فکس اپ (طنز ومزاح)

فکس اپ (طنز و مزاح)

از، نعیم بیگ

مجھے ہمیشہ زندگی سے یہ گلہ رہا کہ جس طرز پر میں نے اپنی زندگی کو گزارنا چاہا مجھے قدرتاً حالات اس کے برعکس ملے۔ مثلاً مجھے صبح دیر سے اٹھنے کی عادت اچھی لگتی ہے لیکن کیا کیجیے کہ ملک میں روزگار ملا تو ایسا جس میں دفتری اوقات سے پہلے دفتر پہنچنا ضروری ہوتا تھا۔ ملک سے باہر فائیو سٹار ہوٹل میں دیر تک سونے کا موقع کئی ایک برسوں بعد ملا تو سائٹ عموماً ہوٹل سے اتنی دور ہوتی کہ ڈیڑھ دو گھنٹے کا تھکا دینے والا پہاڑی سفر اور واپسی کا خوف مجھے صبح تڑکے جگا دیتا۔ اب عملی طور پر نیم ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہوں تو کمرہ اوپر کی منزل میں گلی کی جانب ملا۔ سگریٹ نوشی اور دھویں کی وجہ سے مشرقی کھڑکی کھُلی رکھتا ہوں تو صبح سورج کی پہلی کرن سیدھی آنکھوں کے راستے تیرِچشمِ بے حیا کے مصداق کلیجے کے آر پار ہو جاتی ہے۔

گزشتہ بار ہوائی جہاز کے سفر میں ایئر ہوسٹس سے کہہ کہلوا کر آنکھوں پر لگانے والے کالے خول منگوائے جو ائرلائن والوں نے رات کے سفر میں مسافروں کے لیے رکھے ہوتے ہیں۔ آج کل وہ کھوپے دوائیوں کے ساتھ میرے سرھانے یوں پڑے ہوتے ہیں جیسے زندگی ان کھوپوں کے بغیر ایک پل نہ گزرے گی۔ کوہلو کا بیل آنکھوں پر یہ کھوپے چڑھا کر رہٹ پر گول گول گھومتا ہے اور میں یہ چڑھا کر کھوپوں کے اندر آنکھیں گھما گھما کر گول گول سوچتا ہوں کہ اب کیا ہوگا؟

اب آپ یہ نہ پوچھیے گا کہ ’اب کیا ہوگا؟‘ سے میری مراد کیا ہے؟

یہاں چُستہ ملکی سیاسی حالات ، گھریلو اور دوستوں کے دل دہلا دینے والے واقعات ، ادبی محافل کے بے پروا تنقیدی جائزے ، فیس بک پر ہوتی بے ادب گفتگو اور لایعنی مباحثوں کے مابعد اثرات ، غرض ہر اُس کام میں جہاں ذہن کی رسائی کار فرما نہ ہو، وہاں آج کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اب کیا ہوگا؟

آج صبح دم ’اپنے مہین خان‘ نے حسب معمول سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی میری مشرقی کھڑکی پر اپنی آمد کا پہلا گولہ داغا۔ ان کا یہ انداز ہمیشہ سے غزنویوں کے ہندوستان پر اچانک حملوں کے مترادف ہوتا ہے۔ محمود ٖ غزنوی تو بیچارہ ایسے ہی بدنام ہے۔۔۔ سترہ حملے کیے اور نتیجہ صفر، جبکہ یہاں’ اپنے مہین خان‘ کا پہلا حملہ ہی جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ وہ اپنی ننھی سے موزنبیق ،جو وہ ہمہ وقت دشمن کی آڑ میں اپنی جیب میں رکھتے ہیں، سے ایسا تاک کر پہلا گولہ میری کھڑکی کی جالی پر مارا کہ نیند میں مجھے کسی بھونچال کا گمان ہوا۔ کمبخت ہمیشہ عین اسی موقع پر نازل ہوتے ہیں جب میں نیند کے آخری لمحات میں کچھ نہ کچھ فکس اَپ کر رہا ہوتا ہوں۔

اب یہ فکس اپ کیا ہے ؟ اس کا بیان واقعاتی شہادتوں پر منحصر ہے، ذرا رکیے ،میں ابھی آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ میں نے اٹھ کر کھڑکی سے ہانک لگائی۔ اماں، خان صاحب! رکیے، ابھی آیا۔

یہ کہہ کر ننگے پاؤں نیند میں لڑکھڑاتے ہوئے نیچے گیا اور دروازہ کھول کر انہیں اپنے ساتھ اوپر کمرے میں لے آیا۔

’’ہاں میاں!۔۔۔ کیا کر رہے تھے؟‘‘ یہ ان کا پہلا سوال تھا جو انہوں نے بیٹھنے کی مناسب جگہ ڈھونڈتے ہوئے چاروں طرف دیدے گھماتے ہوئے مجھ پر داغا۔ آواز کا طمطراق ویسا ہی ،جیسے اکثر کلاسیکی موسیقی کے استاد سُر لگانے سے پہلے اپنا گلہ کھُرکھُراتے ہیں۔ اس کے بعد جو آواز ا نکے گلے میں کھُرکھُری ہوکر ناک سے نکلتی محسوس ہوتی ہے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کی اپنی آواز ہے۔۔۔۔۔ اب بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ حضرت آپ کا نزول وجہ ہوش و خرد ہے یا خروسِ بے ہنگام؟

’’بس ابھی سو کر اٹھا ہی چاہتا تھا کہ آپ کی طرف سے پہلا پھول آیا؟‘‘ میرے لہجے میں طنز تھا۔

لیکن وہ ٹھہرے ’اپنے مہین خان‘، میرے اس حملے کو کیسے تہ تیغ نہ کرتے۔ عورتوں کی طرح ہاتھ ہلاتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔ ’’ارے میاں!پھول جھڑیں گے تو پھل لگیں گے۔ ہم جیسوں کو پھول پان دیا کرو تو تمارے بھاگ جاگیں گے، ورنہ تمارے یہ پھول یونہی جھڑتے یہاں رہیں گے، اور چڑھیں گے کہیں اور! تمیں ان کا گہنا نصیب ہوگا نہ چادر؟”

سچ پوچھیے تو یہ بددعائیہ قسم کے حملوں سے میں بددل تو نہ ہوا بلکہ قدرے ہوشیار ہو گیا کہ آج آثار اچھے نہیں ، موسم بردو باراں بھی ہے اور گرج چمک بھی۔۔۔ سو صوفے پر پھیلی ہوئیں کتابیں اٹھا کر محبت سے انہیں بیٹھنے کو کہا، ہاتھ میں نئے سال کی جنتری تھمائی اور خود باتھ روم میں نکل گیا۔

جب باتھ روم سے باہر نکلا تو دیکھا آنکھوں پر وہی سیاہ کھوپے چڑھائے صوفے پر نیم دراز ہیں۔ میں ٹھٹکا اور سمجھا، سو گئے ہیں لہذا پنجوں پر چلتے ہوئے کمرے کو درست کرنے لگا کہ وہیں سے اپنی باریک سی آواز میں بولے۔۔۔’’یہ مت سمجھنا میں سو رہا ہوں، اماں تم نے ابھی تک چائے کو نہیں پوچھا۔‘‘

مزید دیکھیے:

زندگی منزل میں ہے : اوپندر ناتھ اشک سے گفتگو از، آصف فرّخی

پھر خود ہی منحنی اور خفیف سی آواز میں مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ ’’اچھا یہ بتاؤ، اب کیا ہوگا؟ ‘‘

’’ آپ کو جنتری دی تو تھی۔۔۔ آپ دیکھ لیتے‘‘ میں نے بھی انہیں چھیڑا۔

’’جنتری کے مندرجات پڑھ کر ہی تو کہہ رہا ہوں۔ اب کیا ہوگا؟ وہ تاسف بھر لہجے میں بولے۔

تمارا ستارہ زحل عطارد کے دسویں کیریئر میں ہے اور پلوٹو وہیں کھڑا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ آپ کے نویں گھر میں براجمان ہے اور مشتری کو ساتویں گھر سے پانچو یں گھر میں داخل کرنا چاہتا ہے۔ مشتری کے اس ’انتقال‘ پر جو بیہودہ اثرات آپ کی زندگی پر آئیں گے ان کا ذمہ دار پلوٹو ہوگا یا کوئی اور؟ دوسری بات یہ ہے کہ زہرہ آپ کے مالی امور کا سیارہ ہے جو کسی صورت حرکت نہیں کر رہا۔۔۔ نہ اپنے مدار میں ، نہ ہی اس پورے چکر میں کوئی اور سیارہ آپ پر سعد نظرات ڈال رہا ہے۔‘‘

میں حیرت سے انہیں دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں مطلوب خان ،جو چائے اور دیگر ناشتے کے لوازمات سامنے میز پر خاموشی سے رکھ چکا تھا، نے سرگوشی کی۔ سر ، یہ آپ کا سٹار پڑھ رہے تھے۔ میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور جانے کا اشارہ کر دیا۔

’اپنے مہین خان‘ اپنی جنتریانا گفتگو مسلسل فرما رہے تھے کہ میں نے ان کے پہنے کھوپوں سے فائدہ اٹھایا اور ان کے سامنے ہی کھڑے کھڑے کپڑے بدل لیے اور مطلوب خان کو آواز دے دی کہ وہ رات کے کپڑے دھلنے کو نیچے پہنچا دے۔

میری آواز سنی ان سنی کر کے خان صاحب نے گفتگو جاری رکھی۔

’’ہوں تو تم وہ کام کر چکے ہو جس پر شرفاٗ تنہائی کے طلب گار ہوتے ہیں‘‘

مجھے لگا وہ کھوپوں میں ضرور کوئی سوراخ ڈھونڈ چکے ہیں۔

نعیم بیگ کی ایک روزن پر شائع شدہ دیگر تحریریں

پھر خود کلامی کے انداز میں بڑبڑائے۔۔۔ ’’مطلب یہ کہ پورا گھن چکر ہی تمارے خلاف کام کر رہا ہے۔۔۔ تم کہتے ہو میں نیا ناول لکھوں گا؟ اس سازشی ماحول میں توتم اگر بھابھی سے دو وقت کا کھانا کھرا کر لو تو یہی غنیمت ہے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم اسقدر پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہو۔ اچھا میں چلتا ہوں۔۔۔ چائے پھر کبھی سہی۔۔۔‘‘

یہ کہہ کر وہ کراہتے ہوئے اٹھے اور سامنے پڑی کرسی سے ٹکرا کر سیدھے میز پر دھری چائے اور ناشتے پر جا گرے۔ چائے دانی الٹ کر ٹرے میں گر گئی۔ ان کے دونوں ہاتھ اس ٹرے میں پھیلے گرم پانی پر چھپاکے سے لگے اور پانی پورے کمرے میں پھوار کی طرح برسا تو چلائے۔۔۔’’ اماں تمارے ہاں تو ان سیاروں نے پوری طرح ہڑبونگ اور بے ہودگی مچا رکھی ہے۔‘‘

میں نے آگے بڑھ کر انہیں حالتِ سجدہ سے اٹھایا اور ان کی آنکھوں سے سیاہ کھوپا اتارا تو انہیں احساس ہوا کہ حقیقت میں ہوا کیا ہے۔

ان کے ہاتھ گرم پانی کی جلن سے تڑپ اٹھے تھے۔

اپنی کھرکھراتی ہوئی آواز میں بولے۔۔۔’’ ارے بھئی کچھ کرو ! بہت جلن ہو رہی ہے۔‘‘ وہ اپنے ہاتھوں پر پھونکیں مار رہے تھے۔

شاید جلن زیادہ تھی۔۔۔ ایکدم انگریزی میں آ گئے۔۔۔ ’’ اماں۔۔۔ پلیز فکس اِٹ اَپ! ‘‘

وہ جب بھی حقیقی غصہ میں آتے تو انگریزی بولتے تھے۔ میں سمجھ گیا واقعی جلن بہت ہو رہی ہے۔

’’کچھ کرنے کا وقت گزر چکا ہے، خان صاحب! میں اسی لیے جاگتی آنکھوں سے خواب نہیں دیکھتا۔۔۔ ہمیشہ انجام سے باخبر رہتا ہوں۔۔۔‘‘ میں نے ایک اور شرُلی چھوڑ تے ہوئے ان کی طرف تولیہ بڑھایا کہ وہ اپنے ہاتھ منہ صاف کر لیں۔ تولیہ لیتے ہوئے کھسیانی سی ہنسی ہنسے اور کہنے لگے۔

’’یہ ساری کارستانی اسی منحوس ’زہرہ ‘کی ہے ، جو ہاتھ آتی ہے نا پلو پکڑاتی ہے۔ اُس دن بے نامی بد دعائیں ہوا میں دے رہی تھی کہ اللہ اِن کمبخت ہاتھوں کوجلا دے جن ہاتھوں سے موئے نے میرا آنچل کھینچا تھا۔‘‘

میں نے ان کی طرف خشمگین نظروں سے دیکھا تو جھٹ سے بولے۔۔۔ ’’ تمیں نے کھینچا ہوگا۔‘‘

زہرہ ان کے گھر کی ماسی تھی جس پر یہ کئی برسوں سے دل و جان سے عاشق تھے۔ جب ان کا دل بے تحاشا امیدِ وابستگی سے لبریز ہوتا توحاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے چند روپے اسے تھما دیتے۔ جس کے بعد کئی ایک دنوں تک دوستوں کو سنانے کے لیے ان کے پاس گلا صاف کرتے ہوئے موضوع سخن یہی ہوتا۔

میں نے فوراً کہا۔۔۔’’ وہاں کھڑے تو آپ تھے، لہذا وہ ساری بددعائیں آپ کو سنائی جا رہی ہوں گی۔‘‘

نجیب الطرفین پٹھان تھے جھٹ مان گئے۔

’’میاں دیکھو ، کس ڈھٹائی سے پیسے پکڑ لیے۔۔۔ ہم آنچل کو ہاتھ لگائیں تو بددعا کے مستحق۔۔۔ خود نشیلی آنکھوں سے کولہے مٹکا کر چشمِ نیم باز سے دیکھیں تو سات خون معاف۔

دہائی خدا کی! ایسی بے انصافی کہیں نہیں دیکھی۔‘‘

ایسی صورت میں ہم سبھی ان سے پُرسا کرتے ہیں تو انہیں کچھ سکون ملتا ہے۔ تب کہتے ہیں ’’ اچھا بتاؤ۔۔۔ اب کیا ہوگا؟ ‘‘

دیکھتے ہیں بقول ’ اپنے مہین خان‘ اب کیا ہوگا؟

About نعیم بیگ 138 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔