تعلیم اور سپیشلائزیشن : ایک نوٹ

Qasim Yaqoob aik Rozan
قاسم یعقوب، صاحبِ مضمون

قاسم یعقوب

 

تعلیم کا بنیادی فعل معاشرے میں خود احتسابی کا عمل پیدا کرنا ہے ، فرد اپنے ماحول میں subjects1اپنی شمولیت اور رادے کوپہچان سکے۔ ہر فرد اپنے فعل سے معاشرے کے ساتھ اپنی مطابقت پیدا کر سکے۔ معاشرے کے مجموعی اعمال ایک فرد کے مجموعی اعمال سے مختلف نہ ہوں۔ یوں معاشرہ ایک فرد کے ذہنی، جذباتی اور معاشرتی مقاصد اور ضروریات کا خیال رکھ سکتا ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرہ فرد کی معاشرتی ترتبیت کا اہتمام کرتا ہے جو اُسے اعلیٰ انسانی اقدار سکھاتا ہے ، انسانی رویوں کی تاریخ سے آگاہ بھی کرتا ہے جو انسان نے ایک پیراڈائم سے دوسرے پیراڈائم میں منتقل ہوتے وقت ورثے کی صورت منتقل کی ہیں۔
ہم انسانی رویوں کی جب بات کرتے ہیں تو ہم نے ایک سادہ سا فارمولہ بنا رکھا ہے کہ معاشرے کا فرد اگر معاشرے کے اعلیٰ معیارات کو اپنا رہا ہے تو وہ تہذیب یافتہ فرد ہے ورنہ وہ اُجڈیا گنوار ہے۔ تعلیم نے اس تفریق کو زیادہ عیاں کیا ہے۔ ایک دور تھا جب دانش سماج میں ایک ناگزیر طور پر سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہتی تھی پھر ایک دور آیا دانش کے حصول کے لیے جامعات اور تعلیمی ادارے مخصوص کر دیے گئے یعنی دانش صرف وہی ہے جو تعلیمی اداروں میں موجود ہے اور کسی کی دانش کا معیار اُس کی ڈگری یا سند ہے جو اُس نے کسی تعلیمی ادارے سے وصول کی ہوئی ہے۔ اس میں بھی کوئی برائی نہیں تھی کیوں کہ جامعات یا تعلیمی اداروں سے بہت اعلیٰ پائے کے اذہان وابستہ ہو گئے تھے جو معاشرے میں اعلیٰ قدروں کے فروغ کے لیے کام کر نے لگے تھے ۔پھر ایک وقت آیا جب PERC Icon - Getting Aheadمخصوص تعلیمی میدان میں رسائی کو حتمی سمجھ لیا گیا۔ مغرب کی یہ پالیسی انتہائی خطرناک تھی۔ افراد صرف مخصوص علم تک محدود کر دیے گئے ۔ اسے ’’سپیشلائزئشن‘‘ کا دور کہا جاتا ہے۔ یہ تخصص( سپیشلائزیشن )اتنی عام ہو گئی کہ ایک طالب علم دوسرے علم سے اتنا علم بھی نہیں رکھتا تھا کہ اُس کی ماہیت یا اُس کی خاصیت کو پہچان سکے۔مثلاً کلیسائی علم سائنسی علم سے مکمل ناواقف رہا۔ اسی طرح سائنس والے سوشل سائنسز سے مکمل نابلد ہونے لگے۔ زبان اور جمالیات(aesthetics)کا علم چند افراد تک محدود علم ہو کے رہ گیا۔ حتی کہ گھر کے بلب یا سوئچ تک کا علم مخصوص علوم تک محدود کر دیا گیا۔ اس طرح معاشرے میں over specialization نے ہر چیز کو مفلوج کرنا شروع کر دیا۔ آج دوبارہ متفرق علوم کا احیا ہونا شروع ہُواہے۔ معاشرے نے تعلیمی اداروں کو ہی صرف دانش کا مرکز خیال کرنا چھوڑ دیا ہے۔ تعلیمی ادارے ایک سہولت کار(facilitator) کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔
over specialization نے ایک مخصوص قسم کے افراد پیدا کرنا شروع کر دیے۔ ہمارے معاشرے میں ابھی تک over specialization کا دور ہے۔ افراد بہت سی سائنسی تھیوریوں، فکروں،فلسفوں یا روایتوں سے آگاہ ہونا غیر مناسب سمجھتے ہیں۔ ایسا کرنا غیر ضروری قرار دے دیا گیا ہے یا انتہائی مشکل۔دینیات کے افراد صرف دینیات تک محدود ہیں اسی طرح سائنس کے افراد نے اپنے اوپر سماجی علوم کو حرام کر رکھا ہے۔ یا اُن کی تربیت ہی ایسی کی گئی ہے کہ وہ سماجی علوم کی فکریات سے آگاہ نہیں۔ ادبیات سے وابستہ افراد سماجی علوم، اور سائنس کو اپنے علم کی رکاوٹ خیال کرتے ہیں۔
اگر علوم کی پوری تاریخ اٹھا کے دیکھ لی جائے تو ایسا جدیدیت کی دین نظر آتا ہے۔ ماڈرنائزیشن کے دور میں تخصص کا رواج عام ہُوا۔ ارسطو سے لے کر برٹرینڈ رسل تک بہت عام مثالیں مل جاتی ہیں کہ دانش تخصص (specialization)کے ساتھ وابستہ نہیں۔یونان کی دانش گاہ خصوصاً ارسطو کے ہاں تمام  علوم میں کما حقہ علم نظر آتا ہے۔ایک علم logoدوسرے علم کی تفہیم سے نامکمل رہ جاتا ہے۔آج بھی ایسا ہی ہے مگر ہمیں اس کمی کا احساس نہیں ہو رہا۔کیا آپ ادبیات کو سائنس ، مذاہب ، اسطور اور سماجیات کے بغیر پڑھ سکتے ہیں؟ کیا آپ سماجی علوم کو ادبیات اور سائنس کے بغیر سمجھ سکتے ہیں۔ اور کیا آپ سائنس کے فلسفے کو سماجی اور ادبی انسانی علوم کے بغیر کسی نتیجے پر پہنچا سکتے ہیں؟ ہمیں تو تخصص کااس قدر عادی بنایا جاتا ہے کہ انٹر میڈیٹ کے مختلف مضامین کے مجموعے کو ’’پری میڈیکل‘‘ اور ’’پری انجینئیرنگ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے یعنی یہ مضامین پڑھنے والے انجینئیرنگ کا’’ ابتدائیہ‘‘ پڑھ رہے ہیں اسی طرح حیاتیات کا ایک مضمون پڑھنے والے ’’میڈیکل‘‘ میں جانے کے لیے ’’ابتدائیہ‘‘ پڑھ رہے ہیں۔ ان تخصص کے پیدا کاروں سے پوچھا جائے کہ آپ کیوں پہلے ہی سے متعین کر رہے ہیں کہ وہ پری انجنئیرنگ یا پری میڈیکل کا علم حاصل کر رہا ہے۔ کیا پتا وہ دینیات میں آگے جائے یا سوشل سائنسز کو اپنا لے یا فطری سائنس (natural science)کو اپنا مرکز بنائے۔
اب مضامین کے grid کی شکل میں پڑھانے کا رواج عام ہونے لگا ہے تا کہ بچہ تعلیم کے دوران کسی ایک مضمون کے انتخاب کے وقت اتنا نابلد نہ رہ جائے نکہ دوسرے علوم سے اُس کی واقفیت نہ ہونے کے برابر ہو۔ کسی ایک علم میں تخصص دوسرے علوم کی نفی یا اُن سے نابلد رہ کے نہیں ہونا چاہیے۔

About قاسم یعقوب 69 Articles
قاسم یعقوب نے اُردو ادب اور لسانیات میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے ماسٹرز کیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل کے لیے ’’اُردو شاعری پہ جنگوں کے اثرات‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ آج کل پی ایچ ڈی کے لیے ادبی تھیوری پر مقالہ لکھ رہے ہیں۔۔ اکادمی ادبیات پاکستان اور مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد کے لیے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ قاسم یعقوب ایک ادبی مجلے ’’نقاط‘‘ کے مدیر ہیں۔ قاسم یعقوب اسلام آباد کے ایک کالج سے بطور استاد منسلک ہیں۔اس کے علاوہ وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر بھی وابستہ ہیں۔

1 Comment

  1. قاسم صاحب ۔ مغرب کا مجہے معلوم نهيں ليکن امريکه جہاں ميں رهتا ابهی تک يہی ہوتا ہے که موسيقی، Divinity، بائیبل يا ديگر فنون ميں گريجويشن تک باقي علوم (Science) بهی پڑهنے هوتے ہيں ۔ حتي کہ MA ميں بهي تخصيص نہيں ہوتی ۔
    آپ کا علم بہت وسيع ہے اسے share کرتے رہيں کيونکه دس کتابيں پڑہنے کے بعد ہی دس سطور لکھ سکتا ہے ۔ آجکل اسی کا فقدان ہے ۔ بہترين تمنائوں کے ساتھ

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.