ہے اور جب سماج بدلتا ہے تو اس کی ضروریات بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

چنانچہ ان مسائل کو سلجھانے کے لیے اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے اور علامہ اقبال نے ہمیشہ تقلید کے مقابل اجتہاد کی حمایت کی۔ ان کا خیال تھا کہ تقلید پر یقین رکھنے والے رجعتی عناصر جدید زمانے کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔ اس مقصد کے لیے اجتہاد، اتفاق اور زمانے کا ساتھ دینے کی غرض سے مذہبی فلسفے کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔

مذہب میں جدیدیت لانے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے تبدیل کر دیا جائے بلکہ اس کا مطلب مذہب کی زمانے کے مطابق تشریح ہے۔ میں قریباً نصف صدی سے ابلاغ کی تعلیم دے رہا ہوں۔ اس دوران ہم یہ سکھاتے ہیں کہ گزشتہ بیس پچیس ہزار سال میں انسانی معاشرہ جیسے جیسے آگے بڑھا اس میں تبدیلیاں آتی گئیں۔ اس حوالے سے زبان کی ایجاد انسان کی ‘تازہ ترین’ کامیابی ہے۔

ہم زبان لے کر پیدا نہیں ہوتے بلکہ زبان سیکھنے کی اہلیت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہم ماں کے پیٹ سے زبان سیکھ کر پیدا ہوتے تو دنیا بھر کے لوگوں کی ایک ہی زبان ہوتی۔ آج دنیا میں 60 ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں جبکہ آج سے چار یا پانچ ہزار سال پہلے اس سے بھی زیادہ زبانیں موجود تھیں۔

زبان 80 ہزار سال پہلے وجود میں آئی تھی۔ منہ سے مختلف آوازیں نکالنا ہماری جبلت میں شامل ہے چنانچہ دنیا بھر کے انسان ایک جیسی آوازیں نکالتے ہیں۔ ہنسنے، رونے، تکلیف میں کراہنے اور چیخنے کی آوازیں ہر جگہ ایک جیسی ہوتی ہیں۔ لیکن آوازوں کو استعمال کر کے لفظ بنانے کا فن ایک الگ سائنس ہے جو 85 ہزار سال پہلے وجود میں آئی تھی۔

دنیا کی کسی بھی زبان میں بیان کیے گئے کسی فلسفے یا نظریے کی ہمیشہ کوئی ایک تشریح ممکن نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کوئی فقرہ بولتے، پڑھتے یا لکھتے ہیں تو اس میں آپ کا ماضی کا تجربہ بھی شامل ہو جاتا ہے جبکہ پڑھنے سننے والا اپنے ماضی کے تجربے کی روشنی میں اس کا مفہوم اخذ کرتا ہے۔ چونکہ تمام لوگوں کے تجربات یکساں نہیں ہوتے اس لیے کوئی بھی پیغام سبھی کے لیے ایک جیسے مفہوم کا حامل نہیں ہوتا۔ چنانچہ تمام لوگ ایک ہی پیغام سے الگ الگ معانی اخذ کرتے ہیں۔

جب انسان نے زبان ایجاد کی تو پہلے چند علامات مقرر کیں۔ الفاظ دراصل علامات ہوتی ہیں اور دنیا بھر میں تمام زبانیں فطری طور پر علامتی ہیں۔ چنانچہ زبانوں کی علامتی فطرت کے باعث ہم اپنے ماضی کے تجربات کی روشنی میں ہی ان سے مفہوم اخذ کرتے ہیں۔ اگر ہم یہ بات سمجھ لیں تو پھر یہ بھی باآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ کسی ایک بات کا ایک مفہوم نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ خواہ معاشی فلسفہ ہو، سیاسی یا مذہبی، ہر گروہ، ہر طبقہ اور ہر شخص اپنے اپنے ماضی کے تجربات کے مطابق ہی اسے سمجھتا ہے۔

ہمارے ہاں اسلامی نظام کی اصطلاح تواتر سے استعمال ہوتی ہے۔ اسلامی نظام کے بہت نعرے لگائے جاتے ہیں۔ مگر بات کچھ یوں ہے کہ اسلامی فلسفہ سماوی اور خدائی ہے جبکہ ہر نظام انسان کی اپنی تخلیق ہوتی ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے اور معاشرے میں تبدیلی آتی ہے تو نظام میں تبدیلی بھی ضروری ہو جاتی ہے۔ اس تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے جب کوئی اپنے دین کی تشریح کی کوشش کرتا ہے تو اس کی یہ کوشش اجتہاد کہلاتی ہے۔

اگر آپ 1400 سال پرانی بات کریں گے تو آج کا معاشرہ اس سے بے حد مختلف ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے موجودہ زمانے کو پرانے دورے سے بدلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ٹیلی ویژن سڑکوں پر رکھ کر آگ لگا دی، آلات موسیقی توڑ دیے اور فوٹوگرافی کی دکانیں بند کر دیں کیونکہ یہ چیزیں 1400 سال پہلے موجود نہیں تھیں۔

معاشرہ تبدیل ہوتا رہتا ہے، ترقی کا سفر جاری رہتا ہے اور اس دوران جنم لینے والی تبدیلیوں کو اپنے مذہب کی روشنی میں دیکھنا اور ان کی مذہب سے مطابقت کا جائزہ لینا اجتہاد کہلاتا ہے۔ اپنے مذہبی فلسفے کو زندہ رکھنے اور اسے کامیاب فلسفے کے طور پر پیش کرنے کے لیے اجتہاد بے حد ضروری ہے۔

خطبہ الہ آباد کے بعد علامہ اقبال سے پوچھا گیا کہ آپ مسلمانوں کا الگ ملک بنانے کی خواہش رکھتے ہیں، آخر اس کی کیا ضرورت ہے؟

اقبال بادشاہتوں کے سخت خلاف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مشرق وسطیٰ میں بادشاہتوں نے اسلامی فلسفے کو بدنام اور داغدار کر دیا ہے۔ چنانچہ اقبال کا جواب یہ تھا کہ ہم ایسا اسلامی ملک چاہتے ہیں جو اس داغ کو صاف کرے اور دنیا کو بتائے کہ اسلامی ملک جمہوری راہ پر بھی چل سکتا ہے اور اسلام جمہوریت پر بھی یقین رکھتا ہے۔ چنانچہ اسلام پر بادشاہتوں کا داغ دھونے کے لیے ایک جدید جمہوری مسلمان ملک کی ضرورت ہے اور ہم اسی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب آپ علامہ اقبال کی فکر و فلسفے کی بات کرتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ تاریخ کو تاریخ کے طور پر پڑھا اور لکھا جائے۔ مگر ہم ایسا نہیں کرتے۔ ہم تاریخ کو مذہب کے طور پر پڑھتے لکھتے ہیں۔

ہم تاریخ نہیں لکھتے بلکہ ہم اپنا مذہب، اپنا مسلک اور اپنے خواب لکھتے ہیں۔ ہمیں خوابوں سے بے حد محبت ہے۔ ہم نے علامہ اقبال پر بھی الزام لگا دیا ہے کہ انہوں نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر علامہ اقبال نے اس ملک کا خواب دیکھا تھا تو پھر خوابوں میں بنے ملک ایسے ہی ہوتے ہیں، آپ کو اس سے کیا شکایت ہے۔

(یہ تین اقساط پر مشتمل اس مضمون کا پہلا حصہ ہے)


بشکریہ: نقطئہ نظر سجاگ

1 Comment

  1. مذھب کو دنیا کے ساتھ چلانے کا تجربہ یہودی اور عیسائی کرچکے ھیں اور آپ دیکھ لیں ان کی بنیاد ھی غائب ھوگئی .اسلام بھی ایک نظام ھے بس کیونکہ یہ نظام انسان کے بجائے اللہ نے دیا ھے اس لئے وہ لوگ جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس نظام سے بدکتے ھیں اس کہ اس نظام کو اپنانے کے لئے انسان کو کچھ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ھے جس پر وہ راضی نہیں ھوتا

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.