جارحیت، دروغ، بناوٹیں اور وبائیں 

Naseer Ahmed, the writer

جارحیت، دروغ، بناوٹیں اور وبائیں 

از، نصیر احمد 

زندگی میں جن جن باتوں پر گفتگو ہونی چاہیے اور بہت زیادہ ہونی چاہیے، پچھلے کچھ عرصے میں اس گفتگو کے خاتمے کے لیے ان رویوں کا بہت فروغ ہوا ہے۔

جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگ ایک تو خود کو یقین دلاتے ہیں کہ جو بات وہ کہہ رہے ہیں وہ سچی ہے، دوسرے اس بات کو تنقید سے محفوظ رکھتے ہیں کہ جارحیت سے وابستہ مسائل سے بچنے کے لیے لوگ تنقید سے ہچکچانے لگتے ہیں۔

اس جارحیت کے ساتھ اگر تشدد اور گروہ کی طاقت منسلک ہے تو گفتگو ختم بھی ہو جاتی ہے۔ دروغ کا بھی یہی معاملہ ہے، اس کا بھی استعمال اپنی تسلی، تنقید سے گریز اور اپنی بات کا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ بناوٹوں کا استعمال بھی انھی خطوط پر کیا جاتا ہے۔

مذہب اور دنیا کے بارے میں نقطۂِ نظر کے معاملے میں یہ طریقۂِ کار بہت عام ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی تقریروں میں، فیس بک کی پوسٹوں میں، خادم رضوی کے خطبوں میں، طالبان کی دھمکیوں میں، لینن کے احکامات میں، نسل پرستوں کی بے ہودہ گوئی میں،کارپوریشنز کی حکمت عملیوں میں، میڈیا کی خبروں میں یہ سب کچھ موجود ہوتا ہے۔

اسی طرح وطن سے اظہارِ محبت میں بھی یہ طریقۂِ کار بہت دکھائی دیتا ہے۔ مودی جی کے بھاشنوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ٹرمپ کی ٹویٹس میں بھی یہ پایا جاتا ہے۔ اردو اخباروں کے کالموں میں بھی یہ موجود ہے۔

سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں اور ان کی پالیسیوں میں بھی یہ طریقۂِ کار کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ یوتھیے، جیالے، پٹواری اور مجاہد وغیرہ یہی سب تو کرتے ہیں۔

ذات پات کے مسائل میں بھی یہ طریقۂِ کار فاش دکھائی دیتا ہے۔ اپنے بارے میں گفتگو میں بھی یہ طریقۂِ کار واضح دکھائی دیتا ہے۔ کاملیت پرست شاعری میں تو یہ فاش و ظاہر و بر ملا ہے۔

جمہوری، شہری اور انسانی حقوق کی پامالی کے دفاع میں بھی یہ طریقۂِ کار کافی واضح ہوتا ہے۔ اجنبیوں، پردیسیوں، غیر ملکیوں، مہاجروں اور پناہ گزینوں کے خلاف پالیسیاں اسی آمیزے کی شدت اور کثرت سے روا بنائی جاتی ہیں۔

نسل کُشی کے حوالے سے برما کی لیڈر کا عالمی عدالت میں دھڑلے سا جا کر روہنگیا پر ڈھائے گئے مظالم کا دفاع کرنے میں بھی اسی رویّے اور طریقے کی موجودگی ثابت ہوتی ہے۔ بورس جانسن کی یورپی یونین سے علیحدگی کی تحریک کی کام یابی میں بھی یہ طریقۂِ کار شامل ہے۔ ٹرمپ بھی اسی طریقے کو استعمال کر کے ریاست ہائے متحدہ کے صدر منتخب ہونے میں کام یاب ہوئے۔ اور چھابڑی والا بھی جب کوئی چیز نا جائز طور پر مہنگی بیچنے کا فیصلہ کر لے تب اس کا رویہ بھی یہی ہوتا ہے۔ اور وہ بھی یہی طریقہ استعمال کرتا ہے۔


یہ بھی ملاحظہ کیجیے:

سائنسی سماج و سائنس دان، سازش کے نظریے اور دنیا جہاں کے لاڈلے از، نصیر احمد 

کرونا وائرس اور پاکستان: اس وقت تو دوریاں، social distancing ہی حل ہے تجزیہ نگار، محمد سالار خان، فرح لطیف ترجمہ از، صلاح الدین صفدر

تعلیم، سماج، ادب و تنقید کرونا وبا سے بچ نکلنے کے بعد  از، فرحت اللہ کشیب


اس طرح سے اپنے سو فی صدی درست ہونے کا جھوٹا اطمینان بھی ہو جاتا ہے۔ تنقید اور احتساب سے بھی جاتے ہیں۔ پارسائی کی تصنع بھی ہو جاتی ہے۔ اور دروغ کے نتیجے میں معاشرے میں کنفیوژن میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے جو حقیقت، تنقید اور احتساب سے گریز کے سلسلے میں اور مدد گار ثابت ہو جاتا ہے۔

اس رویے کی عالم گیر موجودگی ایک اور بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم میں ایسے بہت سارے افراد موجود ہیں جو اختلاف، تنقید، سچائی اور اصلیت سے  فرار کو پسند کرتے ہیں۔ اس پسندیدگی کی بہت ساری وُجوہات ہیں کہ آپ کے گروہوں سے ناتے توانا ہوتے ہیں۔ فرد، انسان اور شہری کے حوالے سے جو ذمے داریاں ہیں ان سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ معاشرے میں قدر و قیمت بڑھتی ہیں۔ دولت، طاقت اور شہرت تک رسائی ہو جاتی ہیں۔ خِرد اور ضمیر کے بوجھ سے رہائی مل جاتی ہے۔ سوچنے سمجھنے کی کٹھنائی سے بھی آزادی ہو جاتی ہے۔

لیکن اختلاف اور احتساب سے گریز کے نتائج ہوتے ہیں۔  ذاتی اور اجتماعی بھی۔ اور ان کبھی پائلٹ کو یہ نہیں پتا چلتا کہ جہاز اوپر جا رہا ہے کہ نیچے جا رہا ہے۔ کبھی فوجیوں کو جنگی جہازوں اور مسافر بردار طیاروں کے درمیان فرق نہیں سمجھ آتا۔ کبھی رہ نماؤں کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ وبا کیا ہے۔

اختلاف، تنقید، حقیقت، احتساب اور حقیقت پسندی کی عدم موجودگی کے نتائج حماقت اور شقاوت ہیں۔ اور حماقت اور شقاوت کے بڑھاؤ اور پھیلاؤ سے اچھی خبریں جنم نہیں لیتی۔

وبا کے دوران حماقت اور شقاوت کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ لیکن جارحیت، دروغ اور بناوٹ کا طریقہ دھیرے دھیرے نتائج کی بنیادی وُجوہات سے توجُّہ ہٹانے میں کام یاب ہو رہا ہے۔ کہیں کام یاب بھی ہو چکا ہے۔

اور بات پھر فرد کی طرف آتی ہے۔ بات صرف فریب کاری کی نہیں ہے۔ ہمارے درمیان بہت سارے افراد ہیں جو یہ دھوکا کھانا چاہتے ہیں کیوں کہ اس میں انھیں اپنا فائدہ دکھائی دیتا ہے۔ سب سے بڑا فائدہ تو خود احتسابی ہے اور خود احتسابی کا یہی ہوتا ہے کہ اپنی صورت اتنی اچھی نظر نہیں آتی جتنی اپنے بارے میں سپنے دیکھنے میں۔ اور اپنے بارے میں سپنے ایک نفسیاتی ضرورت بن جاتے ہیں تو پھر لوگ موجود ہوتے ہیں جو اس بات کو اجتماعی رنگ دینے میں کام یاب ہو جاتے ہیں۔ اور اپنے آپ سے اس طرح کا مکالمہ شروع ہو جاتا ہے۔

 میں اچھا، میرا کنبہ اچھا، میرا شہر اچھا، میرا ملک اچھا۔ پھر یہ جا بَہ جا اتنی خرابیاں کیوں ہیں؟

عالمی سازشیں، میرے مخالف، میری پارٹی کے مخالف، میرے ملک کے مخالف، میرے دین کے مخالف (اور یہ مخالف ہوتے بھی ہیں، لیکن وبا کے دنوں میں آپ اگر ہر کسی سے بغل گیر ہو رہے ہوں، اس میں مخالفوں کی رچی ہوئی عالمی سازش ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔)

اقلیتیں قربانی کے بکرے تھوڑے ہیں۔ لیکن ایسے حماقت اور شقاوت کے ایسے قَلعے بن جاتے ہیں جن پر تو العروس جیسی منجنیق کے پتھر کام نہیں کرتے۔ ہم اور آپ اس سلسلے میں گاہے بَہ گاہے بکنے جھکنے کے سوا کوئی ہنر تو جانتے ہی نہیں۔ حماقت اور شقاوت کہاں دور کر پائیں گے۔