میڈیا کی آزادی اور پاک چین اقتصادی چکر داری؟

Yasser Chttha

میڈیا کی آزادی اور پاک چین اقتصادی چکر داری؟

از، یاسر چٹھہ

دو الگ سی باتیں ہیں؟ کہاں میڈیا، کہاں پاک چین اقتصادی راہ داری…! کوئی سمجھ دار اور آسان جملوں میں مدعا بیان کرنے والا، قادر الکلام، اور عوامی نبض شناس سکہ بند لکھت کار کہہ سکتا ہے کہ یہ کیا بے تکی چھوڑ رہا ہوں۔

جب اقتصادی راہ داری کی باتیں چلی تھیں تو ہم ایسوں کو خطرے کے آثار نظر آنے لگے تھے کہ ہمارے لڑکے بالوں یعنی boys کی جن سے گاڑھی چھننے لگی ہیں، جلد ہی boys کی جانب سے ان ہی کی عادتیں پکڑنے کا خدشہ ہے۔

تھوڑا جوڑیے۔ چند دن کی پہلے وزیر اطلاعات (و معلومات اور مجدد فیک نیوز خلیفہ) فواد چودھری نے کہا کہ ہم ہمالیہ سے پار سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی ٹیکنالوجی لائیں گے۔ اگر وہاں پر یہ سوشل میڈیا کنٹرول میں ہے تو یہاں کیوں نہیں ہو سکتا۔

مطلب، اس ٹیکنالوجی کی ہی بس کمی رہ گئی تھی۔

اس کمی کا احساس مین سٹریم میڈیا جو کہ ہر ایرے غیرے غیر پیشہ ور کے ہاتھ نت نئی مینا بازاری دکان کی صورت کھل چکا ہے، پر لڑکوں بالوں یعنی boys کا مکمل جادو جگانے سے بھی تسلی نا ہوئی۔

یہ عدم تحفظ، یہ مکمل کنٹرول کی خواہش کہاں آ کر دم لے گی؟ مرکزی دھارے یعنی mainstream media پر مواد بھی تولا تلایا چلتا ہے۔ اس سے بھی شانتی نہیں ہوتی۔ فلانے کو نکال دو، فلانے سے استعفیٰ لے لو۔ مائیکرو مینیجنگ کی وہی عادت کہ جیسے میڈیا نا ہوا، جج اور عدالتیں ہو گئیں۔ خدا پناہ!


مزید دیکھیے: میڈیا کا نوحہ  از، غازی صلاح الدین


آج نام نا لینے کی شرط پر اور مزید تفصیل نا مانگنے کی دعا کے ساتھ ایک جملے میں مرکزی میڈیا کی آزادی، اور اس کے ضوفشانی کے منبع کی بابت اشاریے نقل کروں گا:

ایک اہم چینل کے اینکر نے پچھلے دو سال کے دوران ایک دن پارلیمان کا چکر لگایا، ایک ہی دن عدالت عظمی کی عمارت دیکھی، جب کہ اسی دوران قریبا 20 بار سے بھی زیادہ اس دفتر گئے، جس دفتر کی 35 ہزار کے لگ بھگ ٹویٹر اور فیس بک نفری ہے، اور وہ ہر بات میں گھسیٹا جانا پسند نہیں کرتے۔ ہاں ان کے ہاتھ سے بہت سے گھسٹتے ہیں۔ اس دفتر کی جانب جاتے رستے پر بہت رش ہوتا ہے۔

پس نوشت: سید طلعت حسین کی جگہ ڈاکٹر دانش کی جیو نیوز پر آمد پر مبارک باد قبول کیجیے۔ اس تبدیلی کے عمل پذیر ہونے میں سزا وار یقینا جیو نیوز ہی ہے۔

اسی طرح نصرے جاوید کو ڈان نیوز سے رخصت کرنے کا قصور بھی لا ریب طور پر ڈان گروپ کا ہی ہے۔ 20 چکر والے صاحب نما کا نام کہیں بھی نہیں لکھا، خواہ مخواہ احتساب عدالت کی مفروضہ جنمانے کی نفسیات کے آگے سجدہ ریز نا ہو جائیے گا، اگر چہ یہ وقت ہے تو غیر اللہ کے آگے ساجدوں کے ہاتھ ہی (نعوذ با اللہ)

وما علینا…

About یاسرچٹھہ 101 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.