ہم، گلگت بلتستان کے مجرم

ایک روزن لکھاری
عمران چوہان، صاحب مضمون

ہم، گلگت بلتستان کے مجرم

از، عمران مشتاق چوہان

گلگت بلتستان کے معروف صحافی عالم نور حیدر صاحب نے خبر دی ہے کہ حکومت پاکستان سینیٹ میں آئینی ترامیم کر کے گلگت بلتستان کو اب پاکستان کا پانچواں (قانونی) صوبہ بنانے جا رہی ہے۔ (غیر قانونی تو پہلے سے ہی بنایا ہوا ہے) متوقع ترمیم کے بعد گلگت بلتستان کی پاکستانی سینیٹ میں 3 اور 3 ہی سیٹیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں متوقع ہیں۔

اب بات آتی ہے ریاست جموں کشمیر کی باقی منقسم اکائیوں کی، جن اکائیوں کی تقریبا تمام کی تمام ریاستی و غیر ریاستی پارٹیاں گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنائے جانے کی سخت مخالف ہیں۔ کیوں کہ ہر باشندہ ریاست چاہے وہ پاکستان سے الحاق کا حامی ہو، بھارت سے الحاق کا حامی ہو، یا ریاست کی مکمل آزادی یعنی 14 اگست 1947 والی پوزیشن کی بحالی کا داعی ہو، وہ ریاست کی تقسیم کسی بھی صورت برداشت نہیں کرتا۔ ہر باشندہ ریاست موجودہ “عارضی” جنگ بندی لائن کا بھی سخت مخالف ہے اور اسی لیے باشندگان ریاست اسے اپنے وطن کے سینے پر جبری طور پر کھینچی گئی خونی لکیر کے نام سے پکارتے ہیں۔

لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان سے معاہدہ کراچی کر کے گلگت بلتستان کو “عارضی” طور پر پاکستان کے کنٹرول میں دیا گیا تھا، یہ “تاریخی کارنامہ” بھی آزادی کے بیس کیمپ کے چند راہ نما  نے کیاتھا۔ یہی وہ  “معاہدہ کراچی” ہے جس نے ریاست کے پاکستانی زیر انتظام حصے کے مزید دو ٹکڑے کر دیے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کے درمیان نفرت اور دوریوں کا بیج اسی معاہدے نے بویا تھا۔ یاد رہے کہ بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر سارے کا سارا ایک ہی یونٹ ہے اور پورے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں “قانون باشندہ ریاست جموں کشمیر 1927” اصل حالت میں نافذ العمل ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ کا بنایا ہوا یہی وہ واحد قانون ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی غیر ملکی ریاست جموں کشمیر میں نہ تو کسی بھی قسم کی کوئی پراپرٹی خرید سکتا ہے اور نہ ہی ریاست کی درجہ اول شہریت اختیار کر سکتا ہے۔ یہ قانون آزاد کشمیر میں بھی نافذ العمل ہے۔

لیکن ظلم کی انتہا یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے بین الاقوامی، اقوام متحدہ کی (اپنی ہی دستخط شدہ) قرار دادوں اور ریاستی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے گلگت بلتستان میں”قانوں باشندہ ریاست جموں کشمیر” معطل کیا ہوا ہے۔ یعنی ریاست کے اس حصے کے لوگ ریاست کا شہری ہونے کا سرٹیفیکیٹ یعنی”سرٹیفیکیٹ باشندہ ریاست جموں کشمیر” ہی نہیں بنوا سکتے۔ (یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ پاکستان کے چار صوبوں میں سے کسی بھی ایک صوبے کی عوام سے پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کا حق چھین لیا جائے اور ان کے پاس پاکستان کا شہری ہونے کا کوئی ثبوت نہ ہو، اس علاقے کے لوگ اپنے ہی ملک کے کسی دوسرے صوبے میں جا کر اپنے آپ کو پاکستانی ثابت کرنے میں ناکام ہو جائیں۔)

گلگت بلتستان کے عام لوگ یا طلباء جب  آزاد  کشمیر کی سرکاری ملازمت کے حصول یا کسی بھی میڈیکل کالج یا انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلے کے لیے آتے ہیں، تو حسب قانون باقی مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ جب باشندہ ریاست جموں کشمیر سرٹیفیکیٹ مانگا جاتا ہے تو وہ پوچھتے ہیں کہ “یہ کون ساسرٹیفیکیٹ ہے؟ ہماری طرف تو یہ ہوتا ہی نہیں” افسوس! صد افسوس!

 آزاد  کشمیر کے میڈیکل کالجز میں گلگت بلتستان کا بھی کوٹا مختص کیا گیا ہے۔ (آزاد جموں کشمیر میں میڈیکل کالجز کے لیے ہونے والے State Entry Test میں شامل ہونے کے لیے باشندہ ریاست جموں کشمیر ہونا ضروری اور قابل فخر شرائط میں سے ایک ہے) لیکن اس کوٹے پر اپلائی کرنے کے لیے جو بھی گلگتی یا بلتی طالب علم آتا ہے، انٹری ٹیسٹ میں اس بنیاد پر نہیں بیٹھ سکتا کہ وہ “باشندہ ریاست جموں کشمیر نہیں ہے”۔ (کیوں کہ ان کے ہاں پاکستان نے یہ قانون ہی معطل کیا ہوا ہے، اس لیے وہ سرٹیفیکیٹ باشندہ ریاست بنوا ہی نہیں سکتے) وہ طلبا نہایت مایوسی کے عالم میں پھر پاکستان کے کسی (آئینی) صوبے میں انٹری ٹیسٹ دے کر اس رزلٹ کی بنیاد پر یہاں اپنے مخصوص کوٹے پرنامزدگی کراتے ہیں۔

ہم وطنو! جب بھی حکومت پاکستان گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنانے کی بات کرتی ہے تو ہمارے آزادی پسند اور الحاق پسند سب کے سب لوگ اس کی شدید مخالفت کرتےاور تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم لوگ پاکستان کے صوبہ بننے کی مخالفت تو بالکل قانونی و آئینی طور پر کرتے ہیں لیکن کیا ہمارے کسی بھی آزادی یا الحاق پسند سیاست دان یا پارٹی نے حقیقی اور عملی طور پر کوشش کی ہے کہ معاہدہ کراچی فی الفور منسوخ کیا جائے اور پاکستان کے زیر انتظام ساری ریاست کی ایک ہی مشترکہ با اختیار آئین ساز اسمبلی بنائی جائے؟

ہم لوگ جتنی طاقت کے ساتھ صوبہ بنائے جانے کی مخالفت کرتے ہیں، اس طاقت کے ساتھ تمام الحاق و آزادی پسند پارٹیاں معاہدہ کراچی کی منسوخی کے لیے کوشش کرتے ہیں؟ انہیں ہم پاکستان کا صوبہ بننے نہیں دیتے اور دونوں خطوں کی مشترکہ اسمبلی کے لیےکوئی سنجیدہ عملی کوشش بالکل بھی نہیں کرتے۔ یعنی کہ وہ نہ تو پاکستان کا صوبہ بنیں، نہ وہاں پر قانون باشندہ ریاست ہو، نہ ہماری کوئی مشترکہ اسمبلی ہو۔۔۔ بس۔۔۔ جو جیسے ہے، ویسے ہی چلتا ریے۔ اور ہم صرف اور صرف پاکستان کا صوبہ بنائے جانے کی مخالفت کرتے رہیں؟ یہ ہے ہمارا کردار؟ بحیثیت (منقسم) قوم ہمارے لیے یہ نہایت شرمندگی کا باعث ہے۔

آخر میں، میں اپنے تمام کے تمام باشندگان ریاست، چاہے کوئی آزادی کا حامی ہے یا الحاق کا، سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ کی جو بھی سیاسی وابستگی ہے اسے ایک طرف رکھ کر اپنی جبری طور پر منقسم ریاست کو ایک کرنے کے لیے ایک ہو جائیں۔ کیوں کہ جو باشندگان ریاست پاکستان سے الحاق کے حامی ہیں وہ بھی پوری کی پوری ریاست کا پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں، بھارتی مقبوضہ کشمیر کے جو لوگ بھارت سے الحاق کے حامی ہیں، وہ بھی پوری کی پوری ریاست کا بھارت سے الحاق چاہتے ہیں۔ اور جو آزادی پسند ہیں وہ بھی پوری کی پوری ریاست جموں کشمیر (84471 مربع میل) جو 14 اگست 1947 تک تھی، کی مکمل آزادی چاہتے ہیں۔

پس کوئی بھی باشندہ ریاست چاہے وہ الحاق ہندوستان کا حامی ہو، الحاق پاکستان کا حامی ہو یا آزادی کا حامی ہو، کسی بھی صورت اپنی ریاست کی تقسیم کا حامی نہیں۔

اس کے لیے ہمیں گلگت بلتستان کے لوگوں اور ان کی قیادت کے ساتھ مل کر مشترکہ (عملی) کوششیں کرنی ہیں، ہمارا قومی فرض ہے کہ گلگت بلتستان میں قانون باشندہ ریاست جموں کشمیر کی بحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ یہ وہاں کے لوگوں کا بھی دیرینہ مطالبہ ہے۔ معاہدہ کراچی کی منسوخی کے لیے ہمیں مضبوط اور مشترکہ تحریک چلانی ہوگی جو کی وقت کی بے حد ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ بھی اپنی اس حق تلفی کے خلاف اور سلب شدہ حقوق کی بحالی کے لیے بھرپور طریقے سے آواز بلند کریں۔ اللہ پاک ہمارا حامی و ناصر ہو۔ بقول احمد فراز:

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

1 Trackback / Pingback

  1. میں تیسرے درجے کا شہری کیوں - aik Rozan ایک روزن

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.