رات خواب میں وہ جنت گیا… اور اب وہ شرمندہ ہے

Yasser Chattha

رات خواب میں وہ جنت گیا… اور اب وہ شرمندہ ہے!

سونے سے پہلے وہ ایسی چیزیں پڑھ رہا تھا کہ جن پر وہ قلم اٹھا کر، یا کِی بورڈ سنبھال کر لکھے تو قاصد نے ہنس ہنس کر کہنا تھا:

لکھے مُو سا اور پڑھ خود آ (جسے ہر جائی بالم کہتے ہیں، لکھے موسیٰ اور پڑھے خدا…)

جو وہ پڑھ رہا تھا، اور جس پر اُس نے لکھنے کا سوچا تھا، نہ وہ جنس کا معاملہ تھا، نا شیخ رشیدی مارکہ سیاست، نا پَنجوِیں پِیڑھی دی یُدھ دی یَبھ، نا اقبال داری، نا مجاوری، نا سجادہ نشینی… سماجی گناہ تھا، وِینس اور دُرگا دیوی تو شاید بات سمجھ لیتی… لیکن اس نے انہیں ابھی کب سنائی تھی؛ سناتا تو تب کہ جب لکھتا، اور وہ کون سی مقلب القلوب ہیں کہ جو پہلے ہی سے جان جائیں۔

الغرض، سونے سے کوئی آدھ گھنٹہ پہلے پڑھنا چھوڑ دیا کہ کہیں سونا محال نا ہو جائے؛ ایسے ہی دماغ نا چلتا رہے، کیوں کہ سوچ کر پڑھا جائے تو بندہ دماغ تو خرچتا ہی ہے ناں… اور دماغ بھی کبھی کبھار zero friction، پر چلتی مشین بن جاتی ہے۔

کچھ دیر بعد نیند آنے لگی۔ ایک دو زبانی کلمے جملے پڑھے؛ پڑھتے سَمے تو ان جملوں کی تاثیر کی ہائی پوٹینسی کا علم نہیں تھا، لیکن سونے کے شاید تین چار گھنٹے ہی گزرے ہوں گے کہ فدوی کو محسوس ہوا کہ وہ جنت بھیج دیا گیا ہے۔ نا اعمال، نا کوئی اور پاسپورٹ…. یا حیرت…!

بلے بلے…

خدشہ ہے کہ اس بات پر میرے معجونیں کھانے والے، آئیوڈین نمک کو اندیشۂِ نقصِ نقل و حرکت باور کرنے والے، پولیو کے قطروں کو المشہور خالص جہنمی شربت سمجھنے والے، اور اپنے موبائل فون پر ویاگرا کے اشتہار بَہ اشتیاق دیکھ کر اور اس کی قیمت سے اپنی آمدن کا تقابلی جائزہ لے کر اگلی سانس آگے اور پچھلی سانس پیچھے واپس پھیپھڑوں میں بھر لینے والے احباب کے چشمِ تخیل کی طرح جنت میں وہی کچھ تھا کہ جس کا وعدہ ہے۔ یہ تھی یہ بھی ایک سَحَر ہی، لیکن بَہ شکرِ باری تعالیٰ شب گزیدہ سَحَر کسی نظر اور زاویے سے بھی نہیں تھی۔

آگے کیا ہوا؟ اس وعدے کے لمحے، یعنی موعُودہ لمحے کا اور اپنا بھلا حال کیا، …. ۔

مردانِ خدا اوپری dots ملائیے، dots۔

اب راقمِ خواب اور لطف افروزِ خواب کی دو نمبری دیکھیے؛ اگر آپ سماجی علوم سے کبھی ماتھا لگائے رہے ہیں تو اس دو نمبری کی operational definition، بَہ وقتِ ضرورت و لمحاتی تعریف “انتشارِ ذہنی” پر محمول کر لیجیے۔

وہ انتشارِ ذہنی کیا تھا؟

وہ انتشارِ ذہنی یہ تھا کہ راقمِ خواب و خیال کو خواب کی ترتیب، یعنی dream sequence، نے یہ آشکار کر دیا کہ وہ کس کس جگہ پر اور کہاں کہاں لذتِ جنس کی کشیدگی کی تحت لا شعوری آنکھ رکھتا ہے۔ راقمِ خواب و خیال کے ہر جزوِ جسم میں عجب اور غضب قسم کی حساسیت آن موجود ہوئی تھی۔ ہاتھوں کی پوریں تھیں کہ iPhone کا ٹچ پیڈ… باقی پردے کی بات ہے، اور پردے میں ہی رکھنا چاہتا ہے۔

اور پھر راقمِ خواب و خیال نے ان معزز خواتین کو جو اپنی بد بختی ، یا خوش بختی، یا جو کچھ بھی ہو، بُھلّے کو نہیں پتا وہ کیا تھی، بہت کیا… اس کی تفصیل نہیں بتاؤں گا کہ مجھے اب خلش ہو رہی ہے کہ وہ حوروں کے لباسِ مجاز میں راقمِ خواب و خیال کی دبی سسکتی خواہشات تھیں، اور پردہ نشینوں کو بے پردہ حالت میں دیکھ کر بَہ غیر کسی سے consent لیے…. ۔ یہ ساری حساسیت اور یہ سب تحت الشُّعور کی سازشیں جو خوابی دنیا میں کسی گناہ و ثواب کی بیچ کی دنیا کی لذات تھیں، اب جاگے ہوئے کی شعوری حالت کی خلش ہیں۔

خلش کیا ہے؟

ایک تو وہی کہ راقمِ خواب و خیال کے اس کے خواب ہی میں متاثرین حوریں کہ جن پر چہرے وہی تھے جو دنیا داری میں مجھے نظر آتے، اور ان کی میں عزت و احترام کرتا ہوں، ان سے راقم خواب و خیال کے جنت میں، ہر چند کہ خواب ہی میں، لمحات تحت الشُّعور کی اس بے شرم حرکت جمع حرکات کا شکار ہوئے۔

لطف بہت آیا، لیکن وہ شرمندہ ہے۔

یہ کیسی عجیب کیفیت ہوتی ہے کہ ایک لمحے کا لطف، دوسرے لمحے کا داخلی اخلاقی گناہ اور خلش بن جائے۔

کیوں کہ راقمِ خیال و خواب کو اس sequence، نے احساس دلایا اور شک میں ڈال دیا:

کہیں اس کے سب آدرش خالی خولی دعوے ہی تو نہیں۔

از، یاسر چٹھہ 

About یاسرچٹھہ 167 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔