مغرب میں انسانی حقوق کا وسیع ہوتا منظر نامہ 

Naeem Baig

مغرب میں انسانی حقوق کا وسیع ہوتا منظر نامہ 

Basic level of physiological function should be a part of our human rights. As a society we can achieve these human rights, if we accept the proposition, a person can never be broken. Our built – in environment, our technology are broken and disabled.

A few words from a TED lecture about bionic body parts

اس سٹیٹمنٹ سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مغرب میں انسانی حقوق کا درجہ کس قدر بلند کر دیا گیا ہے کہ انسان کے جسم کے کسی حصے سے محرومی انسانی حقوق سے محرومی تصور ہو گا۔ سماج اس محرومی کا نہ صرف ازالہ کرے گا، بَل کہ یہ احساس دے گا کہ مکمل جسم فطری انسانی حق ہے۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں بنیادی انسانی و سماجی حقوق کا حصول نا ممکن ہے۔ درست ہے کہ ہمارے وسائل کم ہیں، اور معاشی دباؤ کے تحت ہم اپنی سماجی اکائی کو ٹھوس اور بنیادی نظر آنے والے حقوق دینے کے قابل نہیں ہوئے ہیں جن میں، صحت، تعلیم ، روز گار اور سر چھپانے کو مکان وغیرہ، لیکن intangible (غیر مرئی) حقوق جِن میں آزادئِ اظہار، مخلوط ملاپ، آزادئِ رفت و بود اور سماجی و ثقافتی دائرے کے اندر سوشل لائف کے مشروبات کا آزادانہ استعمال بَہ ہر صورت بنیادی حقوق میں شامل ہوتا ہے، ان سے بھی بَہ وُجوہ محروم رکھا گیا ہے۔ ماضی کے ان استبدادی اور سیاہ حکم ناموں سے عوام کو باہر نکلنے دیں تا کِہ آزاد فضا کی مہک سماج کو خوش گوار کرے اور معاشرت میں قابل قبول صورت پیدا ہو۔

Bionic Body Parts
illustration courtesy, The Forbes

یقین رکھیں جب آپ نظر نہ آنے والے یا غیر مرئی انسانی حقوق اپنے لوگوں کو دیں گے تو نظر آنے والے ٹھوس حقوق کا رستہ خود بَہ خود کشادہ ہو گا اور سماج ترقی کی منزلیں طے کرے گا۔

آپ نے صرف اپنا اعتماد لوگوں تک بہم پہنچانا ہے اور بے جا خوف کی فضا بھلے وہ ثقافتی ہو، یا قانونی، معاشی ہو کہ مذہبی اسے ہر صورت ختم کرنا ہے۔

ہمارے یہاں مادی مسائل سے اَٹے گرم مرطوب معاشرے میں جذباتیت، بے جا لگاؤ اور رد عمل کی فوری قوت گلوبل عمومی علاقوں سے اور بالخصوص سرد علاقوں سے کہیں زیادہ ہے۔ گزشتہ ستر برسوں میں جس شدت سے مذہبی انسیت اور وابستگی کے احساس کو سماجی سطح پر ابھارا گیا اس کے سیاسی محرکات تھے تا کِہ معاشرت میں ایسی اکائی کو پروان چڑھایا جائے جو حکومت کے مخصوص ایجنڈے کو لے کر آگے بڑھے۔ در حقیقت، پاکستان کے ابتدائی دنوں میں عالمی سطح پر سرد جنگ کے بادل تھے جس میں نہ نہ کرتے ہوئے بھی ہم ایوب خان دور میں اس سرد جنگ کا حصہ بنے۔

آپ ملکی تاریخ کا بَہ غور جائزہ لیں؛ جب بھی عالمی سطح پرعلاقے میں کوئی جغرافیائی مہم جوئی متوقع ہوئی پاکستان میں مارشل لاء لگ گیا۔ اس کی خالصتاً وجہ یہ کہ مروج نیم جمہور میں مامے بہت پیدا ہوجاتے ہیں۔ یوں تنہا آمر سے عالمی مفادات طے کرنے میں یکسُوئی رہتی ہے۔ آج بھی یہی صورت ہے۔

اس بار چہرے کو سافٹ اور کسی حد تک لبرل رکھا گیا تا کہ عالمی سطح پر قبولیت ہو۔ اس بار یہ معجزہ کیسے ہوا۔ اہلِ علم و دانش خوب جانتے ہیں۔

آمدم برسرِ مضمون؛ انسانی حقوق کی جس نچلی سطح پر ہمارا سماج وقت گزار رہا ہے وہ انسانیت کے حقیر ترین معیارات سے بھی کم تر ہے۔ راقم نے اسی لیے یہ نُکتہ اٹھایا کہ اگر مقتدرہ قوتیں واقعی وفاقی سطح پر سماج کی نفسیاتی اور معاشی بہتری چاہتے ہیں۔ (یہاں لفظ اگر معمول کے معنیٰ میں نہیں، بَل کہ وسیع ترین معانی میں ہے) تو صوبائی سطح پر اعتماد حاصل کرے۔ اعتماد حاصل کرنے کے لیے اعتماد کرنا پڑتا ہے۔

اوّلین سطح تو آزادئِ اظہار(تحریر و تقریر) کی ہے۔ یہ ایک مغالَطَہ ہی ہے کہ جتنی آزادی یہاں پاکستان میں ہے، کہیں اور نہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ خوف کی اَن دیکھی فضا یہاں ہَمہ وقت موجود ہے۔ میڈیا کے لوگ اور صحافی پسند و نا پسند سے بالا تر یہ بات تسلسل سے کہہ رہے ہے۔ علمی سطح پر/ کالجوں /یونی ورسٹیوں اور سوشل میڈیا پر لوگوں کو بات کرنے دی جائے۔

ہماری بیورو کریسی آسان ترین حل نکالتی ہے کہ جب کوئی نا پسندیدہ بات ہو اسے بند کر دیا جائے۔ یہ در حقیت حکومتی سطح پر منفی رحجان کو جنم دیتی ہے۔ بہت سے ایسے منفی رحجانات مل کر پھر سماج کا اعتماد کھو دیتے ہیں۔

ہندوستان اور امریکہ کی کئی ایک ریاستوں/ صوبوں میں وِفاق سے الگ قانون ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان قوانین کی وجہ سے وہ صوبہ/ ریاست وِفاق سے الگ ہو گیا۔ یہاں اساسی جوہراعتماد کا ہے۔

ہمارے ہاں اسی جوہر، اعتماد کی کمی ہے کہ ہم ثقافتی سطح پر وفاقی ثقافت ہر صوبے میں لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کسی طور پر نمائندہ نہیں رہتی۔ بلوچستان/ سندھ/ خیبر پختون خواہ دور دراز علاقوں میں خوراک/ مشروبات/ رہنا سہنا/ راگ رنگ/ ثقافتی سر گرمیاں ان کے ہاں کے پھولوں سے لے کر دیہی زندگی کے لوک وَرثہ رنگ سبھی کچھ شامل ہوں۔

لیکن ان کے ساتھ عالم گیر سطح پر جو ٹیکنالوجی کی وجہ سے مقبول عام اشیاء ثقافت کا حصہ بن رہی ہیں انھہں مکمل آزادی ملنی چاہیے۔ اس میں کسی طور پر مذہبی فروعات اور منقسم فہم رکاوٹ نہ بنے اور یہ عمل انفرادی سطح پر چھوڑ دیا جائے، سماجی سطح پر پبلک مقامات کے لیے قانون بنا دیے جائیں، مثلاً یہ تعلیم ضرور ہو کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے خطرناک ہے، لیکن سگریٹ پینے کے عمل پر پا بندی نہ ہو۔ اسی طرح شراب کے لیے قوانین ضرور بنیں؛ مخصوص جگہوں پر پینے پر پابندی ہو، لیکن انفرادی عمل کو وہاں تک آزاد چھوڑ دیا جائے جہاں سے دوسرے کی ناک شروع نہ ہو۔

جیسا میں نے پہلے عرض کیا کہ حکومتی یا ریاستی سطح (اب اس کی تفریق بالکل نہیں رہی ہے، جب کہ ہونی چاہیے۔ جب بھی حکومتی سطح پر تنقید کی گئی اسے ریاست پر تنقید سمجھا گیا) یہ روَیّہ یک سَر ختم ہونا لازم ہے۔ اگر ہم ( پھر وہی منحوس اگر سامنے آ جاتا ہے) اعتماد پیدا کرنا چاہتے ہیں، ہمیں معمولی باتوں کو قومی سطح پر اہم سمجھنا ہو گا؛ اعتماد کا تسلسل اسی سے بنتا ہے۔

یہاں ایک نکتہ اور اٹھایا جاتا ہے کہ مغرب انسانی جسم کے تعلق سے بہت حسَاس تو ہے لیکن سماجی سطح پر خاندانی نظام، جس میں بزرگوں اور بچوں کے حقوق ہیں اِن کو متروک کر بیٹھا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ در حقیقت، بزرگوں اور بچوں کی تعلیم، صحت، اور مناسب خوراک کی ذِمے داری ریاست نے اٹھا رکھی ہے جو کسی طور پر نظر انداز نہیں کی گئی ہے۔ ہاں انفرادی سطح پر یہ ذمے داری کوئی اٹھاتا ہے تو کچھ امتناع نہیں۔ وہاں ایک بڑے حصے میں خاندانی نظام بہت کام یابی سے چل رہا ہے۔ ہاں متوسط طبقے کی ذمے داریاں کم ہو گئیں ہیں۔

میں اس کا عینی شاہد ہوں مغرب کے دور دراز علاقوں میں خاندان دیکھ چکا ہوں۔ بائیونک پارٹس جب انسانی حقوق سمجھے جائیں گے تو پھر وہ کیسے لگیں گے، یہ سماجی ذمہ داری ہے کہ وہ طے کرے نہ کہ ریاستی ذمے داری؟  ریاستی ذمے داری صرف یہی ہے کہ وہ بائیونک پارٹس کے لیے راہ ہموار کرے۔

یہاں یہ ذمے داری ریاست نہیں اٹھا رہے، نہ ہی سماج اٹھا رہا ہے۔ یہی میرا نقطۂِ نظر ہے کہ جب اعتماد کی فضا پیدا ہوگی تو یقیناً یہ عمل انفرادیت سے نکل کر ریاستی عمل کا حصہ بن جائے گا۔ لیکن بَہ وجہ ریاست خارجی مسائل سے نبرد آزما تو ہو جو انہی کی ماضی کی پے در پے غلطیوں سے اب سر اٹھا رہے ہیں۔ یہی وقت اگر معاشی و سماجی ترقی پر دیا ہوتا تو یہ خارجی مسائل بھی اس قدر رُو نما نہ ہوتے۔

اب بھی وقت ہے کہ ہم خوف کی فضا دور کریں۔ لوگوں پر اعتماد کریں؛ تعلیم پر توجہ دیں؛ اپنے ترقیاتی بجٹس کو توازن میں لائیں اور سول مارشل لاء جیسا ماحول کو سافٹ کریں۔ علاقائی مسائل کو ان ممالک کے اوپر چھوڑ دیں جن کے مسائل ہیں۔ ہماری تمام تر توجہ اندرونی عوامی مسائل کی طرف ہونا لازم ہے۔

از، نعیم بیگ 

About نعیم بیگ 120 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔