کیا سکولوں میں انٹرنیٹ کنکشن ہونا چاہیے؟

سکولوں میں انٹرنیٹ

کیا سکولوں میں انٹرنیٹ کنکشن ہونا چاہیے؟ از، الگور سابق نائب صدر امریکہ

مترجم، نیئر عباس

یہ آرٹیکل امریکہ کے نائب صدر الگور کی جانب سے لکھا گیا ہے جو 25 مئی 1998 کو ٹائم میگزین میں شائع ہوا۔ موجودہ حالات میں یہ آرٹیکل پاکستانی قارئین کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے۔

جیسا کہ ٹائم میگزین نے اپنے اکتوبر کے شمارے میں لکھا ہے،”نہ صرف ان خاندانوں کے بچے جو گھر میں کمپیوٹر رکھنے کے متحمل ہو سکتے ہیں بَل کہ تمام بچے اپنے عرصہ تربیت کے دوران مستقل طور پر کمپیوٹر سے منسلک رہنے چاہیئں “۔ صدر اور میں اس بات سے مکمل طور پر متفق ہیں۔ علم کے اس دور کے تمام بنیادی آلات کی موجودگی اب سامان تعیش نہیں رہی۔ یہ ایک ضرورت بن چکی ہے۔

ذرائع ابلاغ و اطلاعات ہماری معیشت اور معاشرے کو تبدیل کر رہے ہیں، ہمارے رہن سہن کے انداز، کام کے انداز اور ہمارے ایک دوسرے سے تعلقات کو بھی تبدیل کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سےمعاشی ترقی میں ایک چوتھائی سے بھی زیادہ حصہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ملازمتوں کی اجرت باقی شعبوں سے بہت زیادہ ہے۔سال 2000 تک 60 فی صد ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے ایسی تیکنیکی مہارتوں کی ضرورت ہو گی جن سے امریکیوں کی بہت کم تعداد واقف ہے۔

تیکنیکی مہارتیں ملازمت حاصل کرنے سے بھی پہلے اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ جونہی بچہ تعلیم حاصل کرنا شروع کرتا ہے تو یہ مہارتیں اہم ہو جاتی ہیں۔ایک عشرے پر محیط ایک جائزے میں شعبہ تعلیم نے یہ رپورٹ پیش کی کہ کلاس کے وہ بچے جو کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں، وہ بنیادی مہارتوں کے امتحان میں اپنے کلاس فیلوز کے مقابلے میں اوسطاً 30 فی صد بہتر نتائج دیتے ہیں۔ 1996 کی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والے طلبا نے نہ صرف یہ کہ اپنا کام تخلیقی انداز میں پیش کیا بَل کہ ایسا کام پیش کیا جو مکمل بھی تھا اور اس میں مختلف زاویہ ہائے نظر کو انتہائی منظم انداز میں ترتیب دیا گیا تھا۔بے شمار دیگر تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ طلبا جنہیں تعلیم کے لیے ٹیکنالوجی سے بھرپور ماحول فراہم کیا گیا، انہوں نے زیادہ جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا، ان کی حاضری کی شرح دوسروں کے مقابلے میں بہتر رہی، انہوں نےاپنے فن تحریر کو بہتر کیا، اور پیچیدہ مسائل کے متعلق سیر حاصل گفتگو کرنے کی زبر دست صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

اسی وجہ سے صدر اور میں نے تمام سکولوں اور لائبریریوں کی ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی تک سستی رسائی کو ممکن بنانے کے لیے جانفشانی سے کام کیا ہے۔ مثال کے طور پر “ای-ریٹ” پرگرام سکولوں اور لائبریریوں کے لیے انتہائی سستا رکھا گیا ہےاور ضرورت مند طبقات کے لیے سب سے زیادہ ارزاں ہے۔ اس موزوں پروگرام کے ذریعے ہم پر عزم ہیں کہ تمام بچے، قطع نظر ان کی نسل، آمدنی اور محل وقوع کے، سیکھنے اور کامیاب ہونے کے مساوی مواقع حاصل کر سکیں۔

اس طرح کی مدد کے بغیر ٹیکنالوجی معاشرے کے ان غریب اور دیہی طبقات کے لیے محض رکاوٹ بنے گی جو امیروں کے ساتھ ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔امریکہ پہلے ہی دو طبقات میں تقسیم ہو چکا ہے: ایک وہ جو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں اور دوسرے وہ جو ان دو سہولیات سے محروم ہیں۔جن سکولوں میں ملک کی اقلیتی آبادی سے تعلق رکھنے والے بچے زیرِ تعلیم ہیں وہاں صرف 13 فی صد کلاس رومز میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے، اس کے مقابلے میں امریکہ کے مجموعی طور پر 27 فی صد کلاس رومز میں یہ سہولت مہیا ہے۔

کچھ نقاد اس نئی ٹیکنالوجی کو تعلیم کا ایک نا معقول طریقہ گردانتے ہیں۔ لیکن سکولوں میں بچوں کو تعلیم دینے اور ان کے تعلیم حاصل کرنے کے طریقہ کار میں کمپیوٹر کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔

کچھ اور نقاد نئی ٹیکنالوجی سے آنے والی تبدیلیوں سے پریشان ہیں۔ تاریخ کے سفر میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ترقی اضطراب کا باعث بنتی ہے۔ جب یونانی تاجروں نے مصر سے ایتھنز میں کاغذ کی درآمد شروع کی تو سقراط نے اس کی مذمت کی، نکولس الارڈ کے بیان کے مطابق اس کی شکایت یہ تھی کہ کاغذ کے استعمال سے انسانوں کا باہمی عمل انسانی صفات سے محروم ہو جائے گا، انسانوں کے باہمی تعلقات میں خلل واقع ہو گا، اور عوامی ابحاث کی جگہ ذاتی پیغامات لے لیں گے جو کم پسندیدہ اور خطر ناک مضمرات کے حامل ہو سکتے ہیں۔

کچھ اور نقاد یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنےسستے ذرائع کو اہم تعلیمی ضروریات سے موڑ کر دوسری چیزوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن ہمیں اپنے آپ کو کسی ایک شعبے میں سرمایہ کاری کرنے تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ہم دونوں کام کر سکتے ہیں اور ہمیں ضرور کرنے چاہیئں۔

1993 سے ہم نے پری سکول تا پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔ ہم نے ہیڈ سٹارٹ پروگرام (امریکہ میں بچوں کی بنیادی تعلیم کا ایک پروگرام) کو وسیع کیا، “گولز 2000” پروگرام شروع کیا، “چارٹر سکول” کو توسیع دی، “ٹائٹل 1” فنڈز کو کم آمدنی والے بچوں پر مرکوز کیا، اور ان بچوں کے لیے اسی طرح کے معیارات قائم کیے جیسا کہ باقی سب بچوں کے لیے تھے، اور مختلف طریقہ ہائے کار جیسا کہ امداد، قرضہ جات، وظائف اور ٹیکس کی چھوٹ کے ذریعے تمام لوگوں کے لیے کالج کی تعلیم کو سستا بنایا۔

صدر کے متوازن بجٹ میں، جو انہوں نے فروری میں کانگریس کو بھیجا ہے، ہم نے یہ تجویز کیا ہے کہ جن کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے انہیں مزید وسعت دی جائے۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ نئے اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے، ٹیکس میں کمی کی ترغیب دیتے ہوئے نئے سکولوں کی تعمیر یا پرانے سکولوں کی تجدید کو تیز تر کیا جائے، اور تعلیمی ٹیکنالوجی میں مزید سرمایہ کاری کی جائے۔

تمام والدین اپنے بچوں کو مستقبل کے لیے بہتر طور پر تیار کرنا چاہتے ہیں۔آج کے دور میں اس چیلنج کا مطلب ہے کہ ایک ایسےدور میں بچوں کی تربیت کرنا کہ جہاں کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی معاشیات پر غالب ہے اور معاشرے کو ایک خاص شکل میں ڈھالتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو، تمام بچوں کو، انفارمیشن کے اس دور میں کامیابی کے مواقع ضرور فراہم کریں۔ اور اس کا مطلب یہ ہےکہ ہم انہیں ان تمام آلات تک رسائی فراہم کریں جو کہ اس دنیا کی سمت متعین کرتے ہیں جس میں یہ بچے زندگی گزار رہے ہیں۔

انگریزی آرٹیکل کےمتن کا لنک درج ذیل ہے:

http://edition.cnn.com/ALLPOLITICS/1998/05/18/time/yes.html

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.