استعمار اور بعد از استعمار مطالعوں کی سیاق و سباق سازی از، اینیا لومبا

Naseer Ahmed
نصیر احمد

استعمار اور ملک گیری : استعمار اور بعد از استعمار مطالعوں کی سیاق و سباق سازی از، اینیا لومبا

ترجمہ از، نصیر احمد

استعمار، ملک گیری، استعمار نو، بعد از استعمار: اصطلاحوں کی تعریف

استعمار اور ملک گیری کو اکثر مترادف معانی میں ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ آکسفرڈ انگلش ڈکشنری کے مطابق استعمار کے لیے استعمال ہونے والا لفظ کالونئیلزم  رومن زبان کے لفظ کالونیا سے لیا جاتا ہے جس کے معانی فارم یا گاؤں (معمورہ) ہیں۔ یہ لفظ کالونیا ان رومنوں کے لیے استعمال ہوتا تھا جو روم سے دور دوسرے علاقوں میں آباد ہو جاتے تھے، لیکن ان کی رومن شہریت برقرار رہتی تھی۔ اسی لیے آکسفرڈ انگلش ڈکشنری اسے یوں بیان کرتی ہے:

ایک نئے علاقے میں آباد ہونے والا گاؤں، لوگوں کا ایک گروہ جو اس نئی جگہ آباد ہوتا ہے، ایک ایسی کمیونٹی ترتیب دیتا ہے جو اپنی آبائی ریاست سے روابط رکھتی ہے۔ ابتدائی آبادکاروں، ان کی اولاد اور ان کے جانشینوں پر مشتمل یہ کمیونٹی اگر اپنی آبائی ریاست سے رابطوں میں استوار رہے (یا، آبائی ریاست کی آئینی ماتحت رہے) کالونی کہلاتی ہے۔

یہ تعریف واضح طور پر استعماریوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کا ذکر تک نہیں کرتی جو ان علاقوں میں ممکنہ طور پر  نئے گاؤں آباد ہونے سے پہلے رہتے تھے۔ اس طرح یہ تعریف کالونیئلزم (استعمار) کو لوگوں کے آپس میں میل جول، فتح یا قبضے کے امکانات سے  تہی کر دیتی ہے۔

یہ تعریف اس بات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کرتی کہ شاید نئی آبادی اتنی نئی  نہ ہو اور کمیونٹی ترتیب دینے کا عمل بھی شاید نا روا ہو۔ استعمار دنیا کے مختلف حصوں میں یکساں عمل نہیں تھا، لیکن ہر جگہ استعمار نے مقامی باشندوں اور نئے آباد کاروں کو انسانی تاریخ کے انتہائی پیچیدہ اور تکلیف دہ رشتوں میں جکڑ لیا تھا۔

شیکسپئیر نے اپنے کھیل طوفان کی کہانی کچھ کتابچوں سے لی تھی جو برمودا میں ایک بحری جہاز کی تباہی کی رُوداد بیان کرتے تھے۔ اس کہانی میں شیکسپئیر نے ایک ہی مگر بڑا اضافہ کیا تھا اور وہ اضافہ کھیل میں پروسپیرو Prospero کی جزیرے میں آمد سے پہلے جزیرے کو آباد دکھانا تھا۔ اور اس اکلوتے اضافے نے اس رومانوی کھیل کو استعماری مقابلے کی تمثیل میں بدل دیا۔

ایک نئی جگہ میں  کمیونٹی ترتیب دینے کے عمل کا یہ لازمی نتیجہ تھا کہ جو کمیونٹیاں وہاں پہلے رہ رہی تھیں، ان کی ترتیب ختم بھی کی گئی اور انھیں اَز سرِ نَو ترتیب بھی دیا گیا اور سارے عمل میں بہت ساری  کارِ روائیاں شامل تھیں جیسے تجارت، لوٹ مار، بات چیت، جنگ و جدل، نسل کُشی، غلام سازی اور بغاوت۔

سائنسی لٹریچر، فکشن، حکومتی دستاویزات، تجارتی کاغذات،خطوط، ذاتی اور عوامی ریکارڈ جیسی مختلف تحریروں نے ان کارِ روائیوں کو نہ صرف جنم دیا بَل کہ پروان بھی چڑھایا۔ استعمار اور بعد از استعمار کے مطالعے انہی تحریروں اور کارِ روائیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تو استعمار کی تعریف دوسرے لوگوں کی زمین اور اشیاء پر قبضے اور ان لوگوں کو فتح کرنےکے تناظر میں کی جا سکتی ہے۔ مگر استعمار اس تناظر میں صرف یورپیوں کی سولہویں صدی سے تا حال افریقہ، امریکہ اور ایشیا میں  توسیع ہی نہیں ہے، بَل کہ استعمار انسانی تاریخ کا جگہ جگہ موجود اور بار بار واقع ہونے والا فیچر ہے۔

اپنے عروج پہ دوسری صدی عیسوی کی رومی سلطنت آرمینیا سے بحرِ اوقیانوس تک پھیلی ہوئی تھی۔ تیرہویں صدی میں چنگیز خان کے منگولوں نے چین کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ بھی فتح کیا ہوا تھا۔ ایزٹک سلطنت تب قائم ہوئی تھی جب چودھویں سے سولھویں صدی میں  میکسیکو کی وادی میں آباد ہونے والے نسلی گروہوں میں سے ایک گروہ نے دوسروں کو محکوم بنالیا تھا۔

ایزٹک مفتوحہ علاقوں سے اشیاء، سہولتیں اور خراج وصولتے تھے جیسے امریکاؤں میں صنعتی ریاستوں سے قبل ان کی سلطنت مفتوحہ علاقوں سے اشیاء، سہولتیں اور خراج لیتی تھی۔

اسی طرح پندرھویں صدی میں بھی جنوبی ہندوستان کی بہت سی چھوٹی بادشاہیاں وجے نگر کی سلطنت کی تابع تھیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کی شروعات بھی ترکی کے جنوب میں ایک چھوٹی سی اسلامی حکومت سے ہوئی تھیں، لیکن بعد میں سلطنت عثمانیہ ایشائے کوچک اور بلقان تک پھیل گئی تھی۔ اٹھارہویں صدی کے آغاز میں بھی میں بھی یہ سلطنت بحیرۂِ روم سے بحرِ ہند تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور چینی سلطنت  یورپیوں کی دیکھی ہوئی سلطنتوں میں سے سب سے بڑی تھی۔

جدید یورپی استعمار کا ناتا، ربط و تعلق کی ان ابتدائی تاریخوں سے نہیں توڑا جا سکتا۔ صلیبی جنگیں، مسلمانوں کا سپین پر حملہ، منگول حکمرانوں کے افسانوی کار نامے، ان کا اور مغلوں کی دولت کے قصے، یورپی مہم جوئی کا حقیقی یا تصوراتی ایندھن تھے، جس نے یورپیوں کو دنیا کے مختلف حصوں میں پہنچایا۔ پھر بھی یورپی مہم جوئی سے نئی اور مختلف اقسام کی استعماری کارِ روائیوں کی آمد ہوئی جنہوں نے دنیا کو  جس طرح تبدیل کیا ماضی کے یہ استعماری اس طرح دنیا کو تبدیل نہیں کر سکے تھے۔

اس فرق کے بارے میں کیسے سوچیں؟ کیا اس کی یہ وجہ ہے کی یورپیوں نے اپنے ساحلوں سے دور دراز علاقوں میں سلطنتیں قائم کِیں؟ کیا یورپی ماضی کی ان سلطنتوں سے زیادہ  متشدد اور زیادہ بے رحم تھے؟ کیا وہ ماضی کی ان سلطنتوں سے زیادہ منظم تھے؟ کیا انہیں دوسرے لوگوں پر نسلی فضیلت حاصل تھی؟

در حقیقت یہ ساری توضیحات یورپی استعماروں کی عالمی طاقت اور اس کے شدید اثرات کی تفہیم کے لیے پیش کی جا چکی ہیں۔ مارکسی فکر  استعمار کی ان دونوں اقسام کے مابین ایک اہم فرق دریافت کرتی ہے۔ قدیم استعمار سرمایہ داری سے پہلے قائم ہوا تھا جب کہ جدید استعمار سرمایہ داری کے ساتھ ساتھ قائم ہوا ۔

علاوہ ازیں جدید استعمار نے مفتوحہ علاقوں سے خراج، سہولیات اور اشیاء کے حصول سے کچھ سَوا بھی کیا ہے۔ جدید استعمار نے مفتوحہ علاقوں کی معیشتوں کی اَز سرِ نو ساخت کی ہے اور ان معیشتوں کو ان کے اپنے ہی پیدا کردہ پیچیدہ رشتوں میں کھینچ کر ڈال دیا ہے، تا کہ فاتح اور مفتوح کے درمیان انسانی اور فطری ذرائع رواں رہیں۔

یہ روانی دونوں سمتوں میں تھی، خام مال کے ساتھ  ساتھ غلام اور بے گار کے مشقتی شہر میں یا ان جگہوں میں جہاں شہری اشیاء صرف ہوتی تھیں روانہ کر دیے گئے، لیکن کالونیاں یورپی اشیاء کی اسیر کرنے والی مارکیٹیں بھی تھیں۔ اس طرح غلاموں کو افریقہ سے امریکہ منتقل کیا گیا، اور ویسٹ انڈیز کے کھیتوں میں ان غلاموں نے یورپ میں صرف ہونے والی شکر کی پیدا وار کے لیے مشقت کی۔ خام کپاس ہندوستان سے ہوتی ہوئی انگلستان جا کر کپڑا بنتی تھی اور کپڑا بن کر ہندوستان میں بِکتی تھی جس کے نتیجے میں ہندوستان میں کپڑے کی پیدا وار خسارے میں چلی گئی۔ غرض جس سمت میں انسانوں اور اَموال نے سفر کیا منافع ہمیشہ خود ساختہ ملکہ ممالک کو ہی پہنچا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.